اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا بھر کے باصلاحیت نوجوان عملی زندگی میں زیادہ سے زیادہ ترقی اور خوشحالی یقینی بنانے کے لیے امریکا، کینیڈا، یورپ، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور دیگر ترقی یافتہ یا خوشحال ممالک میں کام کرنے اور وہاں مستقل طور پر آباد ہونے کا خواب دیکھتے رہتے ہیں۔
امریکا اور یورپ کا رُخ کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد کسی نہ کسی طور امریکا، یورپ یا کینیڈا پہنچنے کی تگ و دَو کرتے ہیں۔ بیشتر کا حال یہ ہے کہ غیرقانونی طریقوں سے اِن ممالک یا خطوں تک پہنچنے کے لیے خطیر رقوم خرچ بھی کرتے ہیں۔ امریکا اور یورپ میں غیرقانونی تارکینِ وطن کو پہلے تو صرف ناپسند کیا جاتا تھا، اب اُن سے نفرت بھی عام ہوچکی ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ غیرقانونی تارکینِ وطن میں اکثریت بالکل ناخواندہ یا کم پڑھے لکھے اور غیرہنرمند لوگوں کی ہوتی ہے۔ یہ لوگ معاشرے کا حصہ بننے میں بہت وقت لیتے ہیں۔ ناخواندہ، کم پڑے لکھے اور غیرہنرمند غیرقانونی تارکینِ وطن ورک فورس کا معقول حصہ نہیں بن پاتے جس کے نتیجے میں معاشرتی سطح پر بھی غیرمعمولی نوعیت کی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران جس بنیادی نکتے پر ووٹرز کی اکثریت کی توجہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی، وہ نکتہ تھا غیرقانونی تارکینِ وطن سے نجات۔ صدر ٹرمپ نے صاف کہہ دیا تھا کہ غیرقانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا اور اگر ان کی ملک بدری کے لیے طاقت استعمال کرنا پڑی تو ایسا کرنے سے بھی گریز یا دریغ نہیں کیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری مدت کے لیے امریکی صدر کا منصب سنبھالتے ہی غیرقانونی تارکینِ وطن اور سرکاری ملازمین کو نشانہ بنانے والے ایگزیکٹیو آرڈرز جاری کردیے ہیں۔ پیدائش کی بنیاد پر شہریت کا حق ختم کرنے کے لیے بھی ایگزیکٹیو آرڈر جاری کیا گیا ہے۔ یہ ایگزیکٹیو آرڈر اجرا کے لمحے سے ہی متنازع ٹھہرا ہے اور اِس کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی ڈیموکریٹس اور بنیادی حقوق کے علم بردار گروپوں نے شروع کردی ہے۔
امریکا تارکینِ وطن کے حوالے سے کیاچاہتا ہے؟ صدر ٹرمپ نے اس کی وضاحت کردی ہے۔ صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ امریکا کو دنیا بھر سے قابل ترین افراد کی ضرورت ہے۔ اعلیٰ تعلیم و تربیت یافتہ افرادی قوت کے لیے امریکی حکومت ایچ ون بی ویزا جاری کرتی ہے۔ اس ویزا کے اجرا کے ذریعے امریکا کو دنیا بھر کے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک سے غیرمعمولی صلاحیت و سکت کے حامل افراد کی خدمات حاصل ہوتی ہیں۔ یہ لوگ امریکا کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
امریکا میں ایچ ون بی ویزا کے حوالے سے جاری بحث کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ میں اِس کے حق میں اور مخالفت میں دلائل دینے والوں سے متفق ہوں مگر جھکاؤ تو اِس کے حق میں بولنے والوں کی طرف ہے کیونکہ میں اس بات کے حق میں ہوں کہ دنیا بھر سے باصلاحیت، ہنرمند، تربیت یافتہ، مہذب اور پُرجوش نوجوانوں کو امریکا آنا ہی چاہیے۔ دنیا بھر میں باصلاحیت افراد کی تلاش جاری ہے اور ترقی یافتہ ممالک اس حوالے سے بہت فعال ہیں۔ صرف امریکا نہیں بلکہ دیگر ترقی یافتہ ممالک اور خطے چاہتے ہیں کہ دنیا بھر سے باصلاحیت افراد (بالخصوص نوجوان) اُن کا رخ کریں اور اپنی صلاحیت و سکت سے ترقی و خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کریں۔ وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی صدر ٹرمپ کی (دوسری میعاد کی) پہلی پریس کانفرنس کے موقع پر اوریکل کے سی ٹی او لیری ایلیسن، سوفٹ بینک کے سی ای او ماسایوشی سن اور اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین بھی موجود تھے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کو دنیا بھر سے پڑھے لکھے اور پُرجوش نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ اگر وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ اور ہنرمند بھی ہوں تو اچھا ہے۔ اگر تھوڑی بہت تربیت کا اہتمام کرنا بھی پڑے تو یہ کوئی ایسی قابلِ اعتراض بات نہیں۔ دوسرے ماحول میں پل کر جوان ہونے والوں کو امریکا کے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے میں کچھ وقت تو لگنا ہی چاہیے۔
امریکا میں ایچ ون بی ویزا کے حوالے سے بڑے پیمانے پر اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور ارب پتی آجر ایلون مسک ایچ ون بی ویزا کے اجرا کے حق میں ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے امریکا کو معیاری افرادی قوت آسانی سے ملتی ہے۔ دوسری طرف بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایچ ون بی ویزا کے ذریعے دنیا بھر سے تعلیم یافتہ اور ہنرمند افراد کی آمد سے امریکیوں کی ملازمتیں خطرے میں پڑتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملک کے اصل باشندوں میں بے روزگاری کا گراف بلند ہوتا ہے۔ دونوں کی طرح کے دلائل اپنی جگہ بہت حد تک درست ہیں تاہم امریکا کو چونکہ معیاری افرادی قوت کی ضرورت بہت زیادہ ہے، اس لیے ایچ ون بی ویزا کے اجرا کا سلسلہ جاری رکھنا لازم ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا کو چونکہ باصلاحیت، تربیت یافتہ اور مہذب افراد کی بڑے پیمانے پر ضرورت ہے، اس لیے میں چاہوں گا کہ ایچ ون بی ویزا کا اجرا بند نہ ہو، دنیا بھر سے باصلاحیت افراد کو امریکا آنے دیا جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایسی افرادی قوت چاہیے جو باصلاحیت اور محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ مہذب بھی ہو اور معاشرے میں آسانی سے مطابقت پیدا کرسکے۔ ہمیں اپنے کاروباری اداروں کے لیے ایسے لوگ درکار ہیں جو معیار پر سمجھوتا نہ کریں، اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طور پر بروئے کار لائیں اور جہاں تک ممکن ہو، معیار محض برقرار نہ رکھیں بلکہ بلند بھی کریں۔
ایچ ون بی ویزا عارضی نوعیت کا ہوتا ہے تاہم یہ اُن افراد کو دیا جاتا ہے جو اعلیٰ تعلیم و تربیت یافتہ اور ہنرمند ہوں۔ امریکا کے جاری کردہ ایچ ون بی ویزا کا ۷۰ فیصد اس وقت بھارتی باشندوں کے حصے میں آتا ہے۔ ایچ ون بی ویزا کے ذریعے کوئی بھی غیرملکی امریکا میں ۶ سال تک رہ سکتاہے۔ بنیادی طور پر یہ ویزا ۳ سال کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ بعد میں اِسی میں اِتنی ہی مدت کی توسیع کروائی جاسکتی ہے۔ جو لوگ ایچ ون بی ویزا کے لیے درخواست جمع کراتے ہیں، اُنہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ درخواست جمع کرانے کے بعد ویزا کے اجرا تک کسی بھی ملک کا سفر نہ کریں۔
صدر ٹرمپ کی طرف سے انتخابی مہم کے دوران غیرقانونی تارکینِ وطن کو بڑے پیمانے پر ملک بدر کرنے کے اعلان کے بعد سے ایچ ون بی ویزا کے حوالے سے بحث بھی زور پکڑ گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر کا منصب دوبارہ سنبھالتے ہی چند ایگزیکٹیو آرڈر جاری کیے ہیں۔ ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے میکسیکو سے ملنے والی جنوبی سرحد پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ڈرگ مافیا کو بھی دہشت گردی تنظیموں کی کیٹیگری میں رکھ کر اُن کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ صدر ٹرمپ نے پیدائش کی بنیاد پر امریکی شہرت دیے جانے کی گنجائش کو ختم کرنے سے متعلق بھی ایگزیکٹیو آرڈر جاری کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ قانونی طریقے سے امریکا آنے والوں کا خیرمقدم ہے کیونکہ ایسے لوگوں کی ہمیں ضرورت ہے۔ غیرقانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے والوں کے لیے رہنے کی گنجائش ہے نہ کام کرنے کی۔ اچھا ہے کہ لوگ غیرقانونی طور پر امریکا آنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اب ہم اُنہیں برداشت نہیں کریں گے۔
۲۰۲۴ء میں یو ایس امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے بھارت سمیت ۱۹۲؍ملکوں کے ۲ لاکھ ۷۰ ہزار باشندوں کو اُن کے وطن واپس بھیجا۔ ۲۰۱۴ء کے بعد یہ امریکا سے غیرقانونی تارکینِ وطن کی سب سے بڑی ملک بدری تھی۔ امریکا میں میکسیکو اور السلواڈر کے بعد غیرقانونی تارکینِ وطن کی تعداد کے حوالے سے بھارت تیسرا بڑا ملک ہے۔
(مترجم: ایم ابراہیم خان)
“We need great people to come to US:
Trump weighs in on H-1B visa debate”. (“India today”)