گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز، کم از کم ۷ دیگر جنگی جہاز، درجنوں طیّارے اور تقریباً ۱۵؍ہزار امریکی فوجی شامل تھے، کو چھوٹی کشتیوں پر غیرقانونی حملوں کے لیے استعمال کرتے رہے، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ کر رہی ہیں۔ تاہم ہفتے کے روز صدر ٹرمپ نے اپنی مہم کو ڈرامائی طور پر وسعت دیتے ہوئے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا۔
یقینا بہت کم لوگ صدر مادورو کے لیے ہمدردی محسوس کریں گے، وہ ایک غیرجمہوری اور جابر حکمران ہیں اور حالیہ برسوں میں مغربی نصف کرّے میں عدم استحکام کا باعث بنے ہیں۔ اقوام متحدہ نے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی جس میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران مادورو کے حامیوں کی جانب سے سیاسی مخالفین کے خلاف قتل، تشدد، جنسی زیادتی اور جبری حراست جیسے سنگین جرائم کی تفصیلات بیان کی گئیں۔ انہوں نے ۲۰۲۴ء کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کی اور تقریباً ۸۰ لاکھ افراد کی بڑے پیمانے پر ہجرت کو ہوا دے کر پورے خطّے میں معاشی اور سیاسی بحران کو جنم دیا۔
اس کے باوجود اگر گزشتہ ایک صدی کی امریکی خارجہ پالیسی سے کوئی بنیادی سبق اخذ کیا جاسکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ انتہائی قابلِ نفرت حکومتوں کو بھی بزور طاقت گرانے کی کوشش اکثر معاملات کو مزید خراب کر دیتی ہے۔ امریکا افغانستان میں ۲۰ برس گزارنے کے باوجود ایک مستحکم حکومت قائم کرنے میں ناکام رہا۔ لیبیا میں ایک آمرانہ نظام کے خاتمے کے بعد ریاست بکھر کر رہ گئی۔ ۲۰۰۳ء میں عراق پر حملے کے تباہ کن اثرات آج بھی امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کو جھیلنے پڑ رہے ہیں۔ شاید سب سے زیادہ موزوں مثال یہ ہے کہ امریکا ماضی میں چلی، کیوبا، گوئٹے مالا اور نکاراگوا جیسے لاطینی امریکی ممالک میں بھی حکومتیں گرانے کی کوششوں کے ذریعے عدم استحکام پیدا کر چکا ہے۔
اس تاریخ کے باوجود صدر ٹرمپ نے وینزویلا میں ایک نیشن بلڈنگ منصوبے کے لیے امریکا کو عملاً پابند کر دیا ہے۔ ہفتے کے روز ایک نیوز کانفرنس میں انہوں نے کہا ’’ہم ملک کو اُس وقت تک چلائیں گے جب تک ایک محفوظ، مناسب اور دانشمندانہ انتقالِ اقتدار ممکن نہ ہو جائے۔‘‘ تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی واضح تفصیل فراہم نہیں کی۔ حتیٰ کہ وہ وینزویلا میں اپنی کارروائیوں کے لیے کوئی مربوط جواز بھی پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اگر صدر ٹرمپ کسی دوسرے ملک پر حملے اور اس کے کنٹرول کا مقدمہ پیش کرنا چاہتے ہیں تو امریکی آئین اس کا واضح طریقہ بتاتا ہے یعنی کانگریس سے رجوع کیا جائے، کانگریس کی منظوری کے بغیر ان کے اقدامات امریکی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے فوجی مہم جوئی کا ظاہری جواز ’’نارکو دہشت گردوں‘‘ کا خاتمہ بتایا جارہا ہے۔ تاریخ میں حکومتیں اکثر حریف ممالک کے رہنماؤں کو دہشت گرد قرار دے کر فوجی مداخلت کو پولیس کارروائی کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں۔ اس معاملے میں یہ دعویٰ خاص طور پر مضحکہ خیز ہے، کیونکہ وینزویلا نہ تو فینٹانائل جیسی منشیات کا بڑا پیداواری ملک ہے اور نہ ہی وہ دیگر منشیات وہاں بنتی ہیں۔ وینزویلا میں پیدا ہونے والی کوکین بھی زیادہ تر یورپ جاتی ہے۔ اس کے برعکس صدر ٹرمپ نے انہی دنوں ہونڈارس کے سابق صدر خوان اورلینڈو ہرنینڈز کو معاف کر دیا ہے جو ۲۰۱۴ء سے ۲۰۲۲ء تک ایک وسیع منشیات نیٹ ورک چلاتے رہے تھے۔
وینزویلا پر حملوں کی زیادہ قابلِ یقین وضاحت صدر ٹرمپ کی حال ہی میں جاری کردہ قومی سلامتی کی حکمت عملی میں ملتی ہے، جس میں لاطینی امریکا پر امریکی غلبے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق ’’کئی برسوں کی غفلت کے بعد امریکا مغربی نصف کرّے میں اپنی برتری بحال کرنے کے لیے منرو ڈاکٹرائن کو دوبارہ نافذ کرے گا۔‘‘ جسے ’’ٹرمپ کورولری‘‘ کہا گیا، اس کے تحت دنیا بھر سے فوجیں واپس لا کر خطّے میں تعینات کرنے، سمندروں میں اسمگلنگ روکنے، مہاجرین اور منشیات اسمگلروں کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال اور خطے میں مزید امریکی فوجی اڈّے قائم کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔
بظاہر وینزویلا اس نئے دَور کے سامراجی عزائم کا پہلا نشانہ بن گیا ہے، جو دنیا میں امریکا کے کردار کے لیے ایک خطرناک اور غیرقانونی راستہ ہے۔ بین الاقوامی قانونی جواز، قانونی اختیار یا اندرونی سیاسی تائید کے بغیر آگے بڑھ کر صدر ٹرمپ چین، روس اور دیگر آمرانہ حکومتوں کو اپنے ہمسایوں پر غلبہ حاصل کرنے کا جواز فراہم کر رہے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر وہ ۲۰۰۳ء میں عراق پر حملے جیسے امریکی تکبّر کو دہرانے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بطور صدارتی امیدوار صدر ٹرمپ کبھی فوجی مداخلت کے نقصانات کو تسلیم کرتے دکھائی دیتے تھے۔ ۲۰۱۶ء میں وہ اُن چند ریپبلکن سیاست دانوں میں شامل تھے جنہوں نے جارج ڈبلیو بش کی عراق جنگ کو کھلے عام غلطی قرار دیا۔ ۲۰۲۴ء میں انہوں نے کہا تھا ’’میں جنگ شروع نہیں کروں گا، میں جنگیں ختم کروں گا۔‘‘
اب وہ اس اصول کو ترک کر چکے ہیں اور وہ بھی غیرقانونی طور پر۔ امریکی آئین کے مطابق کسی بھی جنگی اقدام کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہے۔ اگرچہ ماضی میں صدور نے اس قانون کی پر بہت زیادہ عمل نہیں کیا لیکن پھر بھی جارج ڈبلیو بش تک نے عراق پر حملے کے لیے کانگریس سے اجازت حاصل کی تھی۔ ان کے بعد آنے والے صدور نے ڈرون حملوں کے لیے ۲۰۰۱ء کے اس قانون کا سہارا لیا جو ۱۱؍ستمبر کے حملوں کے بعد منظور کیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ کے پاس وینزویلا پر حملوں کے لیے ایسا کوئی قانونی سہارا بھی موجود نہیں۔
فوجی کارروائی پر کانگریس میں بحث جمہوریت میں ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ صدر کو مجبور کرتی ہے کہ وہ عوام کے سامنے اپنے منصوبوں کا دفاع کرے اور ارکین کانگریس کو بھی اپنی ساکھ ان فیصلوں سے جوڑنی پڑتی ہے۔ عراق جنگ کے حق میں ووٹ دینے والے ڈیموکریٹس، جن میں ہلیری کلنٹن اور جان کیری شامل تھے، کو برسوں تک اس کی سیاسی قیمت چکانا پڑی جبکہ برنی سینڈرز اور باراک اوباما جیسے مخالفین کو بعد ازاں دُوراندیش سمجھا گیا۔
وینزویلا کے معاملے میں کانگریس کی بحث صدر ٹرمپ کے جواز کی کمزوری کو بے نقاب کر دیتی۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ چھوٹی کشتیوں سے امریکا کو فوری خطرہ لاحق تھا، مگر متعدد قانونی اور فوجی ماہرین اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔ اگر منشیات اسمگلنگ ہو بھی رہی ہو تو یہ کسی حکومت کے تختہ الٹنے یا اس کی فوج کو شکست دینے کے مترادف نہیں۔
ہمیں شبہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس سے منظوری اس لیے نہیں لی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی اپنی جماعت کے کچھ ارکان بھی ان کی پالیسی پر سخت شکوک رکھتے ہیں۔ مادورو کی گرفتاری سے قبل ریپبلکن سینیٹرز رینڈ پال اور لیزا مرکوسکی اور ایوان نمائندگان کے رکن ڈون بیکن اور تھامس میسی ایسی قانون سازی کی حمایت کر چکے تھے جو صدر کے وینزویلا کے خلاف فوجی اختیارات کو محدود کرتی۔
صدر ٹرمپ کے حملوں کے خلاف دوسرا مضبوط نکتہ یہ ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ جن کشتیوں کو منشیات اسمگلنگ کے شبے میں نشانہ بنایا گیا، ان میں موجود افراد کو بغیر کسی عدالتی عمل کے قتل کر دیا گیا۔ ۱۹۴۹ء کے جنیوا کنونشنز اور اس کے بعد ہونے والے تمام بڑے انسانی حقوق کے معاہدے ایسے ماورائے عدالت قتل کی ممانعت کرتے ہیں اور امریکی قانون بھی یہی کہتا ہے۔
بظاہر امریکی انتظامیہ نے ایسے افراد کو ہلاک کیا جو اپنا دفاع نہیں کرسکتے تھے۔ ایک حملے میں بحریہ نے پہلی کارروائی کے تقریباً ۴۰ منٹ بعد ایک تباہ شدہ کشتی پر دوبارہ حملہ کیا جس میں دو ملاح مارے گئے جو ملبے سے چمٹے ہوئے تھے اور کوئی خطرہ ظاہر نہیں کر رہے تھے۔ ہمارے ساتھی اور سابق فوجی وکیل ڈیوڈ فرنچ کے بقول ’’جنگ اور قتل کے درمیان فرق قانون ہی پیدا کرتا ہے۔‘‘
اگرچہ قانونی دلائل سب سے اہم ہیں، مگر ایک حقیقت پسندانہ دلیل بھی موجود ہے۔ یہ اقدامات امریکا کے قومی مفاد میں نہیں۔ سب سے قریبی مثال ۳۶ سال قبل پاناما پر امریکی حملہ ہے، جس نے آمر مانوئل نوریگا کو ہٹا کر ملک کو جمہوریت کی راہ پر ڈالا۔ لیکن وینزویلا کئی حوالوں سے مختلف ہے۔ وہ ایک بڑا ملک ہے اور وہاں امریکا کی دہائیوں پر محیط موجودگی بھی نہیں رہی۔
وینزویلا میں افراتفری کا امکان کہیں زیادہ ہے۔ وہ جرنیل جنہوں نے مادورو کے نظام کو سہارا دیا، اچانک غائب نہیں ہوجائیں گے۔ نہ ہی وہ اقتدار ماریہ کورینا ماچادو کے حوالے کرنے کا امکان رکھتے ہیں جن کی تحریک نے حالیہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور جنہوں نے گزشتہ ماہ نوبیل امن انعام قبول کیا۔
ممکنہ منفی نتائج میں کولمبیا کی بائیں بازو کی مسلح تنظیم ELN کی جانب سے تشدد میں اضافہ، یا مادورو دَور میں سرگرم نیم فوجی گروہوں ’’کولیکتیو‘‘ کی بغاوت شامل ہو سکتی ہے۔ وینزویلا میں مزید بدامنی عالمی توانائی اور خوراک کی منڈیوں کو متاثر کرسکتی ہے اور پورے نصف کرّے میں مزید ہجرت کو جنم دے سکتی ہے۔
تو پھر امریکا کو وینزویلا کے مسئلے سے کیسے نمٹنا چاہیے؟ ہم وینزویلا کے شہریوں کی امیدوں کو سمجھتے ہیں، جن میں سے بعض مداخلت کے حامی ہیں لیکن کوئی آسان حل موجود نہیں۔ اب تک دنیا کو اقتدار کی تبدیلی کے خطرات کا ادراک ہو جانا چاہیے۔
ہم امید رکھتے ہیں کہ موجودہ بحران ہمارے خدشات سے کم نقصاندہ ثابت ہو، لیکن ہمیں اندیشہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی اس مہم جوئی کا نتیجہ وینزویلا کے عوام کے لیے مزید تکالیف، خطے میں بڑھتے عدم استحکام اور عالمی سطح پر امریکا کے مفادات کو طویل مدتی نقصان کی صورت میں نکلے گا اور سب سے بڑھ کر، یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ صدر ٹرمپ کی یہ جنگ پسندی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ (مترجم: ابنِ فاروق)
“Trump’s attack on Venezuela is illegal
and unwise.” (“NY Times”. Jan 3, 2026)