ایران آبی بحران کی زد میں

پانی کا بحران عالمگیر ہے یعنی کوئی بھی ملک اِس سے بچا ہوا نہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں ہمیں عمومی سطح پر پانی کا بحران دکھائی نہیں دیتا تاہم اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ پانی سمیت تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے اُنہیں بہت زیادہ فنڈنگ کرنا پڑتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی وبا کی روک تھام کے لیے غیرمعمولی پیمانے پر اخراجات کی منزل سے گزرنا پڑے۔

ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں پانی کا بحران زیادہ سنگین اور مشکلات پیدا کرنے والا ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پانی اور دیگر بنیادی چیزوں یا سہولتوں کا بحران حکومت کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔ پسماندہ ممالک کی حکومتیں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا ڈھانچا بہتر بنانے کے لیے فعال رہتی ہیں کیونکہ اِس حوالے سے دشواریوں کا سامنا ہونے پر لوگ مشتعل ہو جاتے ہیں اور شدید بے چینی کے اظہار کے نتیجے میں سیاسی انتشار بھی پھیلتا ہے۔

ایشیا کے جن ممالک میں اِس وقت پانی کا بحران خطرناک نوعیت کا ہے، اُن میں ایران بھی شامل ہے۔ ایرانی حکومت بھی اس حوالے سے بہت پریشان ہے کیونکہ معاملہ دن بہ دن بگڑتا ہی جارہا ہے۔ ایران کے بیشتر علاقوں میں کئی سال سے ایک طرف تو غیرمعمولی نوعیت کی خشک سالی ہے اور دوسری طرف پانی کی تقسیم و ترسیل کے معاملات پر حکومت کا معقول تصرف نہیں رہا۔ بدانتظامی نے پانی کے بحران کو مزید وسعت دی ہے۔

ایران کم و بیش پانچ سال سے غیرمعمولی خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے۔ وسیع البنیاد خشک سالی کے ہاتھوں ملک کا اچھا خاصا رقبہ بنجر ہوچکا ہے، صحرا کی سی ہیئت اختیار کرچکا ہے۔ اِس کے نتیجے میں معیشت بھی متاثر ہوئی ہے اور معاشرت بھی۔ پانی کی شدید قلت کے باعث ایک طرف تو ایران میں زرعی شعبہ متاثر ہوا ہے اور دوسری طرف صنعتوں کے لیے بحرانی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ جن صنعتی یونٹس کو زیادہ پانی درکار ہوتا ہے، اُن کا پیداواری عمل برقرار رکھنا دشوار تر ہوتا جارہا ہے۔

ایران کی آبادی ۹ کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ سال بھر میں کم و بیش ۱۰۰؍ارب مکعب میٹر پانی استعمال کرتے ہیں۔ اب لوگوں کو ضرورت سے کہیں کم پانی مل پارہا ہے جس کے نتیجے میں اُن کی مشکلات بڑھی ہیں۔

ایران میں زراعت کے لیے کل رقبے کا صرف ۱۲؍فیصد زیرِ استعمال ہے تاہم اِسے ملک کے مجموعی ذخیرے کا ۹۰ فیصد پانی درکار ہوتا ہے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کئی اہم فصلیں متاثر ہوتی ہیں۔ ایران میں یہی ہو رہا ہے اور بعض چیزوں کی پیداوار گھٹ گئی ہے۔

ایرانی حکومت اِس بات کو اچھی طرح سمجھتی ہے کہ اُسے پانی کے بحران کو مزید بگڑنے سے پہلے ہی کنٹرول کرنا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو معاملات بگڑیں گے۔

ایران میں بارشیں سالانہ اوسط سے خاصی کم ہو رہی ہیں اور ملک کے بیشتر حصوں میں پائی جانے والی خشک سالی کے باعث پانی کے ذخائر پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ ملک کے بیشتر حصوں میں شدید گرمی پڑنے لگی ہے۔ درجہ حرارت ۵۰ سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں پانی کے ذخائر کا حجم گھٹتا جارہا ہے کیونکہ شدید گرمی پڑنے کی صورت میں پانی بخارات کی شکل میں زیادہ تیزی سے اُڑتا ہے۔ گزشتہ برس ایران میں بارش کے پانی کا ۷۰ فیصد بخارات بن کر اُڑ گیا۔ دوسری طرف ترکیہ میں یہ خسارہ ۵۰ فیصد تھا۔ ترکیہ پڑوسی ہے، اِس لیے ایران کے لوگ بیشتر معاملات میں اپنا اور ترکوں کا موازنہ کرتے ہیں اور حکومت پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ ترک حکومت کی طرح حکمرانی کا بلند معیار یقینی بنائیں۔ ترکیہ کی آبادی ایران سے کم ہے اور وہاں بیشتر معاملات قابو میں ہیں۔

ایرانی حکومت کے لیے ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ مخالفین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ایسے میں حکمرانی کا معیار بلند کرنے کے حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مخالفین اور منحرفین چاہتے ہیں کہ کوئی بڑا ایشو ہاتھ آجائے تاکہ وہ حکومت کو گرانے کا عمل تیز کریں۔

ایران میں بنیادی مسائل کے حوالے سے پہلے بھی بحرانی کیفیت پیدا ہوتی رہی ہے۔ بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے نظام میں پائی جانے والی خرابیوں کو اُچھال کر مخالفین اور منحرفین حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرتے رہے ہیں۔ حکومت پر اِس حوالے سے شدید دباؤ ہے۔

ایران کی حکومت نے پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے انقلابی اقدام کے طور پر افغانستان، ترکمانستان، تاجکستان اور ازبکستان سے بڑے پیمانے پر پانی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اِس حوالے سے بات چیت بھی ہو رہی ہے۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایرانی حکومت کو پانی کے بحران کی مجموعی کیفیت کا کتنی شدت سے احساس ہے۔

ایرانی حکومت کو بخوبی اندازہ ہے کہ حکمرانی کے گرتے ہوئے معیار اور بنیادی سہولتوں کے حوالے سے انتظامی نااہلی کو بنیاد بناکر حزبِ اختلاف کسی بھی وقت کوئی بڑی تحریک چلاسکتی ہے۔ ایرانی حکومت نے صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر نصف صوبوں کو آبی بحران سے دوچار قرار دے رکھا ہے۔ یہ اقدام اِس لیے لازم ہوچکا تھا کہ معاملات کو تیزی سے درست کرنا ہے۔

اِس وقت تہران کی ضرورت پوری کرنے والے ڈیم اپنی گنجائش کے صرف ۱۴؍فیصد کی حد تک بھرے ہوئے ہیں۔ پانی کی اِس شدید قلت نے معیشت اور معاشرت، دونوں کے لیے غیرمعمولی نوعیت کے مسائل پیدا کیے ہیں۔ پانی چونکہ انتہائی بنیادی چیز ہے، اِس لیے اِس کے بحران نے ایرانیوںکی اکثریت کو مضطرب کر رکھا ہے۔

یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ ایران میں پانی کا بحران کچھ تو قدرتی ماحول کا پیدا کردہ ہے اور کچھ حکومت کی نااہلی یا بدانتظامی کا بھی نتیجہ ہے۔ عوام بھی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ حکومت نے بعض معاملات میں ڈھیل برتی ہے جس کے نتیجے میں معاملات بگڑے ہیں۔ حکومت بھی سمجھتی ہے کہ اِس حوالے سے عوام میں اضطراب بڑھ رہا ہے۔ چند برس قبل بھی ایسے ہی مسائل کو بنیاد اور جواز بناکر اپوزیشن نے حکومت کا ناک میں دم کیا تھا۔ تب چلائی جانے والی تحریک اِس قدر طاقتور تھی کہ حکومت واضح طور پر ڈگمگا گئی تھی۔ اب حکومت اپوزیشن کو ایسا کوئی بھی موقع دینا نہیں چاہتی۔ اِس کی ایک ہی معقول صورت ہے۔۔۔ یہ کہ حکومت بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے نظام کو بہتر بنانے پر متوجہ رہے اور ایرانی حکومت ایسا ہی کر رہی ہے۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Iran: Water crisis as regime crisis”.

(“The Globalist”. July 30, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں