برطانیہ کو سچ سمجھنا اور بولنا پڑے گا

یہ تو اب ماننا ہی پڑے گا کہ امریکا دنیا کو ویسی نہیں رہنے دینا چاہتا جیسی وہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے رہی ہے۔ وہ اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کی خاطر کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہے۔ صدر ٹرمپ کی شکل میں امریکا کو ایک ایسا لیڈر ملا ہے جو تمام ہی معاملات کو الٹنے، پلٹنے کے لیے محض تیار نہیں بلکہ بے تاب ہے۔ جو کچھ ٹرمپ انتظامیہ کرنے پر تُلی ہوئی ہے، اُس کے بارے میں سوچ سوچ کر دنیا پریشان ہوئی جاتی ہے اور اس معاملے میں برطانیہ پیش پیش ہے۔ برطانوی قیادت اس وقت تذبذب کے عالم میں ہے۔ وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر شش و پنج میں مبتلا ہیں۔ وہ امریکا کے ارادوں کو بھانپ بھی چکے ہیں اور کچھ کہنے سے گریز بھی کر رہے ہیں۔

اس حقیقت سے اب کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر معاملے کو اُلٹنے، پلٹنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اِس میں بہت حد تک کامیاب بھی ہیں۔ دنیا بھر کے سرکردہ سیاست دانوں کو اس حوالے سے لب کُشائی کرنی ہی چاہیے تاکہ عام آدمی کو معلوم ہوسکے کہ جو کچھ ٹرمپ کر رہے ہیں، اُس کے سنگین اثرات و نتائج، حتمی تجزیے میں، کیا ہوسکتے ہیں۔ امریکی صدر کے اقدامات سے یورپ بھر میں بہت کچھ ہو رہا ہے۔ کچھ معاملات سامنے ہیں اور کچھ ڈھکے چھپے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹامر اپنے لوگوں کو ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کے سنگین نتائج کے حوالے سے خاطر خواہ حد تک کچھ نہیں بتارہے۔ کیئر اسٹارمر کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اگر اُنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کے حوالے سے کوئی بھی ایسی ویسی بات کہی تو واشنگٹن کی طرف سے شدید ردِعمل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ خیر، کیئر اسٹارمر کو اس معاملے میں دیانت کی راہ پر گامزن ہونا ہی پڑے گا۔

کیئر اسٹارمر کے لیے بورس جانسن ایک ایسے رول ماڈل ہیں جس کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ بورس جانسن کے بہت سے اقدامات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ اُن کی وزارتِ عظمیٰ میں برطانیہ نے کچھ خاص پیشرفت نہیں کی۔ وہ زیادہ کامیاب وزیراعظم نہ تھے مگر خیر، ایک معاملے میں تو اُنہیں معقول اور بڑا ماننا ہی پڑے گا۔ انہوں نے پانچ سال قبل ٹی وی پر قوم سے براہِ راست خطاب کیا اور وہ سب کچھ بیان کردیا جو انہیں بیان کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے برطانوی باشندوں کے مجموعی مفادات کو لاحق خطرات کے بارے میں کھل کر بات کی۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے قوم سے یہ بھی کہا کہ آنے والا زمانہ بہت اچھا نہیں ہوگا، اِس لیے کچھ نہ کچھ سہنے کے لیے تیار رہنا پڑے گا۔ اب کیئر اسٹارمر کو بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا اور یہ اس لیے نہیں ہوگا کہ کسی بڑے بحران کی آمد کا اندیشہ ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ تو آہی چکے ہیں۔

بورس جانسن نے صرف ۶ منٹ کا خطاب کیا۔ یہ خطاب بہت سے معنوں میں بڑی تبدیلی کا نقیب تھا۔ اس خطاب نے برطانوی باشندوں کو احساس و یقین دلایا کہ ہم ہنگامی حالت میں داخل ہوچکے ہیں۔ ہمارے ہاں بہت کچھ تھا۔ شہری آزادیوں کے معاملے میں برطانیہ کو ایک مثال قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اب یہ سب کچھ خیال و خواب کا معاملہ لگتا ہے۔ ہم نے بہت سی نعمتوں کو درخورِ اعتنا سمجھنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی۔ اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ بورس جانسن نے کہا کہ ہمیں گھر پر رہنا سیکھنا ہوگا اور ہم نے سیکھا۔ کووِڈ کے زمانے میں بہت کچھ قربان کرنا پڑا تھا۔ بورس جانسن نے لوگوں کو حوصلہ دیا۔ وہ حقیقت پسند تھے اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے وہ سب کچھ کہا جو عام طور پر کوئی بھی راہنما کھل کر کہنے سے ڈرتا ہے۔ ہاں، بعد میں یہ بات کُھلی کہ بورس جانسن اور اُن کے رفقا نے قوم سے جو قربانی مانگی تھی، وہ خود اُنہوں نے نہیں دی۔ ردِعمل میں لوگ بپھر گئے اور بورس جانسن کا دھڑن تختہ ہوگیا۔

کیئر اسٹارمر کو احساس ہونا چاہیے کہ اس وقت برطانیہ سمیت پوری دنیا ہنگامی حالت سے دوچار ہے۔ اُنہیں بہت سی باتیں کُھل کر کرنی چاہئیں۔ بہترین موقع تب تھا جب صدر ٹرمپ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے اپنے یوکرینی ہم منصب وولودومیر زیلنسکی کی تذلیل کی تھی اور دھمکایا تھا۔ ایک دنیا نے خود دیکھا کہ امریکی صدر دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم کیے جانے والے عالمی سیاسی و معاشی نظام کو تباہ کر رہے ہیں۔ خیر، کیئر اسٹارمر کے لیے وقت ابھی نہیں گزرا۔ اُنہیں سامنے آکر کُھل کر بات کرنی چاہیے۔

ہر گزرتا ہوا دن امریکی صدر کے حوالے سے خدشات کو درست ثابت کرتا جارہا ہے۔ ایک دنیا یہ سمجھتی رہی ہے کہ ٹرمپ کی امریکی ایوانِ صدر میں دوبارہ آمد کے نتیجے میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوں گی اور یہ کہ صدر ٹرمپ کا وجود سیاسی جسم کے لیے ناسور کا سا ہے اور یہ بات اب درست ثابت ہوتی جارہی ہے۔ ایک طرف تو وہ دنیا بھر میں اتحادیوں کو چھوڑ رہے ہیں۔ گرین لینڈ اور کینیڈا کے معاملے میں انہوں نے کُھل کر دھمکانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ کئی ممالک ڈرے ہوئے ہیں۔ چھوٹوں کا تو حال بُرا ہے۔ اُنہیں اب کوئی شک نہیں رہا کہ صدر ٹرمپ امریکی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے کسی بھی ملک کے خلاف نئی عسکری مہم شروع کرسکتے ہیں۔ اب تک یورپ کو امریکا کا سب سے بڑا اتحادی اور شریکِ کار سمجھا جاتا رہا ہے مگر اب یورپی اقوام کو بھی امریکی حملے کا خدشہ لاحق ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر نے ٹیرف کے معاملے میں انتہائی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔ وہ درجنوں ممالک کو ڈرا رہے ہیں۔ تجارت کے معاملے میں چین کا سامنا کرنے کی سکت نہ ہونے پر ٹرمپ انتظامیہ ڈرانے دھمکانے پر اُتر آئی ہے۔ چین، کینیڈا، میکسیکو، بھارت اور دوسرے بہت سے ملکوں کو خوفزدہ کرکے امریکا کے لیے گنجائش پیدا کی جارہی ہے۔ کیئر اسٹارمر کو اس حوالے سے بھی کوئی لگی لپٹی نہیں رکھنی چاہیے اور جو کچھ بھی کہنا چاہیے، وہ کہہ دینا چاہیے۔ کیئر اسٹارمر کو قوم سے اپنا خطاب اس طور شروع کرنا چاہیے کہ میں آج رات آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے براعظم میں جمہوریت سے آمریت کے ٹکراؤ میں امریکا نے پارٹی بدل لی ہے۔ برطانوی وزیراعظم بتاسکتے ہیں کہ امریکی صدر نے روسی ہم منصب سے ہاتھ ملانا منظور کرلیا ہے۔ ایسے میں برطانوی حکومت کے پاس اپنی پالیسیاں بدلنے کے سوا کون سا آپشن بچا ہے؟ برطانیہ کو اپنے دفاع کا مرحلہ بھی درپیش ہے۔ کیئر اسٹارمر قوم سے کہہ سکتے ہیں کہ امریکی سیاسی سوچ اور پالیسیوں میں یہ تبدیلی ہم سے بھی غیرمعمولی قربانی کا مطالبہ کرتی ہے اور یہ کہ ایسا کرنا کسی طور آسان نہ ہوگا۔ اس وقت برطانوی قوم کو زیادہ سے زیادہ اعتماد کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم اسٹامر کے لیے لازم ہے کہ اس مشکل گھڑی میں قوم کی ڈھارس بندھائیں، اُسے آنے والے وقت کے لیے ڈھنگ سے تیار کریں۔ قوم کا مورال بلند کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ وقت کسی بھی معاملے کو چُھپانے کا نہیں ہے۔ کیئر اسٹارمر اور اُن کی ٹیم کو قوم کے سامنے پورا سچ بول دینا چاہیے۔ قوم چاہتی ہے کہ کسی بھی معاملے کو چُھپایا نہ جائے، کوئی بھی بات سات پردوں میں لپیٹ کر بیان نہ کی جائے۔ اگر سچ بولا جائے گا تو قوم خود کو آنے والے وقت کے لیے ڈھنگ سے تیار کرسکے گی۔ برطانیہ کے لیے لازم ہے کہ خود کو ایک ایسے ماحول کے لیے تیار کرے جس میں امریکا دوست سے کہیں بڑھ کر دشمن کا سا ہے۔

برطانیہ کو دفاعی صلاحیت میں بھی اضافہ کرنا ہے۔ فرانس اور جرمنی بھی ایسا ہی کر رہے ہیں کیوں کہ اُنہوں نے بھی خطرات بھانپ لیے ہیں۔ یوکرین کی صورتحال نے اُنہیں دفاعی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کردیا ہے۔ برطانیہ اب امریکا پر کُلی بھروسا نہیں کرسکتا کیوں کہ ٹرمپ کی پالیسیوں میں تسلسل نہیں۔ سیاست بدل گئی ہے اور تزویراتی معاملات بھی وہ نہیں رہے۔

برطانیہ میں رجعت پسند عناصر بالعموم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ معاشی معاملات میں ریاست زیادہ دخل دے مگر کووِڈ کے زمانے میں وزیراعظم بورس جانسن نے اُنہیں بھی قائل کرلیا کہ معیشت کو متحرک رکھنے کے لیے سیکڑوں ارب ڈالر لگائے جائیں۔ اور ایسا ہی کیا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں جو جھکڑ چل رہا ہے، اُس سے بچنے کے لیے کیئر اسٹارمر بھی اہلِ وطن کو اعتماد میں لے کر معیشت کو مضبوط بنانے کی خاطر ریاستی فنڈنگ کرسکتے ہیں۔ برطانوی معیشت کا حال بہت اچھا نہیں۔ دفاعی اخراجات میں اضافے کی زیادہ گنجائش نہیں۔ ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر خریداری بھی آسان نہیں۔ بہبودِ عامہ کے فنڈز کو دفاعی بجٹ کی نذر کرنے سے معاشرے میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوگا۔ برطانیہ میں بھی اضافی دفاعی اخراجات کا بیشتر بوجھ ملک کے غریب ترین لوگوں ہی کو بھگتنا ہوگا۔ ایک طرف تو برطانوی حکومت اندرونِ ملک غریبوں کا حق مارنے پر مجبور ہوگی اور دوسری طرف وہ پسماندہ ممالک کے امدادی بجٹ میں کٹوتی کرے گی یعنی مختلف منصوبوں کے لیے برطانیہ کی طرف سے فنڈز نہیں ملیں گے۔

برطانوی قیادت پر لازم ہوچکا ہے کہ عوام کو کُھل کر بتائے کہ دس سال پہلے کی دنیا اب نہیں رہی۔ امریکا بھی بدل چکا ہے اور اُس کی ترجیحات بھی۔ امریکی پالیسیوں میں یورپ کا اب وہ مقام نہیں رہا جو دس بارہ سال قبل تھا۔ تجارتی جنگ نے بہت کچھ الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ بریگزٹ کے وقت کی دنیا اب نہیں رہی۔ اور برطانیہ کے لیے امکانات بھی وہ نہیں رہے جو ہوا کرتے تھے۔

اگر لیبر پارٹی ملک کو درپیش مسائل بیان کرنا چاہے تو کوئی بھی بات چھپانا پسند نہیں کرے گی۔ نئے امکانات پر بات ہوگی اور جو بحران اِس وقت ہیں، اُن کے تدارک کے بارے میں سوچنے کی گنجائش پیدا کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔ ایک عشرے کے دوران دنیا اِتنی بدل چکی ہے کہ برطانوی پالیسیوں کو تبدیل کیے بغیر چارہ نہیں۔ امریکا پر اب زیادہ بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔ اور بعض معاملات میں تو ذرا سا بھروسا کرنے کی بھی گنجائش نہیں۔ امریکا اب ایک بڑی تجارتی جنگ شروع کر رہا ہے۔ چین اُس کا مرکزی حریف ہے مگر ایسا نہیں ہے کہ اس جنگ میں صرف چین ایندھن بنے گا۔ برطانیہ بھی الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔ اس تجارتی جنگ میں برطانیہ کو اپنے بھروسے کے پارٹنرز سے فاصلہ نہیں رکھنا بلکہ اُن کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ ایک برطانیہ ہی پر کیا موقوف ہے، پورے یورپ کو بہت سوچ سمجھ کر راستے چُننے ہیں۔ کسی ایک فریق کی طرف جھکاؤ ظاہر کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ یورپ اپنی مارکیٹ بچانے کے لیے دوسروں کو نظرانداز کردے۔ سنگل مارکیٹ کا تصور مٹ رہا ہے۔ یہ مقابلے کی دنیا ہے۔ کسی بھی مارکیٹ کو بند نہیں کیا جاسکتا۔ دروازے بند کرنے سے امکانات بھی نہیں آسکیں گے۔

ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یورپ میں بہت سے سیاسی قائدین اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا نے اب بھی اُن کے بارے میں رائے نہیں بدلی۔ یہ خوش فہمی بہت بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے کہ امریکا اب بھی یورپ کو اپنا سب سے بڑا اتحادی سمجھتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا صرف اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی بات کر رہا ہے۔ اِس سے زیادہ اُسے کچھ بھی مطلوب نہیں۔ برطانیہ میں بھی سیاسی قائدین اِس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ امریکا اب بھی اُن کا ہے اور اُن کے لیے بہت کچھ کر گزرے گا۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ایک سے ڈیڑھ عشرے کے دوران بہت کچھ بدل چکا ہے اور وہ کل والی دنیا کہیں گم ہوچکی ہے۔ آج کی دنیا میں امریکا کو صرف اپنی پڑی ہے۔ یورپ بھی اُس کے لیے محض ایک فریق ہے نہ کہ دوست یا اتحادی۔ امریکا اور یورپ کا تعلق خصوصی نوعیت کا رہا ہے۔ نوعیت اب بدل چکی ہے۔ امریکا کے لیے یورپ خصوصی ہے نہ بہت اہم۔ اگر یورپ تجارتی جنگ میں ہار کی طرف جائے گا تو امریکا اُس سے مزید دوری اختیار کرے گا۔ باقی یورپ کی طرح برطانیہ کو بھی یہ خوف لاحق ہے کہ اگر اُس نے امریکی پالیسیوں کو مسترد کیا، ٹرمپ انتظامیہ سے دوری اختیار کی تو دفاعی معاملات میں مشکلات پیدا ہوجائیں گی کیوں کہ یورپ کا دفاع اب بھی بہت حد تک امریکا سے اشتراکِ عمل سے جُڑا ہوا ہے۔ یورپ اب بھی اپنا دفاع تنِ تنہا نہیں کرسکتا۔ یورپی یونین اس معاملے میں تاحال بُودی ثابت ہوتی آئی ہے۔ یوکرین کی جنگ نے بھی یورپ میں دفاع کے حوالے سے مطلوب یا خاطر خواہ سنجیدگی پیدا نہیں کی۔

حقیقت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی بھی معاملے میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی، وہ صرف امریکا کا سوچ رہے ہیں۔ ایسے میں یورپ کو امریکا سے الگ ہونا ہی پڑے گا، اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔ امریکا سے فاصلہ رکھنے کی ابتدا اب یورپ کو کرنی ہی پڑے گی۔ اس معاملے میں کلیدی کردار برطانیہ کو ادا کرنا ہے۔ برطانیہ کو اب ایسی پالیسیاں اختیار کرنی ہیں جن کے نتیجے میں اُس کے یورپی پڑوسی بھی مضبوط ہوں۔ اشتراکِ عمل بہت بڑے پیمانے پر لازم ہے۔ معاہدۂ شمالی بحرِ اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کو مضبوط رکھنے کا سب سے کارگر طریقہ یہ ہے کہ برطانیہ سمیت تمام یورپی ریاستیں اشتراکِ عمل کی طرف جائیں اور دفاع سمیت ہر معاملے میں امریکا کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں۔

برطانوی قائدین اس وقت، فطری طور پر، خوفزدہ ہیں۔ وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر ذرا سی بھی تنقید کی یا اُنہیں مسترد کیا تو شدید ردِعمل، بلکہ ٹرمپ کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزیراعظم کیئر اسٹارمر فی الحال امریکا کو یہ یقین دلانے میں مصروف ہیں کہ برطانیہ دوسری یورپی ریاستوں کی طرح نہیں، اس لیے امریکا کو اُس سے ناراض نہیں ہونا چاہیے۔

یوکرین کے معاملے میں برطانیہ الگ ہوکر چلنا چاہتا ہے۔ اُس کی کوشش ہے کہ ایک بین الاقوامی فوج ہو جو یوکرین کے معاملات کی نگرانی کرے، مگر امریکا اس معاملے میں الگ سوچ رکھتا ہے۔ وہ ایسی کوئی بھی بین الاقوامی فوج دیکھنا نہیں چاہتا جس میں چین اور روس کا کوئی کردار ہو۔ یوکرین کو یورپ کا معاملہ گردانتے ہوئے امریکا اپنی ذمہ داری سمجھنے کا تاثر دینا چاہتا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ اس حوالے سے کوئی کلیدی کردار ادا کرنے کا شوقین بھی دکھائی نہیں دیتا۔ یورپ کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی وٹکوف کہتے ہیں کہ روسی صدر پوٹن بھی ذہین ہیں اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

ٹرمپ انتظامیہ اس حقیقت کو کُھل کر بیان کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کر رہی کہ دنیا بدل چکی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرزِ گفتگو انتہائی جارحانہ ہے۔ یوکرینی ہم منصب وولودومیر زیلنسکی سے اُنہوں نے وائٹ ہاؤس میں جو سلوک روا رکھا، وہ سب کی آنکھیں کھولنے اور ہوش کے ناخن لینے کے لیے کافی ہے۔ امریکا صرف اپنا مفاد چاہتا ہے اور اِس کے لیے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ یورپ کو یہ حقیقت جلد از جلد سمجھنی ہے اور برطانیہ کو سب سے پہلے۔ دفاع سمیت کسی بھی معاملے میں امریکا پر مکمل بھروسا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Trump is upending everything”.

(“The Guardian”. March 28, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں