ٹرمپ کو ایران سے جنگ پر کس نے اُبھارا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کرنے کا فیصلہ ایک دہائی پر محیط اُس مہم کا نتیجہ تھا جس کا مقصد انہیں اس غیرمعمولی اقدام پر آمادہ کرنا تھا۔

ٹرمپ اپنی غیرمتوقع اور کاروباری طرز کی سیاست کے لیے جانے جاتے ہیں، انہوں نے اس فیصلے میں وائٹ ہاؤس کے اندر اور باہر موجود متعدد شخصیات پر انحصار کیا جو انہیں اس اقدام کے ممکنہ فائدے اور نقصانات، دونوں کے بارے میں مشورے دے رہی تھیں۔

ٹرمپ نے امریکی خارجہ پالیسی اور مشرق وسطیٰ کی سمت کو مستقل طور پر بدلنے کا فیصلہ کیسے کیا۔ یہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُن افراد کو سمجھا جائے جو ان پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

چار کلیدی مشیر

ٹرمپ نے ایران پر حملے کے بعد امریکی قوم سے خطاب میں اپنے ۳؍اہم مشیروں کو اپنے ساتھ کھڑا کیا، ان میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ (اور قائم مقام قومی سلامتی کے مشیر) مارکو روبیو شامل تھے۔ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اگرچہ ٹرمپ کے ساتھ نظر نہیں آئے لیکن وہ اب بھی ٹرمپ کے قریبی مشیروں میں شامل ہیں اور حملوں کے دوران سچویشن روم میں موجود تھے۔

ان تین افراد کو اپنے ساتھ کھڑا کرکے ٹرمپ نے ایران پر حملے کے فیصلے پر اپنی ٹیم کی مکمل حمایت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی، یہ اس لیے بھی اہم تھا کہ حالیہ مہینوں میں انہی تینوں رہنماؤں نے مبینہ طور پر ٹرمپ کو عسکری کارروائی کے بجائے سفارتی راستہ اپنانے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی تھیں۔

جے ڈی وینس، جو ٹرمپ کے حامیوں کے درمیان تیزی سے اُن کے ممکنہ جانشین کے طور پر اُبھرے ہیں، طویل عرصے سے امریکا کے ’نیشن بلڈنگ‘ منصوبوں کے ناقد رہے ہیں اور یہ مؤقف اُن کے عراق جنگ کے دوران فوجی تجربے سے متاثر ہے۔ انہوں نے ۲۰۲۳ء میں ٹرمپ کی حمایت کرتے ہوئے یہاں تک کہا تھا کہ ٹرمپ کی جنگیں نہ چھیڑنے کی پالیسی اُن کی حمایت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ۲۰۲۳ء کی انتخابی مہم کے دوران وینس نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تصادم تیسری عالمی جنگ کی سب سے زیادہ ممکنہ راہ ہے۔

گزشتہ کئی مہینوں کے دوران وینس اندرونی حلقے میں اُن لوگوں کی قیادت کرتے رہے ہیں، جو ٹرمپ کو ایران کے ساتھ سفارتی حل کی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم حالیہ دنوں میں وینس نے واضح کر دیا کہ وہ ٹرمپ کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑے ہوں گے، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ اُن کے قریبی معاون اینڈی بیکر ایران پر حملوں کے وقت سچویشن روم میں موجود تھے۔

پیٹ ہیگسیتھ بھی ایک غیرمعمولی صورتحال سے دوچار تھے۔ وہ ایک جانب اسرائیلی حکومت کے مضبوط حامی رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طویل امریکی جنگ شروع کرنے کے حوالے سے شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔ ہیگسیتھ کی وزارتِ دفاع میں مدت کئی اندرونی خلفشار سے عبارت رہی ہے، جن میں ایسے مشیروں کی تقرری بھی شامل ہے جو امریکا۔اسرائیل تعلقات اور ممکنہ جنگ پر واضح تحفظات رکھتے تھے۔ ان میں سے کئی مشیر بعد ازاں مبینہ طور پر معلومات لیک کرنے اور دائیں بازو کے پوڈکاسٹ پر جنگ کے ممکنہ منفی اثرات پر خبردار کرنے کی وجہ سے برطرف کر دیے گئے۔

اگرچہ ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ہیگسیتھ سے ایران کے معاملے پر کوئی بات نہیں کر رہا، لیکن اس کے باوجود ٹرمپ نے واضح طور پر انہیں حملوں کی قیادت کی ذمہ داری سونپ دی۔

مارکو روبیو نے بھی اپنی سخت گیر خارجہ پالیسی اور بیانیے کو ٹرمپ کے مؤقف سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تبدیل کیا ہے۔ وہ طویل عرصے تک ریپبلکن پارٹی میں ایران کے خلاف سخت مؤقف رکھنے والی اہم آواز سمجھے جاتے رہے، مگر اب وہ اندرونی سطح پر خود کو مکمل طور پر ٹرمپ کی مرضی کے تابع کرچکے ہیں۔

جب سے روبیو نے ایران مخالف مائیکل والٹز کی جگہ قومی سلامتی کے مشیر کا منصب سنبھالا ہے، مشرق وسطیٰ سے متعلق ذمہ دار کئی افراد کو فوری طور پر برطرف کیا جاچکا ہے۔

اگرچہ مارکو روبیو تکنیکی طور پر امریکا کے سب سے اعلیٰ سطح کے سفارت کار ہیں، لیکن اسٹیو وٹکوف بلاشبہ اس انتظامیہ میں خارجہ پالیسی پر سب سے زیادہ مؤثر آواز سمجھے جاتے ہیں۔ جے ڈی وینس کے ساتھ مل کر وٹکوف سفارتی حل کے سب سے بھرپور حمایتی رہے، یہاں تک کہ سفارتی حل کے لیے اُن کی آخری کوششیں درحقیقت امریکی فوجی منصوبہ بندی کو چھپانے کا ذریعہ بن گئیں۔

غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں سے متعلق سفارت کاری کی طرح وٹکوف نے تہران کے ساتھ پانچ نشستوں پر مبنی مذاکرات کے باعث اسرائیل نواز سخت گیر حلقوں میں کئی دشمن بنا لیے، خاص طور پر اُس وقت جب وہ یورینیم کی محدود افزودگی کے مسئلے پر کوئی تخلیقی حل تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ جنگ کے دوران اُن کا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے براہ راست رابطہ قائم رہا اور اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے انہیں ایک آخری سفارتی کوشش کے طور پر ترکی بھی بھیجا جانے والا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی سربراہ

۲۰۲۰ء کے انتخابی شکست کے بعد جب ٹرمپ نے دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تو اُن کے قریبی مشیروں کی فہرست میں سب سے نمایاں نام چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کا تھا جو ایران پر حملوں کے دوران سچویشن روم میں موجود تھیں۔

وائلز جو اس سے قبل ٹرمپ کی ۲۰۲۴ء کی انتخابی مہم کی منیجر بھی رہ چکی ہیں، نے ۶ جنوری کی بغاوت کے بعد ٹرمپ کی ماند پڑتی ہوئی سیاسی امیدوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی مہم کی قیادت کی اور انہیں فیصلہ کن کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اس کامیابی نے انہیں ٹرمپ کا غیرمعمولی اعتماد اور اُن کے سیاسی حامیوں کی نبض پر گہری گرفت دی۔ وائلز نے موجودہ وائٹ ہاؤس کو سابقہ ادوار کے برعکس ایک سخت نظم و ضبط کا حامل ادارہ بنایا ہے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ ایران پر حملوں کے حوالے سے کوئی خبر میڈیا میں لیک نہیں ہوئی۔

فوجی و انٹیلی جنس برادری

اگرچہ عوامی سطح پر ٹرمپ کے ساتھ نظر آنے والے حکام کو سب سے زیادہ توجہ ملی ہے لیکن ٹرمپ نے درحقیقت اپنے اعلیٰ فوجی اور انٹیلی جنس مشیروں کی آرا کو بہت اہمیت دی، اس وقت بھی جب وہ ایران کے جوہری عزائم سے متعلق بعض رپورٹوں کو رد بھی کرتے رہے۔

ان مشیروں میں سب سے نمایاں نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گیبرڈ ہیں جو کہ سابق ڈیموکریٹ اور اب ٹرمپ کی ’میگا‘ (MAGA) تحریک کی پسندیدہ شخصیت بن چکی ہیں۔ گیبرڈ نے برسوں سے ایران کے معاملے پر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ۲۰۱۹ء میں ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ٹرمپ ’ایران کے خلاف جنگ کے لیے پُرعزم نظر آتے ہیں، حالانکہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران حکومتیں تبدیل کرنے والی جنگوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا‘۔ تلسی گیبرڈ نے ۲۰۲۰ء میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ٹرمپ پر امریکی آئین کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

گیبرڈ نے اس سال کے اوائل میں اپنے بیان میں کہا کہ ’امریکی انٹیلی جنس کا تاحال یہی اندازہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ۲۰۰۳ء میں جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو معطل کرنے کے بعد اب تک اسے بحال کرنے کی اجازت نہیں دی۔

گیبرڈ کی یہ گواہی اور امریکی انٹیلی جنس کی وہ مسلسل رپورٹس جو اسرائیل کے دعوؤں سے متصادم تھیں، ان کوششوں کے طور پر دیکھی گئی ہیں جن کا مقصد ٹرمپ اور اُن کے حامیوں کو ایران پر حملے سے باز رکھنا تھا۔ تاہم حالیہ دنوں میں ٹرمپ نے گیبرڈ کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے ان کی باتوں کی پروا نہیں‘ اور ’وہ غلط ہے‘۔ اس کشیدگی کے باوجود، گیبرڈ حملوں کے وقت سچویشن روم میں موجود تھیں تاہم وہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ سرکاری تصاویر میں نمایاں طور پر غائب تھیں۔

سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں تلسی گیبرڈ کی جگہ نیشنل انٹیلی جنس کے سربراہ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، حالیہ دنوں میں ان کی رپورٹوں کو گیبرڈ کے مؤقف کو رد کرنے کے لیے نمایاں طور پر پیش کیا گیا۔ ریٹکلف طویل عرصے سے ایران کے جوہری عزائم اور اس کے مخاصمانہ رویّے کے حوالے سے خبردار کرتے آئے ہیں۔

جوبائیڈن کے دورِ صدارت میں ریٹکلف نے اسرائیل کی ٹرمپ طرز کی ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی مہم کو بھرپور سراہا جس کا مقصد ایران کے پراکسی نیٹ ورک کو کمزور کرنا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے بائیڈن پر تنقید کی کہ وہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں۔

ریٹکلف ان اولین افراد میں شامل تھے جنہوں نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرسکتا ہے، چاہے ٹرمپ اس میں شریک ہوں یا نہ ہوں، جس سے ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی تھی۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق ریٹکلف نے کہا تھا کہ ’یہ کہنا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب نہیں، ایسا ہی ہے جیسے یہ کہنا کہ فٹبال کے کھلاڑی جو ایک یارڈ کی دوری تک پہنچ چکے ہیں، وہ گول کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے‘۔

ٹرمپ نے حملوں سے قبل کئی ہفتوں کے دوران دو اعلیٰ امریکی جنرلز کی آرا کو بھی خاص اہمیت دی، ان میں سینٹکام (CENTCOM) کے کمانڈر جنرل مائیکل ایرک کریلا، جو مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کے سربراہ ہیں، اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین، جو امریکا کے سب سے اعلیٰ فوجی افسر سمجھے جاتے ہیں، شامل ہیں۔

کریلا کو اپنی مدتِ قیادت کے دوران اسرائیل کا سب سے مضبوط فوجی حلیف تصور کیا جاتا رہا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ ۲۰۲۴ء میں ایران کے دو مختلف میزائل حملوں سے اسرائیل کے دفاع کے لیے علاقائی نیٹ ورک منظم کرنے میں ان کا کردار ہے۔ کئی مہینوں سے کریلا ٹرمپ کو فوجی آپشنز پیش کررہے تھے، جو اسرائیلی حکام سے مشاورت کے بعد ترتیب دیے گئے تھے۔ ان میں محدود امریکی مدد سے لے کر امریکی قیادت میں مکمل بمباری کی مہمات تک کے منصوبے شامل تھے۔ چونکہ وہ اگلے ماہ ریٹائر ہونے والے ہیں، اس لیے اسرائیلی حکام اور امریکی سخت گیر حلقوں دونوں کو اس مہم کی تکمیل میں ایک خاص عجلت محسوس ہوئی تاکہ یہ کارروائیاں کریلا کی نگرانی میں مکمل کی جاسکیں۔

ٹرمپ جنرل کین کو پسند کرتے ہیں۔ ٹرمپ کو خاص طور پر جنرل کین کی اُس حمایت کا حوالہ دینا پسند ہے جو انہوں نے ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں مشرق وسطیٰ میں داعش کے خلاف جارحانہ مہم کے لیے دی تھی اور جس میں کین نے زیادہ طاقت اور کم وقت کی سفارش کی تھی۔ ٹرمپ نے حملوں کے اعلان کے دوران جنرل کین کو نام لے کر سراہا۔

فاکس نیوز کے میزبان

ٹرمپ کو جنگ کی جانب دھکیلنے والی دو انتہائی بااثر آوازیں دراصل امریکی حکومت کا حصہ نہیں ہیں بلکہ انہوں نے فاکس نیوز کے اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے براہِ راست صدر کو مخاطب کیا اور نجی سطح پر بھی انہیں مشورے دیے۔

مارک لیون، جو خود کو ’دی گریٹ ون‘ کہتے ہیں، طویل عرصے سے اسرائیل نواز دائیں بازو کے حلقے میں ٹرمپ اور میڈیا کے درمیان پُل سمجھے جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف اسٹیو وٹکوف کی سفارتی کوششوں کے ناقد رہے ہیں بلکہ تنہائی پسند نظریات رکھنے والی دیگر میڈیا شخصیات پر بھی تنقید کرتے آئے ہیں۔ لیون کی جنگ کی باتوں نے بلاشبہ ٹرمپ کے فیصلے پر اثر ڈالا۔ درحقیقت دی نیویارک ٹائمز کے مطابق، ٹرمپ کے دل میں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی امید ختم ہونے کا فیصلہ ایک نجی لنچ کے بعد ہوا جو رواں ماہ وائٹ ہاؤس میں لیون کے ساتھ ہوا تھا۔

فاکس نیوز کے نمایاں چہرے اور ٹرمپ نواز میڈیا کے علمبردار، شان ہینٹی، بھی بلاشبہ ٹرمپ کے پسندیدہ میزبان ہیں۔ انہوں نے بارہا اپنے شو پر ٹرمپ سے کھل کر ایران میں مداخلت کی اپیل کی، یہاں تک کہ فردو کے جوہری مرکز کو تباہ کرنے کا کھلا مطالبہ بھی کیا۔

ہینٹی نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے حوالے سے ٹرمپ کے ’مستحکم، پُراعتماد اور مستقل‘ مؤقف کی بھی بھرپور تعریف کی۔ وہ فردو، نطنز اور اصفہان پر کیے گئے حملوں کی تفصیلات نشر کرنے والے پہلے شخص تھے۔ انہوں نے حملے کے چند ہی لمحوں بعد ٹرمپ کے ساتھ اپنی نجی گفتگو کے مندرجات اپنے شو میں بیان کیے۔

ارب پتی شخصیات

فاکس نیوز کی جنگ کی حمایت اس کے مالک روپَرٹ مرڈوک کے مؤقف سے مطابقت رکھتی ہے، جن کا میڈیا امپائر، خصوصاً نیویارک پوسٹ، ہر سطح پر ایران کے خلاف جنگ کی وکالت کر رہا ہے۔ مرڈوک نے خود بھی ٹرمپ سے ایران پر حملے کے ممکنہ فوائد کے حوالے سے براہِ راست بات کی، جبکہ ان کے اداروں نے اسٹیو وٹکوف کو ایک قطری ایجنٹ کے طور پر پیش کیا اور اُن کی سفارتی کوششوں پر کھلم کھلا تنقید کی۔

مرڈوک واحد ارب پتی نہیں ہیں جو ٹرمپ کی پالیسی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے رہے۔ سابق مارول انٹرٹینمنٹ ایگزیکٹیو اور ریپبلکن پارٹی کے بڑے ڈونر آئیک پرلمٹر بھی ٹرمپ اور مارک لیون کی ملاقات میں شریک تھے۔ پرلمٹر، جو مینڈیٹری فلسطین (Mandatory Palestine) میں پیدا ہوئے اور ۱۹۶۷ء کی ۶ روزہ جنگ میں اسرائیلی فوج کا حصہ رہے، ایک عرصے سے پسِ پردہ رہ کر کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسٹیو وٹکوف سے ذاتی دوستی کے باوجود پرلمٹر نے بارہا ٹرمپ پر ایران پر حملے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔

پرلمٹر ان چند بڑے ڈونر میں سے ایک ہیں جو عرصے سے امریکا کی جانب سے اسرائیل کے ایران پر حملے کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ ان میں میریم ایڈلسن بھی شامل ہیں جنہوں نے ٹرمپ کی صدارتی مہم کے لیے ۱۰؍کروڑ ڈالر سے زیادہ عطیہ دیا۔ ٹرمپ کئی بار میریم اور اُن کے مرحوم شوہر شیلڈن ایڈلسن کو اسرائیل سے متعلق اپنے کئی سخت گیر فیصلوں کی بنیادی وجہ قرار دے چکے ہیں۔

شیلڈن، جو ۲۰۲۱ء میں اپنی وفات سے قبل ٹرمپ کے سب سے اہم اور طاقتور ڈونر تھے، اپنے آخری برسوں میں امریکا۔ایران سفارت کاری کے سخت مخالف بن گئے تھے۔ انہوں نے یہاں تک مطالبہ کیا تھا کہ امریکا ایران پر طاقت کے اظہار اور تہران کو دھمکانے کے لیے جوہری ہتھیار استعمال کرے۔

ایونجیلیکل مسیحی حلقہ

اگرچہ ٹرمپ کے بہت سے بڑے ڈونر اور حامیوں نے ایران پر امریکی حملے کی حمایت جیو پولیٹیکل خدشات کے تناظر میں کی ہے لیکن ایونجیلیکل عیسائی برادری میں اُن کے بعض اہم اتحادیوں نے اسے وجودی نوعیت کا مسئلہ قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی کا ایک تعریفی پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ ہکابی کے مذہبی ایونجیلیکل نظریات ہمیشہ اُن کی پالیسیوں کا مرکز رہے ہیں، خصوصاً اسرائیل فلسطین تنازع اور مغربی کنارے کے الحاق کے معاملے پر اور اب ایران پر ممکنہ حملے کے حوالے سے بھی۔ ہکابی نے امریکا کے سابق صدر ہیری ایس ٹرومین کی جانب سے جاپان پر ایٹم بم گرانے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کو لکھا کہ ’آپ نے یہ لمحہ تلاش نہیں کیا، یہ لمحہ خود آپ تک پہنچ گیا ہے‘۔ ہکابی نے مزید کہا کہ ’میرا ایمان ہے کہ آپ آسمان سے آنے والی آواز سنیں گے اور وہ آواز میری یا کسی اور کی آواز سے کہیں زیادہ اہم ہوگی‘۔ ہکابی کی جانب سے اس معاملے کو مذہبی عقیدے کے تناظر میں پیش کرنے کا انداز ایونجیلیکل مسیحی برادری کے کئی حصوں میں گونجتا رہا ہے۔

فرینکلن گراہم جو مشہور مبلغ بلی گراہم کے بیٹے ہیں، ٹرمپ کے لیے اس مذہبی برادری میں سب سے اہم رابطہ سمجھے جاتے ہیں جو ٹرمپ کی انتخابی بنیاد اور سیاسی اتحاد میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ حالیہ دورۂ اسرائیل کے دوران جب وہ حوثی میزائل حملوں کے دوران پناہ لینے پر مجبور ہوئے تو گراہم نے کہا کہ ’ذرا تصور کریں اگر ہمیں امریکا میں ایسے حالات جھیلنے پڑیں۔ اسرائیل اپنے دفاع پر مجبور ہوچکا ہے اور اسے ہماری دعاؤں کی ضرورت ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا ’میری دعا ہے کہ خدا ایران میں کلیساؤں اور مسیحیوں کی حفاظت کرے اور اسرائیل کے یہودی عوام کی بھی حفاظت کرے جو خدا کی چنی ہوئی قوم ہے۔ میری دعا ہے کہ ان ممالک میں بسنے والے سب لوگوں کی آنکھیں خدا کے کلام کی سچائی کے لیے کھل جائیں‘۔

’میگا‘ کے ناقدین

اگرچہ ٹرمپ عام طور پر اپنے ناقدین کی تنقید سے توانائی حاصل کرتے ہیں، لیکن وہ اس بات کے عادی نہیں کہ اُن کی اپنی حمایت یافتہ سیاسی تحریک کے اندر سے ان کے خلاف آوازیں بلند ہوں، بالخصوص اُن لوگوں کی جانب سے جنہوں نے اُنہیں موجودہ مقام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ٹکر کارلسن فاکس نیوز کے سابق میزبان ہیں اور اب اپنا ایک بااثر میڈیا ایمپائر چلا رہے ہیں، وہ بلاشبہ ایران جنگ کے معاملے میں ٹرمپ کے سب سے نمایاں نقاد بن کر سامنے آئے ہیں، یہاں تک کہ وہ ڈیموکریٹ قیادت سے زیادہ مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ کارلسن نے نہ صرف ٹرمپ بلکہ ان تمام شخصیات پر بھی تنقید کی ہے جو ٹرمپ کو جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں اور اپنے تمام پلیٹ فارمز پر جنگ میں امریکی مداخلت، اسرائیلی حکومت اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

کارلسن کے ساتھ اس تنقید میں اسٹیو بینن بھی شامل ہو گئے ہیں جو ٹرمپ کے سابق کمپین منیجر اور اہم مشیر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے مسئلے پر میگا (میک امریکا گریٹ اگین) بیس کی تقسیم، اس تحریک کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ بینن نے حال ہی میں ٹرمپ سے نجی ملاقات کی تاکہ اپنا مؤقف پیش کرسکیں اگرچہ بعد میں انہوں نے کہا کہ میگا بیس آخرکار ٹرمپ کے ساتھ کھڑی ہوجائے گی، چاہے وہ جو بھی فیصلہ کریں۔

کارلسن کی طرح بینن نے بھی اپنی تنقید کا رخ نیتن یاہو کی طرف موڑ لیا، انہوں نے نیتن یاہو کو کہا ’تم کون ہوتے ہو امریکی عوام کو لیکچر دینے والے؟ امریکی قوم یہ ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ کام ختم کرو، تمہارے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے، اب وقت ہے کہ تم خود کام ختم کرو۔ بار بار ہمیں مت پکارو کہ ہم آکر یہ کام مکمل کریں‘۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہینٹی کی طرح بینن کو بھی مبینہ طور پر حملے کی پیشگی معلومات حاصل تھیں اور انہوں نے حملوں سے کئی گھنٹے قبل ان کی پیش گوئی کردی تھی۔

کانگریس کی رکن مارجوری ٹیلر گرین جو پہلے ٹرمپ کی سب سے نمایاں حمایتیوں میں شمار ہوتی تھیں، اب اُن کے سخت ترین ناقدین میں شامل ہوگئی ہیں۔ گرین نے سوشل میڈیا پر ایران جنگ کی حمایت کرنے والوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ وہ کارلسن کی ٹرمپ کے خلاف لڑائی میں اُن کا ساتھ دے رہی ہیں۔ انہوں نے پوسٹ کیا کہ جو کوئی بھی اسرائیل؍ایران جنگ میں امریکا کو مکمل طور پر جھونکنے کا خواہشمند ہے، وہ ’امریکا فرسٹ‘ یا ’میگا‘ کا حامی نہیں۔ انہوں نے حملے کے بعد اسرائیلی حکومت پر بھی اپنی تنقید جاری رکھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں میگا تحریک کے اندر مزید اختلافات اُبھریں گے۔          (مترجم: ابنِ فاروق)

“Who pushed Trump toward war with Iran? A deep dive into his inner circle”.

(“haaretz.com”. June 22, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں