ایران پر حملہ: وہی جُھوٹ، وہی بڑھک

امریکی قیادت نے جو کچھ بھی ۲۰۲۵ء میں ایران کے خلاف کہا ، وہی اُس نے ۲۰۰۳ء میں عراق کے خلاف کہا تھا۔ عراق کے بارے میں مغربی خفیہ اداروں نے جعلی اور فرضی رپورٹس تیار کرکے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیار بنارہا ہے۔ اب ایران پر ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا الزام لگاکر کارروائی کی گئی ہے۔ جب اسرائیل اور ایران کے درمیان لڑائی نے زور پکڑا اور اسرائیل نمایاں طور پر ہدف پذیر دکھائی دینے لگا تو امریکا کو آگے آنا پڑا۔ ’الجزیرہ‘ نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ مغربی دنیا کے سیاسی و عسکری قائدین اور تجزیہ کار ایران کے بارے میں بالکل وہی لب و لہجہ اختیار کیے ہوئے ہیں جو اُنہوں نے عراق کے خلاف اختیار کیا تھا۔ عراق کو مکمل تباہی سے دوچار کرنے کے لیے امریکا اور یورپ نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کا الزام عائد کرکے عراق میں صدام حسین کی حکومت ختم کی، اُنہیں پھانسی دی اور پھر پورے عراق کو خانہ جنگی کی بھٹی میں جھونک دیا۔ عراق کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی سے قبل جو باتیں کہی گئی تھیں، وہی باتیں اب ایران کے بارے میں کہی جارہی ہیں۔

۲۰۰۳ء میں تب کے امریکی صدر جارج واکر بش نے کہا تھا ’’آج ہمارے پاس ایک خطرناک اور جارح حکومت کے پنجوں سے ایک قوم کو آزاد کرانے کی بھرپور قوت ہے۔ نئے ہتھکنڈوں اور قطعیت کے ساتھ حملے کرنے والے ہتھیاروں کی مدد سے ہم شہریوں کے خلاف تشدد کا خطرہ مول لیے بغیر اپنے تمام عسکری اہداف بہت آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں۔‘‘

امریکی قیادت نے حال ہی میں ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد بھی اِس سے ملتے جلتے الفاظ ہی ادا کیے۔ جارج واکر بش نے یکم مئی ۲۰۰۳ء کو امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہیم لنکن کے عرشے پر جو کچھ کہا تھا، کچھ کچھ ویسا ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائی کے بعد کہا۔

دو عشروں قبل جو کچھ ہوا تھا، بہت کچھ ویسا ہی ہو رہا ہے۔ امریکا نے اسرائیل اور ایران کے درمیان لڑائی میں شدت آجانے پر ایران کو نشانہ بنایا اور اِس کا جواز یہ پیش کیا کہ ایرانی قیادت خطرناک راہ پر گامزن ہے۔ بڑی طاقتوں کے قائدین اب بھی امریکا کی ہاں میں ہاں ملارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔

امریکا نے ہر دور میں کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کے لیے جو انتباہ اور جواز استعمال کیے ہیں، وہ ملتے جلتے رہے ہیں۔ ایران کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ امریکا نے اِس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اسرائیل کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔ خطے کے کسی بھی ملک کو ایٹمی ہتھیاروں کی طرف جانے نہیں دیا جارہا۔ جب بھی کسی مسلم ملک نے ایٹمی ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی کوشش کی ہے، امریکا اور اسرائیل نے آگے بڑھ کر اُس کا راستہ روکا ہے اور اِس کی ایک واضح مثال کم و بیش چالیس سال قبل عراق میں ایٹمی تنصیبات کی تباہی ہے۔ پھر لیبیا کو بھی اِسی الزام کے تحت نشانہ بنایا گیا۔ عراق پر ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا الزام تو عائد نہیں کیا گیا تاہم اُس پر وسیع پیمانے کی تباہی والے کیمیائی اور جراثیمی ہتھیار بنانے کا الزام عائد کرکے بھرپور کارروائی کی گئی اور حکومت تک ختم کردی گئی۔ ایران بھی کہتا رہا ہے کہ اُس کا ایٹمی پروگرام خالص سویلین مقاصد کے لیے ہے یعنی ایران توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ایٹمی توانائی کو بروئے کار لانا چاہتا ہے۔

اسرائیلی قیادت کم و بیش تین عشروں سے ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔ انتہا پسند لیڈر بنیامین نیتن یاہو نے بارہا کہا ہے کہ ایران کسی بھی وقت ایٹمی ہتھیار بناسکتا ہے۔ اِس کا مقصد مغربی دنیا کو ایران کے خلاف کرنا رہا ہے۔ ۲۰۰۲ء میں نیتن یاہو نے امریکی کانگریس پر زور دیا کہ عراق پر حملہ کیا جائے۔ جواز یہ گھڑا گیا کہ صدام حکومت وسیع پیمانے پر تباہی برپا کرنے والے ہتھیار بہت بڑے پیمانے پر تیار کر رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بھی بنانا چاہتا ہے۔ امریکا نے ۲۰۰۳ء میں عراق پر حملہ کیا مگر وہاں وسیع پیمانے کی تباہی برپا کرنے والے ہتھیاروں کی تیاری کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

اب امریکا اور اسرائیل کے حکام ایران کے خلاف الزام تراشی کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔ ایران کے بارے میں بہت کچھ غیرضروری طور پر کہا جارہا ہے اور اِس میں جھوٹ کی آمیزش بہت زیادہ ہے۔ دنیا کو اندازہ ہو رہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل مل کر ایران میں حکومت تبدیل کرانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ایسی کوئی بھی تبدیلی انتہائی نوعیت کی کیفیت پیدا کرے گی۔ امریکا نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے اب تک کئی خطوں میں حکومتیں تبدیل کرائی ہیں اور اِس کے نتیجے میں انتہائی نوعیت کی خرابیاں پیدا ہوئی ہیں۔

کیا تاریخ خود کو دُہرا رہی ہے؟

ہم دیکھ چکے ہیں کہ عراق میں حکومت کی تبدیلی یقینی بنانے کے لیے امریکا اور اُس کے یورپی اتحادیوں نے کس نوعیت کی خرابیاں پیدا کیں۔ عراق میں حکومت ختم ہوئی تو شدید نوعیت کا انتشار پیدا ہوا۔ ملک میں خانہ جنگی شروع ہوئی جس میں ہزاروں باشندے موت کے گھاٹ اُترے۔ ساڑھے چار ہزار امریکی فوجی بھی عراق میں مارے گئے۔ جو کچھ امریکا اور اُس کے اتحادیوں نے عراق میں کیا، اُس کے نتیجے میں وہاں شدید نوعیت کی فرقہ واریت پیدا ہوئی۔ اِس فرقہ واریت نے عراقی معاشرے کو منقسم کردیا۔ یہ تقسیم ختم ہونے کے بجائے مزید گہری ہوگئی ہے۔

مسلم دنیا کے لیے پریشانی کا دور ختم نہیں ہو رہا۔ جو کچھ عراق کے خلاف کہا اور کیا گیا، وہی اب ایران کے خلاف کہا اور کیا جارہا ہے۔ امریکا اور برطانیہ نے مل کر عراق کے خلاف حملے کا جواز تیار کیا تھا اور اب امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف بھرپور عسکری کارروائی کا جواز تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔

امریکی اور اسرائیلی قیادت نے جو کچھ دو ڈھائی عشرے قبل کہا تھا بالکل وہی کچھ اب بھی کہا جارہا ہے۔ یہ سب کچھ جھوٹ پر مبنی ہے۔ مفروضوں کی بنیاد پر الزام لگاکر عسکری کارروائی کا جواز تیار کیا جارہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ سیاسی اعتبار سے یہ کہنا بہت حد تک غلط ہوگا کہ ہم ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں مگر ایران کو دوبارہ عظمت سے ہمکنار کرنے والے حکومت کا قیام یقینی بنانا بھی تو لازم ہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایرانی عوام کو اُن کی مرضی کی حکومت ملے تاکہ اُن کا ملک دوبارہ عظمت سے ہمکنار ہو۔                                                  

   (مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Sounds familiar: Was this said about Iraq in 2003, or Iran in 2025?”

(“Aljazeera”. June 23, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں