ایسا لگتا ہے کہ امریکی حکومت کو اب اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں کہ وہ باقی دنیا میں جو کچھ دیکھنا اور کرنا چاہتی ہے، وہ دراصل گزرے ہوئے زمانوں کے استعمار کے سوا کچھ بھی نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کو تحویل میں لینے کا جو اعلان کیا ہے، وہ ایک طرف تو اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے سیاسی عناصر کی ذہنیت کا عکاس ہے اور دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران پروان چڑھنے والی استعماری ذہنیت کے درشن کرانے والا آئینہ بھی ہے۔ ٹرمپ نے پہلے دورِ صدارت میں بھی بہت سے معاملات کا عندیہ دے ہی دیا تھا۔ جب ٹرمپ کا پہلا دورِ صدارت شروع ہوا تھا تب ایسا دکھائی دے رہا تھا جیسے وہ امریکا کو باقی دنیا سے الگ تھلگ کرنے کے موڈ میں ہیں اور یوں دنیا بھر میں امریکی عسکری مہمات کا اختتام اب نزدیک ہے مگر پھر اُنہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ امریکا اگر دوسروں کے معاملات سے الگ تھلگ رہنے کو ترجیح دینے بھی لگا تو کمزور ممالک کو مُٹھی میں لینے اور مُٹھی کو بھینچے رکھنے کا عمل کسی طور ترک نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے اواخر تک یہ واضح ہوچکا تھا کہ امریکا انیسویں صدی کے وسط میں پائے جانے والے امریکی استعمار کی راہ پر گامزن ہے۔
۴ فروری کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ صدر ٹرمپ کی پریس کانفرنس غیرمعمولی اہمیت کی حامل تھی۔ پوری پریس کانفرنس کے دوران نیتن یاہو صرف ایک لمحے کے لیے ناگوار موڈ میں دکھائی دیے ۔۔۔ جب صدر ٹرمپ نے غزہ پر اسرائیل کے کنٹرول کے خلاف بات کی۔
اس پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر امریکا کی خارجہ پالیسی کا کارنر اسٹون ہے اور یہ بھی کہ وہ فلسطینیوں کے برعکس، جو غزہ کو اپنا وطن گردانتے ہیں، غزہ کو ریئل اسٹیٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ غزہ کو ہتھیانے کا اعلان کرکے صدر ٹرمپ نے ایسی ہر خوش فہمی کو رفع کردیا ہے کہ امریکا اب اپنی خارجہ پالیسی بدل رہا ہے اور دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے سے گریز کی راہ پر گامزن ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس بات کے لیے بھی تیار ہے کہ اپنی فوج غزہ کی سرزمین پر اتارے اور اُسے ایک طویل مدت کے لیے اپنے کنٹرول میں لے۔ امریکی صدر نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ وہ غزہ کی ملکیت چاہتے ہیں۔ اِس سے قبل ٹرمپ کہتے رہے ہیں کہ امریکا کو دنیا بھر میں الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کی دلدل میں دھنسنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ غزہ کے حوالے سے امریکی صدر کے اعلان کو امریکا اور یورپ میں کس حد تک مقبولیت حاصل ہوسکے گی۔ اسرائیل میں انتہا پسندوں کا گروہ اور امریکا میں عیسائی صہیونی یقینا غزہ کو امریکی ملکیت میں دیکھنے کو ترجیح دے سکتے ہیں مگر عمومی سطح پر اس تصور کو مقبولیت ملتی دکھائی نہیں دیتی۔ مسلم ممالک سمیت دنیا بھر میں صدر ٹرمپ کے اعلان کو شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی صدر ٹرمپ کے بیان کو انتہائی غیرذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ یہ اعلان انتہائی غیرحقیقت پسندانہ اور معاملات کو بگاڑنے والا ہے۔ چین سمیت کئی بڑے ممالک نے بھی اس اعلان کو خام خیالی پر مبنی قرار دیا ہے۔
جو کچھ صدر ٹرمپ نے کہا ہے وہ آسانی سے قبول کیا جانے والا نہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی ہوا تو بہت زیادہ بگاڑ پیدا ہوگا مگر خیر پھر بھی صدر ٹرمپ کے اس بیان نے چند مقاصد تو حاصل کرنے کا اشارا دے ہی دیا ہے۔ اس سے بنیامین نیتن یاہو پر سے سیاسی دباؤ گھٹ گیا ہے۔ نیتن یاہو نے بائیڈن انتظامیہ کو ناراض کرنے سے بچنے کے لیے غزہ کے بارے میں کوئی بھی غیرحقیقت پسندانہ موقف اپنانے یا منصوبہ تیار کرنے سے گریز کیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی کابینہ میں انتہائی دائیں بازو کے ارکان کو ناراض کرنے سے بھی بچنا چاہتے تھے۔ صدر ٹرمپ کے بیان نے اسرائیل میں انتہائی دائیں بازو کے ارکان کے دل کی بات کھل کر کہہ دی ہے۔ اُن سب کے دل کی تشفی ہوگئی ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ یہ ایک بڑے منصوبے کا محض ایک حصہ ہے جس کے تحت صدر ٹرمپ اسرائیل کو اس بات کی اجازت دینا چاہتے ہیں کہ وہ مقبوضہ غربِ اردن کو بھی اپنی حدود میں شامل کرلے۔ ایسی صورت میں فلسطینیوں کا اپنی ریاست کے قیام کا مطالبہ یا دعویٰ دفن ہوجائے گا۔ اگر فلسطینیوں کو اُن کی سرزمین سے نکالا گیا اور دوسرے ملکوں میں بسادیا گیا تو پھر وہاں ہوگا کون جو ریاست کا دعویٰ کرے گا؟
بنیامین نیتن یاہو کو اس بات پر کسی قدر ناز ہوگا کہ امریکی صدر نے اُنہیں اپنے ساتھ بٹھاکر یہ بات کہی کہ غزہ اب ایسا تباہ شدہ علاقہ ہے جہاں لوگوں کو بسایا نہیں جاسکتا اور ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ غزہ کو اس حال تک پہنچانے والا کوئی اور نہیں اسرائیل ہے۔ ایک دنیا پر یہ بات واضح ہے کہ غزہ کو مکمل تباہی سے اسرائیل ہی نے دوچار کیا ہے اور اس حوالے صہیونی قیادت کو دنیا بھر سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔ جنوبی افریقا نے اس معاملے میں چند قدم آگے بڑھ کر عالمی عدالتِ انصاف سے بھی رابطہ کیا۔
۴ فروری کی پریس کانفرنس سے قبل یہ اندازہ لگایا جارہا تھا کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم کو، جنہیں وہ سخت ناپسند کرتے رہے ہیں، حکم دیں گے کہ وہ مغویوں کے بدلے قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے دوسرے جُز کے مطابق فلسطینیوں کا رہائش کا حق تسلیم کریں اور اس طرف بڑھنا شروع کریں۔
صدر ٹرمپ نے غزہ کی زمین ہتھیانے کا جو اعلان کیا ہے، اُس نے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ امریکی صدر نے غزہ کی صورتحال دیکھتے ہوئے جو کچھ بھی کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکاف کے تجزیے کی بنیاد پر ہے اور یہ تجزیہ غزہ کی زمین کو ریئل اسٹیٹ کے طور پر دیکھنے کا نتیجہ ہے۔ اسٹیو وِٹکاف کا کہنا ہے کہ ’’نیا دبئی‘‘ تعمیر کرنے میں دس سال لگیں گے مگر اِس سے قبل غزہ سے ملبہ ہٹانے میں کم و بیش پانچ سال لگ سکتے ہیں۔ غزہ بھر میں بہت بڑے پیمانے پر ملبہ پڑا ہوا ہے۔ عالمی ادارے اگر غزہ کے باشندوں کے لیے خطیر امداد دے بھی دیں تو وہ لوگ ابھی اِس سے مستفید ہونے کی پوزیشن میں نہیں۔
اسٹیو وِٹکاف کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر اُن سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ پانچ سال بعد واپس آسکتے ہیں کیونکہ اِس سے قبل اُن کے علاقے اس قابل نہیں ہوں گے کہ وہاں سکونت اختیار کی جاسکے۔ امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر مائک والٹز کا کہنا ہے کہ یہ تو بالکل کامن سینس کی بات ہے۔ اسٹیو وِٹکاف اور مائک والٹز نے تاریخ کا مطالعہ بھی کیا ہے اور بین الاقوامی قانون بھی پڑھا ہے مگر دونوں بزرجمہروں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آسکی ہے کہ امریکی صدر نے جو کچھ بھی کہا ہے اُس سے باقی دنیا کو یہی تاثر ملا ہے کہ امریکی صدر ایک بار پھر امریکا کو استعماری قوت دیکھنا چاہتے ہیں۔ گرین لینڈ اور کینیڈا کے حوالے سے بھی ٹرمپ نے ایسے خیالات کا اظہار کیا ہے جن سے دنیا کو یہ تاثر ملا ہے کہ وہ توسیع پسندانہ مہم جوئی کے ذریعے آج کی پیچیدہ دنیا کو مزید پیچیدہ بنانا چاہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے غزہ کے حوالے سے جو ’’وژن‘‘ ظاہر کیا ہے، اُس میں بہت سے خطرات چھپے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہی خطرہ موجود ہے کہ حماس امریکی صدر کے اعلان کو ایک بنیادی سبب بناتے ہوئے جنگ بندی کے معاہدے یا عمل سے نکل سکتی ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قیدیوں کے بدلے مغویوں کی رہائی کے اگلے مرحلے کی تکمیل سے انکار کردے۔ فی الحال حماس نے صدر ٹرمپ کے اعلان کو محض بے ہودہ اور بے عقلی پر مبنی قرار دینے پر اکتفا کیا ہے۔ حماس کی قیادت کا ردِعمل زیادہ شدید نہیں رہا ہے۔ وہ اِسے ایک بڑی بڑھک کے طور پر لے رہی ہے، اِس سے زیادہ کچھ نہیں۔
قیدیوںکے بدلے مغویوں کی رہائی کے دوسرے اور اہم مرحلے کے لیے بات چیت شروع ہوچکی ہے۔ قطر کی طرف سے کیے جانے والے مذاکرات کے اعلان کے باوجود یہ خدشہ برقرار ہے کہ اگر فلسطینیوں نے تمام اسرائیلی مغویوں کو چھوڑ دیا تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکا تیزی سے غزہ کو اپنے کنٹرول میں لے کر فلسطینیوں کو نکالنا شروع کردے۔ ساتھ ہی ساتھ مقبوضہ غربِ اردن کو اسرائیل اپنا حصہ بناسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مجموعی طور پر لاکھوں فلسطینی مصر اور اردن میں پناہ لیں گے۔ اگر غزہ اور غربِ اردن کو خالی ہی کرالیا جائے تو پھر حماس یا فلسطینی اتھارٹی کی کیا ضرورت باقی رہ جائے گی؟
حماس کے لیے فی الحال اطمینان بخش بات یہ ہے کہ عرب دنیا اور یورپی یونین نے امریکی صدر کے اعلان کو غیرحقیقت پسندانہ قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ باقی دنیا بھی اس اعلان پر شدید ردِعمل کا مظاہرہ کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہی۔ غزہ سے نکالے جانے کی صورت میں لاکھوں فلسطینیوں کا بوجھ مصر اور اردن کو برداشت کرنا پڑے گا اور وہ کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکی صدر کے ایسے کسی بھی منصوبے کا حصہ نہیں بنیں گے، پھر اِس میں چاہے جتنا بھی وقت لگے۔ مصر اور اردن نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ امریکا کی طرف سے چاہے کچھ بھی دیا جائے، وہ اپنی سوچ نہیں بدلیں گے اور فلسطینیوں کو ان کے وطن میں دیکھنے کو ترجیح دیں گے۔
امریکی صدر کو اس خیال کا حامل ہونا ہی چاہیے کہ وہ جلد یا بدیر غزہ پر امریکی کنٹرول کے آئیڈیا کو عرب دنیا کے لیے قابلِ قبول بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ اس معاملے میں بھی دھونس اور دھمکی سے کام لینے سے گریز نہیں کریں گے۔ ابراہم اکارڈز کے معاملے میں بھی یہی تو ہوا تھا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل دو ریاستوں کے تصور کو تبدیل کرلے تو سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے میں دیر نہیں لگائے گا۔
سعودی عرب کے حکام اور ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اب تک اپنے موقف پر قائم ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اُسی وقت اسرائیل کو تسلیم کرے گا جب وہ دو ریاستوں کے نظریے کو تسلیم کرے گا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اپنا موقف تبدیل نہیں کریں گے۔ اُن کے موقف کے مطابق غزہ میں جو کچھ بھی اسرائیلی فوج اور اسرائیل قیادت نے کیا ہے، وہ قتلِ عام اور نسلی تطہیر ہے۔ امریکی ایوانِ صدر میں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ تمام ہی عرب ریاستیں بکاؤ ہیں اور یہ کہ اگر امریکا اور اس کے حلیف چاہیں تو اِنہیں کسی بھی قیمت پر خرید سکتے ہیں۔ یہ تصور اس لیے مکمل طور پر غیرمتعلق نہیں کہ عرب دنیا ایسی ہی رہی ہے۔ امریکا اور یورپ سے مکمل طور پر مرعوبیت کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہوئے عرب دنیا کے قائدین اور اشرافیہ دونوں ہی نے متعدد مواقع پر انتہائی پژمردگی اور نیم دِلی کا مظاہرہ کیا ہے۔
امریکی صدر بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس وقت جو بھی ماحول ملک کے اندر ہے، اُس کے مطابق امریکا خود کو نسلی تطہیر سے جوڑنا پسند نہیں کرے گا۔ نگورنو کاراباخ میں جو کچھ ہوا وہ دنیا کے لیے اہم بھلے ہی نہ ہو اور وہ نظرانداز کرتی رہی ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر غزہ سے فلسطینیوں کو نکال باہر کیا گیا تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سیاسی کردار بالکل ختم ہوکر رہ جائے گا۔
(مترجم: محمد ابراہیم خان)
“Trump’s plan to own Gaza a throwback to 19th-century imperialism”. (“The Guardian”)