فوج کے ترجمان ادارے نے اس فیصلے کو عوام کے لیے نشر کرنے کی کوشش کی مگر حکومت نے روک دیا۔ حکومت کو سمجھ آگئی کہ فوج حسینہ حکومت بچانے کے لیے مزید ان کا ساتھ نہیں دے گی۔ دوسری طرف طلبہ رہنمائوں کو علم ہو گیا کہ فوج عوام کے ساتھ ہے اور وہ گولی نہیں چلائے گی۔ انہوں نے اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے نئی حکمت عملی ترتیب دی۔ اسی طرح حسینہ نے بھی سکیورٹی فورسز کو نئی ہدایات دیں۔ جب ۵؍اگست کا سورج طلوع ہوا تو سکیورٹی فورسز نے اسلحہ کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے خوب گولیاں برسائیں۔ ہزاروں طالب علم شہید اور زخمی ہوئے مگر جس قدر شدت سے انہیں ختم کیا جارہاتھا اتنے ہی طلبہ اور آ رہے تھے۔
پورا دن ڈھاکا میں طلبہ اور عوام پر تشدد ہوتا رہا۔ مگر عوام ہار نہیں مانے۔ جن چھ طلبہ کو گرفتار کیاگیا تھا ان کے موبائل فون سے ڈیٹا نکال کر ہزاروں طلبہ کو گرفتار کیاگیا۔ ان کے گھر والوں کو پکڑ لیاگیا۔ نہتے عوام اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جنگ جاری تھی۔ اتنا ظلم و جبر کیا گیا کہ حسینہ کو لگا کہ مظاہرین کو کچل دیاگیا ہے۔ طلبہ رہنمائوں نے آپس میں رابطہ کرکے یہ فیصلہ کیاکہ ڈھاکا کی طرف مارچ ۶ کے بجائے ۵ کو ہوگا اور فوری طور پر اس کی اطلاع ہر جگہ پہنچا دی گئی۔ ۵ تاریخ کی صبح ہی لوگ ڈھاکا کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔ ڈھاکا کی تمام سڑکوں پر لوگ ہی لوگ تھے۔
سکیورٹی فورسز کا ظلم بھی عوام کو نہ روک سکا۔ بہت ساری جگہوں پر فوج نے سکیورٹی فورسز کو گولی چلانے سے روکا۔ عوام نے فوجیوں کو اپنے کاندھوں پر بٹھا لیا، ان کے ٹینکوں پر چڑھ گئے، ان سے گلے ملنے لگے۔
دن کے گیارہ بج چکے تھے۔ سکیورٹی فورسز پسپا ہونے لگیں۔ ہر طرف عوام ہی عوام تھے۔ حسینہ واجد اس صورت حال سے بے حد غصے میں تھی۔ تمام افواج اور سکیورٹی ایجنسیوں کے سربراہان کو طلب کیا اور پوچھاکہ وہ سختی کیوں نہیں کررہے اور ساتھ ہی حکم دیاکہ چاہے جتنی مرضی جانیں اور جائیں مگر وہ حالات کو کنٹرول کریں۔ آئی جی پولیس نے اطلاع دی کہ شہر کا کنٹرول مظاہرین نے سنبھال لیا ہے۔ سکیورٹی فورسز بیرکوں میں چلی گئی ہیں۔ فوجی چیف نے کہاکہ فوج نے اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کیاہے کہ وہ عوام پر کوئی گولی نہیں چلائے گی۔ باقی سربراہان نے بھی مزید کارروائی کرنے سے معذرت کرلی ہے۔ سب کاکہناتھاکہ اب مزید خون خرابہ کرنے سے بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اتنے میں آرمی چیف نے کہاکہ مظاہرین وزیراعظم ہائوس سے صرف ۴۰ منٹ کے فاصلے پر ہیں۔ آپ نے جو بھی فیصلہ کرنا ہے فوری کرلیں یا تو عوام کے غیظ و غضب کا سامنا کریں یا پھر فرار ہو جائیں۔ حسینہ نے قوم سے خطاب کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ آرمی چیف نے کہاکہ اب وقت نہیں ہے۔ لوگ حیران تھے کہ وزیراعظم ہائوس سے ایٔرپورٹ تک سکیورٹی اتنی سخت کیوں کی گئی ہے۔ ٹی وی سے خبر نشر ہوئی کہ آرمی چیف قوم سے خطاب کریں گے۔ اس سے لوگوں کو اندازہ ہوا کہ حسینہ حکومت کے خاتمے کا اعلان کیاجائے گا۔ لوگ پُرجوش ہو کر وزیراعظم ہائوس کی طرف دوڑنے لگے۔ ادھر حسینہ کی اسپیشل سکیورٹی فورس نے اسے ہیلی کاپٹر سے روانہ کردیا۔ آرمی چیف نے ۲ بجے کے بجائے ۳ بجے خطاب کیا، کیونکہ وہ حسینہ کے فرار کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ انہوں نے سیاسی پارٹیوں کے رہنمائوں سے بھی رابطہ کیا اور صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ جب حسینہ واجد کا ہیلی کاپٹر بنگلادیش کی حدود عبور کرکے بھارتی حدود میں داخل ہوا، تب آرمی چیف نے قوم سے خطاب کیا۔ حسینہ واجد کے استعفیٰ کا اعلان کیا اور ایک نگران حکومت کے ذریعے نئے انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ سڑکوں پر موجود لوگ خوشی سے جھوم اٹھے۔ ایک دوسرے کو مبارک باد دی اور مٹھائیاں تقسیم ہونے لگیں۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنمائوں نے آرمی چیف کی دانشمندانہ حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
شیخ حسینہ واجد اپنی بہن شیخ ریحانہ کے ساتھ ملک سے فرار ہو کر بھارت چلی گئی۔ یہ ۵؍اگست، دن اڑھائی بجے کی بات ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر خبر آنا شروع ہوئی کہ آرمی چیف بنگلادیش عوام سے خطاب کریں گے۔ مظاہرین کو اپنی کامیابی کا اس وقت تک یقین ہو چکا تھا اور وہ جشن منانا شروع کر چکے تھے۔ دوسری طرف عوامی لیگ کے رہنما اور کارکنان یہ سمجھ رہے تھے کہ حسینہ واجد نئی حکمت عملی سے مظاہرین سے نمٹنے جا رہی ہے۔ ڈھائی بجے کے خطاب کے لیے لوگ ٹی وی پر نظریں جمائے منتظر تھے کہ اعلان ہوا کہ خطاب تین بجے ہوگا۔ ہر طرف چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز راستے سے ہٹ چکی تھیں۔ مظاہرین کو یقین ہونے لگا تھا کہ کامیابی ان کی منتظر ہے۔ انہوں نے پی ایم ہائوس کی طرف دوڑنا شروع کر دیا۔ ٹھیک تین بجے آرمی چیف نے قوم سے خطاب کیا۔ انہوں نے قوم کو پرامن رہنے کی تلقین کی اور مزید بتایا کہ شیخ حسینہ وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دے کر ملک سے فرار ہو چکی ہیں اور مزید بتایا کہ ایک نگران حکومت فوری تشکیل دی جائے گی جن کی ذمہ داری فیئر اینڈ فری الیکشن ہوگی اور اقتدار عوامی نمائندوں کے سپرد کر دیا جائے گا۔
آرمی چیف کے اعلان کے ساتھ ہی عوام خوشی سے نہال ہوگئے۔ بنگلادیش کی سڑکیں مظاہرین سے بھری ہوئی تھیں، سب کی امیدیں بر آئیں، جو گھروں میں تھے وہ بھی باہر آگئے۔ لوگ خوش تھے کہ انہیں ظلم و جبر سے آزادی مل چکی ہے۔ پی ایم ہائوس میں دوپہر کا بہترین کھانا تیار تھا، کیونکہ شیخ حسینہ کو اُمید تھی کہ سکیورٹی فورسز مظاہرین پر قابو پا لے گی۔ سکیورٹی فورسز کے کمانڈرز نے وزیراعظم کو یقین دلایا تھا کہ ڈھاکا شہر کو مکمل سیل کر دیا گیا ہے، یہاں اب کوئی چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔ حسینہ واجد اپنے کمانڈرز کی باتوں کا یقین کر کے ان سکیورٹی فورسز کے لیے بہترین کھانے کا آرڈر کر چکی تھی، مگر یہ کھانا دراصل ان مظاہرین کا مقدر تھا جو حسینہ کے فرار ہوتے ہی عوام نے خوشی خوشی کھایا۔ تین بجے کے بعد عوام کا مکمل طور پر ڈھاکا پر قبضہ ہو چکا تھا۔ لوگ ہر طرف خوشیاں منا رہے تھے۔ شہید مینار میں جب لوگوں کو مجیب کا مجسمہ نظر آیا تو مظاہرین نے اس کو ہتھوڑے سے توڑا۔ سب مظاہرین نے اپنے اپنے طریقے سے اس پر غصہ نکالا اور بالآخر اس کو مسمار کر دیا۔ میڈیا اس کی مکمل کوریج کر رہا تھا۔ سب لوگوں نے اس کو دیکھا اور پھر شہر شہر مجیب کی مورتیوں کو توڑنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا بنگلادیش مجیب کی مورتیوں سے پاک ہو گیا۔
اگلے دن یعنی ۶؍اگست کو پورے بنگلادیش میں سے ہر دفتر ہر کالج یونیورسٹی سے مجیب اور حسینہ واجد کی تصاویر کو پھاڑ دیا گیا۔ کئی تصاویر اکٹھی کر کے آگ لگا دی گئی۔ مظاہرین نے عہد کر لیا تھا کہ مجیب اور حسینہ کی تمام کارستانیوں سے بنگلادیش کو پاک کر دیں گے۔ دوسری طرف عوامی لیگ کے لوگ بہت زیادہ پریشان تھے۔ سب کو اپنی اپنی فکر تھی اور وہ اِدھر اُدھر بھاگ کر محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں تھے۔ تمام وزراء مشیر ممبر پارلیمنٹ چیئرمین سب گھروں سے غائب تھے اور سب کے گھروں میں تالے پڑے ہوئے تھے۔ سب کو اپنے دور میں عوام پر کیے گئے ظلم اور بربریت کی یاد آرہی تھی، سب اپنے آپ کو بچانے کی تدابیر کر رہے تھے۔ عوامی لیگ کے رہنما سکتے میں تھے کہ سب کو چھوڑ کر حسینہ اپنی بہن کو لے کر فرار ہو گئی ہیں۔ کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ کسی کو بتائے بغیر بھاگ جائے گی۔ سب کا کہنا تھا کہ اگر حسینہ کو بھاگنا ہی تھا تو اتنا خون کیوں بہایا۔ عوامی لیگ کے کارکنان کو مظاہرین سے کیوں لڑوایا، اتنے ظلم و جبر کی صرف حسینہ واجد ذمہ دار ہے۔
شیخ حسینہ کے فرار کے بعد بنگلادیش کی حکومت کن لوگوں پر مشتمل ہوگی۔ نیا سربراہ کون ہوگا، لوگ سوچ بچار کر رہے تھے اور اگلے اعلان کے انتظار میں تھے۔ طلبہ رہنمائوں نے بھی غور و خوض کیا کہ حکومت کا رہنما ایسا ہونا چاہیے جس پر عوام متفق اور متحد ہو، جس کی خوبیوں کو ساری دنیا جانتی ہو تاکہ وہ بھارت سے مقابلہ کر سکے۔ بہرحال ان کی سمجھ میں ایسی شخصیت آئی جو ان کی نظر میں ان تمام خوبیوں کی مالک تھی اور وہ شخصیت ڈاکٹر یونس کی تھی۔ بہرکیف وہ ان کی اچھی چوائس تھی۔ جب اس نام کا میڈیا پر اعلان کیا گیا تو بنگلادیشی عوام نے اس کو پسند کیا اور اس پر اتفاق کیا۔ طلبہ رہنمائوں نے ڈاکٹر یونس سے بات کی جو اُس وقت فرانس میں موجود تھے۔ انہوں نے یہ پیشکش قبول کر لی۔ کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر یونس کی نامزدگی سے پہلے طلبہ رہنمائوں نے آرمی چیف اور صدر سے میٹنگ کی۔ سب نے اس پر اتفاق کیا۔ اس سے پہلے سب طلبہ رہنمائوں نے واشگاف الفاظ میں یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ کسی صورت میں ملٹری رول (فوجی اقتدار) کو قبول نہیں کریں گے۔ ڈاکٹر محمد یونس ۸؍اگست کو ڈھاکا پہنچتے ہیں اور اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیتے ہیں اور ۱۷؍رکنی کابینہ نے بھی حلف اٹھایا۔
ڈاکٹر محمد یونس دنیا کے سات مشہور آدمیوں میں سے ایک ہیں، جن کو نوبل پرائس ملا ہے، انہیں یو ایس کانگریشنل گولڈ میڈل ملا، انہیں یو ایس پریزیڈینشل گولڈ میڈل بھی ملا۔ انہیں دنیا کی بہت سی حکومتوں نے اعزازی تمغوں سے نوازا ہے۔ ۵۰ سے زیادہ یونیورسٹیز نے انہیں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی ہے۔ انہیں ۱۱۳؍انٹرنیشنل ایوارڈز دیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر محمد یونس ۲۸ جون ۱۹۴۰ء میں چٹاگانگ میں پیدا ہوئے۔ ان کی عمر ۸۴ سال ہے۔ وہ ماہر معاشیات ہیں، سیاستدان ہیں اور سول سوسائٹی کے لیڈرہیں۔ انہوں نے بنگلادیش میں گرامین بنک (ولیج بنک) بنایا تھا۔ یہ بنک گائوں میں چھوٹے چھوٹے قرض دیتا تھا۔ انہوں نے گائوں میں لاکھوں لوگوں کو قرض دیا۔ ان کے اس خیال اور کوشش کو جو غریب کو چھوٹا قرض دے کر غربت سے نکالنے کا باعث بنا، کی بنیاد پر انہیں ۲۰۰۶ء میں نوبل پرائز دیا گیا۔ ۲۰۰۹ء میں کانگریشنل گولڈ میڈل اور ۲۰۱۰ء میں پریزیڈنشل گولڈمیڈل دیا گیا۔ دنیا کے تمام نوبل پرائز یافتہ لوگ ان کے قریبی دوست ہیں۔ بہت سارے ملکوں کے سربراہان اور اہم شخصیات ان کی ذاتی دوستی میں شامل ہیں اور انہیں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر یونس ۲۰۱۲ء سے لے کر ۲۰۱۸ء تک گلاسکو یونیورسٹی یو کے کے وائس چانسلر رہے ہیں۔
ڈاکٹر یونس ان چند بین الاقوامی شخصیتوں میں سے ہیں جنہیں لوگ سننا پسند کرتے ہیں۔ ان کے تعارف میں اور بھی بہت کچھ ہے، مگر ہم آپ کو بنگلادیش میں ان کی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے ہیں جیسا کہ آپ کو بتایا کہ انہوں نے ۸؍اگست کو حلف اٹھا کر سب کو حیران کر دیا بنگلادیش کے طلبہ اور عوام سب بہت خوش تھے کہ انہیں ایسا محب وطن رہنما ملا، جن کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ان کی دیانت داری اور صلاحیت کی وجہ سے انہیں نوبل پرائز ملا اور ان پر کسی بھی کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے۔ وہ بہت پراثر اور خوب صورت گفتگو کرتے ہیں اور پر پیج باتوں کی بجائے نہایت سادہ اور سیدھی بات کرنے کے عادی ہیں، ہمیشہ سچ بولنا اور دوسروں سے ادب سے بات کرنا بھی ان کی شخصیت کا حصہ ہے۔ اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے کچھ ایسے حیران کن اقدامات کیے جسے نہ صرف اسلام پسند بلکہ سب لوگوں نے سراہا۔ وہ انتہائی ذہین اور وقت پر فیصلہ کرنے کی بڑی پختہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ اُن کے چند فیصلوں کا تذکرہ درج ذیل ہے:
۱) انہوں نے جیل سے تمام علمائے دین کو فوری رہا کر کے ان کے خلاف لگائے گئے بے بنیاد تمام کیس ختم کرنے کا حکم دیا۔ بڑے بڑے جید علمائے دین سے انہوں نے خود فون پر بات کی اور درخواست کی کہ اب آپ کو دین اسلام کی ترویج کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ اب وہ قرآن اور سیرت کی محافل کا انعقاد کریں اور لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناش کرائیں۔ واضح رہے کہ حسینہ حکومت نے علمائے دین پر اجازت کی پابندی لگائی تھی۔ جید علمائے دین نے اپنی دینی محافل میں لوگوں کو اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں گرفتار کر کے ان کو جسمانی ٹارچر کیا۔ ان کے جسموں کے نازک حصوں پر بھی بجلی کے جھٹکے لگائے گئے۔ لاکھوں لوگوں کو حسینہ حکومت کی اس ظلم و بربریت کا علم ہوا تو لوگوں کو حسینہ حکومت اور عوامی لیگ کے کارکنوں سے نفرت میں اضافہ ہوا۔
۲) عوامی لیگ سرکار کے قومی مدارس اور عالیہ مدارس کے خلاف سخت اقدامات کی وجہ سے دونوں درسی نظام سخت بدحالی کا شکار ہوئے۔ ڈاکٹر یونس اور ان کی حکومت نے فوری طور پر ان مدارس کو سرکاری خزانے سے وسائل فراہم کیے اور یوں وہ اپنے قدموں پر کھڑے ہوئے۔ انہوں نے تمام علمائے دین سے انفرادی اور اجتماعی ملاقاتیں کیں اور توجہ سے ان کے مسائل سنے اور فوری حل کے احکامات جاری کیے۔ ان اقدامات سے علماء نے ڈاکٹر یونس پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
۳) حسینہ واجد نے اگست کی پہلی تاریخ کو حکومت کے خلاف مظاہروں کی تمام ذمہ داری جماعت اسلامی اور اسلامی چھاتر و شبر پر لگائی اور کہا کہ یہی لوگ مظاہرین کو اور اس تحریک کو منظم کر رہے ہیں۔ اس لیے یکم اگست کو انہوں نے ان پر پابندی لگا دی۔ ڈاکٹر یونس نے حکومت میں آتے ہی ان احکامات کو واپس لے لیا اور جماعت اسلامی اور چھاترو شبر کو بحال کر دیا۔
۴) عوامی لیگ نے اپنے ۱۵؍سالہ دورِ اقتدار میں پورے بنگلادیش میں جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شبر کے تمام دفتروں پر تالے لگا دیے تھے۔ یہ لوگ پورے ۱۵؍سال سے اپنے دفتروں میں نہیں جا سکتے تھے، ان کو کہیں بھی چھوٹے نہ بڑے کوئی اجتماعات کرنے کی اجازت نہ تھی۔ آئے دن پولیس ان کے کارکنوں کے گھر آتی اور شک کی بنیاد پر انہیں پکڑ کر لے جاتی۔ پولیس ان پر ظلم کرتی، تھانوں میں رکھتی جیلوں میں بند کرتی۔ ڈاکٹر یونس نے فوری طور پر ان سے یہ پابندیاں اٹھا لیں اور سارے دفتر کھول دیے۔ جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شبر نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے دفتروں میں اپنا کام دوبارہ شروع کر دیا۔
۵) ڈاکٹر یونس نے جیلوں میں قید لاکھوں سیاسی کارکنوں کو رہائی کا حکم دیا، ان پر عائد کیس ختم کرنے کے احکامات جاری کیے۔ عوامی لیگ دور میں ایک ایک کارکن پر کئی کئی کیس اور مقدمات کر دیے گئے تھے۔ مقصود یہ تھا کہ ان کی اگلی زندگی انہی مقدمات کی پیشیاں بھگتاتے بھگتاتے گزر جائے۔ ڈاکٹر یونس کے ایک حکم سے لاکھوں لوگ جیلوں سے باہر آگئے۔ ان سب نے اور ان کے گھر والوں نے ڈاکٹر یونس کے ان اقدامات کو سراہا۔
۶) بنگلادیش کی عوام کو حسینہ حکومت کے خاتمے کے ساتھ بڑے بڑے سرپرائز ملے۔ ہزاروں سیاسی رہنما فوجی آفیسرز، بیرسٹرز، ڈاکٹرز جن کو حسینہ حکومت نے اغوا کر کے مختلف قید خانوں میں بند کر دیا تھا، وہ سب منظر عام پر آگئے۔ ان کے متعلق حسینہ حکومت عدالت سے جھوٹ بولتی رہی کہ انہیں ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں مگر حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی سب قید سے چھوٹ کر باہر آگئے۔ ان میں پروفیسر غلام اعظم سابق امیر جماعت اسلامی کا بیٹا بریگیڈیئر جنرل امام اعظمی۔ شہید میر قاسم علی کے صاحبزادے بیرسٹر ارمان، بی این پی کے رہنما غیاث الدین اور صلاح الدین نمایاں ہیں اور بھی سیکڑوں اغوا کنندگان جیل کے اذیت خانوں سے رہا ہوئے اور انہوں نے میڈیا کو اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی داستانیں سنائیں اور بتایا کہ وہ آٹھ سے دس سال غائب رہے اور حکومت کا ظلم سہتے رہے۔ میڈیا پر آنے والی ان تمام خبروں کو سن کر عوام حسینہ حکومت کے خلاف غم و غصے کا اظہار کرتے رہے۔
۷) حسینہ حکومت کے جبر کی وجہ سے بہت سارے صحافیوں، سول سوسائٹی کے لوگوں اور علمائے دین کو ملک چھوڑنا پڑا۔ جوملک چھوڑ کر گئے ان کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کے گھر والوں پر حسینہ حکومت نے زبردستی کی اور ظلم کیا۔ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعدبیشتر لوگ واپس آئے اور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی داستان میڈیا کے سامنے پیش کی۔ دیکھنے والوں کے سامنے سوال تھا کہ کیا حسینہ حکومت اپنی عوام پر اتنا ظلم کر سکتی ہے؟
۸) ڈاکٹر یونس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ انتظامیہ پر قابو پانا تھا۔ یہ لوگ ہر جگہ ہر دفتر میں موجود تھے۔ ان میں R.A.W کے ایجنٹ، ہندو اور عوامی لیگ کے کارکنان بھی تھے۔ جنہوں نے عدم تعاون شروع کر دیا تھا۔ ڈاکٹر یونس کے ساتھ ان کے ۱۷؍مشیروں نے بھی حلف اٹھایا تھا۔ بیوروکریسی نے سب کے ساتھ عدم تعاون کیا۔ بنگلادیش میں تقریباً دو لاکھ اسی ہزار پولیس والے تھے۔ سب بھاگ گئے اور پولیس کا ادارہ تقریباً خالی ہو گیا۔ قصۂ مختصر تمام بیوروکریسی جس میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر، S.P سول سیکٹریٹ کے افسران سب نے حکومت کے تعاون سے انکار کر دیا۔اسی طرح ہسپتال کے ڈاکٹرز نرسیں گویا لگ رہا تھا کہ سارے ادارے عدم تعاون کر رہے ہیں۔ ان سب اداروں میں وہی کوٹہ سسٹم کے تحت لوگ بھرتی کیے گئے تھے۔ اس تمام صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر یونس اور اُن کی ٹیم نے حالات کو بہتر کرنے کے لیے اقدامات کا آغاز کیا۔ ۶۴ جیلوں میں نئے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر تعینات کیے گئے۔ تمام اضلاع میں پولیس سربراہان کی نئی تقرری کی گئی۔