افغانستان ایشیا کے دل میں واقع ایک ایسی سرزمین ہے جس کے بارے میں مغربی ذرائع ابلاغ نے خوف اور دہشت کی جو تصویر دنیا کے سامنے رکھی ہے، وہ حقیقت سے بہت دور ہے۔
یہ ملک غیرت مند اور دین دار قوم کا مسکن ہے، جہاں عظمتِ اسلام کے آثار، شہداء کے لہو کی خوشبو اور تہذیب و سادگی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ یہاں کے باسی مہمان نوازی، سچائی اور ایمان داری میں اپنی مثال آپ ہیں۔
کراچی سے چمن بارڈر تک کا زمینی سفر
ہمارا سفر کراچی سے شروع ہوا۔ یہ ۱۶؍گھنٹوں پر محیط ایک طویل مگر پُرامن اور یادگار سفر تھا، جو بس کے ذریعے طے ہوا۔ بلوچستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے دل میں اندیشے موجود تھے، مگر اللہ پر توکل نے خوف کو کمزور کر دیا۔ راستے بھر قدرتی مناظر اور دیہی زندگی کی سادگی نے سفر کو دلکش اور ہلکا پھلکا بنایا۔
چمن بارڈر پر صبر، حوصلے کا امتحان
چمن بارڈر پر پہنچتے ہی ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوا۔ زمینی راستے کی مشقت اور سہولیات کی کمی نے سفر کو قدرے دشوار بنا دیا۔ حکام نے تفصیلی پوچھ گچھ کی، ایک لمحے کو یوں لگا کہ شاید داخلہ نہ ملے، لیکن اللہ نے آسانی فرمائی اور ’ایگزٹ اسٹیمپ‘ لگ گئی۔ افغانستان کی حدود میں داخل ہوتے ہی دل کو جو سکون اور طمانیت نصیب ہوئی، وہ الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتی۔
قندھار میں مہمان نوازی اور رہنمائی
قندھار میں ایک دکان دار نے نہایت خوش اخلاقی سے مہمان نوازی کی۔ وہاں نماز ادا کی، کرنسی تبدیل کروائی اور مقامی افراد سے مفید مشورے ملے۔ ان کی محبت، خلوص اور رہنمائی نے یہ یقین دلا دیا کہ میں ایک امن پسند اور دین دار قوم کے درمیان موجود ہوں۔
قندھار سے کابل ۶۰۰ کلومیٹر کا سفر
قندھار سے کابل تک پہاڑوں کے درمیان کا سفر ایک کار کے ذریعے طے کیا، جو تقریباً ۶۰۰ کلومیٹر پر مشتمل تھا۔ قندھار، پکتیکا اور غزنی سے ہوتے ہوئے رات گئے کابل پہنچا۔
چاروں طرف بلند و بالا پہاڑوں نے سفر کو دلکش بنا دیا۔ کئی مقامات پر شہداء کے ناموں والے پتھر نظر آئے، جو قربانی اور وفاداری کی زندہ علامت تھے۔
راستے میں مختلف مقامات پر طالبان حکام نے چیکنگ کی، دستاویزات دیکھے اور ایک جگہ پاسپورٹ کی تصویر بھی لی۔ ان کا انداز باوقار اور منظم تھا لیکن پاکستان کے حوالے سے ان کے دلوں میں تحفظات بہرحال موجود ہیں۔
راستے میں نماز، سادگی کا روح پرور منظر
راستے بھر نماز کے اوقات میں لوگ سڑک کے کنارے انفرادی اور جماعت کے ساتھ سجدہ ریز ہوتے نظر آئے۔ یہ روح پرور مناظر اس بات کا ثبوت تھے کہ دین یہاں زندگی کا بنیادی ستون ہے۔ ایک دلچسپ منظر تب دیکھنے کو ملا جب ہمارا ڈرائیور، جو باریش اور نمازی تھا، نماز کے فوراً بعد چرس پینے لگا۔ جب میں نے کہا: ’’امارتِ اسلامی میں چرس؟‘‘ تو اس نے مسکرا کر جواب دیا: ’’یار، تھوڑا بہت تو چلتا ہے!‘‘۔ یہ ایک تلخ مگر سچائی پر مبنی سماجی تضاد کی مثال تھی۔
کابل میں تاریخی، دینی اور علمی مقامات کا مشاہدہ
کابل پہنچ کر کئی مقامات کی زیارت کی جن میں مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر کا مقبرہ اور کابل یونیورسٹی شامل تھی۔ یونیورسٹی میں داخلہ نہ مل سکا، لیکن مرکزی دروازے پر کچھ طلبہ سے گفتگو ہوئی۔
دعوت یونیورسٹی
دعوت یونیورسٹی نجی سطح پر افغانستان کی بڑی جامعات میں سے ایک ہے، یہاں کے اساتذہ برادر نوید اور مصطفی غیور سے جامعہ اور افغانستان کی تعلیمی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔
افغانستان میں مسجد حاجی عبدالرحمن، مسجد و مزار دو شاہ دو شمشیرہ، نیشنل آرٹ اینڈ ہسٹری میوزیم اور کئی دیگر ادارے دیکھنے کا ارادہ تھا مگر سکیورٹی اور مقامی مشوروں کے باعث رکنا پڑا۔
جلال آباد یونیورسٹی اور مدرسہ جامعۃ الراشد کا دورہ
جلال آباد (ننگر ہار یونیورسٹی) حکومتی سطح پر افغانستان کی دوسری بڑی جامعہ ہے، یہاں برادر ڈاکٹر الفت اللہ (ڈاکٹر الفت اللہ نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے عربی میں پی ایچ ڈی مکمل کی ہے) نے مہمان نوازی کی۔ کلیہ لسانیات کے سربراہ اور اساتذہ سے بھی بہت اچھی ملاقات اور گفتگو رہی۔ اس فیکلٹی کے اکثر اساتذہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔
مدرسہ جامعۃ الراشد کے شیخ الحدیث اور مہتمم مولانا نیک محمد صدیقی اور مولانا امان اللہ راشدی سے جامعہ سے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی۔
مولانا نیک محمد صدیقی، مولانا گوہر حمنؒ کے شاگرد ہیں اور افغان جہاد کے بانیوں میں سے ہیں۔
یہ جامعہ کنڑ سے قریب واقع ہے، یہاں مقامی طلبہ کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کررہی ہے۔ مدرسے کو مالی اعتبار سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
افغانستان کے سماجی اور سیاسی حالات کا مختصر جائزہ:
الحمدللہ! افغانستان اس وقت استحکام کی جانب گامزن ہے۔ طالبان کی حکومت منظم، بااختیار اور فعال ہے۔ عوام دین دار، غیرت مند اور مہمان نواز ہیں اور سیکورٹی کی صورتحال مثالی ہے۔ بے حیائی، جرائم اور خرافات تقریباً ختم ہوچکی ہیں۔
خواتین کی تعلیم (چھٹی جماعت سے آگے) اور ملازمت پر پابندی افسوسناک ہے۔ فلسطین و غزہ کے مسائل پر عمومی بے حسی محسوس ہوئی۔ ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، مگر ترقیاتی کام بھی جاری ہیں۔ تعلیم کے میدان میں بہتری آرہی ہے، لیکن اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ہجرت ایک چیلنج ہے۔ ملک میں غیر ملکی این جی اوز پر پابندی ہے۔ طالبان کے سابقہ ادوار کے مقابلے میں زیادہ لچک نظر آتی ہے۔ بے روزگاری اور مہنگائی کے عفریت نے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
پاکستان سے متعلق طالبان میں کچھ تنائو اور خدشات محسوس ہوئے۔ دونوں برادر اسلامی ملک کو سفارتی سطح پر اپنے تحفظات دور کرنے چاہئیں اور اُخوت پر مبنی مثالی تعلقات کو فروغ دینا چاہیے۔
سفر کا اختتام
یہ سفر صرف جغرافیائی سرحدوں کو عبور کرنے کا نام نہیں تھا، بلکہ ایک نظریاتی، فکری اور روحانی بیداری کا ذریعہ بنا۔ افغانستان کی تصویر وہ نہیں جو میڈیا دکھاتا ہے۔ بلکہ یہ ایک پُرامن، مہذب، دینی اقدار سے جڑا معاشرہ ہے۔
دعا ہے کہ افغانستان مکمل امن، خوشحالی اور انصاف کا گہوارہ بنے۔ طالبان کو اعتدال، فراخ دلی اور حکمت میسر آئے۔ یہ سفر ختم ہوا، مگر دل کی دنیا میں ایک نئی روشنی، امنگ چھوڑ گیا۔