صرف ’ہرمز‘ عالمی تجارت کا نازک مقام نہیں!

وکٹورین عہد کے ایڈمرل سرجیکی فشر نے کہا تھا کہ پانچ اسٹریٹجک چابیاں ایسی ہیں جو دنیا کو مقفل کردیتی ہیں۔ اُن کا اشارہ اُن نازک اور حساس مقامات کی طرف تھا جو بڑی کاروباری بحری راہداریوں کی طرف تھا۔ اِن میں سنگاپور، کیپ ٹائون، الیگزینڈریا، جبرالٹر اور ڈوور شامل تھے۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو اس فہرست میں آبنائے ہرمز کو بھی ضرور شامل کرتے کیونکہ اِس راہداری سے بھی دنیا کی اچھی خاصی تجارت ہوتی ہے اور اِس تجارت کو کنٹرول کرنے کی سکَت ایران میں ہے۔ ایران اس سکت کو بروئے کار بھی لارہا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرکے عالمی تجارت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ خلیج کے خطّے سے دنیا بھر کے لیے عالمی ذخیروں کا بیس فیصد تیل اور قدرتی گیس آبنائے ہرمز کے ذریعے بھیجی جاتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا بھر کی معیشتیں مشکلات محسوس کر رہی ہیں۔ اور یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ آبنائے ہرمز بحری تجارت کے حوالے سے دنیا کا حساس ترین مقام نہیں ہے۔ ایک زمانے سے دنیا بھر کے ممالک بحری تجارت میں رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے کوششیں کرتے آئے ہیں۔ صدیوں پہلے بھی بہت سے ملک سمندری راستوں میں رکاوٹ کھڑی کرکے بین الاقوامی تجارت پر اثرانداز ہوتے تھے۔ اب پھر ویسی ہی کیفیت پیدا ہوچلی ہے۔ طاقتور ممالک بھی اس صورتِ حال میں شدید مشکلات محسوس کر رہے ہیں۔
امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار میریٹائم اسٹریٹجی کے اسٹیون وِلز کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں لوگوں کو بہت تیزی سے یہ احساس ہوچلا ہے کہ دنیا بھر کی معیشتوں کو متحرک رکھنے کے لیے بحری تجارت ناگزیر ہے اور یہ کہ اِس تجارت کی راہ مسدود کرنے سے عالمی تجارت اور مالیاتی نظام کو شدید دھچکا لگے گا۔ سبھی کو اندازہ ہے کہ اب بحری تجارت کا بہائو سلامت رکھنے کے اقدامات کرنا ہی ہوں گے۔ پائپ لائنز بھی ہیں، طیارے بھی ہیں، گاڑیاں بھی ہیں، ٹرینیں بھی ہیں مگر پھر بھی عالمی برآمدات کا ۸۵ فیصد اب بھی بحری راستوں ہی سے ممکن ہے۔ یہ درست ہے کہ عالمی تجارت کا اہم حصہ طیاروں کے ذریعے بھیجا جاتا ہے مگر پھر بھی بہت بڑے پیمانے پر کمتر درجے کی اشیا کی ترسیل کے لیے سمندری راستوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہی سبب ہے کہ بحری تجارت کو لاحق خطرات سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔
اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ ٹیکنالوجی سستی ہوگئی ہیں اور اُن تک ہر ایک کی رسائی بھی ممکن ہوچکی ہے۔ بہت سے عسکریت پسند گروپ اور بالخصوص کسی ملک کے لیے ’’خدمات‘‘ انجام دینے والے گروہ جدید ترین ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ ایشیا اور یورپ کے درمیان باب المندب سے گزر کر تجارتی مال لے جانے والے جہازوں کو یمن کی حوثی ملیشیا نے پریشان کر رکھا ہے۔ اِس سے پہلے اِن جہازوں کو صومالیہ کے ڈکیت گروپوں (بحری قزاقوں) کا سامنا رہتا تھا۔ یہ سمندری ڈاکو مال بھی لوٹتے تھے اور جہازوں کے عملے کو یرغمال بھی بناتے تھے۔ ۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۵ء کے دوران حوثی ملیشیا نے ڈرون اور میزائل حملے کیے جن سے بحری تجارت بُری طرح متاثر ہوئی۔ بہت سے تجارتی ادارے اپنا مال خاصا لمبا چکر کاٹ کر منزل تک پہنچاتے ہیں۔ وہ سمندری ڈاکوئوں اور حوثی ملیشیا کے ہاتھوں پہنچنے والے نقصان سے عاجز ہوچکے ہیں۔ باب المندب سے کبھی عالمی تجارت کا ۹ فیصد مال گزرا کرتا تھا۔ اب یہ حجم صرف ۴ فیصد رہ گیا ہے۔ اور اگر حوثی ملیشیا نے ایران سے یکجہتی کے اظہار کے لیے حملے شروع کردیے تو باب المندب سے گزارے جانے والے تجارتی مال کا حجم مزید گھٹ جائے گا۔
عالمی تجارت کے لیے نیا خطرہ قریبی سمندروں میں چِھڑنے والی لڑائی کے ہاتھوں پیدا ہوا ہے۔ یوکرین پر روس کی لشکر کشی نے بحیرۂ اسود کے راستے اناج، تیل اور دیگر اہم اشیا کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں آبنائے باسفورس اور ڈارڈینیلیز نامی آبی گزرگاہوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ان بحری راستوں پر ایران کا کنٹرول ہے۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے ہاتھوں اب خلیجِ فارس کا پورا خطہ شدید عدم توازن کی نذر ہوکر رہ گیا ہے۔ اور اگر کہیں ایسے میں تائیوان کے معاملے پر امریکا اور چین کے درمیان مناقشہ عملی تصادم کی شکل اختیار کرگیا تو سمجھئے عالمی امن دائو پر لگ ہی جائے گا۔ دو عالمگیر جنگوں کے دوران بہت سے سمندری راستے بند ہوگئے تھے یا کردیے گئے تھے۔ اگر امریکا اور چین آمنے سامنے آئے تو ویسی ہی صورتِ حال پھر پیدا ہوسکتی ہے اور اِس کے نتیجے میں عالمی تجارت دائو پر لگے گی اور درجنوں معیشتیں انتہائی نوعیت کے عدمِ توازن کا شکار ہوجائیں گی۔ امریکا کی ایک آبدوز نے حال ہی میں ایران کے ایک جنگی جہاز کو ڈبویا ہے۔ یہ ۱۹۴۵ء کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔
ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلی کو بھی ہم نظرانداز نہیں کرسکتے۔ خشک سالی کے ہاتھوں پاناما نہر میں جہاز رانی حالیہ برسوں میں انتہائی دشوار ثابت ہوئی ہے۔ اِس کے نتیجے میں بہت سے جہازوں کو کیپ ہارن سے گھوم کر جانا پڑتا ہے۔ بحیرۂ آرکٹک برف تیزی سے پگھل رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں نئے شپنگ روٹ شروع ہوسکتے ہیں اور آبنائے بیرنگ جیسی دور افتادہ بحری راہداریوں کی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔ امریکا کے توسیع پسند صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دنیا بھر کے بحری تجارتی راستوں کی سکیورٹی بڑھائی جائے۔ وہ پاناما نہر اور گرین لینڈ کو کنٹرول کرنے کی بات بھی کرچکے ہیں۔ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کھول دی تب بھی دنیا بھر میں ایسی کم و بیش ۱۲؍راہداریوں کو نئے سکیورٹی نظام کے ماتحت کردیا جائے گا۔
قدیم زمانوں ہی سے بحری تجارتی راہداریوں اور چیک پوائنٹس کی اہمیت غیرمعمولی نوعیت کی رہی ہے۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں لڑی جانے والی پیلوپونیسین جنگ کے دوران ڈارڈینیلز نے اسپارٹا پر قبضہ کرلیا تھا۔ اِس کے نتیجے میں بحیرۂ اسود سے اناج کی ترسیل میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی تھی۔ خوراک کی شدید قلت نے ایتھنز کے باشندوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ اور اُس کے اتحادیوں نے اِسی راستے کو بند کرکے سلطنتِ عثمانیہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی تھی مگر یہ عسکری مہم (جو گیلیپولی کیمپین کہلاتی ہے) شدید ناکامی سے دوچار ہوئی تھی اور اِس پر خرچ بھی بہت آیا تھا۔
ہم دیکھ چکے ہیں کہ ٹیکنالوجی نے حیرت انگیز حد تک ترقی کی ہے۔ طیاروں، میزائلوں اور مواصلاتی سیاروں کے اِس دور میں بھی جغرافیہ بہرحال اپنی جگہ ہے۔ بہت سے بحری چیک پوائنٹس سے جدید ترین طریقوں سے تیار کردہ مال ایشیا کے کارخانوں سے نکل کر باقی دنیا تک پہنچتا ہے۔ ان بحری چیک پوائنٹس میں آبنائے تائیوان اور آبنائے ملاکا بہت اہم ہیں۔ بحیرۂ بالٹک اور شمالی سمندروں کو ملانے والے بحری چیک پوائنٹس میں جبرالٹر، رودبارِ انگلستان، کیٹیگیٹ، اسکاگریک اور اوریسنڈ نمایاں ہیں۔ نہرِ سوئز اور نہرِ پاناما انسانوں کی بنائی ہوئی ہیں۔ یہ دو عظیم خطوں کو باہم ملانے والے معروف شارٹ کٹ ہیں۔ اس صورت میں تجارتی مال کی لاگت میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز ایشیا اور یورپ کے لیے توانائی کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی مصروف ترین بحری راہداری ہے یا اِس کے ذریعے دنیا کا سب سے زیادہ تیل گزرتا ہے۔ یہ اعزاز آبنائے ملاکا کو حاصل ہے۔ ہاں، آبنائے ہرمز خلیج کے خطے سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔ یہی سبب ہے کہ اِس کے بند کیے جانے سے پورے خلیج کے تیل کی ترسیل رک جاتی ہے۔ یہی معاملہ ترکی اور ڈنمارک میں سے ہر ایک کے سمندری چیک پوائنٹس کا بھی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ مالِ تجارت لے جانے والے جہازوں کو متبادل روٹ نہیں مل سکتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ متبادل روٹ اختیار کریں تو ایک طرف ترسیل میں تاخیر بہت ہوتی ہے اور دوسری طرف اخراجات میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوتا ہے۔ ’دی اکنامسٹ‘ نے جب دنیا بھر کی بندر گاہوں تک پہنچائے جانے والے تجارتی مال کے لیے متبادل روٹس کے بارے میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ایسی صورت میں عالمی تجارت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ تاخیر کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں کارخانے ڈھنگ سے کام نہیں کر پائیں گے۔ لاکھوں افراد کا روزگار متاثر ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تجارتی مال کی لاگت میں انتہائی پریشان کن حد تک اضافہ ہوجائے گا۔ آبنائے ملاکا کو، جہاں سے بہت بڑے پیمانے پر تجارتی مال گزرتا ہے، اگر بند بھی کردیا جائے تو جہازوں کو بہت زیادہ گھوم پھر کر جانا نہیں پڑے گا۔ اگر انڈونیشیا نے امریکا اور چین کے درمیان جنگ چھڑنے کی صورت میں فریق بننا پسند کیا اور اپنی بحری راہداریاں بند کردیں تو کارگو جہازوں کو بہت گھوم پھر کر اپنی منزل تک پہنچنا پڑے گا، اِس لیے ایسی کسی بندش سے بہت زیادہ خرابی پیدا ہوسکتی ہے۔ اِسی طور اگر جبرالٹر (جبل الطارق) کے چیک پوائنٹ کو بند کردیا جائے تو تجارتی جہازوں کو بہت بڑا پھیرا لگاکر اپنی اپنی مقررہ بندرگاہوں تک پہنچنا پڑے گا۔
اگر کوئی جہاز امریکا کے شہر لاس اینجلس سے روانہ ہو اور ٹوکیو، بوسان، شنگھائی، سنگاپور، دبئی، راٹرڈیم اور نیویارک سے ہوکر واپس لاس اینجلس پہنچے تو سمجھ لیجیے اُسے کم و بیش پوری دنیا کا چکر کاٹنا پڑے گا۔ مشرقِ وسطیٰ عالمی تجارت کے اعتبار سے مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور اِس کی بندش کو کسی بھی طور برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
ارضیات نے خلیجِ فارس کے خطے کو تیل اور گیس کی دولت سے نوازا ہے۔ یہ علاقہ یوریشیا کے نیچے عربین ٹیکٹونک پلیٹس کی شکل میں واقع ہے۔ تاریخ نے اِس خطے کو اہم بنادیا ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد خطے کی عرب ریاستوں میں شدید عدمِ استحکام پیدا ہوا، اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع نے معاملات کو مزید الجھادیا۔ رہی سہی کسر نام نہاد اسلامی عسکریت پسند گروہوں نے پوری کردی۔ پورے خطے کا امن جنگوں، اندرونی شورشوں اور بیرونی مداخلت کے ہاتھوں یرغمال رہا ہے۔ عرب اسرائیل رقابت کے باعث نہرِ سوئز برسوں بند رہی۔ ۱۹۷۹ء سے ایران میں اسلامی شدت پسند طرزِ حکومت قائم ہے جس نے آبنائے ہرمز کے شمالی کناروں کو کنٹرول کر رکھا ہے اور اِس کے نتیجے میں خلیجِ فارس کے خطے میں بار بار بحران سر اٹھاتے رہے ہیں۔
خلیجِ فارس کے خطے سے روانہ ہونے والے بیشتر آئل ٹینکر آبنائے ملاکا کا رخ کرتے ہیں۔ ۲۰۰۳ء میں اس وقت کے چینی صدر ہو جنتائو نے آبنائے ملاکا کا معاملہ اٹھایا۔ اس اہم چیک پوائنٹ سے چین کی طلب کا ۸۰ فیصد تیل گزرتا تھا۔ انہوں نے امریکا کا نام لیے بغیر کہا کہ بعض بڑی طاقتیں چین کو تیل کی سپلائی روکنے کے لیے آبنائے ملاکا کے خطے میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے چین کو لاحق وسیع تر خطرات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کو سیکڑوں یا ہزاروں جزائر پر مشتمل ممالک کی طرف سے رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کے خدشے کا سامنا ہے۔ چین کے لیے انڈونیشیا اور جاپان بھی ایسے ہی ممالک ہیں۔
ہم اس وقت آبنائے ہرمز کو رو رہے ہیں جبکہ آبنائے تائیوان بھی انتہائی حساس مقام ہے۔ اگر یہ بحری راہداری بند کردی گئی تو امریکا اور چین آمنے سامنے آسکتے ہیں۔ چین آج بھی تائیوان کو اپنا باغی صوبہ قرار دیتا ہے۔ عالمی ضرورت کے ۹۰ فیصد جدید ترین سیمی کنڈکٹرز تائیوان کے کارخانے تیار کرتے ہیں۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنی افواج کو حکم دے رکھا ہے کہ ۲۰۲۷ء تک تائیوان کو فتح کرنے کی تیاری کریں۔ تائیوان کی ساری مزاحمت امریکا کی شہہ پر ہے۔ اگر امریکا نے اُس کے دفاع کی ذمہ داری پوری نہ کی تو چین کے لیے راستہ بالکل صاف ہو جائے گا اور اگر امریکا آگے بڑھا تو ایک بڑی جنگ بھی ہوسکتی ہے۔
سوال محض خدشات کا نہیں۔ چین نے اپنی بحریہ کی توسیع بھی شروع کردی ہے۔ وہ اپنی بحریہ کو جدید ترین اسلحے سے لیس کر رہا ہے تاکہ گہرے سمندروں میں زیادہ آسانی کے ساتھ جنگ لڑی جاسکے۔ چینی بحریہ کو اپنے ساحلوں اور اپنے پانیوں سے بہت دور بھی لڑنے کی تربیت دی جارہی ہے۔ دوسری طرف، چین کے عزائم کو بھانپتے ہوئے، آسٹریلیا، جاپان اور فلپائن نے بھی معیاری دفاعی تیاریاں تیز کردی ہیں۔ وہ مل جل کر کام کرنے پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔
چین نے میانمار اور خلیج بنگال کے ذریعے روس اور وسط ایشیا کے ممالک سے تیل اور گیس کے حصول کے لیے نئے روٹس پر کام شروع کردیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ آبنائے ملاکا پر زیادہ انحصار نہ کیا جائے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے ۲۰۱۲ء میں منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ شروع کیا تھا جس کے تحت دنیا بھر میں بندرگاہیں، سڑکیں اور ریلوے ٹریک بنانے پر خطیر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ افریقا میں بھی چین کا اثر و رسوخ زیادہ ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے جو بنیادی ڈھانچا کھڑا کیا گیا ہے، وہ جنگ کی صورت میں چین کے لیے سپلائی لائن کا کام کرے گا۔ چین نے ڈیڑھ عشرے کے دوران بحیرہ جنوبی چین میں متعدد فوجی اڈّے بھی قائم کیے ہیں۔ ۲۰۱۷ء میں چین نے اپنا پہلا سمندر پار فوجی اڈا افریقی ملک جبوتی میں کھولا۔ وہ روس کے شمالی ساحلوں سے ہوکر بحیرہ منجمد شمالی کے روٹ پر بھی کام کرتا رہا ہے۔
اب تک یہ واضح نہیں کہ یہ تمام کوششیں چین کی ہدف پذیری کو کس حد تک کم کرسکتی ہیں۔ چینی حکومت نے حالیہ چند برسوں کے دوران بحری تجارت کو لاحق ممکنہ نئے خطرات کے بارے میں بھی تحقیق کروائی ہے تاکہ نئے چیک پوائنٹس یا فلیش پوائنٹس کی بروقت نشاندہی ہوسکے۔ اہم شخصیات ایسے تمام خطرات سے بروقت نپٹنے سے متعلق اقدامات پر زور دے رہی ہیں۔ دی چائنا الیکٹرسٹی کائونسل کے ژو یائوکیانگ کہتے ہیں کہ ایران جنگ توانائی کے حوالے سے چین کے لیے ایک بڑا ممکنہ خطرہ ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے چیک پوائنٹس کو بہت آسانی سے بند کیا جاسکتا ہے، اِس لیے چین کو توانائی کے حصول میں غیرمعمولی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایسے میں لازم ہے کہ ممکنہ خطرات کا سامنا کرنے کی بھرپور تیاری کی جائے۔ ’پیپلز ڈیلی‘ کے لیے ایک مضمون میں ژو یائوکیانگ نے لکھا ہے کہ چین کو امن کے زمانے کی ذہنیت ترک کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن کے ذریعے سپلائی لائن کو ہر حال میں برقرار رکھنا ممکن ہو۔ پاکستان تک پائپ لائن تعمیر کی جائے، کُھلے سمندروں میں تجارتی مال کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے غیرمعمولی سکیورٹی اقدامات کیے جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نپٹنے کی پوری تیاری کی جائے۔ چند ایک ماہرین نے تو محدود پیمانے پر دفاعی اقدامات بھی تجویز کیے ہیں تاکہ امریکا سمیت کوئی بھی چین کے لیے بڑے خطرے میں تبدیل نہ ہوسکے۔
آبنائے ملاکا میں بحری قذاقی روکنے کے لیے انڈونیشیا، ملائیشیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ مل کر گشت کرتے ہیں۔ بحری راستوں کے حوالے سے پائی جانے والی قدیم رقابت آج بھی غیرمعمولی سکیورٹی خدشات پیدا کر رہی ہے۔ کسی بھی بڑے مناقشے یا جنگ کی صورت میں یہ بحری راستے کیا کردار ادا کرسکتے ہیں، اِس پر بھی بہت بحث ہو رہی ہے۔ امریکا یا چین کو کسی بھی بڑی جنگ کی صورت میں آبنائے ملاکا، سُنڈا اور لمبوک جیسے اہم چیک پوائنٹس کی بندش سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ کون کس کے ساتھ ہوگا یا ہوسکتا ہے۔ چین نے جنوب مشرقی ایشیا میں کمبوڈیا اور میانمار جیسے ممالک سے دوستی مضبوط بنانے پر توجہ دی ہے کیونکہ یہ بہت حد تک اُس کی کلائنٹ ریاستیں ہیں۔ چین ضرور چاہے گا کہ خطے کے مزید ممالک سے اُس کے تعلقات مزید بہتر ہوں تاکہ اُس کے لیے سکیورٹی خدشات میں کمی واقع ہوسکے۔ اِس وقت کیفیت یہ ہے کہ خطے کے بیشتر ممالک اُس کے لیے خطرے کا درجہ رکھتے ہیں یا کسی بھی نازک وقت میں مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
امریکا نے چین کو منہ دینے کے لیے بھارت کو آگے کیا ہے۔ اُس نے آبنائے ملاکا میں چین کے تجارتی اور جنگی جہازوں کی نشاندہی ممکن بنانے کے لیے بھارت کو تکنیکی مدد فراہم کی ہے۔ چند برسوں کے دوران بھارتی قیادت امریکا اور اسرائیل کی طرف زیادہ جھکی ہے مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایران کے خلاف جنگ کے چھیڑے جانے سے خود بھارت کے لیے بھی توانائی کا بحران ایک معقول حد تک تو پیدا ہوا ہے۔
یہ بھی بہت حد تک ممکن ہے کہ بھارت نئی دوستیاں پروان چڑھائے یا پرانی دوستیوں کو بحال کرے۔ چین کو پرے رکھنے کے لیے وہ روس کے نزدیک رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اُس نے پاکستان کو منہ دینے کے لیے ایران کا ساتھ دینے کی حکمتِ عملی اختیار کی ہوئی ہے۔ ایران کی بندرگاہ چابہار میں بھارت نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ ہاں، جنگ کے وقت اسرائیل کی حمایت کرکے اور امریکا کی طرف زیادہ جھک کر اُس نے ایران کو ناراض کیا ہے۔ وہ چابہار کی بندرگاہ کے ذریعے وسطِ ایشیا تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران نے بھارت کے لیے تیل اور تجارتی سامان لے جانے والے جہازوں کو بھی خلیج کے خطے سے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے۔
دوسری طرف یورپ نے مغربی علاقے میں روس کو پیچھے دھکیلنے کے لیے یوکرین کی مدد جاری رکھی ہے۔ یورپی یونین نے روسی تیل اور گیس کا بائیکاٹ کیا ہے جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ کریملن نے ایشیائی ممالک کے لیے تیل اور گیس کی سپلائی بڑھادی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ غیرمعمولی اور پُرکشش ڈسکائونٹ بھی دے رہا ہے۔ اس عمل میں روس کو نیٹو کے رکن ممالک سے بات چیت کرکے چند اہم چیک پوائنٹس سے گزرنے کی آسانی یقینی بنانی پڑی ہے۔ اس حوالے سے ترکی اور ڈنمارک سے مذاکرات کی بہت اہمیت ہے۔ روس کی ۲۰ اور ۳۰ فیصد تیل کی برآمدات بالترتیب ترکی اور ڈنمارک کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں۔ روس اپنے بہت سے تجارتی جہازوں کو غلط پرچم لگاکر بھی روانہ کرتا ہے۔ یورپی ممالک نے ایسے چند جہازوں کو پکڑا ہے۔
جب روس نے بحیرۂ اسود میں اوڈیسا اور یوکرین کی دیگر بندرگاہوں کو بلاک کیا تھا تب یوکرین سے اناج کی ترسیل تقریباً مکمل طور پر رک گئی تھی۔ اِس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں اناج کی قیمت بڑھ گئی تھی اور یوکرین کو اناج کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے محفوظ متبادل بحری راستے تلاش کرنا پڑے تھے۔ تجارتی جہازوں پر اِکا دُکا حملے اب بھی ہوتے رہتے ہیں۔ سمندری راستوں پر بچھائی جانے والی بارودسی سرنگیں تجارتی جہازوں کے لیے اب بھی خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ ترکی نے اپنی اہم بحری راہداریوں کو جنگی جہازوں کے لیے نہیں کھولا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ روس اپنے بحیرۂ اسود کے بحری بیڑے کو مضبوط کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے جسے یوکرینی فوج کے ہاتھوں غیرمعمولی نقصان پہنچا تھا۔
ترک صدر رجب طیب ایردوان اب کینال استنبول کے زیرِعنوان نیا منصوبہ شروع کرسکتے ہیں تاکہ آبنائے باسفورس پر پڑنے والے جہاز رانی کے دبائو کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔ اب ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبہ ۱۹۳۶ء کے مانٹراکس کنونشن کے ماتحت ہوگا۔ یہ کنونشن بحری راستوں پر تجارتی اور جنگی جہازوں کی آمد و رفت کو منظم کرتا ہے۔ اس دوران بحیرۂ بالٹک نیٹو کے تالاب میں تبدیل ہوچکا ہے۔ یوکرین جنگ کے نتیجے میں سوئیڈن اور فن لینڈ نے نیٹو میں شمولیت اختیار کی ہے تاکہ اپنا مؤثر دفاع ممکن بناسکیں۔ اِس کے باوجود روس اور یوکرین کی طرف سے سمندر میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا عمل روکا نہیں جاسکا ہے۔ گیس پائپ لائنوں کے ساتھ ساتھ مواصلات کے لیے بچھائے جانے والے کیبلز کو نقصان پہنچانے کا عمل بھی جاری ہے۔
بحرِ اوقیانوس کے خطے میں پاناما نہر بھی اہم ہے مگر بہت زیادہ نہیں۔ یہاں سے بحری تجارت کا صرف تین فیصد حصہ وابستہ ہے۔ اس نہر سے امریکا کے جنگی جہازوں کو بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل کے درمیان سفر کی اجازت ہے۔ امریکا کی ۴۰ فیصد کنٹینر ٹریفک پاناما نہر کے ذریعے ہوتی ہے۔ پاناما نہر کو چلانے کی ذمہ داری پاناما کی حکومت نے ہانگ کانگ میں رجسٹرڈ ایک چینی کمپنی کو سونپ رکھی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے رہے ہیں کہ پاناما نہر کا پورا کنٹرول امریکا کے حوالے کیا جائے۔ امریکی دبائو کے تحت پاناما کی حکومت نے اس اہم بحری راستے کا کنٹرول دو یورپی اداروں کے حوالے کرنے سے متعلق اقدامات کیے ہیں۔ پاناما کے صدر ہوزے رال مولینو کہتے ہیں کہ بحران ختم ہوچکا ہے مگر چین نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پاناما کو سیاسی اور معاشی دونوں اعتبار سے غیرمعمولی فائدہ پہنچائے گا۔ اس دوران نکارا گوا نے بھی پاناما نہر کی ٹکر پر ایک نہر کھودنے کی بات کی ہے۔
بہت سے ممالک اب اس فکر میں ہیں کہ کسی بھی بڑی جنگ کی صورت میں اپنے بحری راستوں کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنائیں۔ ساتھ ہی ساتھ بہت سے ملک تجارتی مال کی درآمد و برآمد سہولت جاری رکھنے کے لیے بھی فکرمند ہیں اور متبادل بحری راستے تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ ساتھ ساتھ وہ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو پروان چڑھانے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں اپنے آپ کو ناموافق کیفیت سے زیادہ سے زیادہ دُور رکھ سکیں۔ ایسے کسی بھی منصوبے کو عملی شکل اختیار کرنے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔ اگر ایران جنگ جاری رہی تو بہت سے ملکوں کو گلوبل لاجسٹکس نیٹ ورکس سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرنا ہی پڑے گی۔
خلیجِ فارس کی ریاستوں کو ایران جنگ کے باعث تجارتی مال کی ترسیل ممکن بنائے رکھنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنا پڑے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں اخراجات بڑھ گئے ہیں اور چیزیں مہنگی ہوگئی ہیں۔ زمینی راستوں سے بھی مال منگوایا جارہا ہے مگر یہ بہت مہنگا پڑتا ہے اور ایسے مال کا حجم بہت کم ہے۔ فجیرہ کی بندرگاہ پر غیرمعمولی ٹریفک جام کی خبریں ہیں۔ جہازوں کے لیے استعمال کیے جانے والے تیل کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ اضافی اخراجات حتمی صارفین تک منتقل کیے جارہے ہیں۔ سیٹیلائٹ ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ مارچ کے دوران بحری راستوں پر ٹریفک ۲ فیصد سست رفتار رکھی گئی ہے تاکہ ایندھن بچایا جاسکے۔
خلیج کے خطے میں اس وقت ۳۰۰ سے زائد آئل ٹینکر پھنسے ہوئے ہیں۔ اُن کے متبادل راستے بھی تلاش کیے جارہے ہیں۔ چارٹرنگ کے اخراجات بھی ۱۰؍فیصد تک بڑھ چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے بحری تجارت کو شدید دھچکا لگا ہے۔ تیل کی سپلائی رکنے سے کئی ملکوں کے لیے توانائی کا بحران پیدا ہوا ہے۔
ایک صدی کے دوران بحری تجارت بہت حد تک خطرات سے دور رہی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک بحری راستوں کو پوری ہم آہنگی کے ساتھ استعمال کرتے آئے ہیں۔ اگر بحری راستوں کی بندش کا سلسلہ جاری رہا تو عالمی امن کے لیے شدید خطرہ پیدا ہوسکتا ہے اور اِس کے نتیجے میں کوئی بڑی جنگ بھی چھڑسکتی ہے۔ انیسویں صدی کے امریکی نیول اسٹریٹجسٹ الفریڈ تھیئر ماہان نے کہا تھا کہ سمندروں کو سب مل کر استعمال کریں تو اچھا ہے تاکہ عالمی امن کے لیے کوئی بڑا خطرہ پیدا نہ ہو۔ یہ تصور ایک صدی تک کامیابی سے رو بہ عمل رہا ہے۔
بہت سے ملکوں نے سمندری راستوں کو کنٹرول کرکے اپنے لیے غیرمعمولی فوائد کی راہ ہموار کی ہے۔ امریکا نے اپنی پہلی بیرونی جنگ ۱۸۰۱ء میں لڑی تھی جو لیبیا کے حاکم کی طرف سے امریکی تجارتی مال کی ترسیل کو سبوتاژ کیے جانے سے روکنے کے لیے تھی۔ تب لیبیا ایک بڑی بحری قوت کی حیثیت رکھتا تھا۔ اب امریکا تمام اہم سمندری راستوں پر اپنی تجارت کے لیے زیادہ سے زیادہ تحفظ چاہتا ہے اور اِس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ امریکی صدر کا طرزِ فکر و عمل بہت عجیب ہے۔ وہ بار بار اپنی باتوں سے مکر جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ابہام رہ جاتا ہے۔ امریکا کے حلیفوں کی بھی سمجھ میں نہیں آرہا کہ ایسے میں کریں تو کیا کریں۔
(مترجم: ابو صباحت)
“Hormuz is not the only weak spot for global trade”. (“The Economist.”. March 26, 2026)

تازہ مضامین

’ہم قلت کی دنیا میں جی رہے ہیں‘، یہ الفاظ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کے ہیں جو انہوں نے ۲۰۲۴ء میں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ادا کیے تھے۔انہوں نے خبردار کیا تھا کہ

اسرائیل نے ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے نئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے ذریعے مہلک کارروائیاں تیز کردی ہیں۔امریکی اور اسرائیلی فوجی کمانڈر جب ایران کے خلاف جنگی حکمتِ عملی تیار

جنگ کسی کو کچھ نہیں دیتی۔ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے، نقصان دونوں یا تمام ہی فریقوں کا ہوتا ہے۔ ہر جنگ اپنے پیچھے تباہی چھوڑ جاتی ہے۔ جن اقوام نے برسوں کی محنت کے

بریگیڈیئر جنرل محمد باقر ذوالقدر کو ممتاز ایرانی رہنما علی لاریجانی کی جگہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔علی لاریجانی حال ہی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس وقت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر حملے بند کرنے کے لیے ایرانی قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں جبکہ ایران اس کی تردید کررہا ہے۔تاہم ایک بات واضح ہے

گزشتہ ۲۵ فروری کی شام جب یروشلم کے پرانے شہر کی فضاؤں میں مسجد اقصیٰ کے بلند پایہ میناروں سے اذان کی آواز کے ساتھ افطار کا اعلان ہورہا تھا، تو اس سے چند سو