روایتی جنگ کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ بری افواج اب اگر کچھ کرتی بھی ہیں تو محض اندرونِ خانہ یعنی خانہ جنگی وغیرہ میں اُن کا کوئی واضح کردار ہوسکتا ہے۔ دو ملکوں کے درمیان لڑی جانے والی جنگ اوّل تو فضائیہ کی سطح پر ہوتی ہے اور اگر معاملات وہاں درست نہ ہو پائیں تو پھر بحریہ کو آزمانے کی باری آتی ہے۔ اِن دونوں افواج سے ہٹ کر بہت کچھ خفیہ سرگرمیوں کے محاذ پر ہو رہا ہوتا ہے اور پھر میڈیا کا محاذ بھی تو ہے۔ ایسے میں زمینی جنگ کی زیادہ گنجائش رہی نہیں۔ گولا باری تک تو معاملہ چلتا ہے، ٹینکوں کے ذریعے دشمن کے علاقوں میں سرایت کرنے کی ہمت کم ہی افواج میں پائی جاتی ہے کیونکہ ایسا کرنے میں خطرات بہت زیادہ ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی لازم ہوچکا ہے کہ کسی بھی جنگ کی صورت میں فضائی اور بحری قوت پر زیادہ انحصار کرے۔ اور ایسا ہی کیا جارہا ہے مگر اِس حوالے سے دنیا کو تشویش بھی لاحق ہے۔ پاکستان کی عسکری قوت میں اضافہ ہو اور دنیا چونک نہ پڑے ایسا بھلا کیسے ہوسکتا ہے؟
امریکا کے بین الاقوامی شہرت یافتہ جریدے ’فارن افیئرز‘ نے ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان ایک ایسا میزائل تیار کر رہا ہے جس کی رسائی امریکا تک ہوگی۔ امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے ’فارن افیئرز‘ لکھتا ہے کہ دستاویزی شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان اپنے میزائل پروگرام کو چین کی تکنیکی مدد سے غیرمعمولی بلندی سے ہمکنار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان خاموشی سے دور مار میزائلوں پر کام کرتا آیا ہے۔ پاکستان جو بین البرِاعظمی میزائل تیار کر رہا ہے، اُس کی رسائی ۱۰؍ہزار کلو میٹر تک کے اہداف تک ہوگی۔
امریکی جریدہ یہ ’الزامی دعویٰ‘ کرتا ہے کہ پاکستان اپنے میزائل پروگرام کو بہت زیادہ ترقی دے کر دراصل عالمی سطح پر ایٹمی توازن کو بگاڑنا چاہتا ہے۔ اگر پاکستان ایٹمی ہتھیار لے جانے والے بین البرِاعظمی بیلسٹک میزائل تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا تو اُس کا شمار عالمگیر نوعیت کی ایٹمی قوتوں میں ہونے لگے گا۔
’فارن افیئرز‘ لکھتا ہے کہ اگر پاکستان ایسے میزائل تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا جو امریکی سرزمین کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت کے حامل ہوں تو ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوگا اور اِسی کے ساتھ پاکستان کی ایٹمی ڈاکٹرائن بھی تبدیل ہوجائے گی۔ پاکستان نے اب تک ایٹمی ٹیکنالوجی اور میزائل پروگرام کے حوالے سے جو کچھ کیا ہے، اُس کا مرکزی محور بھارت رہا ہے۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا دُشمن بھارت ہے اور بھارت کا بھی یہی معاملہ ہے۔ چین بھی بھارت کے لیے دُشمن ہے مگر دشمن نمبر ون پاکستان ہے۔ پاکستانی نے کبھی اِس حقیقت کو چھپایا نہیں کہ اُس کی تمام عسکری تیاریاں بھارت کو ذہن میں رکھتے ہوئے کی جاتی رہی ہیں۔ آج بھی یہی معاملہ ہے۔ پاکستان کا ایٹمی اور میزائل پروگرام علاقائی نوعیت کا رہا ہے اور اُسے کسی بھی دوسرے خطے کی کسی قوت سے کبھی کوئی ایسا خطرہ لاحق نہیں رہا جسے بنیاد بناکر وہ کچھ زیادہ کرنے کا سوچے لیکن اگر بین البرِاعظمی میزائل پروگرام کامیاب رہا اور پاکستان دس بارہ ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل بنانے میں کامیاب ہوا تو اِس کے نتیجے میں اُس کی ایٹمی ڈاکٹرائن بدل جائے گی۔ اِس ممکنہ پیشرفت کو مستقبل کے کسی پاک بھارت مناقشے میں امریکی مداخلت کے خلاف ردِ جارحیت (ڈیٹرنس) کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان امریکی سرزمین تک مار کرنے والے ایٹمی میزائل بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر پاکستان کو بھی امریکی قیادت اپنے دُشمن کے طور پر برتے گی۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ جو ملک امریکا کو میزائل سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اُسے امریکا کا دوست نہیں گردانا جاتا۔
امریکی حکام کے بیان سے جھلکنے والا انتباہ صورتحال کی سنگینی کو بہت عمدگی سے نمایاں اور واضح کرتا ہے۔ امریکا اور پاکستان کے تعلقات کبھی بہت اچھے ہوا کرتے تھے مگر اب چند عشروں سے اِن تعلقات میں خاصی گراوٹ آئی ہے۔ بعض معاملات میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے مدِمقابل دکھائی دیے ہیں۔ روس، چین اور شمالی کوریا کو امریکا اپنے سخت ترین حریفوں اور دشمنوں میں شمار کرتا ہے۔ اگر پاکستان بین البرِاعظمی ایٹمی بیلسٹک میزائل بنانے میں کامیاب ہوتا تو پھر اُسے بھی اِسی زُمرے میں رکھنا امریکا کے لیے ناگزیر ہوجائے گا۔ اِس کے نتیجے میں پاک امریکا تعلقات میں مزید گراوٹ واقع ہوگی اور دونوں ممالک جن معاملات میں اشتراکِ عمل کے قائل ہیں، اُن میں بھی ایک دوسرے سے دور رہنا پسند کریں گے۔
پاکستان نے تاریخی اور روایتی طور پر اپنے ایٹمی پروگرام کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ چونکہ بھارت ایٹمی قوت بن چکا ہے، اِس لیے ناگزیر ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے اُس کے مقابل کوئی قوت ہو جو اُسے منہ دینے کی صلاحیت و سکت رکھتی ہو۔ جنوبی ایشیا کو ایٹمی ہتھیاروں کی طرف لے جانے کے معاملے میں بھی پہل بھارت نے کی تھی جس نے پہلے ۱۹۷۴ء میں ایٹمی دھماکا (بُدّھا مسکرا رہا ہے) کیا اور پھر ۱۱؍مئی ۱۹۹۸ء میں بھی اُس نے ۵؍ایٹمی دھماکے کیے۔ اِن کے جواب میں پاکستان نے ۲۸ مئی ۱۹۹۸ء کو ۶؍ایٹمی دھماکے کیے اور ایٹمی کلب کا حصہ بن گیا۔
بھارت کی طرف سے کسی بھی نوع کی بڑی جارحیت کے خطرے کو ٹالنے کے لیے پاکستان پر لازم ہوگیا کہ بھرپور ڈیٹرنس کا اہتمام کرے۔ یہی سبب ہے کہ اُسے مختصر اور درمیانے فاصلوں تک مار کرنے والے میزائلوں کا پروگرام شروع کرنا پڑا۔ حتف، شاہین اور غوری میزائل اِسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ یہ میزائل ٹیکٹیکل یا اسٹریٹجک ایٹمی ہتھیار بھارت کے طول و عرض تک لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب پاکستان نے جنوبی ایشیا کی حدود سے نکل کر دور افتادہ خطوں تک رسائی رکھنے والے میزائل بنانے کا پروگرام شروع کرکے بھارت سے متعلق اپنی ڈیٹرنس پالیسی ترک کرکے ایک قدم آگے کی بات کی ہے۔
پاکستان کا بین البرِاعظمی میزائل بنانے کی طرف مائل ہونا بہت حد تک مجبوری کا معاملہ ہے کیونکہ بھارت سے مستقبل قریب میں کسی بھی بڑے مناقشے یا معرکہ آرائی کی صورت میں اِس بات کا خطرہ موجود ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی فوج بھارت کا ساتھ دیتے ہوئے پاکستان پر حملہ آور ہو۔ بھارت نے حال ہی میں آپریشن سِندور کے ذریعے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ پیشگی روایتی حملوں کے بارے میں زیادہ سوچ رہا ہے بلکہ اِس حوالے سے اُس کی خواہش اب بھوک کے درجے میں ہے۔
امریکا تک رسائی رکھنے والے ایٹمی میزائل تیار کرکے پاکستان بظاہر ایسا ڈیٹرنس تیار کرنا چاہتا ہے جس کے ذریعے وہ مستقبل قریب یا مستقبل بعید میں بھارت سے کسی فُل اسکیل جنگ کی صورت میں امریکا اور اسرائیل کی مداخلت کی راہ روک سکے۔ بنیادی مقصد کسی بھی نوع کی جنگ کی صورت میں اپنے ایٹمی اثاثوں کو ہر صورت محفوظ رکھنا ہے۔
اِس وقت پاکستانی اسلحہ خانے میں ایک بھی بین البرِاعظمی ایٹمی بیلسٹک میزائل نہیں، مگر ہاں ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل اِس اسلحہ خانے میں ہیں اور اِن کی دسترس بھی بڑھائی جارہی ہے۔ اِس کا بنیادی مقصد بظاہر یہ ہے کہ پاکستان کے وجود کو لاحق تمام خطرات کا ڈٹ کر سامنا کیا جاسکے۔ ۲۷۵۰ کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت کے حامل ٹھوس ایندھن والے شاہین تھری میزائل کا تجربہ ۲۰۲۲ء میں کامیاب رہا تھا۔ یہ میزائل بھارت کے جزائر انڈمان اور نکوبار تک رسائی رکھتا ہے۔ ایک اعتبار سے یہ فُل اسپیکٹرم ڈیٹرنٹ ہے۔
پاکستانی میزائلوں کی شاہین سیریز غیرمعمولی حرکت پذیری، داغے جانے میں زیادہ وقت نہ لینے اور قطعیت کے لیے معروف ہے۔ اگر بھارت کی طرف سے حملے ہوں یا امریکا کی قیادت میں کوئی اتحاد پاکستان کو نشانہ بنائے تو تیزی سے جوابی کارروائی کی استعداد موجود ہے۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ابابیل ایم آئی آر وی سے مزیّن ہیں۔
شاہین سے قبل پاکستان کے پاس غوری میزائلوں کی سیریز تھی۔ یہ شمالی کوریا کی نوڈونگ ٹیکنالوجی پر مبنی میزائل ہیں۔ ۱۳۰۰؍کلومیٹر تک مار کرنے والے یہ میزائل مائع ایندھن سے چلتے ہیں۔ اِن میں بیلسٹک آپشن موجود ہے۔ اب ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کی آمد کے نتیجے میں یہ میزائل تھوڑے سے دُھندلاگئے ہیں۔ ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ اِن میزائلوں پر زیادہ بھروسا نہیں کیا جاسکتا اور ان میں ایندھن بھرنے میں بہت وقت لگتا ہے۔ پاکستان ۲۰۱۷ء میں ابابیل کو منظرِعام پر لایا جو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے۔ اِس میں بھی ایم آئی آر وی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ اِس میزائل کے ذریعے کئی وارہیڈز کو متعدد اہداف تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ یہ خصوصیت بالعموم بین البرِاعظمی بیلسٹک میزائلوں میں پائی جاتی ہے۔ ابابیل کی رینج ۲۲۰۰ کلومیٹر ہے مگر ایم آئی آر وی ٹیکنالوجی کا استعمال اِس بات کی طرف واضح اشارا ہے کہ پاکستان ایک طرف تو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے آگے بڑھ چکا ہے اور دوسری طرف اُس کی وار ڈاکٹرائن بھی تبدیل ہوچکی ہے۔ اب کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ پاکستان بین البرِاعظم بیلسٹک میزائل بہت آسانی سے تیار کرسکتا ہے۔
پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام دلانے میں چین نے مبینہ طور پر کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اِس سے علاقائی اور عالمی سطح پر تشویش کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ چین پاکستان کا فطری اور روایتی حلیف رہا ہے۔ اُس نے دفاعی صلاحیتوں کا گراف بلند کرنے میں پاکستان کی غیرمعمولی معاونت کی ہے۔ اُس نے میزائل پروگرام کا بنیادی ڈھانچا تیار کرنے میں پاکستان کی مدد کی اور کم فاصلے تک مار کرنے والے ایم۔۱۱ میزائل بھی پاکستان کو دیے۔ ساتھ ہی ساتھ اُس نے ٹھوس ایندھن کے معاملے میں بھی پاکستان کی تکنیکی معاونت کی ہے جس کے ذریعے ٹھوس ایندھن والے پروپلژن سسٹمز تیار کیے گئے ہیں۔ چین نے پاکستان کو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی بھی فراہم کی ہے جو نیویگیشن کے ساتھ ساتھ ری اینٹری وہیکل ٹارگیٹنگ کے لیے ناگزیر ہے۔
اب چین پر امریکا اور اُس کے حلیفوں کے حوالے سے غیرمعمولی دباؤ ہے۔ اسٹریٹجک مسابقت میں اضافہ ہونے سے چین کے لیے پاکستان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ امریکا اور اُس کے حلیفوں کا بھرپور انداز سے سامنا کرنے کے لیے چین کو ساتھی درکار ہیں۔ پاکستان اور چین ہر دور میں اور ہر طرح کے حالات میں ایک دوسرے کے سخت جان حلیف رہے ہیں۔ اب امریکا اور اُس کے ہم خیال ممالک کو کاؤنٹر کرنے کے لیے پاکستان کو مضبوط بنایا جارہا ہے۔ واشنگٹن کا سامنا کرنے کے لیے بیجنگ کو وسیع البنیاد حکمتِ عملی تیار کرنی ہے اور اِس معاملے میں وہ پاکستان کو مضبوط کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ امریکا اور اُس کے مغربی اتحادیوں کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ بیجنگ اب بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے خطے میں اپنے فٹ پرنٹ بڑھانے کے لیے مہم جُوئی کے سے انداز سے بہت کچھ کرسکتا ہے۔
اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بین البرِاعظمی بیلسٹک میزائل تیار کرنا بچوں کا کھیل نہیں۔ اِس کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کی بھی ضرورت پڑتی ہے اور لاگت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے اِس قسم کے میزائل تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ خاص طور پر ایسی حالت میں کہ جب کئی بڑی طاقتوں کی نظریں اُس پر ٹِکی ہوئی ہوں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ ہتھیاروں کی تیاری، راہنمائی کے نظام، متحرک لانچنگ پیڈ اور خطرات سے محفوظ بنیادی ڈھانچے کی لاگت کے حوالے سے جائزہ لیں تو بین البرِاعظمی بیلسٹک میزائلوں کا ایک سسٹم کم و بیش تین ارب ڈالر کا ہوگا۔ ہر میزائل یونٹ اپنی کنفیگریشن کے تناسب سے پانچ تا سات کروڑ ڈالر کا ہوگا۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول اور مینٹیننس کے اخراجات اِس کے علاوہ ہیں۔
پاکستان کو اِس وقت بھارت کی طرف سے بھی خطرات کا سامنا ہے اور امریکا بھی کسی بھی وقت اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر یا پھر اُن کے ذریعے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو نشانہ بناسکتا ہے۔ غیرمعمولی لاگت کے پیشِ نظر پاکستان کے لیے اِتنا مہنگا ڈیٹرنٹ تادیر رکھنا بہت مشکل ہے۔
پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور میزائل پروگرام کے حوالے سے جنہیں سب سے زیادہ تشویش لاحق ہے، اُن میں امریکا سرِفہرست ہے۔ اگر پاکستان بین البرِاعظمی بیلسٹک میزائل تیار کرتا ہے تو امریکا کے لیے نیشنل میزائل ڈیفنس سسٹم کے ڈھانچے پر نظرثانی ناگزیر ہوجائے گی۔ پاکستان کا میزائل پروگرام اگر ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہا تو بحرِ ہند و بحرالکاہل، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطّوں میں طاقت کا نیا توازن پیدا ہوگا۔
اگر امریکا نے یہ محسوس کیا کہ چین اور پاکستان کی طرف سے کوئی نیا، بڑا ملا جُلا خطرہ موجود ہے تو اُس کے لیے اِن خطوں میں موجود اپنے ہتھیاروں اور میزائل سسٹمز تھاڈ، خلائی سینسرز اور تباہ کن بحری جہازوں کو نئے سِرے سے ترتیب لازم ہو جائے گا۔
ہم اِس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے کہ جو کچھ اِس وقت ہو رہا ہے، اُس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی ایک ایسی دوڑ شروع ہوگی جو خطے کی بیشتر معیشتوں کے لیے انتہائی نوعیت کے اثرات کی حامل ہوگی اور اِس کے نتیجے میں کم و بیش ڈیڑھ ارب افراد کے بُرے مالی حالات مزید بُرے ہوجائیں گے۔
بھارت کے پاس اَگنی۔۵ میزائل موجود ہیں، جو ساڑھے پانچ تا آٹھ ہزار کلومیٹر تک مار کرسکتے ہیں۔ وہ اب ایم آئی آر وی ٹیکنالوجی کے ساتھ دس ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل اَگنی۔۶ کی آزمائش کر رہا ہے۔ پاکستانی میزائلوں کے ساتھ ساتھ چین کے DF-41 کلاس میزائلوں کے بڑھتے ہوئے ذخیرے کے پیشِ نظر بھارت کے لیے میزائل پروگرام پر دباؤ میں غیرمعمولی حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔
اگر علاقائی سطح پر کشیدگی میں اضافے کی رفتار یہی رہی تو ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی اور میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول ریجم (ایم ٹی سی آر) غیرمؤثر ہوتے چلے جائیں گے۔ پاکستان اور چین اِن میں سے کسی بھی معاہدے کے پابند نہیں۔
یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ پاکستان میں بین البرِاعظمی بیلسٹک میزائل ایک ایسے وقت تیار کیے جارہے ہیں جب عالمی سطح پر پُرانے اتحاد شکست و ریخت سے دوچار ہیں اور نئے اتحاد اُبھر رہے ہیں۔ طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ ڈھائی تین عشروں سے ایشیائی صدی کا غلغلہ رہا ہے اور اب طاقت ایشیا کی طرف کھسک رہی ہے۔
بھارت اور امریکا کے درمیان قربت بڑھ رہی ہے۔ بھارت اِس وقت QUAD اور INDUS-X جیسے فریم ورکز کا بھی حصہ ہے۔ ایسے میں اسلام آباد پر بھی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے حوالے سے بہت کچھ کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ کسی بھی علاقائی قوت کے خلاف بھرپور ڈیٹرنٹ تیار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اُسے عالمی طاقتوں کی طرف سے کی جانے والی کسی بھی مہم جُوئی کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار رہنا ہے۔
اگر پاکستان آنے والے برسوں میں بین البرِاعظمی بیلسٹک ایٹمی میزائل بنانے میں کامیاب ہوتا ہے اور انٹرنیشنل مانیٹرنگ اسٹیشنز سے اِس کی رینج کی بھی تصدیق ہو جاتی ہے تو جیو پولیٹکل فال آؤٹ تیز اور زیادہ ہوگا۔ امریکا اقتصادی پابندیاں عائد کرسکتا ہے، برآمدات روک سکتا ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر جارحانہ سفارت کاری کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ پاکستان کو عسکری طور پر بہت زیادہ مستحکم کرنے میں چین کا بلاواسطہ کردار رہا ہے تو پاکستان کی مشکلات میں خطرناک اور تشویش ناک حد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔
بین البرِاعظمی بیلسٹک ایٹمی میزائل تیار کرنے کے پاکستانی پروگرام کی کامیابی عالمی سطح پر میزائل ڈیفنس سسٹم کی تشکیلِ نو، نئے اتحادوں کی تشکیل اور میزائل ٹیکنالوجی کے عدم پھیلاؤ کے علم بردار اداروں کے ہاتھوں میں جنوبی نصف کُرّے میں میزائل ٹیکنالوجی پر شدید نوعیت کی پابندیوں کی راہ بھی ہموار کرسکتی ہے۔ اِس وقت دنیا خاموشی سے ایٹمی اُفق پر ایک نئے سائے کو اُبھرتا ہوا دیکھ رہی ہے۔ پاکستان کے میزائل پروگرام کی مکمل کامیابی صرف علاقائی سطح پر نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی طاقت کا توازن تبدیل کردے گی اور بڑی طاقتوں کے لیے معاملات بہت تشویش ناک ہوں گے۔
(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)
“Nuclear shockwave: Pakistan building ICBM that can strike U.S. with China’s help”. (“defencesecurityasia.com”. June 27, 2025)