نیا سال، نئے عالمی امکانات

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف کرائے ہیں۔ اُن کی اپنی پالیسی ترجیحات ہیں۔ وہ ڈرامائی طور پر اپنے سرکاری گھر یعنی امریکی ایوانِ صدر وائٹ ہائوس کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی تجارتی نظام کو بھی ہلاکر رکھ دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ سے بیرونی امداد تک بین الاقوامی سفارت کاری کی مشینری کو امریکا کی طرف سے فنڈنگ میں کمی کے ہاتھوں شدید دھچکا لگا۔ ایک زمانے سے چلے آرہے دفاعی اتحادوں کو نئی شکل دی گئی۔ اِس کے نتیجے میں امریکا کو عسکری اور معاشی بنیاد پر غیرمعمولی فائدہ پہنچا۔ امریکی صدر نے ایک صدی سے بھی زائد مدت کے دوران ایگزیکٹیو اختیارات کا شدید ترین اطلاق کیا۔ صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کے تحت چلائے جانے والے شہروں میں فوجی بھیجے اور جامعات کی فنڈنگ میں کٹوتی کردی۔ امریکا کے قومی بینک فیڈرل ریزرو کی خود مختاری پر ضرب لگائی گئی۔ صدر کے دشمنوں کے خلاف سرکاری مشینری کو بلادریغ استعمال کیا گیا۔

امریکی جمہوریت کے ستونوں پر ضربیں لگائی گئی ہیں۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے یا کیا جارہا ہے، اُس کا حتمی اور فیصلہ کن نوعیت کا نتیجہ کیا ہوگا۔ محسوس ہوتا رہا ہے کہ معاملات کو اب باقاعدہ طریقے سے ہٹ کر جابرانہ انداز سے نپٹانے کی بنیاد ڈالی جارہی ہے۔ ہم پہلے بھی متنبہ کرتے رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ امریکا کے معاشی مفادات کو محفوظ رکھنے کے نام پر بہت کچھ الٹا سیدھا کر رہے ہیں۔ وہ خود مختار اداروں کو سیاسی بنارہے ہیں۔ بدعنوانی کو فروغ دے رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ خود کو کسی بھی قانون کا پابند سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ کو جابرانہ اندازِ حکمرانی سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ وہ اپنے مطلوب نتائج حاصل کرنے میں بہت حد تک کامیاب بھی رہے ہیں۔ غزہ میں سیزفائر کو بھی اُن کی کامیابیوں کے کھاتے میں ڈالا جارہا ہے۔ یہ سب کچھ نیویارک کی ریئل اسٹیٹ ڈیل کے انداز سے کیا گیا۔ نیٹو اتحادیوں سے معاملات میں سختی برتنے کا نتیجہ دفاعی اخراجات میں اضافے کی صورت میں برآمد ہوا۔ صدر ٹرمپ نے چھوٹے ممالک کے بازو مروڑے، ڈرایا دھمکایا اور اپنے لیے نوبیل کے امن انعام کی راہ ہموار کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے چند ایک معاملات میں تصفیہ کرانے کا ڈراما کیا اور کسی نہ کسی طور، کاغذی سطح ہی پر سہی، معاہدے کرواکے اُن کا کریڈٹ لیا۔

چند ایک ناکامیاں بھی صدر ٹرمپ کے حصے میں آئیں۔ چین اور بھارت سمیت بہت سے ممالک کے خلاف تادیبی نوعیت کے ٹیرف عائد کرکے امریکی صدر نے چاہا کہ امریکی معیشت کے لیے پنپنے کی گنجائش پیدا کریں۔ بھارت کو بظاہر روس سے خام تیل خریدنے کی سزا دی گئی۔ برازیل کے خلاف ٹیرف کی نوعیت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ امریکی اقدامات کے نتیجے میں بھارت اور برازیل چین کی طرف مزید جھکنے کو ترجیح دیں گے۔ چین کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے مگر وہ مجموعی طور پر فاتح کی حیثیت سے ابھرا ہے۔

صد شکر کہ امریکی صدر کی طرف سے ٹیرف کے نام پر کیے گئے اقدامات سے عالمی معیشت بیٹھ نہیں گئی۔ تادیبی نوعیت کے ٹیرف کے نتیجے میں امریکا کی مجموعی قومی آمدنی میں کچھ خاص اضافہ نہیں ہوا۔ توقع بہت زیادہ کی تھی۔ اس کے جواب میں جو کچھ بھی کیا گیا وہ محدود نوعیت کا تھا اور ۱۹۳۰ء کے عشرے کے زمانے کی تجارتی جنگ کو بہت حد تک ٹالنے میں مدد ملی۔ بہت سے ملکوں نے امریکا سے تجارتی سودے ختم کردیے اور اِس کے نتیجے میں انہیں ٹیرف سے کچھ خاص نقصان نہیں پہنچا۔ امریکا نے کرپٹو کرنسی کے میدان میں کامیابی کو زیادہ ترجیح دی۔ اِس کا اُسے فائدہ بھی پہنچا۔ دوسری طرف مصنوعی ذہانت کے شعبے میں غیرمعمولی پیشرفت نے امریکا کو وقتی طور پر اچھا خاصا فائدہ پہنچایا جس کے نتیجے میں امریکا اپنی عالمگیر برتری کی عمر کو کچھ بڑھانے میں ضرور کامیاب ہوا۔ اس کے نتیجے میں امریکا سمیت بہت سے ملکوں میں اسٹاک مارکیٹ کچھ بلند ہوئی اور امریکی معیشت کے لیے کچھ پنپنے کی راہ ہموار ہوئی۔ بہت سے عالمی قائدین اِس صورتِ حال سے پریشان تھے مگر انہوں نے کھل کر کچھ کہنے سے صاف گریز کیا۔

اب بہت کچھ دائو پر لگا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ سب سے زیادہ خطرہ مغربی لبرل ڈیموکریسی کو لاحق ہے۔ امریکا میں جابرانہ اندازِ حکمرانی نے معاملات کو بہت خراب کیا ہے۔ یورپ میں غیرمعمولی تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ یورپ کے بیشتر قائدین کو یہ تشویش لاحق ہے کہ کہیں یورپ کی حدود میں بھی آمرانہ طرزِ حکومت کی وکالت کرنے والے اٹھ کھڑے نہ ہوں۔ انتہائی دائیں بازو کا طبقہ اِس حوالے سے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ امریکا میں وسط مدتی پارلیمانی انتخابات ہونے کو ہیں۔ اگر ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان میں اپنی اکثریت یقینی بنانے میں کامیابی حاصل کی تو صدر ٹرمپ کو کسی حد تک کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔ اس بات کا خدشہ بھی موجود ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکا کی انتخابی مشینری میں بھی مداخلت کرسکتی ہے۔ ڈیموکریٹس کی مقبولیت میں غیرمعمولی کمی واقع ہوچکی ہے۔

امریکی خارجہ پالیسی کس طرف رواں ہے، اِس کے بارے میں واضح ترین اشارے ایشیا اور لاطینی امریکا سے ملیں گے۔ (لاطینی امریکا سے اشارے مل چکے ہیں۔ وینزویلا میں جو کچھ بھی امریکا نے کیا ہے، اُس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اب ڈونلڈ ٹرمپ باقی دنیا میں بھی کیا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اِس وقت کسی کے بھی پابند دکھائی نہیں دے رہے۔

امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کا جنون ڈونلڈ ٹرمپ کے سر پر یوں سوار ہے کہ وہ اپنی راہ میں آنے والی کسی بھی جائز رکاوٹ یا روک تھام کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یورپ کے بیشتر ممالک میں بھی قوم پرستانہ جذبات نمایاں طور پر ابھرتے جارہے ہیں۔ برطانیہ میں بھی نائجل فیریج کی ریفارم یوکے پارٹی رائے عامہ کے جائزوں میں غیرمعمولی مقبولیت سے ہمکنار دکھائی دے رہی ہے۔ ایسے میں مقامی حکومتوں کے انتخابی نتائج دیکھ کر ہی اندازہ ہوسکے گا کہ برطانیہ اب کس سمت رواں ہوگا۔ دوسری طرف یورپ کے بہت سے چھوٹے بڑے ممالک میں بھی سیاسی سطح پر نظریاتی اکھاڑ پچھاڑ جاری ہے۔ برطانیہ میں نائجل فیریج کے وزیرِاعظم بننے کا امکان خاصا توانا ہے۔ فرانس میں حکومتیں کمزوری کا شکار رہی ہیں اور اِس وقت بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ۲۰۲۶ء میں فرانس کو ایک بار پر حکومت کی تشکیل کے مرحلے سے گزرنا پڑے۔ جرمنی میں سخت گیر دائیں بازو کے عناصر کی متبادل حکومت کی راہ مسدود کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔

امریکا ایک بار پھر اپنے آپ کو منوانے پر تُلا ہوا ہے۔ پہلی بار اُسے اِس طور مان لیا گیا تھا کہ کہیں بہت زیادہ خرابی رونما نہیں ہوئی تھی۔ بیسویں صدی کے اوائل میں امریکا نے مرحلہ وار طاقت حاصل کی اور معاشی بنیادیں مضبوط کرنے کے لیے عسکری بنیادوں کو وسیع تر اور مضبوط تر کرنے کی سمت بڑھا۔ اب معاملہ کچھ اور ہے۔ امریکا ایک بار پھر چاہتا ہے کہ اُسے حقیقی سپر پاور تسلیم کیا جائے یعنی کسی اور ملک کو اُس کے مقابلے میں کچھ سمجھا ہی نہ جائے۔ چین ایک بڑی طاقت اور حقیقت بن کر سامنے کھڑا ہے۔ یورپ بھی جانتا ہے کہ چین، بھارت اور برازیل کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اور روس؟ وہ بھی تو سر پر کھڑا ہے۔ امریکی صدر کسی نہ کسی طور جنوبی امریکا کو مُٹھی میں رکھنے پر بھی بضد ہیں۔ دوسری طرف وہ دنیا بھر سے یہ منوانے پر بھی تُلے ہوئے ہیں کہ امن کی خواہش اگر واقعی کسی کی ہے تو وہ صرف امریکا ہے۔ وہ ساری دنیا سے منوانا چاہتے ہیں کہ دنیا کا واحد امن پسند ملک امریکا ہے۔

صدر ٹرمپ امن کا نوبیل انعام اِس لیے بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ اس صورت میں وہ مشرقِ وسطیٰ میں تادیر ملوث رہ سکیں گے۔ وہ اسرائیل کو غزہ میں ہمہ گیر نوعیت کی جنگ سے روک سکیں گے اور اِس کے عوض بنیامین نیتن یاہو کو معافی بھی دلواسکیں گے۔ وہ چاہیں گے کہ اگر نیتن یاہو کے لیے ایوانِ اقتدار میں مزید رہنا ممکن نہ ہو تو بھی وہ عزت سے ضرور رخصت ہو۔

امریکا کو عالمی سطح پر اپنی برتری برقرار رکھنے اور اُس میں اضافے کے لیے انتہائی اہم نوعیت کی معدنیات کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ایک طرف چین اور دوسری طرف روس سے شدید مسابقت کا سامنا ہے۔ جدید ترین الیکٹرانک آلات میں استعمال ہونے والی اہم معدنیات کے حصول کی دوڑ میں چین بہت آگے ہے۔ وہ طاقت استعمال نہیں کر رہا بلکہ تجارتی معاہدوں کے ذریعے سپلائی جاری رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر یوکرین کے مستقبل کو یورپ کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔ یورپ کے لیے یوکرین کا مؤثر دفاع یقینی بنانا کسی بھی سطح پر کوئی آسان بات نہیں۔ روس کی لشکر کشی سے اب تک یورپ نے اس قضیے میں پڑنے سے بہت حد تک گریز کیا ہے اور روس سے واضح خطرہ محسوس کرتے ہوئے ایک طرف بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہنے کو ترجیح دی ہے۔

ایشیا میں امریکا کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ تو چین سے نپٹنا ہے۔ امریکی معیشت کے لیے پیدا ہونے والی مشکلات کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ صدر ٹرمپ چاہیں گے کہ چین سے کوئی جامع تجارتی معاہدہ ہو جائے تاکہ تجارتی میدان میں زیادہ ہزیمت کی گنجائش نہ رہے۔

جنوبی امریکا میں امریکا کی حاشیہ بردار حکومتیں بھی ہیں۔ ارجنٹائن میں ہاویٔر میلئی اور السلواڈر میں نییِب بکیل کی حکومتیں امریکا نواز رہی ہیں۔ امریکا اِن کی بھرپور حمایت اور مدد جاری رکھنا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ وینزویلا میں حکومت تبدیل کریں۔ کولمبیا میں بھی وہ کچھ ایسا ہی چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ غیرقانونی ترکِ وطن، جرائم اور منشیات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ ہیں اور اِس معاملے میں جنوبی امریکا میں اُن کی طرف سے عسکری مہم جوئی سے امریکا کو بہت حد تک فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

امریکی معیشت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ مارکیٹ میں مندی ہے۔ صارف کے اعتماد کو ٹھیس لگ چکی ہے۔ امریکا میں کساد بازاری کی لہر آسکتی ہے۔ ایسے میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے امریکی مہارت اور برتری بھی ایک خاص حد تک ہی مدد کر پائے گی۔ ٹیرف کی پالیسی نے امریکی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس نقصان کو پورا کرنے میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کی برتری بھی ایک خاص حد تک ہی کوئی کردار ادا کرسکتی ہے۔ امریکی معیشت کو بجٹ کے بہت بڑے خسارے کا سامنا ہے۔ اس بوجھ کو راتوں رات اتارا نہیں جاسکتا۔ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ صدر ٹرمپ فیڈرل ریزرو کا نیا چیئرمین ایسا چاہتے ہیں جو اس بات کو یقینی بنائے کہ یہ ادارہ اپنے طور پر کام نہ کرے بلکہ اپنے اختیارات ایوانِ صدر کے سامنے ڈھیر کردے۔ دنیا بھر میں بڑے ممالک اپنی اپنی کرنسی کو زیادہ سے زیادہ مقبولیت سے ہمکنار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم فی الحال ڈالر کی برتری کے خاتمے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔ ہاں، امریکی معیشت کی مشکلات ضرور برقرار رہیں گی۔

اگر امریکی معیشت سنبھل نہ سکی تو ڈیموکریٹس کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کا امکان قوی ہوجائے گا۔ اگر ڈیموکریٹس پھر اقتدار میں آئے تو جمہوریت کی بقا کے حوالے سے چند ایک فیصلہ کن اقدامات ضرور کریں گے۔ سوال امریکی ایوانِ صدر کے اختیارات کو کنٹرول کرنے کا بھی ہے۔ اگر معیشت نہ سنبھل سکی تو ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی اپنے معاملات پر نظرثانی کی تحریک ملے گی۔

امریکا کے بانیان کو بھی بہت سے معاملات میں مایوسی کا سامنا تھا۔ سائراکیوز یونیورسٹی کے تاریخ دان ڈینس رازموزین کا کہنا ہے کہ امریکا کے قیام کے بعد جارج واشنگٹن، جیفرسن اور ہیملٹن یہ دیکھنے کے لیے بے تاب تھے کہ امریکا ایک آزاد و خود مختار ملک کی حیثیت سے کامیاب ہو بھی سکے گا یا نہیں۔ انہوں نے امریکا کی بقا کے لیے ضروری سمجھے جانے والے اقدامات ضرور کیے تھے مگر پھر بھی بہت کچھ اُن کے کنٹرول میں نہ تھا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ بے لگام طاقت کی خرابیاں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے چند سیاسی آدرش پیش کیے تھے اور اُن کا خیال رکھنے کی بھرپور تاکید بھی کی تھی۔ امریکا ایک بہت بڑا تجربہ تھا۔ اُس پر حملے بھی ہوسکتے تھے۔ غلامی کے خاتمے کو مؤخر کردیا گیا تھا۔ ڈیموکریٹک مملکتوں کا ریکارڈ بھی تب تک شاندار نہیں تھا۔

ایسا نہیں ہے کہ امریکا کی بقا کے حوالے سے خدشات نئے ہیں۔ ڈیڑھ سو سال قبل بھی ایسے ہی خدشات پیش کیے جاتے رہے تھے۔ امریکا کے اعلانِ آزادی میں صدر ولیم جیفرسن نے انگلینڈ کے شاہ جارج سوم پر فوجی امریکی سرزمین پر بھیجنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ خود ہی اپنے دشمنوں کا تعین کرکے اُنہیں سزا دینے کا اختیار چاہتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکا میں ۲۰۲۶ء کے دوران ایک ایسی چارج شیٹ سامنے آئے جس میں یہ الزام عائد کیا گیا ہو کہ صدر ٹرمپ اپنے دفتر اور منصب اپنے ذاتی (کاروباری) مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ انہوں نے ایک اور مدت کے لیے صدر منتخب ہونے کی خاطر آئین پر حملوں کی دھمکی دینے سے بھی اجتناب نہیں برتا۔

۱۷۷۵ء میں بانیانِ امریکا کو کچھ بھی اندازہ نہ تھا کہ جو نیا ملک وہ قائم کرنے والے ہیں، وہ انتہائی طاقتور ہوکر بہت کچھ کرے گا۔ غلامی کی روایت ختم کرنے کے درپے ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا ہوگا کہ کبھی اُن کا ملک انتہائی نوعیت کی طاقت کا حامل ہونے کے بعد اِس قدر بیزار ہوچکا ہوگا کہ اپنی باگ ڈور ایک ایسے بزنس مین کے حوالے کردے گا جو ایک ریئلٹی شو کا میزبان رہ چکا ہوگا۔ امریکا نے اپنی باگ ڈور ٹرمپ کو ایک بار نہیں، دو بار سونپی ہے۔

امریکا کے بانیان نے یہ خدشہ کھل کر ظاہر کیا تھا کہ ملک کی حدود ہی میں ایسے سیاسی عناصر پنپ سکتے ہیں جو انتہائی آمرانہ و جابرانہ طرزِ حکومت کے حامل ہوں۔ انہیں یہ خدشہ بھی لاحق تھا کہ امریکا پر کوئی بہت بڑا حملہ بھی ہوسکتا ہے اور پورے ملک کا نظام درہم برہم بھی ہوسکتا ہے۔ اِس کا ایک حل یہ تھا کہ صدر کو غیرمعمولی اختیارات نہ سونپے جائیں۔ بانیانِ امریکا ہنگامی حالت سے بہت دور رہنے کا انتظام کرنا چاہتے تھے مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایک دن ہنگامی حالت کے تحت حکومت کی ہے۔ عدالتی احکام کی تعمیل میں بھی تضاد کا پہلو بہت نمایاں ہے۔ کوئی عدالت کہتی ہے کہ امریکی صدر کسی ایک ریاست کے نیشنل گارڈز کو کسی دوسری ریاست میں تعینات نہیں کرسکتے۔ پھر ایک اور رولنگ کہتی ہے کہ تارکینِ وطن کی آمد روکنے سے متعلق اقدامات روکے جائیں کیونکہ یہ تاثر مل رہا ہے کہ تارکینِ وطن کو روکنے کے لیے معاملے میں امریکی صدر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کو اپنی ذاتی ملیشیا کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ امریکی ایوانِ صدارت کے اقدامات استعماری نوعیت کے معلوم ہوتے ہیں۔

تارکینِ وطن کے معاملے میں صدر ٹرمپ کا رویہ بہت غیرلچکدار رہا ہے جس کے نتیجے میں خاصا بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ وہ خود ہنرمند تارکینِ وطن کو امریکا لانے کے حق میں ہیں۔ اس معاملے میں کھیتوں میں کام کرنے کے لیے موسمی نوعیت کے ویزا جاری کرنے پر بھی غور ہو رہا ہے۔ ڈیموکریٹس کا اعتراض یہ ہے کہ تارکینِ وطن کے معاملے میں صدر ٹرمپ نے اپنی ہی پالیسی کو ختم کردیا ہے۔ امریکا کو دوبارہ عظمت سے ہمکنار کرنے کا ایک راستہ ٹرمپ کو یہ دکھائی دے رہا ہے کہ غیرقانونی تارکینِ وطن کی راہ مسدود کرکے زیادہ سے زیادہ مقامی امریکیوں کو کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ اس معاملے میں ری پبلکنز کے ساتھ ساتھ چند ایک ڈیموکریٹ ریاستیں بھی ٹرمپ کی حمایت کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے بل منظور کرلیے جانے پر ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر بہت اداس ہیں۔

مصنوعی ذہانت کی گرم بازاری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ مالیاتی قواعد و ضوابط کو کم کرتے ہوئے توانائی کے نئے منصوبوں اور ٹرانسمیشن لائنز کے لیے اجازت نامے جاری کر رہی ہے۔ سولر انرجی کے علاوہ وِنڈ پاور منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ اِس کے نتیجے میں امریکا میں روزگار کا منظرنامہ بگڑنے سے بچ گیا ہے۔ وائٹ کالر جابز کا زوال کچھ دیر کے لیے ٹل گیا ہے۔ ٹیرف طے اور نافذ کرنے کے چند معاملات کانگریس کے حوالے کردیے گئے ہیں۔

امریکی سیاسی تاریخ بہت سے عجیب واقعات سے بھری پڑی ہے۔ اگر ہم مان لیں کہ ۲۰۲۶ء کے دوران صدر ٹرمپ اپنے بیشتر معاملات میں کامیاب رہیں گے، تب بھی ہمیں ایسا بہت کچھ دکھائی دے سکتا ہے جس کی توقع ہم نے نہ کی ہو۔

یورپ میں ۲۰۲۶ء اسلحہ، معاشی نمو اور سبزے پر مدار کا حامل ہے۔ یورپ پر غیرمعمولی دبائو ہے۔ اُسے یوکرین پر روس کی لشکر کشی کے پیش منظر میں دفاعی تیاریوں پر بہت زیادہ خرچ کرنا ہے اور توجہ بھی بہت زیادہ دینی ہے۔ امریکا نے اپنے آپ کو یوکرین کے دفاع کی ذمہ داری سے بہت حد تک الگ کرلیا ہے۔ یورپ میں روسی عزائم کے حوالے سے شدید نوعیت کے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ خاصی طویل مدت سے یورپ معاشی معاملات میں کمزور رہا ہے۔ اب اُسے بحالی کی طرف جانا ہی پڑے گا۔ ناخوش ووٹرز سیاسی انتہائوں کی طرف جاسکتے ہیں۔ اُنھیں ایسا کرنے سے روکنے کے لیے یورپ کے سیاسی قائدین کو ایسا کچھ کرنا پڑے گا کہ انتہائی دائیں بازو کے عناصر اقتدار کے ایوانوں تک نہ پہنچ سکیں۔ اگر کسی بڑی یورپی ریاست میں کوئی ایک بھی انتہا پسند برسرِ اقتدار آگیا تو پورا برِاعظم جنگ کے شعلوں میں جھلس مرے گا۔

۲۰۲۲ء میں یوکرین پر روس کی لشکر کشی سے اب تک یورپ کے لیے چیلنج بڑھتے ہی رہے ہیں۔ روس نے بہت سے معاملات میں یورپ کے سیاسی، کاروباری اور دفاعی معاملات کو سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے تاکہ دبائو بڑھایا جاسکے۔ روسی ڈرون پولینڈ اور رومانیہ میں بھی داخل ہوئے ہیں۔ روسی لڑاکا طیارے نیٹو کی ایئر اسپیس میں بھی بھٹکتے پائے گئے ہیں۔

یورپ کے لیے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ غیرمعمولی دفاعی تیاریوں کا ہے اور اِس کے لیے طے کیا گیا ہے کہ ہر یورپی ملک دفاع کی مد میں اپنی خام قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا کم از کم ساڑھے تین فیصد مختص کرے۔ پولینڈ، لتھوانیا اور لیٹویا کے سوا بیشتر یورپی ریاستوں نے اب تک اپنے ووٹرز کے سامنے دفاعی اخراجات کی صراحت پیش کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی ہے۔ اسپین کہہ چکا ہے کہ اُس کے لیے دفاعی بجٹ کا نیا ہدف پورا کرنا کسی بھی طور ممکن نہیں۔

دفاع کے حوالے سے یورپی ریاستوں کے درمیان غیرمعمولی نوعیت کے اختلافات اور تنازعات پائے جاتے ہیں۔ یورپی معیشتیں بھی شدید دبائو میں ہیں۔ معاشی نمو کی رفتار ہدف سے کہیں کم ہے اور بے روزگاری کا خطرہ بھی سروں پر منڈلا رہا ہے۔ مجموعی پیداوار میں پریشان کن حد تک کمی واقع ہو رہی ہے۔ معاشی نمو کی شرح کو برقرار رکھنا بھی انتہائی دشوار ثابت ہو رہا ہے۔ یورپ میں افرادی قوت کا مسئلہ سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔ معمر افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ تارکینِ وطن کو قبول کرنے کا رجحان کمزور ہے۔ ایسے میں ملازمتیں امریکا اور ایشیا منتقل ہورہی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ مالیات کا رُخ بھی اِن خطّوں کی طرف ہے۔

یورپ کو کووِڈ کے دور میں معاشی اعتبار سے جو ضرب لگی تھی، وہ اب تک اُس سے بھی پوری طرح بحال نہیں ہوسکا ہے۔ کمزور حکومتیں یورپ کا مقدر ہوکر رہ گئی ہیں۔ پالیسیوں میں پائیداری نہیں۔ اِس کے نتیجے میں معیشتیں بھی بحالی کی طرف مائل نہیں ہو پارہیں۔ بہبودِ عامہ کی فنڈنگ میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ بیشتر یورپی ریاستوں میں کمزور حکومتوں کو نئے انتخابات کے خطرے کا سامنا ہے۔ ان میں فرانس بھی شامل ہے۔

ماحول سے متعلق پالیسی میں بھی یورپ اور امریکا کی سوچ میں بہت فرق ہے۔ یورپ چاہتا ہے کہ اُس کا پورا ماحول ہی گرین یعنی ماحول دوست ہو جائے۔ اس مقصد کا حصول یقینی بنانے کے لیے تمام ہی معاملات میں بنیادی تبدیلیاں لائی جارہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بہت سے شعبے غیرمتوازن بھی ہوچکے ہیں۔ توانائی کے معاملے میں گرین پالیسی کو اپنانے سے بہت کچھ بدلنا پڑگیا ہے۔ یورپ ۲۰۳۵ء تک پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی تمام گاڑیوں سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اب تک تو یورپ بحرانوں سے فوائد بٹورتا آیا ہے۔ کووِڈ کی وبا نے یورپی ریاستوں کو مشترکہ ادھار کی طرف روانہ کیا۔ یوکرین کی جنگ نے یورپ کو دفاع کے لیے متحد ہونے کا پیغام دیا۔ ۲۰۲۶ء میں ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

ایک بڑا امکان یہ ہے کہ چین اب دفاعی پالیسیاں ترک کرکے جارحیت کی طرف مائل ہوگا۔ اب تک چین نے ایک طرف کھڑے ہوکر تماشا دیکھنے کو ترجیح دی ہے مگر اب ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی ذرا کھل کر سامنے آنے کے لیے بے تاب ہے۔ تائیوان کے معاملے میں وہ طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔ خطے میں چند دوسرے ممالک بھی چین کی طرف مہم جوئی کا خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ امریکا نے چین کو مختلف معاملات میں نیچا دکھانے کی جتنی بھی کوششیں کی ہیں، اُن میں سے بیشتر اب تک مکمل ناکام رہی ہیں۔ تجارت کے میدان میں چین نے امریکا کو پچھاڑ ہی دیا ہے۔ اب ہائی ٹیک میں بھی چین بہت آگے چل رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے چین کے خلاف جارحانہ پالیسیاں اپنائی ہیں مگر اِس کا کچھ خاص فائدہ نہیں پہنچا۔ اب چین چاہتا ہے کہ بین الاقوامی معاملات میں اُس کی رائے کو بھی مقدم رکھا جائے۔ اب تک تو سب کچھ امریکا اور یورپ کی مرضی سے طے ہوتا آیا ہے مگر چینی قیادت اِس سلسلے کو مزید چلنے نہیں دینا چاہتی اور اِس بات پر زور دے رہی ہے کہ عالمی نظام کو چلانے میں چین کو بھی کلیدی کردار دیا جائے۔

چین اب ڈالر کی برتری کو ختم کرنے کے بھی درپے ہے۔ ۲۰۲۶ء میں اس حوالے سے زیادہ جارحانہ اقدامات کا امکان ہے۔ چپ میکنگ اور مصنوعی ذہانت میں بھی چین نے اپنی برتری منوالی ہے۔ چین نے دنیا بھر سے خریدا ہوا ایک ارب بیس کروڑ بیرل تیل بھی ذخیرہ کر رکھا ہے۔ چینی معیشت کو چلتا رکھنے کے لیے توانائی کی بہت بڑے پیمانے پر ضرورت پڑتی ہے۔ غیرروایتی ذرائع پر بھی انحصار بڑھ رہا ہے۔ توانائی اور معدنیات کے معاملے میں چین بہت زیادہ حساس اور متوجہ ہے۔ جدید معیشت کے لیے ناگزیر سمجھی جانے والی معدنیات کی سپلائی جاری رکھنے کے لیے چین نے ایشیا اور افریقا میں بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ چین کل تک مینوفیکچرنگ کے شعبے کا حکمران تھا۔ اب وہ جدید ترین ٹیکنالوجیز اور مالیات میں بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ ٹیرف سے بچنے کے لیے اب چین اپنی صنعتی پیداوار کی برآمد کو کنٹرول کر رہا ہے۔

۲۰۲۶ء میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے معاملات ملے جلے رہیں گے۔ نہ تو بھرپور ترقی ہوگی نہ مکمل تباہی۔ دو سال سے مشرقِ وسطیٰ میں معاملات تذبذب اور ٹھہرائو کا شکار رہے ہیں۔ ۲۰۲۶ء میں بھی کچھ ایسا ہوگا تاہم تھوڑی سی بہتری اِس لیے آئے گی کہ غزہ میں لڑائی رک چکی ہے۔ دنیا کے پاس ایک اچھا موقع ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کو مستحکم کرنے کی سمت بڑھے۔ غزہ میں تعمیرِ نو سے یہ عمل شروع کیا جاسکتا ہے۔ اب بین الاقوامی امن فوج غزہ کے معاملات سنبھالے تو کچھ ہوسکتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایران میں بھی تبدیلیوں کی لہر سی اٹھتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر ایران میں قیادت تبدیل ہوئی تو ایران کو دورِ جدید کے سانچے میں ڈھالنے کا عمل شروع ہوسکتا ہے۔ سیاسی قیدیوں کی رہائی لازم ہے۔ ایران کو اپنی ساکھ بھی بہتر بنانی ہے۔                                                  (مترجم: ابو صباحت)

“The contours of 21st-century geopolitics will become clearer in 2026”

(“The Economist”. November 10, 2025)

تازہ مضامین

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں

نئے سال کا آغاز اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، بنیادی مسائل کی نشاندہی کی جائے اور یہ سوچا جائے کہ آگے کیا کرنا