اسلامی بم کیوں نہیں؟

پاکستان ایک تسلیم شدہ ایٹمی قوت ہے۔ اُس کی یہ حیثیت ہی اُسے تمام مسلم ممالک میں سب سے ممتاز بناتی ہے اور ایٹمی قوت ہونا ہی اُس کے لیے سب سے بڑا ردِ جارحیت ہے۔ بھارت یا کسی بھی اور ملک کو پاکستان کے بارے میں کچھ بھی ایسا ویسا سوچنے سے پہلے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ یہ ایٹمی قوت ہے۔

اِس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی بھی مسلم ملک کے پاس ایٹم بم ہو۔ فخرِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم نے ۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کی دہائیوں میں پاکستان کو ایٹم بم بنانے کے قابل بنانے کی خاطر خاصی جرأت مندانہ مساعی پر مبنی ایک آپریشن مکمل کیا۔ اِس دوران اسرائیل نے کئی بار حملہ کرنے کی دھمکی دی اور دیگر طریقوں سے بھی ہراساں کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جارج ٹینیٹ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اُتنا ہی خطرناک گردانتے تھے جتنا خطرناک اسامہ بن لادن کو گردانا جاتا تھا۔ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سابق سربراہ سباستائی شیوِٹ کو اِس بات کا افسوس رہا کہ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قتل نہ کرسکا۔ ۲۴ یا ۲۵ کروڑ اہلِ پاکستان کے لیے ڈاکٹر عبدالقدیر خان حقیقی ہیرو ہیں۔ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے گاڈ فادر تھے۔ اب اُنہیں افسانوی شہرت حاصل ہے اور اُن کے لیے اہلِ پاکستان کے دلوں میں غیرمعمولی احترام ہے۔

اِس حقیقت سے اب کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بڑھ کر کوئی بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لیے حقیقی معنوں میں ریڑھ کی ہڈی نہ تھا۔ یہی سبب ہے کہ مغرب کے خفیہ ادارے اُن کی ٹوہ لینے میں لگے رہتے تھے۔ اسرائیلی خفیہ ادارے چاہتے تھے کہ کسی نہ کسی طور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا سراغ لگاکر اُنہیں شہید کردیا جائے۔

اب کہا اور سمجھا جاتاہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک زبردست جدید اور خفیہ بین الاقوامی نیٹ ورک کے تحت ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو بھی ایٹمی پروگرام شروع کرنے اور جاری رکھنے میں مدد کی۔ شمالی کوریا نے اِس نیٹ ورک ہی کی بدولت عسکری معاملات میں اپنے آپ کو قابلِ رشک حد تک مضبوط بنایا۔

اسرائیل خود ایٹمی طاقت ہے اور محتاط ترین اندازوں کے مطابق بھی اُس کے پاس درجنوں ایٹمی ہتھیار ہیں مگر وہ نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان سمیت کوئی بھی مسلم ملک ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ہو۔ جب پاکستان نے ایٹمی قوت کا درجہ حاصل کرلیا تب اسرائیل نے اس بات کو بھرپور ترجیح دی کہ ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیاروں کا حامل نہ ہونے دیا جائے۔ یہی سبب ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو ناکام بنانے کے لیے اسرائیل کی خفیہ سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔ متعدد ایرانی ایٹمی سائنس دانوں کو اسرائیل نے قتل کرایا ہے۔ حال ہی میں بارہ روز جاری رہنے والی جنگ میں بھی اسرائیل نے ایران کے دس سے زائد بڑے ایٹمی سائنس دانوں کو شہید کیا ہے۔

۱۹۸۰ء کی دہائی میں، جب جنرل محمد ضیاء الحق پاکستان کے آرمی چیف اور صدر تھے، اسرائیل نے بھارت کی مدد سے ایک خصوصی منصوبہ تیار کیا جس کا مقصد پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنا تھا۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے اس منصوبے کو بہت عمدگی سے ناکام بنایا۔ یہ ایٹمی پروگرام ہی تھا جس کی کامیابی نے پاکستان کو بھارت کے تمام جارحانہ عزائم سے اب تک محفوظ رکھا ہے۔

پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھارت کے ایٹمی پروگرام کا جواب تھا۔ بھارت نے ۱۸؍مئی ۱۹۷۴ء کو ایٹمی دھماکا کیا تھا اور اِسے اسمائلنگ بُدھا یعنی مسکراتے ہوئے گوتم بدھ کا نام دیا تھا۔ اس ایٹمی دھماکے نے پاکستان کے لیے بھی ایٹمی پروگرام کا شروع کیا جانا ناگزیر بنادیا۔ جب بھارت نے اپنے عزائم ظاہر کر ہی دیے تو پاکستان کے اُس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی پاکستان کو ایٹمی قوت میں تبدیل کرنے کا سوچا اور اِس حوالے سے تیاریوں کا آغاز کیا۔ اُنہوں نے اعلان کیا کہ ہم گھاس کھائیں گے، پتے کھائیں گے، بھوکے رہیں گے مگر ایٹم بم بناکر دم لیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب مسیحی ایٹم بم ہے، یہودی ایٹم بم ہے اور اب ہندو ایٹم بم بھی سامنے آچکا ہے تو پھر اسلامی ایٹم بم کیوں نہیں ہوسکتا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان قیامِ پاکستان سے قبل پیدا ہوئے۔ انہوں نے ۱۹۶۰ء میں کراچی یونیورسٹی سے سائنس میں ڈگری لی اور پھر برلن میں میٹالرجیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ہالینڈ اور بلجیم سے بھی حصولِ علم یقینی بنایا۔ ۱۹۷۴ء تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں ایٹمی ایندھن کے ایک نمایاں ادارے یورینکو کے سب کنٹریکٹر کے لیے کام کرنا شروع کردیا تھا۔ یہ کمپنی یورپ کے ایٹمی ری ایکٹرز کے لیے افروزہ یورینیم پر مشتمل ایٹمی ایندھن فراہم کیا کرتی تھی۔

یورینکو کے پلانٹس میں دنیا کے بہترین سینٹری فیوجز کے بلیو پرنٹس تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رسائی تھی۔ اس پلانٹ میں خام یورینیم کو افزودہ کرکے اِس قابل بنایا جاتا تھا کہ ایٹم بم کی تیاری میں استعمال ہوسکے۔

جنوری ۱۹۷۶ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہالینڈ سے اچانک یہ کہتے ہوئے رخصت لی کہ مجھے پاکستان میں ایک ایسی پیشکش کی گئی ہے جسے قبول نہ کرنا میرے بس کی بات نہیں کیونکہ وہ پیشکش بہت پُرکشش ہے۔ بعد میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے یورینیم کو ایٹمی اسلحے کی تیاری میں استعمال کے قابل بنانے والے سینٹری فیوج کے بلیو پرنٹ چُرائے تھے۔ اُسی سال جولائی میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے راولپنڈی کے نزدیک ایک تحقیقی تجربہ گاہ قائم کی جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والا افزودہ یورینیم تیار کرتی تھی۔

یہ سب کچھ چند برس تک خفیہ طور پر جاری رہا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ایٹم بم یا ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے جو آلات اور اشیا درکار تھیں، اُن کی درآمد کے لیے فرضی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ سرکاری طور پر یہ بتایا گیا کہ ایک نئی ٹیکسٹائل مل بنانے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے۔

اس امر کے پختہ شواہد موجود ہیں کہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے پروجیکٹ کی بھرپور مدد کر رہی تھی تاہم منتخب حکومتوں اور وزرائے اعظم کو (سوائے ذوالفقار علی بھٹو کے جنہوں نے ایٹمی پروگرام کی داغ بیل ڈالی تھی) اِس حوالے سے تاریکی میں رکھا گیا۔ بے نظیر بھٹو کو بھی جرنیلوں نے ایران سے ایٹمی ٹیکنالوجی کی شیئرنگ کے بارے میں ایک لفظ نہیں بتایا تھا۔ اُنہیں یہ سب کچھ ۱۹۸۹ء میں تہران میں حادثاتی طور پر معلوم ہوا تھا۔ اُس وقت کے ایرانی صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے پوچھا کہ کیا خصوصی دفاعی معاملات پر دونوں ممالک کوئی جامع معاہدہ کرسکتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو نے اُن سے استفسار کیا کہ خصوصی دفاعی معاملات سے اُن کی کیا مُراد ہے۔ تب ایرانی صدر نے کہا تھا کہ وہ ایٹمی ٹیکنالوجی کی بات کر رہے ہیں۔

جون ۱۹۷۹ء میں ’’ایٹ ڈیز‘‘ نامی جریدے نے ایک خصوصی آپریشن کا بھانڈا پھوڑا۔ اِس پر دنیا بھر میں شور مچ گیا۔ یہ خفیہ آپریشن ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قتل کرنے سے متعلق تھا۔ جب بھانڈا پُھوٹ گیا تو اسرائیل نے ڈچ حکومت سے احتجاج کیا۔ ڈچ حکومت نے تحقیقات کا حکم دیا۔ ہالینڈ کی ایک عدالت نے ۱۹۸۳ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر جاسوسی کے الزام میں مقدمہ چلا کر اُنہیں مجرم قرار دیا تاہم بعد میں تکنیکی بنیادوں پر فردِ جرم پلٹ دی گئی۔ اِس کے باوجود پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کام جاری رہا۔ ۱۹۸۶ء تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یقین ہوچکا تھا کہ پاکستان جب چاہے، ایٹم بم بناسکتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان غیرمعمولی حد تک نظریاتی انسان تھے۔ اُن کے دل میں اسلام اور اہلِ اسلام کی محبت قابلِ رشک نوعیت کی تھی۔ وہ پاکستان اور عالمِ اسلام، دونوں ہی کو بلندی پر دیکھنے کے خواہش مند تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ میں امریکیوں اور برطانویوں کا یہ رویہ چیلنج کرنا چاہتا ہوں کہ وہ باقی دنیا سے بہتر اور برتر ہیں۔ وہ اِس بات سے بہت چِڑتے تھے کہ سفید فام نسلیں خود کو دنیا کی نجات دہندہ اور سرپرست سمجھتی ہیں اور خود کو اِس منصب پر خدا کی طرف سے فائز کردہ سمجھتی ہیں۔

پاکستان کو اپنا ایٹمی پروگرام آگے بڑھانے اور فیصلہ کن مرحلے تک لانے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف تو تکنیکی معاملات تھے اور دوسری طرف اسرائیل کے خفیہ ادارے موساد کی سرگرمیاں تھیں جو کسی بھی طرح ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو نشانہ بنانے کے درپے تھا۔ حد یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جن یورپی اداروں سے آلات اور مواد منگواتے تھے، اُن کے ایگزیکٹیوز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مغربی جرمنی کی ایک کمپنی کے ایگزیکٹیو کو لیٹر بم بھیجا گیا۔ وہ تو بچ گیا مگر اُس کا کتا مارا گیا۔

پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کام کرنے والی سوئس کمپنی کورا انجینئرنگ کے ایک سینئر ایگزیکٹیو کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایڈرین لیوی، کیتھرین اسکاٹ کلارک اور ایڈرین ہینی سمیت بہت سے تاریخ دانوں نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے خفیہ ادارے موساد نے پاکستان کا ایٹمی پروگرام روکنے اور ناکام بنانے کے لیے سر توڑ محنت کی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور اُن سے وابستہ لوگوں کو قتل کرنے کے منصوبے بھی بنائے گئے اور کوششیں بھی کی گئیں۔ ایک سوئس کمپنی کے مالک سیگفرائیڈ شرٹلر نے سوئس فیڈرل پولیس کو بتایا کہ موساد نے اُسے اور اُس کی سیلز ٹیم کے ارکان کو کئی بار کال کی اور دھمکایا۔

سیگفرائیڈ نے یہ بھی بتایا کہ جرمنی میں قائم اسرائیلی سفارت خانے کے ملازم ڈیوڈ نے اُس سے رابطہ کیا اور صاف صاف کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق تمام کاروباری سرگرمیاں فی الفور روک دو۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے وابستہ ایک سابق افسر فیروز خان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو کسی بھی صورت یہ گوارا نہ تھا کہ پاکستان یا کوئی بھی مسلم ملک ایٹم بم بنائے۔ اسرائیلیوں کی یہ خواہش دراصل یورپ کی خواہش کا پَرتو تھی۔ اُس نے اسرائیل کو آگے کر رکھا تھا۔ اسرائیلی اس معاملے میں اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ انہوں نے ۱۹۸۰ء کی دہائی کے اوائل میں ضلع راولپنڈی میں کہوٹہ کے مقام پر واقع ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کا سوچا اور اس معاملے میں بھارت سے بھی اشتراکِ عمل کا ڈول ڈالا۔ اُس وقت کی بھارتی وزیراعظم مسز اندرا گاندھی نے اِس آپریشن کی منظوری بھی دے دی۔ منصوبہ یہ تھا کہ اسرائیل کے ایف۔۱۶ اور ایف۔۱۵ طیارے بھارت کی مغربی ریاست گجرات کے شہر جام نگر کی ایئربیس سے پرواز کریں گے اور کہوٹہ میں ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ بعد میں آنجہانی مسز اندرا گاندھی نے اِس منصوبے کو مسترد کردیا اور یوں ایسا کوئی آپریشن نہ ہو پایا۔

۱۹۸۷ء میں اندرا گاندھی کے بیٹے آنجہانی راجیو گاندھی وزیراعظم تھے۔ تب بھارتی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل کرشنا سوامی سُندر جی نے پاکستان سے جنگ کا منصوبہ بنایا تاکہ جنگ کی آڑ میں پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ اور ایٹمی پروگرام کو ختم کیا جاسکے۔ انہوں نے کم و بیش پانچ لاکھ فوجی پاکستانی سرحد سے ملحق علاقوں میں تعینات کردیے۔ سیکڑوں ٹینک اور دیگر گاڑیاں بھی سرحدی علاقوں میں پہنچادی گئیں۔ یہ غیرمعمولی نوعیت کی اشتعال انگیزی تھی۔ راجیو گاندھی کو بھارتی فوج نے پوری طرح اعتماد میں نہیں لیا تھا اور پوری منصوبہ سازی سے آگاہ بھی نہیں کیا تھا۔ بعد میں جب اُنہیں جنرل سُندرجی کے منصوبے کا علم ہوا تو اُنہوں نے پاکستان سے کشیدگی ختم کرنے پر توجہ دی۔

اسرائیل اور بھارت کی شدید مخالفت کے باوجود امریکا اور چین نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی مدد جاری رکھی۔ چین نے پاکستان کو افزودہ یورینیم اور ٹریٹیم تو دیا سو دیا، ماہرین کی خدمات بھی فراہم کیں۔ امریکا نے پاکستان کی مدد اس لیے کی کہ سرد جنگ کے دور میں پاکستان ایک اچھا اتحادی ثابت ہوا تھا۔

پاکستان کا ایٹمی پروگرام منظرِ عام پر آنے کے بعد اپریل ۱۹۷۹ء میں اُس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے پاکستان کی امداد نمایاں حد تک گھٹا دی تاہم چند ماہ بعد یہ فیصلہ اُس وقت واپس لے لیا گیا جب سابق سوویت یونین نے افغانستان پر لشکر کشی کردی۔ امریکا کو پاکستان کی ضرورت پڑی کیونکہ سابق سوویت یونین گرم پانیوں تک رسائی چاہتا تھا۔ اگر پاکستان کو دیوار نہ بنایا جاتا تو سوویت افواج بحیرۂ عرب بہت آسانی سے پہنچ جاتیں۔

امریکا نے ۱۹۸۰ء کی دہائی کے دوران پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے آنکھیں بند رکھیں۔ اُس نے خفیہ طور پر پاکستان کو تکنیکی تربیت دی اور ماہرین کی خدمات بھی فراہم کیں۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سب کچھ تبدیل ہوگیا۔ امریکا کی ترجیحات بدلیں تو پاکستان کی ضرورت بھی گھٹ گئی۔ اکتوبر ۱۹۹۰ء میں ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کی پاداش میں پاکستان معاشی اور فوجی امداد روک دی۔ اِس پر پاکستان نے ’یقین دہانی‘ کرائی کہ وہ ایٹمی پروگرام پر کام روک دے گا۔ بعد میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بتایا کہ غیرمعمولی افزودہ یورینیم کی تیاری خفیہ طور پر جاری رہی۔

معاملات نے فیصلہ کن انداز سے اُس وقت پلٹا کھایا جب بھارت نے گیارہ مئی ۱۹۹۸ء کو اپنے ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ کیا۔ یہ تجربہ گجرات کے علاقے پوکھرن میں کیا گیا۔ اِس کے جواب میں پاکستان نے ۲۸ مئی ۱۹۹۸ء کو بلوچستان کے علاقے چاغی میں ایٹمی ہتھیار کے کامیاب تجربے کیے اور دنیا کی ساتویں تسلیم شدہ ایٹمی قوت بن گیا۔ اب امریکا نے بھارت اور پاکستان، دونوں پر اقتصادی پابندیاں عائد کردیں۔

اب ڈاکٹر عبدالقدیر خان قوم کے ہیرو بن گئے۔ وہ گاڑیوں کے ایک بڑے قافلے میں سفر کرنے لگے اور اُن کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے فوجی کمانڈوز تعینات کردیے گئے۔ گلیوں، سڑکوں، اسکولوں اور کرکٹ ٹیموں کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے موسوم کیا گیا۔ وہ پاکستانی ایٹم بم کا بھرپور کریڈٹ لیتے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ میزائل پروگرام کا کریڈٹ بھی لیتے تھے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ۱۹۸۰ء کی دہائی کے وسط سے ایک دوسرا آپریشن بھی شروع کیا۔ انہوں نے ایک انٹرنیشنل نیوکلیئر نیٹ ورک قائم کیا جس کے تحت انہوں نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو بھی ایٹمی ٹیکنالوجی سے بہرہ مند کرنا شروع کیا۔ انہوں نے ایٹمی پروگرام کے لیے درکار پُرزے دگنی تعداد میں بنانے شروع کیے اور ضرورت سے ہٹ کر جتنے بھی اجزا یا پُرزے ہوتے تھے، وہ ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو فراہم کرنے لگے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی بنیادی طور پر ایٹم بم بنانے کے خلاف تھے اور اِسے اسلامی تعلیمات کے حوالے سے ممنوع قرار دیتے تھے، تاہم ایرانی حکومت نے اُس وقت کے پاکستانی حکمران جنرل ضیاء الحق سے رابطہ کیا اور ایٹمی پروگرام کے لیے معاونت کی استدعا کی۔

۱۹۸۶ء سے ۲۰۰۱ء کے درمیان پاکستان نے ایران کو ایٹم بم کی تیاری کے لیے درکار بہت سے پُرزے اور مشینیں وغیرہ فراہم کیں۔ یہ سب کچھ استعمال شدہ تھا کیونکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جدید ترین ٹیکنالوجی پاکستان کے لیے رکھی تھی۔ ۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء کی دہائیوں کے دوران ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مشرقِ وسطیٰ کے کئی دورے کیے تاہم اسرائیلی خفیہ ادارہ بالکل درست اندازہ لگانے میں ناکام رہا کہ وہ کیا کر رہے تھے۔

موساد کے سابق سربراہ شیوِٹ نے بعد میں انٹرویوز میں بتایا کہ اگر اُنہیں اندازہ ہو جاتا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیا کر رہے ہیں تو اُن کے قتل کا حکم دے کر تاریخ کے دھارے کا رُخ موڑ دیا جاتا۔

لیبیا کے سابق مطلق العنان آمر معمر قذافی نے امریکا کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ۲۰۰۳ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خفیہ اور نام نہاد مشکوک ایٹمی سرگرمیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ معمر قذافی نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی سکس کو بتایا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان لیبیا میں ایٹمی تنصیبات کے قیام کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔ اِن میں سے چند کو پولٹری فارم کی شکل دی گئی تھی۔

سی آئی اے نے لیبیا میں ایٹمی تنصیبات کے لیے لائی جانے والی مشینری کو نہرِ سوئیز میں پکڑ لیا۔ اس شپمنٹ میں تحقیقات کاروں کو اسلام آباد کے ایک ڈرائی کلینر کی طرف سے بھیجے جانے والے ایٹمی ہتھیاروں کے ڈیزائن ملے۔

جب یہ سب کچھ سامنے آیا تو امریکی شدید خوفزدہ ہوئے۔ ایک سینئر امریکی افسر نے ’نیویارک ٹائمز‘ سے گفتگو میں کہا کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ معاملات اِس حد تک بڑھ سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ بہت خوفناک محسوس ہو رہا تھا۔ اِس افسر کا کہنا تھا کہ پہلے تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جدید ترین ایٹمی ہتھیار بنائے، پھر متعلقہ ٹیکنالوجی دوسرے ملکوں کو فراہم کی۔ مسئلہ یہ تھا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی اُن حکومتوں تک پہنچ گئی تھی جو امریکا کے لیے انتہائی ناپسندیدہ ہیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ۲۰۰۴ء میں اعتراف کیا کہ انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کا نیٹ ورک چلایا تھا اور اِس نیٹ ورک کے تحت انہوں نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوشش کی تھی۔ فروری ۲۰۰۴ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان سرکاری ٹی وی پر نمودار ہوئے اور اعتراف کیا کہ یہ سب کچھ اُنہوں نے تنِ تنہا کیا تھا اور اِس سلسلے میں اُنہیں حکومتِ پاکستان کی طرف سے کسی بھی طرح کی حمایت، منظوری یا مدد حاصل نہ تھی۔ اس اعتراف کے فوراً بعد حکومت نے انہیں معاف کردیا۔ اُس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اُنہیں اپنا ہیرو قرار دیا۔ مگر خیر، امریکی دباؤ کے تحت اُنہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اسلام آباد میں ۲۰۰۹ء تک گھر میں نظربند رکھا۔ بعد میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ اُنہوں نے پہلی بار ملک کو اُس وقت بچایا جب اُنہوں نے قوم کو ایٹمی قوت بنایا اور دوسری بار اُس وقت بچایا جب انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کا سارا الزام اپنے سَر لیا۔

۲۰۰۶ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان میں ہرنیے کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔ سرجری کے بعد وہ صحت یاب ہوگئے۔ اپنے آخری برسوں میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اسلام آباد میں ایک کمیونٹی سینٹر کی غیرمعمولی مدد کی اور اپنا بیشتر وقت بندروں کو کِھلاتے پِلاتے گزارا۔ جو لوگ ڈاکٹر عبدالقدیر کے بہت قریب رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان یہ سمجھتے تھے کہ اُنہوں نے کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلم دنیا جدید ترین ایٹمی ٹیکنالوجی کے معاملے میں اپنے پیروں پر کھڑی ہو۔ اُن کی خواہش تھی کہ جدید ترین ایٹمی ٹیکنالوجی مسلم دنیا سمیت تمام غیرمغربی ملکوں تک پہنچے۔ اُن سے قربت رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں کسی بھی مسلم ملک کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنا کوئی جرم نہیں تھا۔ انہوں نے ۲۰۱۹ء میں کہا تھا کہ قوم کو اِس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ پاکستان ہر اعتبار سے محفوظ ایٹمی قوت ہے اور کوئی بھی اِس کی طرف میلی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔                     

(مترجم: ابو صباحت)

‘Why not an Islamic bomb?’: How Israel planned and failed to stop Pakistan going nuclear”. (“middleeasteye.net”. June 25, 2025)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں