عراق کے صوبے سلیمانیہ میں ۱۱؍جولائی کے روز PKK دہشت گرد گروپ کے اراکین نے اپنے ہتھیار ڈالنا شروع کر دیے، جو کہ ایک اہم پیش رفت ہے اور انقرہ کی دہشت گردی سے پاک ترکیہ کے حصول کی کوششوں کے مطابق ہے۔
ترک صدر رجب طیب ایردوان نے ’پی کے کے‘ دہشت گردوں کے علامتی طور پر ہتھیار ڈالنے کے بعد کہا ہے کہ ترکیہ کی دہائیوں پر محیط دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ لمحہ ایک تاریخی موڑ کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’آج ایک نیا دن ہے، تاریخ میں ایک نیا باب کھل گیا ہے‘‘۔ یہ عمل دہشت گردی کے ’’۴۷ سالہ عذاب‘‘ کے خاتمے کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔
ترک سیکورٹی فورسز کی مسلسل اور مؤثر انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے بعد، پی کے کے نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ وہ تحلیل ہو جائے گی اور ہتھیار ڈال دے گی۔
دوسری جانب، ترک ریاست نے دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو سفارتی میدان تک بھی وسعت دی ہے۔
بین الاقوامی شراکت داروں پر، خاص طور پر یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں برسوں کے مسلسل دباؤ کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ PKK کی غیرملکی دارالحکومتوں میں آزادانہ طور پر کام کرنے، پیسہ بٹورنے اور مختلف سیاسی پردوں کے تحت فنڈز جمع کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ترکیہ کی بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی اہمیت کا مطلب ہے کہ اس کے خدشات کو عالمی طاقتوں کی جانب سے زیادہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
معاشی تعلقات، توانائی کی سفارت کاری اور علاقائی شراکت داریوں کے ذریعے انقرہ نے آہستہ آہستہ ’پی کے کے‘ کے بیرون ملک حمایت کے نیٹ ورکس کو ختم کر دیا ہے۔
صدر رجب طیب ایردوان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پارٹی) کے ترجمان نے بدھ کی رات کہا تھا کہ ہتھیاروں کی حوالگی کا عمل چند مہینوں میں مکمل ہونا چاہیے۔
نشریاتی ادارے NTV کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، عمر چیلک نے وضاحت کی کہ ایک تصدیقی ٹیم جو ترک خفیہ سروس اورمسلح افواج کے اہلکاروں پر مشتمل ہوگی، اسلحہ چھوڑنے کے اس عمل کی نگرانی کرے گی۔
عمر چیلک نے کہا، ’’عراق میں غیر مسلح ہونے کا عمل تین سے پانچ مہینوں کے اندر مکمل ہونا چاہیے۔ اگر یہ مدت سے تجاوز کرے تو یہ اشتعال انگیزیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔‘‘
ترکیہ گزشتہ ۴۰ برسوں سے ’پی کے کے‘ کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، جس نے شہریوں اور ترک سیکورٹی فورسز پر حملوں کے ذریعے ۴۰ہزار سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہے۔
(بحوالہ ’’ٹی آر ٹی اردو‘‘۔ ۱۱؍جولائی ۲۰۲۵ء)