اگر استنبول کا پانی ختم ہوجائے؟

استنبول دنیا کے بڑے شہروں میں سے ہے اور اِس کا حجم بڑھتا ہی جارہا ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اِس کے پانی کے ذخائر پر غیرمعمولی رفتار سے دباؤ بڑھا رہی ہے۔ جُودی ہاربرٹ اکثر ایک خاص نسل کے شِکرے کے بارے میں اظہارِ خیال کرتی رہتی ہے۔ یہ شِکرا استنبول کے پانی کے بڑے ذخائر کے کناروں پر دکھائی دیا کرتا تھا۔ جس قصبے کی وہ رہنے والی ہے، وہ تو کب کا استنبول کی وسعتوں میں گم ہوچکا ہے۔ دریا کے کنارے وہ شِکرے اُترا کرتے تھے جو اَب جُودی کی یادوں کا حصہ ہیں۔ اِس دریا میں حیاتیاتی تنوع تھا۔ طرح طرح کے پرندے اور کیڑے مکوڑے یہاں ہوا کرتے تھے۔ جب میونسپلٹی نے دریا کے ساتھ ساتھ کنکریٹ کی دیوار کی تعمیر شروع کی تو یہ شِکرے غائب ہوگئے۔ یہ کوئی اچھا شگون نہ تھا۔

جُودی کا کہنا ہے کہ یہی وہ علاقہ تھا جہاں پانی ٹھہرا کرتا تھا۔ اگر شہر کو خشک سالی سے بچانا ہے تو دریا کے کنارے کی زمین کو پانی کی فراہمی جاری رہنی چاہیے۔ یہ علاقہ ہمیشہ نم رہنا چاہیے۔ اگر دریا کے کنارے کنارے کنکریٹ کی دیوار کھڑی کردی جائے تو پھر پانی کے ذخیرے کو سلامت رکھنا ممکن ہی نہیں۔

ایک چھوٹے سے دریا کے حوالے سے پیدا ہونے والی پیچیدگی ایک بڑے مسئلے کا محض ایک جُز ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کبھی استنبول کے پانی کے ذخائر دم توڑ دیں تو کیا ہوگا۔

جنوری ۲۰۲۱ء میں استنبول کے شہریوں کو بُری صورتحال سے ڈرانے والی خبریں سُننے اور پڑھنے کو ملنے لگیں۔ یہ کہا جانے لگا کہ صرف ۴۵ دن میں استنبول کے آبی ذخائر ختم ہوجائیں گے۔ ایک طرف تو پانی کے ذخائر کی سطح خطرناک حد تک گرچکی تھی اور دوسری طرف بارشیں بھی نہیں ہو رہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ بہت جلد ڈیڑھ کروڑ کی آبادی کا شہر پانی کی بوند بوند کو ترسے گا۔ ترکی کے ڈائریکٹوریٹ آف ریلیجس افیئرز (دیانت) کی ہدایات کے مطابق نماز جمعہ کے بعد استنبول کی مساجد میں بارش کے لیے دعائیں کی گئی۔

ایسا کوئی پہلی بار نہیں ہوا تھا۔ ۲۰۱۴ء میں استنبول کے آبی ذخائر کے خطرے میں ہونے کی خبریں نمودار ہوئی تھیں۔ تب استنبول کے علاقے کادیکوئے میں چار دن تک برائے نام بھی پانی نہ تھا۔ استنبول جیسے بڑے شہر میں پانی کے بحران کا سر اٹھانا کسی بھی طور کوئی حیرت انگیز یا غیرمتوقع امر نہیں۔ لوگ تھوڑے سے پریشان ہوتے ہیں اور پھر پانی کے آنے کا انتظار کرتے ہیں۔ جب پانی کی بندش کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے، تب لوگ پریشان ہو اٹھتے ہیں اور اُن کی بدحواسی نمایاں ہونے لگتی ہے۔ ۲۰۱۴ء میںجب چار دن تک پانی نہیں ملا تو لوگ سڑکوں پر آگئے اور مقامی حکومت سے مطالبہ کرنے لگے کہ جلد از جلد پانی دیا جائے۔

اب ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ ۴؍اکتوبر ۲۰۲۴ء کی بات ہے۔ استنبول کے پانی کے ذخائر کی سطح ۳۷ فیصد رہ گئی تھی۔ دسمبر ۲۰۲۳ء میں ترکیہ کے وزیرِ زراعت و جنگلات ابراہیم یُماکی نے قوم کو بتایا کہ ترکیہ کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اگر معاملات درست نہ ہوئے اور بارشیں نہ ہوئیں تو ۲۰۳۰ء تک ترکیہ کے بیشتر علاقوں کے لوگوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

استنبول کے پانی کا ایک اہم ذریعہ ککوچکمیک نامی تالاب ہے۔ یہ بہت تیزی سے آلودہ ہوتا جارہا ہے اور اِس کے خشک ہونے کا عمل بھی تیز ہوچکا ہے۔ خشک سالی اب دروازے ہی پر کھڑی ہے۔ وہ دن بہت نزیک آرہا ہے جب استنبول کے حصے کا پانی بالکل ختم ہوچکا ہوگا۔

آبی امور کے ماہر اور بوغازیشی یونیورسٹی کے استاد ایکگن اِلہان کا کہنا ہے کہ استنبول میں پانی کی قلت بڑھتی جارہی ہے۔ ہم اُس مقام کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں پانی کی قلت سے انسانوں ہی کو نہیں بلکہ پورے قدرتی ماحول کو غیرمعمولی نقصان پہنچ چکا ہوگا۔ ہمیں زمینی حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔ لازم ہوچکا ہے کہ ہم اصلاحِ احوال کے لیے کچھ کریں۔ اگر ہم نے استنبول میں پانی کی قلت دور کرنے کے حوالے سے کچھ نہ کیا تو بہت زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ استنبول پانی کا شہر ہے۔ اِس کے اطراف پانی ہی پانی ہے۔ شمال میں بحیرۂ اسود ہے۔ جنوب میں بحیرہ مرمرہ ہے اور آبنائے باسفورس شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ یہ سارا پانی نمکین ہے اور استنبول کو میٹھا پانی فراہم کرنے والا کوئی دریا نہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ استنبول کی ملکی اور عالمی حیثیت میں اضافہ ہوا ہے۔ شہر پھیلا ہے، آبادی بڑھی ہے اور بہت سے نواحی علاقوں کو اب شہر کے مرکز نے ہڑپ کرلیا ہے۔ اِس کے نتیجے میں استنبول میں پانی کی طلب بہت بڑھ گئی ہے۔ یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ استنبول میں پانی کی فراہمی کا جو بنیادی ڈھانچا قدیم دور میں قائم کیا گیا تھا وہ اب تک موجود ہے۔

استنبول ہمیشہ ایک اہم شہر تھا۔ اب یہ میگا سٹی ہے یعنی رقبہ بھی بہت زیادہ ہے اور آبادی بھی غیرمعمولی ہے۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں استنبول کی آبادی بہت تیزی سے بڑھی۔ ۱۹۵۰ء کی دہائی میں استنبول کی آبادی دس گیارہ لاکھ تھی۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی تک استنبول کی آبادی ۵۰ لاکھ ہوچکی تھی اور اب اس کی آبادی، سرکار اعداد و شمار کے مطابق ایک کروڑ ۱۷ لاکھ ہوجائے گی۔ آبادی کے بڑھتے جانے سے پانی کی طلب بھی بڑھتی جارہی ہے۔ شہر میں ضرورت سے کہیں کم پانی ہے۔

استنبول کو پانی کی فراہمی کے معاملات کی نگرانی کرنے والے ادارے نے شہر میں پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے شہر سے سیکڑوں کلومیٹر دور سے پانی لانے کا اہتمام کیا ہے۔ بنیادی ڈھانچا اپ گریڈ کرتے ہوئے ڈیم کی تعمیر کو ترجیح دی گئی۔ معاملہ یہ ہے کہ جب مدتِ دراز تک بارشیں نہیں ہوتیں، تب یہ ذریعہ بھی سُوکھ جاتا ہے تو متعلقہ دیہات کی اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے پانی کم پڑ جاتا ہے۔ زراعت بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ بہت سے دیہی علاقوں کے باشندوں کو پانی کی اِتنی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ نقل مکانی پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں۔ دیہات کے حصے کا پانی استنبول کو فراہم کرنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔ اِس کے نتیجے میں استنبول میں پانی کا بحران مزید شدت اختیار کرتا ہے۔

دنیا بھر میں بڑے شہروں میں پانی کی کھپت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بڑے شہر ملک کے باقی حصوں اور بالخصوص دیہی علاقوں کے حصے کے پانی پر ڈاکا ڈالتے رہتے ہیں۔ استنبول کا بھی یہی معاملہ ہے۔ جُودی ہاربرٹ کا کہنا ہے کہ استنبول کو پانی فراہم کرتے رہنے سے ترکیہ کے بہت سے علاقوں کو پانی کی فراہمی میں خلل پڑا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پورے ترکیہ کا پانی استنبول کے لوگوں کو پلایا جارہا ہے۔

استنبول کے لیے پانی کی فراہمی کبھی کوئی آسان معاملہ نہ تھا۔ ماضی میں اس حوالے سے بہت کوششیں کی گئیں اور اُن زمانوں میں پروان چڑھایا جانے والا پانی کی فراہمی کا بنیادی نظام آج بھی موجود ہے۔ اُسے سمجھنے سے استنبول کو پانی کی فراہمی کے معاملات کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

یونانی فلسفی تھیمسٹیس نے چوتھی صدی عیسوی میں شہر کی پیاس کا ذکر کیا تھا اور یہ شہر استنبول تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک فلسفی نے بہت پہلے بھانپ لیا تھا کہ استنبول کبھی پانی کے بڑے بحران کی زد میں آئے گا۔ استنبول کو پانی کی فراہمی کے قدیم نظام کو مشاہدہ آج بھی کیا جاسکتا ہے۔ چوتھی صدی عیسوی کے زمانے میں استنبول میں قائم کیا جانے والا پانی کا نظام آج بھی موجود ہے اور اِس کا ایک جُز ایک مرکزی شاہراہ سے یوں گزرتا ہے جیسے قوسِ قزح۔

یہ اکتوبر کا دن ہے۔ کریم آلتغ سلطان احمد نامی علاقے میں جزیرہ نما استنبول کی خشک پڑی ہوئی آبی ذخیرہ گاہ بنبردیریک سسٹرن میں گھوم رہا ہے۔ بنبردیریک سسٹرن کا مطلب ایک ہزار ایک حوض۔ ویسے اِس میں ۲۲۴ حوض ہیں۔ اس کا ایک بنیادی سبب یہ تھا کہ سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں یہاں بجلی نہ ہونے کے باعث گھپ اندھیرا ہوا کرتا تھا اور لوگ سمجھتے تھے کہ اِن ستونوں کی کوئی انتہا نہیں۔ کریم آلتغ ماہرِ آثارِ قدیمہ اور تعمیرات کے تاریخ دان ہیں۔ وہ بازنطینی سلطنت کے دور میں پانی کی فراہمی کے نظام کے حوالے سے زیادہ تحقیق کرتے رہے ہیں۔

رومن سلطنت کے دور میں ایک چھوٹا قصبہ آباد کیا گیا جسے کانسٹنٹائن دی گریٹ سے موسوم کیا گیا۔ کانسٹنٹائن دی گریٹ پہلا رومن شہنشاہ تھا جس نے عیسائیت قبول کی۔ اُس نے ۱۷۰۰؍سال قبل جو قصبہ قائم کیا، وہ بعد میں قسطنطنیہ میں تبدیل ہوا۔ بہت کم وقت میں اِس کی آبادی بہت زیادہ تیزی سے بڑھی۔ اس شہر کو پانی کی فراہمی میں تواتر یقینی بنانے کے لیے رومن سلطنت نے قدیم روم کا سب سے بڑا پانی کی فراہمی کا نظام تیار کیا۔ اس میں شہر کے مغرب میں واقع جنگلات میں واقع آبی ذرائع کا پانی بھی شامل ہوتا جاتا رہا۔ قسطنطنیہ بہت منفرد ہے۔ کریم آلتغ کہتے ہیں کہ پانچویں اور پندرہویں صدی عیسوی کے دوران بازنطینی سلطنت کے تحت ہزاروں زیرِ زمین حوض تعمیر کیے گئے۔

جدید شہر میں تاریخ اب بھی دکھائی دیتی ہے۔ اب بھی کم و بیش ۲۰۰ حوض پائے جاتے ہیں۔ یہ بڑے پیمانے پر پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ سب جزیرہ نما استنبول کے نیچے ہیں۔ اِن میں سے بہت سے اس وقت پُرانی حالت میں ہیں یعنی کھدائی نہیں کی گئی اور چند ایک کو بحال کیا گیا ہے جن میں بنبردیریک سِسٹرن بھی شامل ہے۔ استنبول کو پانی فراہم کرنے کے نظام کی کہانی ماضی اور حال کے حسین سنگم کا نام ہے۔ کریم آلتغ بنبردیریک سسٹرن کے ستونوں کو چُھوکر بتاتے ہیں کہ یہ پانچویں صدی عیسوی میں تعمیر کیے گئے تھے اور اب تک کھڑے ہیں۔ یہ تو گزرے ہوئے زمانوں کی یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ اثاثہ اور خزانہ بھی ہیں۔ اِسے انجینئرنگ کا شاہکار کہیے۔ اِس سے پتا چلتا ہے کہ انسان میں کتنی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں اور وہ کیا کیا کرسکتا ہے۔ اگر اب بھی شہر میں اِسی نوعیت کے ذخائر تعمیر کیے جائی تو بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ شہر میں سیلابی کیفیت کو بھی روکا جاسکتا ہے۔

ماضی سے سیکھنا بہت مفید معاملہ ہے کیونکہ ہم ماضی کے بیشتر تجربات اور کامیابیوں سے موجودہ دور اور مستقبل کے حوالے سے اِتنا کچھ سیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے معاملات کی درستی میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرگ میں رومن اور بازنطینی آثارِ قدیمہ کے پروفیسر ایمیریٹس جم کرو نے ترکیہ میں عشروں پہلے کام شروع کیا۔ ۱۹۹۴ء میں انہوں نے استنبول کے مغرب میں واقع اینسٹیشن والز میں دلچسپی لینا شروع کیا۔ جب وہاں کھدائی کی گئی تو زیرِ زمین آبی ذخائر کا نیٹ ورک برآمد ہوا۔ یہ گھنے جنگل کا علاقہ ہے۔

۲۰۲۱ء میں جم کرو نے الہان اور انقرہ کی مڈل ایسٹرن ٹیکنیکل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈر پیکر کے ساتھ مل کر برٹش انسٹیٹیوٹ انقرہ کے اشتراکِ عمل سے ایک منصوبے پر کام شروع کیا۔ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرکے استنبول کی آبادی کی ضرورت پوری کرنے کے حوالے سے اِن لوگوں نے وسیع البنیاد تحقیق کی۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد استنبول کے لیے بارش کے زیادہ سے زیادہ پانی کو محفوظ کرنے کی جامع حکمتِ عملی تیار کرنا تھا۔

محققین یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ استنبول کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کا یہ نظام کن بنیادوں پر استوار کیا گیا تھا اور سیکڑوں برس بعد بھی اِس کے برقرار رہنے کا سبب کیا ہے۔ اینڈر پیکر نے بتایا کہ الہان کے ساتھ مل کر انہوں نے موجودہ چیلنجز کی روشنی میں امکانات کا جائزہ لیا۔ ماضی سے بہت کچھ سیکھتے ہوئے موجودہ چیلنجز سے نپٹنے اور مستقبل کے لیے بہت کچھ کر گزرنے کی سوچ کے ساتھ کام کیا گیا۔

بارش کے پانی کو چھتوں پر بھی جمع کیا جاتا ہے اور زمین پر بہت سے کھلے مقامات پر بھی ذخیرہ گاہیں بنائی جاتی ہیں تاکہ پانی جمع رہے۔ چھتوں پر جمع کیے جانے والا پانی غسل خانوں، بیت الخلا اور گھریلو باغیچوں میں بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ جگہ جگہ بنائی جانے والی ذخیرہ گاہوں کا پانی گلیوں اور سڑکوں کی دھلائی میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

حال ہی میں ایک قانون بھی نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت بہت سے عمارتوں کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ چھتوں پر بارش کا پانی جمع کرنے کا بندوبست کیا جائے۔ بلڈرز کی طرف سے اس حوالے سے مزاحمت کا سامنا ہے کیونکہ بارش کا پانی جمع کرنے کی اہلیت پیدا کرنے کے لیے عمارتوں کی مخصوص ڈیزائننگ لازم ہے۔ اینڈر پیکر کا کہنا ہے کہ بارش کے پانی کو بہت بڑے پیمانے پر ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا یا پیدا کروانا بہت بڑا کام ہے جو آسانی سے بھی نہیں ہوسکتا اور مزاحمت کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

بہت سے شہروں میں بعض مخصوص مقامات پر پانی کو جذب کرنے اور بعد میں کشید کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ آبی ذخیرہ گاہوں سے ملحق زمین کو اس مقصد کے لیے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ استنبول میں بھی ایسا ممکن ہے۔ سوال منصوبہ سازی کا ہے۔ استنبول میں پارک لینڈز بہت ہیں اور اُن میں پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے مگر اب بہت سے ایسے کھلے مقامات پر کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کردی گئی ہیں جس کے نتیجے میں بارش کا بیشتر پانی سمندر میں چلا جاتا ہے۔ اس پانی کے ایک بڑے حصے کو زمین میں جذب ہونے دینا چاہیے مگر ایسا نہیں کیا جارہا۔ دنیا بھر میں ایسے شہر بڑی تعداد میں ہیں جو پانی کو قدرتی طور پر ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ مند ہیں۔ لاس اینجلس اور بنکاک میں ایسا نظام بہت اچھی حالت میں پایا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ کے ایک شہر کو بھی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کا حامل بنایا گیا اور اس حوالے سے بی بی سی کی دستاویزی فلم بھی موجود ہے۔

جب کسی شہر کی آبادی بڑھتی ہی جاتی ہے تب قدرتی وسائل پر دباؤ بڑھتا جاتا ہے اور شہر کا نظم و نسق دشوار ہوتا چلا جاتا ہے۔ پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے نظام پر بڑھنے والا دباؤ مقامی اداروں کو عوام کی توقعات پر پورا اترنے نہیں دیتا۔ استنبول میں پانی کی قلت کا ایک واضح اثر شہر کے مضافاتی علاقوں اور دور افتادہ علاقوں پر بھی مرتب ہوا ہے۔ اِن علاقوں کے حصے کا پانی بھی استنبول کو دیا جاتا رہا ہے۔ میلین ڈیم سے ملحق دیہات کی زرعی زمینوں کے لیے پانی کی فراہمی اب ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ استنبول میں پانی کی طلب چونکہ بہت زیادہ ہے، اس لیے کئی علاقوں کو پانی سے محرومی کی مصیبت جھیلنا پڑ رہی ہے۔ اس کے لیے بنیادی ڈھانچا موجود ہے جو اِدھر اُدھر سے پانی کھینچ کر استنبول کی طرف رواں کرتا ہے۔

الہان کا کہنا ہے کہ پانی کی بڑھتی ہوئی طلب نے معاملات کو بہت الجھادیا ہے۔ استنبول کے لیے پانی کی یومیہ طلب کے مطابق رسد میں کمی نہیں کی جاسکتی۔ اگر استنبول میں پانی کا ایک دن کا ناغہ بھی متعارف کرایا جائے تو حکومت کے لیے عدمِ استحکام کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔ کوئی بھی مقامی حکومت پانی کے کوٹے میں کمی کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔

اینڈر پیکر کا کہنا ہے کہ جب کسی بڑے شہر کو پانی کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے ارد گرد کے علاقوں سے پانی کھینچ کر لایا جاتا رہے تو بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں زرعی زمینوں کے لیے خاص طور پر پیچیدگی پیدا ہوتی ہے۔

جودی ہاربرٹ اور اُن کے شوہر سردار نے دی سسٹینیبل اربن ڈیویلپمنٹ پلیٹ فارم کے زیرِعنوان ایک غیر سرکاری تنظیم قائم کی ہے، جو مقامی مسائل کو احسن طریقے سے حل کرنے کے حوالے سے رہنمائی بھی کرتی ہے اور عملی سطح پر متحرک ہونے کی تگ و دَو بھی کرتی ہے۔ ایک بڑا اقدام مقامی سطح پر شروع کیا جانے والا سائل اوئسِز پراجیکٹ ہے۔ یہ منصوبہ یینی کوئے نامی دریا سے متعلق ہے جو سیاحت، تعلیم اور تحفظِ ماحول کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے۔ بنیادی مقصد ایک سبز راہ کا قیام ہے۔ برطانیہ کے اِپسوِچ اوئسِز نامی منصوبے سے تحریک پانے والے اس منصوبے کا بنیادی مقصد دریا کے کناروں کے گرد بفرزون قائم کرنا ہے۔ بلڈرز نے ایسا نہیں کیا تھا۔ بفرزون کے قیام سے قدرتی ماحول کی بقا ممکن تھی اور مقامی کاروباری اداروں اور سیاحت کے لیے بھی پنپنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی تھی۔

اس غیرسرکاری تنظیم نے ستمبر کے اواخر میں ڈپٹی میئر سے ملاقات کی اور اپنی تجاویز پیش کیں۔ ڈپٹی میئر کو معاملے کی سنگینی کا اندازہ تھا اور وہ عملی طور پر بہت کچھ کرنا چاہتے تھے مگر مسئلہ سیاسی ارادے کا بھی تو تھا۔ کسی بھی بڑے شہر میں بہت بڑے پیمانے کے بنیادی ڈھانچے والے منصوبہ شروع کرنا اور عمدگی کے ساتھ تکمیل سے ہمکنار کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ترکیہ جیسے جمہوری معاشرے میں مکمل اتفاقِ رائے کے بغیر کسی بھی بڑے منصوبے کا شروع کیا جانا انتہائی دشوار ثابت ہوتا رہا ہے۔ سیاسی معاملات میں پیچیدگی بہت زیادہ پائی جاتی ہے اور اِسی لیے بہت سے اہم منصوبے تاخیر کا شکار ہوکر افادیت کھو بیٹھتے ہیں۔

اینڈر پیکر کا کہنا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہم بھرپور علم اور مہارت رکھتے ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایسا حکومتی نظام کس طور قائم کیا جائے جس میں کسی بھی اہم منصوبے کے لیے حتمی فیصلہ بروقت ہو اور منصوبے کی افادیت متاثر نہ ہو۔ اُن کے خیال میں اتفاقِ رائے اس لیے لازم ہے کہ سیاسی محاذ آرائی بہت زیادہ ہے۔ مقامی اداروں اور متعلقہ وزارت کے درمیان مکمل ہم آہنگی کا پایا جانا لازم ہے۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان) “What happens if Istanbul’s water supplies run dry?” (“bbc.com”.)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں