سوال صرف یہ نہیں ہے کہ یوکرین پر لشکر کشی کرکے روس نے یورپ کے لیے مسائل کھڑے کیے۔ یورپ ایک طویل مدت سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ عالمی سیاست میں جو بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اُنہیں سمجھنے سے یورپ بہت حد تک قاصر رہا ہے۔ پورے برِاعظم میں مختلف سطحوں پر شدید […]
رُوس نے ڈھائی سَو سال میں کئی بار پولینڈ پر حملے کیے ہیں اور بیشتر مواقع پر منہ کی کھائی ہے۔ استعماری دَور ہو یا اشتراکی، روس نے پولینڈ کے حصّے بَخرے کرنے میں کوئی کَسر اُٹھا نہیں رکھی ہے۔ اِن ڈھائی صدیوں کے دوران پولینڈ تین حصّوں میں تقسیم ہوا ہے اور پولینڈ کا […]
امریکی ریاست الاسکا میں امریکا اور روس کے صدور کی حالیہ ملاقات کے بعد سے روسی پروپیگنڈا بازوں نے ایک بار پھر زور و شور سے امریکا کے بارے میں وارم اَپ شروع کردیا ہے۔ خیر، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ روس ایک بار پر مغرب یا یورپ کی طرف زیادہ جھکنا چاہتا ہے اور […]
سو سال قبل جرمنی کے فرماں روا نے ملک کو ایک بلا جواز جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا تھا۔ یہ عمل اُس کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوا تھا کیونکہ پورا ملک اُس کی حماقت کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا تھا اور یوں جرمنی میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔ روس […]
’ٹینک تو اچھے ہیں یورپ، لیکن انہیں چلائے گا کون؟‘‘ یہی وہ طعنے ہیں جو یورپ کے جرنیلوں کو سننے پڑسکتے ہیں، خاص طور پر جب ۲۴ اور ۲۵ جون کو دی ہیگ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں دفاعی اخراجات میں بڑے اضافے کا اعلان متوقع ہے۔ اگر یورپی حکومتیں یوکرین میں کسی […]
۱۹۱۴ء کے برعکس، یورپ آج حادثاتی طور پر جنگ کی جانب نہیں جارہا ہے۔ وہ پورے ہوش و حواس میں ایسی جنگ کی تیاری کررہا ہے جو اسے پُرکشش لگ رہی ہے جبکہ اس میں یورپ کی توجہ کا محور روس اور یوکرین کی دشمنی ہے جہاں یوکرین نے حال ہی میں اپنے دشمن کی […]
امریکا کے سابق وزیرِ خارجہ ہنری کسنجر نے کبھی کہا تھا کہ امریکا کا دشمن ہونا خطرناک ہے مگر اِس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے امریکا کا دوست ہونا۔ یہ بات جتنی متعلق آج معلوم ہوتی ہے اُتنی پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ امریکا عالمی سیاست و معیشت میں اپنے قائدانہ کردار کو برقرار […]