نئے سال کا آغاز اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، بنیادی مسائل کی نشاندہی کی جائے اور یہ سوچا جائے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا قومی ایجنڈا تشکیل دیا جائے جس پر سیاسی اتفاقِ رائے قائم ہوسکے اور ملک کو پائیدار سیاسی اور معاشی استحکام کی راہ پر ڈالا جاسکے۔
سب سے پہلا کام حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کے ذریعے ایک پُرسکون اور پرامن سیاسی ماحول قائم کرنا ہونا چاہیے۔ منقسم اور شدید طور پر پولرائزڈ قوم کبھی مستحکم ملک نہیں بن سکتی۔ اگرچہ باہمی عدم اعتماد کے باعث یہ مشکل ہے، تاہم سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ مسلسل کشیدگی اور تصادم کو کم کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی صورتِ حال ملک میں بے یقینی اور انتشار پیدا کر رہی ہے۔
تحریک انصاف ایک ایسی حکومت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کر رہی ہے جسے وہ اب تک جائز نہیں مانتی۔ یہ ایک موقع ہے جو زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے سیاسی مفاہمت کی بات کی، ایک مثبت قدم ہے جسے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
حکومت نے وقتاً فوقتاً مذاکرات کی پیشکش تو کی ہے، مگر اس میں سنجیدگی کا فقدان رہا ہے۔ اکثر ایسی پیشکشوں کے ساتھ اپوزیشن کو شیطان صفت بنا کر پیش کرنے والی زبان بھی استعمال کی گئی۔ اس کے علاوہ پارلیمان کو محض ربر اسٹیمپ کے طور پر استعمال کرنا، آئینی ترامیم کو زبردستی منظور کرا کے عدلیہ کی خودمختاری کو کمزور کرنا اور اپوزیشن و اختلافِ رائے کے خلاف کریک ڈاؤن حکومت کے جمہوریت سے عدم احترام کو عیاں کرتا ہے۔
یقینا سب بڑا مسئلہ اسٹیبلشمنٹ ہے جو بظاہر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کے خیال سے ہم آہنگ نہیں۔ اس کی ترجیح یہی دکھائی دیتی ہے کہ حکومت اپوزیشن کو دباؤ میں رکھے۔ فوجی ترجمان کے حالیہ بیانات اور پریس کانفرنسز، جن میں تحریکِ انصاف کو نشانہ بنایا گیا، ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت ہیں، جو اِس بات کا اشارہ نہیں دیتے کہ اسٹیبلشمنٹ کے رویے میں نرمی آئی ہے۔
اپوزیشن معاشرے کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتی ہے اور اسے ملک بھر میں نمایاں انتخابی حمایت حاصل ہے۔ اسے سیاسی عمل سے باہر رکھنے یا دبانے کی کوششیں سیاسی استحکام پیدا نہیں کرتیں۔ یک طرفہ حکمرانی نہ صرف جمہوریت کو کمزور کرتی ہے بلکہ مؤثر طرزِ حکمرانی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ پاکستان کا وفاقی ڈھانچا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سیاسی نظام کو اشتراکی بنیادوں پر چلایا جائے، خاص طور پر اس لیے کہ مرکز کو اپوزیشن کی زیرِ قیادت صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوتا ہے، نہ کہ ان کے خلاف۔
معاشی بحالی یقینی طور پر قومی ایجنڈے میں سرفہرست ہونی چاہیے۔ اگرچہ حکومت نے آئی ایم ایف بیل آؤٹ اور دیگر بیرونی وسائل کی مدد سے میکرو اکنامک استحکام میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ہے، مگر یہ ایک قلیل مدتی فائدہ ہے جو غیرپائیدار عوامل پر مبنی ہے۔
قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور آئندہ پانچ برسوں میں تقریباً ۲۳؍ارب ڈالر کی بیرونی مالی ضروریات کے مقابلے میں زرِ مبادلہ کے ذخائر کم ہیں۔ ٹیکس نظام، اخراجات اور توانائی کے شعبے میں ساختی اصلاحات تاحال مؤثر طور پر نافذ نہیں ہو سکیں۔ پی آئی اے کی نجکاری ایک مثبت پیشرفت ہے، مگر دیگر خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
ابھی تک ایسا کوئی قابلِ اعتماد منصوبہ سامنے نہیں آیا جو پاکستان کو کمزور معاشی نمو، کم بچت و سرمایہ کاری، بلند خساروں اور بڑھتے قرضوں کے جال سے نکال سکے۔
سرمایہ کاری، بشمول غیرملکی سرمایہ کاری جمود کا شکار ہے۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ پاکستان کا موجودہ معاشی ماڈل کارآمد نہیں۔ قرضوں پر مبنی وقتی معاشی بہتری پائیدار نہیں ہوسکتی۔ جب تک یہ حکمتِ عملی تبدیل نہیں ہوتی، استحکام سے ترقی کی جانب سفر ممکن نہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ایک نیا معاشی منصوبہ تشکیل دینا ہوگا جو ساختی مسائل کو مؤخر کرنے کے بجائے حل کرے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے کمزور معاشی نمو کی ایماندارانہ تشخیص ناگزیر ہے۔
انسانی ترقی میں سرمایہ کاری کو قومی ایجنڈے میں اعلیٰ ترجیح ملنی چاہیے، مگر ایسا نہیں ہو رہا، حالانکہ ملک کی ترقی کے امکانات انسانی سرمائے میں کم سرمایہ کاری کے باعث شدید طور پر محدود ہو چکے ہیں۔
آج پاکستان ایک سنگین انسانی ترقی کے بحران سے دوچار ہے، جس کا اظہار خواندگی، تعلیم، صحت، غربت اور صنفی عدم مساوات سمیت تقریباً تمام اشاریوں میں بگاڑ کی صورت میں ہو رہا ہے۔ ۲۰ملین سے زائد بچوں کا اسکول سے باہر ہونا ایک قومی المیہ ہے۔ خواندگی کی شرح ۶۰ فیصد پر جمود کا شکار ہے، یعنی ۴۰ فیصد آبادی ناخواندہ ہے اور اس سطح کی ناخواندگی کے ساتھ معاشی ترقی ممکن نہیں۔
غربت کی شرح بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے اور عالمی بینک کے مطابق یہ ۴۴ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ صحت کے اشاریے بھی جنوبی ایشیا کے بدترین اعداد و شمار میں شامل ہیں۔ غذائی قلت اور غربت کا ایک سنگین نتیجہ بچوں میں قد کی کمی ہے، جہاں پانچ سال سے کم عمر تقریباً ۴۰ فیصد بچے اس مسئلے کا شکار ہیں۔
آبادی میں بے قابو اضافہ اور اس اہم مسئلے پر حکومتی عدم توجہی انسانی ترقی کے بحران کو مزید سنگین کر رہی ہے۔ سالانہ تقریباً ۵ء۲ فیصد آبادی بڑھنے کا مطلب ہے کہ ہر سال قریباً ۶۰ لاکھ بچے آبادی میں شامل ہو رہے ہیں، جو وسائل، انفرااسٹرکچر، روزگار، صحت اور تعلیم پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔
آبادی پر قابو پانے کی پالیسیاں فوری طور پر درکار ہیں۔ خطے کے تقریباً تمام ممالک نے خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسیاں کامیابی سے نافذ کی ہیں، مگر پاکستان اب تک ناکام رہا ہے۔ اگر جامع آبادی کنٹرول پالیسی نہ اپنائی گئی تو ملک ایک بڑے آبادیاتی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں اَن پڑھ اور بے روزگار نوجوان سماجی و سیاسی عدم استحکام کو جنم دیں گے۔
دہشت گردی اور شدت پسندی سے نمٹنا بھی فوری ترجیح ہونی چاہیے۔ گزشتہ برس شدت پسند تشدد میں اضافہ ہوا اور دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتیں ایک دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی درکار ہے جس میں محض فوجی کارروائیوں پر انحصار نہ ہو بلکہ سماجی، معاشی اور سیاسی اقدامات اور مقامی برادری کی شمولیت بھی شامل ہو۔
یہ تمام چیلنجز سیاسی قیادت کے لیے ایک کڑا امتحان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے تنگ نظری پر مبنی مفادات سے بالاتر ہو کر ان مسائل سے نمٹ سکیں گے جو ملک کے مستقبل کا تعین کریں گے؟
“A national agenda for 2026.”
(Daily “Dawn” Karachi. January 5, 2026)