جنوبی ایشیا میں ایک اور جنگ کا خطرہ

جنوبی ایشیا میں جنگی جُنون کا جادو سَر چڑھ کر بول رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان زیادہ سے زیادہ عسکری قوت کا حامل ہونے کی دوڑ سی شروع ہوچکی ہے۔ بھارت کی مودی سرکار انتہا پسند ہونے کے باعث اپنے عوام کو بہلا پُھسلانے اور معیشت کی خراب کارکردگی پر پردے ڈالنے سے زیادہ کچھ بھی نہیں کر پائی ہے۔ اپریل اور مئی کے دوران ہونے والی چند روزہ لڑائی نے بہت سے تجزیہ کاروں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ ایسا تو ہونا ہی تھا کیونکہ پاکستان نے جو کچھ بھی کیا، وہ واقعی ایسا تھا جس کی کسی کو توقع نہ ہوگی۔ پاک فضائیہ کا حجم بھی چھوٹا ہے اور مالیاتی وسائل بھی محدود۔ بھارتی فضائیہ کا حجم بہت زیادہ ہے۔ اُس کے پاس وسائل کی کمی ہے نہ ساز و سامان کی۔ ایسے میں پاک فضائیہ کی شاندار کارکردگی پر ایک دنیا کو حیرت میں مبتلا ہونا ہی تھا۔

اپریل کے اواخر اور مئی کے اوائل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جو محاذ آرائی اور معرکہ آرائی رونما ہوئی، اُس نے دفاعی امور کے بہت سے تجزیہ کاروں کو حیرت سے دوچار کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی باضابطہ امن معاہدہ رو بہ عمل نہیں اور ایسا بھی نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بالکل پُرامن رہے ہیں۔ ماضی میں یہ کئی جنگیں لڑچکے ہیں تاہم حالیہ دو ڈھائی عشروں کے دوران دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان کوئی باضابطہ جنگ نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان حال ہی میں جو فضائی معرکہ آرائی ہوئی ہے، وہ ۱۹۷۱ء کی جنگ کے بعد سے اب تک دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان پہلا باضابطہ مناقشہ کہلایا جاسکتا ہے۔ یہ رائے بہت سے نامور علاقائی اور عالمی تجزیہ کاروں کی ہے۔ سرحدوں پر کشیدگی کے دوران فائرنگ کے واقعات اور پھر گولا باری نے خطرناک شکل اختیار کی جس کے نتیجے میںجنگ کی فضا تیار ہوئی اور دونوں ملک آمنے سامنے آگئے۔ مخاصمت اِتنی بڑھی کہ دونوں ممالک روایتی فضائی قوت کے ساتھ ساتھ میزائل، ڈرون اور دیگر ساز و سامان کے ساتھ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر تُل گئے۔

چار روزہ فضائی معرکہ آرائی کے بعد دونوں حکومتوں نے اپنی اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی فضائی قوت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ یقینی بنانے کی بھرپور کوششیں شروع کردی ہیں۔ دونوں کے لیے ایسا کرنا لازم ہوگیا ہے کیونکہ مختلف ذرائع سے جدید ترین ٹیکنالوجی مل رہی ہیں اور مجموعی فضا ایسی بن گئی ہے کہ کوئی بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جو معرکہ آرائی ہوئی، اُس کے عمومی تجزیے سے بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ دونوں ملکوں نے طاقت آزمانے کا جو فیصلہ کیا، وہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ اب معاملات مزید مخاصمت اور کشیدگی کی طرف جارہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کی صورتحال مجموعی طور پر ڈانواڈول ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان طاقت آزمائی کا نیا مرحلہ کسی بھی وقت شروع ہوسکتا ہے۔

حالیہ معرکہ آرائی میں دونوں ملکوں نے فتح کا دعویٰ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو کچھ بھی اِس وقت دکھائی دے رہا ہے، اُس کی بنیاد پر بلاخوفِ تردید کہا جاسکتا ہے کہ معاملات سلجھنے کی طرف جانے کے بجائے مزید اُلجھ گئے ہیں۔ اِس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ دونوں ممالک اپنے اپنے بڑے پارٹنرز کی مدد سے آپریشنل قوت میں اضافے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جدید ترین دفاعی نظام حاصل کیے جارہے ہیں، زیادہ سے زیادہ میزائل جمع کرنے کی کوشش ہورہی ہے، ڈرون پر بھی خاص توجہ دی جارہی ہے۔ زور صرف دفاعی قوت بڑھانے پر نہیں بلکہ جنگی صلاحیت پر بھی ہے۔ پاکستان اور بھارت اپنے اسلحہ خانے کو زیادہ سے زیادہ جدید بنانا چاہتے ہیں، تربیت پر بھی خاص توجہ دی جارہی ہے۔ اِس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں غیرمعمولی بحرانی کیفیت ابھرتی محسوس ہو رہی ہے۔ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی نیت پر شبہ ہے۔ بدگمانی کی اِس فضا میں صرف ایک بات پر سب کی توجہ ہے۔۔۔ یہ کہ کسی نہ کسی طور زیادہ سے زیادہ عسکری قوت کا حصول ممکن بنایا جائے۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ۲۶ ہندو سیاحوں کے بہیمانہ قتل کو بنیاد بناکر پاکستان کے خلاف محاذ کھڑا کیا۔ پاکستان نے اس الزام کی تردید کی کہ اِس قتلِ عام میں اُس کا یا اُس کے حمایت یافتہ کسی بھی گروپ کا ہاتھ ہے۔ مودی سرکار نے پاکستان کی طرف سے جاری کی جانے والی باضابطہ وضاحتوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے میڈیا کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا یعنی پاکستان کے خلاف زہر اُگلنے کا ٹاسک دے دیا۔

بھارتی میڈیا کا رویہ انتہائی غیرپیشہ ورانہ اور غیرذمہ دارانہ رہا، جس کے نتیجے میں خطے میں جنگ کا ماحول پیدا ہوگیا۔ دوسری طرف پاکستانی فوج نے صورتحال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے انتہائی ذمہ دارانہ طرزِ فکر و عمل کا مظاہرہ کیا اور ایسی کوئی بات نہیں کہی جس سے صورتحال مزید خراب ہو یا معاملہ زور آزمائی کی طرف جائے۔

مودی سرکار کی ایما پر بھارتی میڈیا نے جو جنگی ماحول پیدا کیا تھا، اُس کے شدید دباؤ کے تحت بھارتی فوج نے پاکستان میں متعدد غیرعسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اِن حملوں میں متعدد شہادتیں بھی واقع ہوئیں۔ بعد میں شہری علاقوں میں واقع چند عسکری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اِس کے جواب میں پاکستانی فوج کو بھی بھارتی فوج کے خلاف کارروائیاں کرنا پڑیں۔ سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاٹ کی سربراہ کانفرنس کے دوران بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے تسلیم کیا کہ پاکستان اس معرکہ آرائی میں بھارتی لڑاکا طیاروں کو مار گرانے میں کامیاب رہا۔ اُنہوں نے گرائے جانے والے طیاروں کی تعداد تو نہیں بتائی تاہم اِتنا ضرور کہا کہ جنگ میں نقصان بھی برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔ اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ پاک فضائیہ نے بھارت کے ۶ لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں جن میں فرانسیسی ساخت کے رافیل اور میراج طیارے بھی شامل ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف جو آپریشن شروع کیا، اُسے آپریشن سِندور کا نام دیا گیا۔ ابتدائی معرکہ آرائی میں دونوں ملکوں کے ۱۰۰؍ لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا۔ جنرل انیل چوہان کے مطابق پاکستان کے خلاف اس معرکہ آرائی میں بھارتی فضائیہ نے اہم سبق سیکھے ہیں، اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا خوب جائزہ لیا ہے اور ہر طرح کے سُقم دور کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔

جنرل انیل چوہان نے دعویٰ کیا کہ بھارت کے لڑاکا طیارے پاکستان کی فضائی حدود میں بہت آگے تک گئے اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ گولا بارود کے ذخائر کو بھی بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا۔ دوسری طرف پاکستان نے کہا کہ اُس نے جوابی کارروائیوں میں متعدد بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں۔ اِن میں رافیل طیارے کی تباہی کا بہت چرچا ہوا کیونکہ یہ فرانس کا جدید ترین لڑاکا طیارہ ہے۔ اِس کی تباہی نے فرانس کی عسکری ٹیکنالوجی کی ساکھ مجروح کردی۔ فرانسیسی حکام کو بھی اِس معاملے میں وضاحت کرنے کے لیے سامنے آنا پڑا۔ رافیل طیارے بنانے والے ادارے ڈیسالٹ نے کہا کہ طیارے میں بظاہر کوئی خرابی یا کمی نہ تھی، سوال یہ تھا کہ طیارے کو کس طور بروئے کار لایا گیا۔

پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے قطعیت کے ساتھ وار کرنے والی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ میزائل بھی گائڈڈ تھے یعنی اُنہیں اپنے اہداف کا علم تھا۔ پاکستان نے تین رافیل طیاروں سمیت بھارت کے متعدد لڑاکا طیاروں کی تباہی کا دعویٰ کیا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ اُس نے بھارت کے خلاف لڑائی میں چین کی جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی بخوبی استعمال کی ہے۔ اِسی دوران پاکستان نے چین سے ۴۰ جدید ترین J-35A (ففتھ جنریشن، اسٹیلتھ) لڑاکا طیارے حاصل کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ فضائی معرکہ آرائی میں پاکستانی دفاعی نظام کی چند ایک کمزوریاں بھی کھل کر سامنے آئیں۔ چند بھارتی میزائلوں کو جھپٹنے میں کامیاب ہونے کے باوجود پاکستانی فوج اپنی بعض اہم تنصیبات کو بھارتی حملوں سے مکمل محفوظ رکھنے میں ناکام رہی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے متواتر حملوں کے سامنے پاکستان کی ہدف پذیری بہت حد تک نمایاں رہی۔ فضائی حملوں سے مؤثر دفاع یقینی بنانے کے لیے پاکستان اب چین سے جدید ترین میزائل ڈیفنس سٹم HQ-19 حاصل کرنے کی بات کر رہا ہے۔ یہ میزائل ڈیفنس سسٹم چین J-35A طیاروں کے ساتھ ساتھ تعینات کیا جائے گا۔ یہ جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم دور مار میزائلوں کے ساتھ ساتھ بھارت کے سپر سونک براہموس اور SCALP-EG میزائل جھپٹنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی میزائل ڈیفنس سسٹم اگنی سیریز کے تمام میزائل بھی روک کر گراسکتا ہے۔ حالیہ فضائی معرکہ آرائی میں بھارت اور روس کے اشتراکِ عمل سے تیار کردہ براہموس میزائل کی کارکردگی بہت اچھی رہی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اِن میزائلوں کی مدد سے بھارتی فضائیہ پاکستان میں بہت سے اہداف حاصل کرنے میں بہت حد تک کامیاب رہی۔

اس فضائی معرکہ آرائی کے بعد بھارت اور روس کے درمیان روسی ساخت کے جدید ترین S-400 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم کی فراہمی اور SU-30 لڑاکا طیاروں کو مزید جدت سے ہمکنار کرنے پر بات چیت ہوئی ہے۔ روسی خبر رساں ادارے تاس کی رپورٹ کے مطابق دونوں کے درمیان دوسرے بہت سے جدید ترین دفاعی ساز و سامان فراہم کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت آگے بڑھی ہے۔ یہ معلومات چین کے شہر کنگڈاؤ میں بھارتی وزیرِدفاع راج ناتھ سنگھ اور اُن کے روسی ہم منصب آندرے بیلوسوف کے درمیان بات چیت کے حوالے سے بھارتی فوج کے ذرائع نے فراہم کی ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ معرکہ آرائی نے ایک طرف چین کی ٹیکنالوجی کو بہت بہتر پیش کیا اور دوسری طرف مغربی ٹیکنالوجی کے نام پر دھبا لگادیا۔ امریکا اور یورپ اب تک پوری دنیا کو اِس تاثر کے سائے میں رکھتے آئے ہیں کہ ہر معاملے میں صرف اُن کی ٹیکنالوجی ہی برتر ہے اور اِس کا کوئی توڑ ممکن نہیں مگر اب پاکستان نے بھارت کو نیچا دکھاکر ثابت کردیا کہ یورپ کی ٹیکنالوجی اس قابل نہیں کہ اُس پر ہر حال میں بھروسا کیا جائے۔

چین نے دو ڈھائی عشروں کے دوران دن رات ایک کرکے خود کو ٹیکنالوجی کے میدان میں خوب منوایا ہے۔ یہ سمجھا جارہا تھا کہ چین کو صرف کاروبار کرنا آتا ہے اور وہ عسکری محاذ آرائی سے گریز ہی کرتا رہے گا، مگر اب ثابت ہوچکا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ چین بھی اپنے آپ کو عسکری طور پر غیرمعمولی حد تک منوانے کے لیے بے تاب ہے اور اِس سلسلے میں اُس نے پاکستان کے ہاتھوں بھارت کو ناکوں چنے چبواکر ابتدا کر بھی دی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے دونوں کٹر حریف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ ہتھیار اور دیگر ساز و سامان حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں معاملات درست نہیں ہوئے بلکہ الجھنیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ پورا خطہ ایک اور شدید محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ اُن کے پاس بے داغ ٹیکنالوجی ہو اور وہ اپنے مدِمقابل کو پوری قطعیت کے ساتھ نشانہ بنانے کے قابل ہوسکیں۔ یہی سبب ہے کہ دونوں ہی زیادہ سے زیادہ جنگی ساز و سامان اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا حصول ممکن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان)

“South Asia: On the brink of a new conflict”. (“moderndiplomacy.eu”. July 1st, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں