ایک افریقی سیاسی راک اسٹار کی تقریر

اردو صحافت میں افریقا کا ذکر ہوتا بھی ہے تو انسانی اسمگلنگ، خانہ جنگی، قحط سالی اور پسماندگی کے حوالے سے ہوتا ہے۔ کبھی کبھار منڈیلا، نکروما، لوممبا یا سنکارا جیسے انقلابیوں کا مختصر ذکر بھی ہو جاتا ہے۔ مگر آج کا افریقا کیا سوچ رہا ہے اور وہاں کیا تبدیلیاں انگڑائیاں لے رہی ہیں۔ ہم میں سے اکثر اس کی کھوج کے بارے میں سوچتے بھی نہیں۔

اس پس منظر میں ان دنوں سوشل میڈیا پر افریقی نوجوانوں کی آنکھ کا تارہ اگر کوئی ہے تو وہ ہے مغربی افریقا کے ملک برکینا فاسو کا فوجی صدر ۳۷ سالہ کیپٹن ابراہیم ترورے۔

۲۰۲۲ء میں سابق نوآبادیاتی طاقت فرانس کی حاشیہ بردار حکومت کا تختہ پلٹنے والے کیپٹن ترورے نے آتے ہی فرانسیسی فوجی اڈے بند کر دیے اور روس اور چین سے مراسم بڑھا لیے۔ وہ اب مغربی افریقی ممالک کا ایک علاقائی اتحاد بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

ابراہیم ترورے نے گزشتہ ڈھائی برس کے دوران سونا نکالنے والی مغربی کمپنیوں سے برکینا فاسو کی حصہ داری کا مطالبہ منوایا۔ زرعی اصلاحات کیں۔ کیپٹن ترورے کی توپوں کا رخ اکثر عالمی مالیاتی اداروں اور نوآبادیاتی طاقتوں کی جانب رہتا ہے مگر آئی ایم ایف اور عالمی بینک بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ کیپٹن ترورے کے دور میں برکینا فاسو کی معیشت میں قدرے بہتری آئی اور غربت کی شرح بھی کم ہوئی ہے۔

کیپٹن ترورے بَلا کے مقرِر ہیں۔ ان دنوں ان کی ایک تقریر سوشل میڈیا پر وائرل ہے جو انہوں نے ہمسایہ ملک گھانا کے نئے صدر کی تقریبِ حلف برداری کے موقع پر کی۔ اس تقریب میں ۲۲ دیگر افریقی سربراہانِ مملکت بھی موجود تھے۔ اس خطاب میں ایسا بہت کچھ ہے جو آپ کو شاید اپنا اپنا سا لگے۔ لہٰذا میں کیپٹن ترورے کے اس خطاب کو پڑھیے اور اپنے بارے میں بھی سوچیے۔

’’عزیز افریقیو! قوموں کی زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب خاموش رہنا منافقت کے برابر ہے۔ میرا نام کیپٹن ابراہیم ترورے ہے۔ میں مہذّب سفارتی زبان نہیں جانتا۔ میں ملٹی نیشنل کارپوریشنز کے بورڈ رومز میں بسی خوشبو سے بھی ناواقف ہوں۔ نہ واشنگٹن کا تربیت یافتہ ہوں، نہ ہی جنیوا کے آداب جانتا ہوں۔ میں تو اُس محاذ پر ہوں جہاں میرے لوگ خونم خون ہیں۔ میں اس خطے کے لیے بول رہا ہوں جسے عشروں سے ساہوکاروں نے اپنی جیل سمجھا ہے۔

آج میں لرزتی آواز میں نہیں بلکہ صدیوں بھرے افریقی درد سے لبریز آواز میں مخاطب ہوں۔ طویل عرصے سے آئی ایم ایف بیمار معیشتوں کی دوا کر رہا ہے۔ مگر ہمارا تجربہ یہ ہے کہ یہ دوا اکثر جان لیوا ثابت ہوئی ہے۔ بین الاقوامی قرضے مسکراتے معاہدوں میں لپٹے زہریلے تیر اور معاشی استحکام کے نام پر گلا دبانے کی کوشش ہیں۔ اصلاحات کا عملی مطلب غیرملکی لیبارٹریوں میں تیار کردہ ماڈلز کی تابعداری ہے۔ مگر اب ہم اقتصادی بساط کے مہرے بننے پر تیار نہیں۔ افریقا کو جاگنے کے بعد سانس لینے کے لیے آپ کی اجازت درکار نہیں۔

کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ میں قرضوں کی تنسیخ کی بھیک مانگ رہا ہوں یا شرائط میں نرمی کی وکالت کر رہا ہوں۔ میں وہ بتانے کی جرأت کررہا ہوں جو اکثر افریقی رہنما بتانے سے ہچکچاتے ہیں۔ ہمارے جواہرات سے مغرب کا خزانہ بھرتا رہے اور ہم ان کی شرائط پر ناچتے رہیں۔ ہرگز نہیں۔ ہم کسانوں کو اپاہج کرنے والی پالیسیوں اور نوجوانوں کو جنم بھومی چھوڑنے پر مجبور کرنے والی دُھن پر اور نہیں تھرکنا چاہتے۔ اچھی گورننس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اپنی قومی دولت بیرونی کمپنیوں کے مسکراتے مشیروں کے حوالے کر دی جائے۔

ہم ایک نیا مکالمہ چاہتے ہیں۔ ساہوکار اور مقروض کا نہیں بلکہ دو مساوی فریقوں کا مکالمہ۔ ابھرتا ہوا شعور ہمیں سمجھا رہا ہے کہ آپ جو قرضہ افریقا کو پیش کر رہے ہیں، وہ ترقی کا زینہ یا غربت پار کرانے والا پل نہیں بلکہ سوٹڈ بوٹڈ ہاتھوں میں اسپریڈ شیٹس کی شکل میں نئی زنجیر ہے۔ آپ جسے اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ کہتے ہیں، ہم اسے اسٹرکچرل سزا کہتے ہیں۔ آپ جس شے کو مالیاتی نظم و ضبط کہتے ہیں، ہم اسے نسل در نسل محرومی کا تسلسل سمجھتے ہیں۔ آپ شراکت داری کی بات کرتے ہیں۔ مگر ایک شریک مسلسل منافع میں ہو اور دوسرا نڈھال، تو یہ شراکت داری نہیں لوٹ مار ہے۔

میرا سوال ہے کہ یورینیم، کوبالٹ اور زرخیز زمین سے مالامال کوئی قوم آخر غریب کیسے ہوسکتی ہے؟ کیسے ایک براعظم پوری دنیا کی صنعت کو ایندھن فراہم کرتا ہو مگر اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے سے قاصر ہو؟ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اس کا سبب ہماری بدانتظامی، بدعنوانی اور نااہلی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ افریقا ان ناسوروں کا مارا ہوا ہے۔ مگر ان میں سے متعدد زخم آپ کے ہاتھوں کی دَین ہیں، جو اَب ہمیں ان عِلّتوں کے علاج کے نام پر سود سے لتھڑے نسخے تھما رہے ہیں۔

میں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کی پاور پوائنٹ پریزنٹیشن والا دلکش قرضہ ہمارے گلی کوچوں میں کیا گل کھلا رہا ہے۔ ہمارے بچے موم بتی کی روشنی میں پڑھ رہے ہیں، کیونکہ بجلی کے نظام کو نجکاری کے نام پر غیرملکی سرمایہ کاروں کے حوالے کر دیا گیا۔ وہ بجلی کے ایسے نرخ مانگ رہے ہیں جو ہمارے لوگوں کے بس سے باہر ہیں۔

ٹوٹے بستروں سے اَٹے اسپتال اینٹی بائیوٹک ادویات سے خالی ہیں۔ عورتیں دورانِ زچگی مر رہی ہیں، کیونکہ آپ کی شرط ہے کہ ہم عوامی صحت پر زیادہ نہ خرچ کریں۔ لاکھوں گریجویٹس کا کوئی مستقبل نہیں کیونکہ ملازمتیں پیدا کرنے والے شعبے بیچ دیے گئے یا آپ کی کھلی منڈی کی پالیسیوں تلے کچلے گئے۔

قرضوں کی واپسی کا آپ کا وضع کردہ منصوبہ حیات بخش نہیں بلکہ موت کا پروانہ ہے۔ آپ ہمیں پانچ سو ملین ڈالر تھما کر سالہاسال کی ری اسٹرکچرنگ فَیس اس میں ڈال کے ہم سے دو بلین ڈالر وصول کرتے ہو۔ آپ کہتے ہو کہ معاہدے باہمی رضامندی سے طے پاتے ہیں۔ یہ کیسی باہمی رضامندی ہے کہ مریض خونم خون ہو اور صرف آپ کے پاس وہ دوا ہو جو آپ من مانی قیمت پر بیچیں۔

محترم آئی ایم ایف! یہ رضامندی نہیں، معاشی دھونس ہے۔ یہ ترقی نہیں تسلط ہے۔ یہ عالمگیریت نہیں، مالیاتی رسّوں سے مسلح نیا نوآبادیاتی نظام ہے۔ افریقیوں کی نئی نسل نابینا نہیں۔ ہماری ہی محنت سے بنی میز پر پڑے ہماری ہی روٹی کے چند ٹکڑے ہمیں ہی عطا کرنے پر ہم آپ کے شکر گزار نہیں ہوسکتے۔ ہم معاشی کارکردگی بہتر کرنے کے نام پر آپ کے فارمولوں پر تالیاں پیٹنے سے عاجز آچکے ہیں۔ ہم اپنے نام پر لکھے جانے والے قرضے آپ کے ماہرین اور مشیروں کے ہاتھوں میں غائب ہونے اور پھر ان غائب قرضوں کے عوض اپنی آزادی کا سودا کرنے کو مزید تیار نہیں۔

افریقا آپ کا نہیں بلکہ آپ افریقا کے مقروض ہو۔ اس سونے کے مقروض ہو جو بھاری بھاری بوٹوں کے زور پر چھینا گیا۔ ان معدنیات کے مقروض ہو جو آپ کے اسمارٹ فون کو روشن رکھتی ہیں، جبکہ ہمارے دیہات تاریکی جھیلتے ہیں۔ ان ہیروں کے مقروض ہو جن کی خاطر ہم لہولہان کیے جاتے ہیں۔

ہم خیرات نہیں انصاف مانگ رہے ہیں اور انصاف کا تقاضا ہے کہ قرضوں کے استحصالی ڈھانچے کو سدھارا جائے۔ انصاف کا مطلب ہمیں یہ جاننے کا حق ہے کہ آپ نے ہم سے کیا لیا اور ہم نے آپ سے کیا لیا۔ انصاف یہ ہے کہ ہمیں اپنا مالیاتی مستقبل وضع کرنے کی آزادی ہو۔ اگر یہ باتیں آپ کو چبھ رہی ہیں تو یہ اچھی علامت ہے۔ کیونکہ یہی وقت ہے کہ جو اس نظام سے مطمئن ہیں، ان سے دوبدو بات کی جائے۔

افریقا میں بہت سی ریاستیں اور بہت سے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ مگر خود مختاری کے بغیر آزادی وہم ہے۔ بظاہر آپ ہم پر حکمران نہیں مگر ہمارا بجٹ آپ بناتے ہو۔ آپ ہمارے انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالتے مگر یہ فیصلہ آپ کرتے ہو کہ ہماری معیشت ڈھ جائے یا سانس لیتی رہے۔ آپ ہمارے اندرونی معاملات میں غیرجانبداری کا دعویٰ کرتے ہو لیکن آپ کے ہی قلم کی روشنائی ہمارے قوانین لکھتی ہے۔ آپ ہمارے منتخب رہنماؤں کو ان کی حدود بتاتے رہتے ہو۔ یہ مدد نہیں سیاسی انجینئرنگ ہے۔

آپ بظاہر بموں کے بجائے بریف کیسوں اور ڈرائنگز سے مسلح آتے ہو مگر نقصان اتنا ہی پہنچاتے ہو۔ ٹیکنیکل زبان میں لپٹی آپ کی شرائط ایک سائلنسر لگی بندوق ہیں۔ آپ کے سفارشاتی احکامات بہت دلکش ہیں۔ سبسڈیز میں تخفیف کرو، منڈیاں کھولو، کرنسی کی قدر میں کمی کرو۔

مگر یہ کیسی سفارشات ہیں جن سے انکار کی قیمت بھک مری ہے۔ یہ کیسی تجویز ہے جس کی تابعداری پر ہی اگلے قرضے کا دار و مدار ہے۔ یہ بات ہم کب تک چھپائیں کہ آپ ہمارے اندرونی معاملات میں مکمل دخیل ہو۔

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کفایت شِعاری سے کرپشن ختم ہو جائے گی مگر یہ اُمید ختم کر رہی ہے۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ کھلی منڈی ہمیں اوپر لے جائے گی مگر اس سے پیدا ہونے والی دولت سمندر پار منتقل ہو رہی ہے۔ اور جب ہمارے لوگ احتجاج کرتے ہیں تو آپ بالکل لاتعلق ہو کر کہتے ہو کہ ہم تو بس مبصر ہیں۔ تاریخ سب تماشا دیکھ رہی ہے۔‘‘

میرے افریقیو! گھانا تا زیمبیا اور سینیگال تا کینیا ایک ہی ڈرامہ چل رہا ہے۔ حکومتوں کو پانی کی نجکاری پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ غیرملکی کمپنیاں منافع کما سکیں۔ سستی درآمدات کے ذریعے کسانوں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ مقامی صنعتوں پر پھلنے سے پہلے ہی قاتلانہ حملہ ہو جاتا ہے۔ مشورہ دیا جاتا ہے کہ بجٹ کو متوازن بنانے کے لیے ترقیاتی بجٹ کم کریں تاکہ غیرملکی قرضوں کی ادائیگی بروقت ہوسکے۔

عجیب بات ہے کہ یہ ادائیگی وقت کے ساتھ ساتھ کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ اگر ہم اس کے خلاف مزاحمت کی جرأت کریں، آپ کے تجویز کردہ نسخوں پر سوال اٹھائیں یا تجاویز نہ مانیں تو ہم بلیک لسٹ ہو جاتے ہیں، ہماری کریڈٹ ریٹنگ نیچے آجاتی ہے، ہماری کرنسی کی قدر پر حملہ ہوتا ہے اور ہمارے رہنماؤں کو نام نہاد بین الاقوامی میڈیا انتہا پسند، سنکی اور پاپولسٹ قرار دے کر مطعون کرتا ہے۔

اس سے بڑی انتہاپسندی کیا ہوگی کہ ایک ملک کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے عوام کا پیٹ بھرنے سے پہلے قرض کا سود چکانے کی فکر کرے۔ چنانچہ ہماری نئی نسل کا اپنے روزگاری مستقبل اور سیاست پر سے ایمان اٹھتا جارہا ہے کیونکہ ان کی قیادت عوام کو جواب دینے سے پہلے بینکوں کو جوابدہ ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ آپ ہمارے خوابوں کو بھی ویٹو کرتے ہو۔ آپ افریقی پالیسی بنانے والے غیرمنتخب گورنر ہو۔ ہم کب تک برداشت کریں کہ ہمیں ہی دیے گئے قرضوں سے بھاری مشاہرہ پانے والے بین الاقوامی مشیر ہماری پالیسیاں بنائیں جب کہ ہمارے اساتذہ کو تنخواہ کے لالے پڑے ہوں۔ ہم ان اداروں کے آگے مزید کیوں جھکیں جو ہمارے شہریوں کے بجائے اپنے شیئر ہولڈرز کو جوابدہ ہوں۔

میں آئی ایم ایف سے صاف صاف کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اپنا اقتدارِ اعلیٰ واپس لینا چاہتے ہیں، بھلے اس کا مطلب آپ کے قرضوں کے بغیر ہماری شرح ترقی میں سست رفتار اضافہ ہی کیوں نہ ہو مگر تب یہ ہماری شرحِ ترقی ہوگی۔ وقتی تکلیف تو ہوگی مگر یہ آزاد ہونے کا درد ہوگا۔ افریقا کو آقا نہیں، شراکت دار چاہئیں۔

ہم اس نظام میں پیدا ہوئے ہیں جو ہم نے نہیں بنایا۔ یہ نظام معاہدوں، من مانے قوانین اور اداروں کا جال ہے۔ جب نوآبادکار رخصت ہوئے تو اپنے پیچھے شفافیت کے بجائے ایسا نظام چھوڑ گئے جو انہیں مسلسل فائدہ پہنچاتا رہے۔

مسئلہ صرف آئی ایم ایف میں اصلاحات کا نہیں بلکہ تجارتی، مالیاتی، قرضہ جاتی قوانین کے ڈھانچے میں سدھار کا ہے۔ موجودہ مالیاتی ڈھانچا خدائی یا فطری منصوبہ نہیں بلکہ طاقتور انسانوں کا مسلط کردہ ہے۔ وہی طاقتور تعین کرتے ہیں کہ کس شے کی کیا قیمت ہو اور کسے ملنی چاہیے۔

کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ ایسا براعظم جس کی ساٹھ فیصد زمین زرخیز ہے، اب تک خوراک میں خود کفیل کیوں نہیں؟ ہم سونے، ہیروں، تیل اور لیتھیم کے ذخائر پر بیٹھنے کے باوجود بھی محتاج کیوں ہیں؟ کیونکہ کھیل کبھی شفاف نہیں تھا۔

ہمیں صنعتی مصنوعات بنانے کے بجائے خام مال پیدا کرنے والے خطے میں تبدیل کر دیا گیا۔ ہمیں عالمی معیشت میں ایک مخصوص کردار دیا گیا جیسے کسی کھیل میں اداکار کو دیا جاتا ہے۔ یعنی تم صرف اگاؤ گے، پروسیسنگ ہم کریں گے، تم ہاتھ پھیلاؤ گے ہم قرضہ دیں گے۔ جب بھی ہم اس کھیل کا اسکرپٹ دوبارہ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو جرمانہ بھرنا پڑتا ہے۔ کریڈٹ ایجنسیز ہماری ریٹنگز گھٹا دیتی ہیں، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی لابی پابندیوں کی دھمکی دیتی ہے، ہائی ٹیک کمپنیاں اپنا سرمایہ نکال لیتی ہیں۔ آپ کا میڈیا ہمیں پاگل کہتا ہے۔

مگر اس سے زیادہ غیرمستحکم دنیا اور کیا ہوگی کہ ۴ء۱؍ارب انسانوں کا براعظم ماحولیات کی ابتری میں سب سے کم اور اس کے نقصانات میں سب سے زیادہ حصہ دار ہے۔ اس سے زیادہ غیرمنطقی کیا ہوگا کہ پوری دنیا کے لیے کوکا اگانے والے کسان خود اپنے بچوں کے لیے چاکلیٹ خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ اس سے بڑی ناانصافی کیا ہوگی کہ جن ممالک نے ہمیں ماضی میں نوآبادی بنایا، آج وہی ہمیں گڈ گورننس کا لیکچر دے رہے ہیں اور دوسری جانب افریقی اشرافیہ کی چرائی ہوئی دولت بنا کوئی سوال پوچھے اپنے بینکوں میں رکھ رہے ہیں۔ اور وہ اس نظام کو میریٹوکریسی بھی کہتے ہیں۔

وہ ہم سے کہتے ہیں کہ محنت کرو، شفاف بنو اور مزید سرمایہ کاری کے مواقع بڑھاؤ۔ مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ عالمی تجارتی قوانین کبھی بھی شفاف نہیں رہے۔ عالمی ادارہِ تجارت (ڈبلیو ٹی او) عالمی بینک اور آئی ایم ایف جیسے ریفریز انہیں ٹیموں کے طرفدار ہیں جو ہمیشہ جیتتی ہیں۔

مثلاً جب ہم نے اپنے کسانوں کو سبسڈی دینے کی کوشش کی تو ہمیں کہا گیا کہ اس سے کھلی مارکیٹ پر منفی اثر پڑے گا۔ مگر امریکا اور یورپ اپنے کسانوں کو اربوں ڈالر کی سبسڈی دے رہے ہیں اور اسے تحفظ کا نام دیتے ہیں۔ جب ہم نے روزگار پیدا کرنے کے لیے سرکاری شعبے میں صنعتیں لگانے کی کوشش کی تو ہمیں بتایا گیا کہ اس سے معاشی جمود بڑھے گا۔ جبکہ ان کی امیر ترین نجی کارپوریشنز سرکاری پیسے سے چلنے والے ناسا، سرکاری جنگوں، سرکاری ٹھیکوں اور سرکاری ریسرچ اداروں کی تحقیق سے پورا تجارتی فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ جب ہم کانکنی کے استحصالی معاہدوں پر نظرثانی کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ہم کاروبار دشمن ہیں۔ مگر اس سے بڑی دشمنی کیا ہوگی کہ آپ سو ڈالر مالیت کی معدنیات نکالیں اور ہمیں تین ڈالر رائلٹی دے کر چلتے بنیں۔

افریقا آپ سے رحم کھانے کو نہیں کہہ رہا۔ ہم صرف شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم خیراتی اترن نہیں برابری چاہتے ہیں۔ ہم اس کرۂ ارض کا سب سے توانا براعظم ہیں۔ مگر عالمی معیشت ہم سے ایسا سلوک کر رہی ہے جیسے ہمارے پاس دینے کو کچھ نہیں۔ ہمارے مزدور، ہماری زمین، ہماری اقدار ناقص نہیں بلکہ نظام ناقص ہے۔ ہم آپ سے تعلق نہیں توڑنا چاہتے مگر مزید زنجیریں پہننے کو تیار نہیں۔

ہم سنکارا، نکروما، لوممبا اور منڈیلا کے بچے ہیں۔ محض زندہ رہنا نہیں چاہتے بلکہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے اب ہمیں کسی کی اجازت اور افریقا کو اب کوئی نیا نجات دھندہ یا تازہ لیکچر یا جکڑبند قرضہ نہیں چاہیے۔ ہم خود کو تمہارے برابر تسلیم کروانے کے لیے خوشامد نہیں کریں گے۔ ہم شراکت داری کے خلاف نہیں مگر ہم اس کی شرائط ازسرِنو ترتیب دینا چاہتے ہیں۔

کوئی ملک بااختیار نہیں کہلا سکتا اگر اپنے لوگوں کا پیٹ نہ بھرسکے۔ ہم کیسے آزاد کہلا سکتے ہیں جب کسی جگہ پڑنے والا قحط ہماری روٹی کی قیمت طے کرے۔ نوآبادیاتی نظام نے جو سب سے خطرناک ترکہ چھوڑا، وہ بندوق نہیں بلکہ نصاب ہے۔ ایسا نصاب جو ہمیں غیرملکی بادشاہوں کے بارے میں تو خوب بتاتا ہے مگر ہمارے ہیروز کو نظرانداز کرتا ہے۔ نصاب میں غیرملکی فلسفیوں کی تعریف ہے مگر افریقی دانش کا ذکر غائب ہے۔

ہمیں تعلیمی نصاب دوبارہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے اپنی قدر و قیمت سے آگاہ ہوسکیں۔ اپنی تاریخ پر فخر کرسکیں اور اعتماد کے ساتھ تخلیقی قوت استعمال کرسکیں۔ بچوں کو کوڈنگ ضرور سکھائیں مگر علمِ زراعت بھی پڑھائیں۔ ہمارے اسکول آزادی کی لیبارٹری ہونے چاہئیں۔ تعلیم محض امتحان میں کامیابی تک محدود نہ ہو بلکہ اپنی قسمت خود تعمیر کرنے کے قابل بناسکے۔

ہمارا جو خام مال باہر جاتا ہے، وہی خام مال کھلی تیار مصنوعات کی شکل میں دس گنا قیمت پر ہمیں لوٹایا جاتا ہے۔ ہمیں مقامی صنعت کاری اور ایجاد پسندی کی جانب آنا ہوگا۔ صرف معدنیات کی ملکیت کافی نہیں۔ منافع کمانے کے لیے ہمیں دھاتوں کی ریفائننگ اور پیکیجنگ کی اپنی صنعت چاہیے۔ ہمیں افریقی سرمایہ کاری اور نوزائیدہ صنعتوں کو تحفظ دینا ہوگا اور غیرضروری اشیا کی درآمدی عادت کو کم کرنا ہوگا۔ یہی ایک طریقہ ہے روزگار پیدا کرنے اور افریقا کی دولت افریقیوں کے لیے استعمال کرنے کا۔ منقسم افریقا ہمیشہ کمزور رہے گا۔ ہم ۵۴ ممالک الگ الگ آوازوں کی شکل میں دنیا سے اجتماعی سودے بازی نہیں کرسکتے۔ ہمیں سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور سائنسی تعاون کے لیے متحد ہونا پڑے گا۔ اس کے لیے بین الافریقا ادارہ سازی کرنا ہوگی۔ ہم تب تک آزاد نہیں ہوسکتے جب تک مقامی دانش پر بھروسا کرنا نہیں سیکھیں گے۔

پیارے افریقیو! خودکفالت کا مطلب مغرب کی نقالی ہرگز نہیں۔ خودکفالت کے سفر میں ہم سے غلطیاں بھی ہوں گی، ہم لڑکھڑائیں گے بھی۔ مگر وہ ہماری اپنی غلطیاں ہوں گی۔ انہی سے ہمیں سیکھنے کا موقع ملے گا۔ کوئی نجات دھندہ نہیں آئے گا۔ نجات دھندہ یہیں موجود ہے اور وہ ہم ہیں۔ لہٰذا لاحاصل انتظار اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ اب رک جانا چاہیے۔ صرف باتوں اور دعوؤں سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہمیں آج ہی سے اپنے ہاتھ مٹی سے آلودہ کرنے ہوں گے۔ قلم کی روشنائی بھلے کتابوں پر گرتی ہے تو گرنے دو۔

اے عام افریقیو! تم بے بس نہیں۔ بس تمہیں اب تک یہ جتایا گیا کہ طاقتور وہ ہے جو سوٹ پہن کر مائیکرو فون لیے کھڑا ہوتا ہے اور مستقبل کا فیصلہ دور کہیں عالیشان عمارات میں بیٹھنے والے ہی کرتے ہیں۔ مگر تم جان لو کہ اختیار کا سفر اوپر سے نیچے نہیں بلکہ نیچے سے اوپر ہوتا ہے۔ افریقا کی اصل طاقت اس کسان کے پاس ہے جو علی الصبح بیدار ہوتا ہے۔ اس ماں کے پاس ہے جو اپنی خواہشات اپنے بچے کی ضروریات پر قربان کر دیتی ہے۔ طاقتور وہ لڑکا ہے جو بھوکا ہونے کے باوجود چوری نہیں کرتا۔ طاقت اس بچی کے پاس ہے جو روزانہ پانچ میل چل کے اسکول جاتی ہے۔ ٹھیلے والا، مکینک، نرس، ماشکی، استاد۔ یہ ہیں ہماری طاقت۔ افریقا انہی کے سہارے تو رواں ہے۔

خود کو عام سے لوگ سمجھنے والے یہی انسان تو دراصل نئے افریقا کے معمار ہیں۔ مگر انہیں یہی بتایا گیا ہے کہ تم بس تالی بجاؤ جب تمہاری طرف کوئی روٹی کے بچے کھچے ٹکڑے پھینکے۔ صاحبانِ اختیار سے پوچھنے کے بجائے ان سے ڈرو۔ اس وقت بھی سوال نہ کرو جب صاحبانِ اختیار تمہیں بنیادی تحفظ نہ دے سکیں۔ ہمیں اس منحوس مُروّت اور اس نادیدہ دیوار سے جان چھڑانا ہوگی جو عوام کو لیڈر سے اور اشرافیہ کو عوامی رول ماڈلز سے الگ رکھتی ہے۔ اصل قیادت حکمران نہیں خدمت گزار ہوتی ہے۔ کوئی بھی نظام بغیر احتساب کے فسطائیت کے سوا کچھ نہیں۔

نظام آپ کو بے بس کیوں رکھنا چاہتا ہے؟ کیونکہ بین الاقوامی ادارے آپ کی خاموشی کے سبب ہی آپ کی ریاستوں کو کنٹرول کر پاتے ہیں۔ ان کی خوشحالی آپ کی مزاحمت کی شکست میں پنہاں ہے۔ آپ صرف جسم و جان کا رشتہ نبھانے میں ہی اس قدر الجھا دیے جاتے ہیں کہ آپ متحد نہ ہوسکیں۔ اسی لیے آپ کو بتایا جاتا ہے کہ سیاست ایک گندہ کھیل ہے۔ یہ آپ کے لیے نہیں۔ اس میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے۔

مگر یہ جان لیں کہ ہر گرانی، ہر ناکارہ اسپتال، یہ سب سیاسی فیصلوں کی پیداوار ہیں۔ لہٰذا فیصلہ سازی کے عمل سے خود کو لاتعلق رکھنا اور سوال نہ کرنا دراصل اپنی استحصالی قوتوں کو مسلسل سہولت فراہم کرنا ہے۔ جب لوگ جاگتے ہیں تب توازن بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ جب نوجوان خاموش رہنے سے انکار کر دیں، جب مائیں اختیار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ بولنے لگیں، جب بوڑھی آوازوں میں لرزش نہ رہے۔ تب کوئی آئی ایم ایف، کوئی آمر، کوئی کٹھ پتلی حکومت نہیں ٹک سکتی۔

ضروری نہیں کہ انقلاب ہمیشہ دبنگ انداز میں زمین ہلاتا ہوا آئے۔ بعض اوقات یہ دبے پاؤں بھی آ جاتا ہے۔ مگر اس وقت جب ہر نوجوان اپنا ووٹ بنوائے۔ جب کارکن عورتیں رشوت دینے سے انکار کر دیں۔ جب ہمسائے سرکار کا انتظار کیے بغیر اپنی گلی کی خود ہی مرمت کرلیں۔ آپ کا فرض صرف مزاحمت کرنا ہی نہیں بلکہ اپنی مدد آپ کرنا بھی ہے۔ آپ صرف تماشائی نہیں، تماشے کا حصہ بھی ہیں۔ اس کے لیے کسی کی اجازت درکار نہیں۔ اپنی قسمت آپ خود ہی بدل سکتے ہیں۔ کوئی دوسرا صرف آپ کی قسمت کے دام کھرے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اختیار تھالی میں نہیں ملتا۔ اسے کمانا پڑتا ہے۔ کیا آپ خود کو اس قابل بناسکتے ہیں؟ یاد رکھیے! دنیا ہماری طاقت سے زیادہ ہمارے جاگنے سے خوفزدہ ہے۔

جاگنے سے روکنے کے لیے ہمیں مسلسل بتایا گیا کہ ہم غیرمہذب ہیں، پسماندگی ہماری رگوں میں ہے اور چلنے کے لیے بھی کسی کے سہارے اور سرپرستی کی ضرورت ہے۔ یہ جھوٹ اتنے تواتر سے بولا گیا کہ ہم نے بھی اسے سچ جان کے یقین کر لیا اور جھکتے چلے گئے۔

ہمیں یہ بھی یاد نہ رہا کہ انسانی تہذیب نے افریقا میں ہی جنم لیا تھا۔ سب سے پہلے ہمارے ہی بزرگوں نے ستاروں کو قطب نما کے طور پر استعمال کیا۔ انہی سے علمِ فلکیات، روحانیات، فنِ زراعت اور جڑی بوٹیوں کے طبی استعمال کا آغاز ہوا۔

ہم بھول گئے کہ آئی ایم ایف سے بہت پہلے ٹمبکٹو کا تہذیبی مرکز بھی تھا۔ نوآبادیاتی دور سے پہلے یہاں شاندار سلطنتیں تھیں جن کے پاس باقاعدہ افواج بھی تھیں مگر یونیورسٹیاں بھی تھیں۔ تجارتی راستے بھی آباد تھے۔ قانون سازی بھی ہوتی تھی۔ ہم غریب نہیں تھے۔ ہمیں غریب بنایا گیا۔

لہٰذا جب آپ تعلیم حاصل کرکے کچھ بڑا سوچنا یا کرنا چاہتے ہو تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ جب آپ منظم ہونے کی کوشش کرتے ہو تو وہ کانپنے لگتے ہیں۔ جب آپ متحد ہونے کا سوچتے ہو تو وہ سازشیں شروع کر دیتے ہیں۔ انہیں آپ کے غصے سے نہیں بلکہ باشعور ہونے کے خدشے سے بے چینی ہے۔ وہ آپ کے احتجاج سے نہیں بلکہ زندگی کی مقصدیت کی تلاش سے پریشان ہیں۔ جب لوگ خودشناس ہوجاتے ہیں تو ان پر کسی جھوٹ کا جادو نہیں چل سکتا۔ مگر آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب تسلط کمزور ہونے لگتا ہے تو مسلط طاقت پوری قوت سے آخری وار ضرور کرتی ہے۔ آنکھیں اور دماغ مستعد ہوں تب ہی اس آخری حملے کو پسپا کیا جاسکتا ہے۔ اگر وہ آپ سے پریشان ہیں کہ آپ ان کی اجازت کے بغیر کیوں اٹھنے کی ہمت کر رہے ہیں تو ان کی پریشانی بجا ہے۔ غاصب زنجیریں ٹوٹنے کی آواز آخر کیوں پسند کرے۔

ہاں ہمارا صدیوں استحصال ہوا، ہمارے مصائب سے تجوریاں بھری گئیں، ہماری خاموشی کو صبر کے بجائے کمزوری سمجھا گیا۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے زخم دکھا کر ہمدردیاں بٹورنے میں ہی لگے رہیں۔ ہمیں تشدد، انتقام اور دنیا سے الگ تھلگ رہنے کے جال میں نہیں پھنسنا۔ ورنہ جتنا سفر درپیش ہے، اُس سے دوگنا کرنا پڑے گا۔ خدا ہمارا مددگار ہو۔

(بحوالہ: روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ کراچی۔ ۳ جون ۲۰۲۵ء)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں