غزہ میں خوراک کی تقسیم کے نام نہاد نظام کو مسلط کرنے اور بھوک و پیاس سے بے حال غذائی امداد کے منتظر عوام کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہوئے نیتن یاہو کے شاطرانہ ذہن نے ایک اور بوتل کا ڈھکن کھولا ہے۔ اس میں سے ایک بظاہر نیا لیکن بہت پرانا جن برآمد کیا ہے۔ صہیونیت سے کسی نیکی کی توقع کرنا فضول ہے۔ نیتن یاہو نے نسل کشی جاری رکھنے اور خود کو انسانیت کے خلاف براہ راست جرائم کے ارتکاب کا ذمہ دار ٹھہرائے جانے سے بچنے کے لیے غزہ میں ایک تیسری قوت متعارف کرا دی ہے۔
اس قوت کو ’’انسدادِ مزاحمتِ فلسطین‘‘ کا شیطانی نام دیا گیا ہے۔ اس قوت کو اسرائیلی فوج نے ہلکے ہتھیاروں سے مسلح کیا ہے۔ اس میں غزہ سے ہی تعلق رکھنے والے اسٹریٹ جرائم کے مرتکب، جنگی جرائم میں مطلوب اور زندگی کو مختلف طرح سے تباہ کرنے والے افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ ان عوام کو بھی شامل کیا گیا ہے جو حماس کی مخالفت میں بدنام سمجھے جاتے تھے۔
اس بارے میں ایک رپورٹ اقبال جسات نے مرتب کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قوت یا سبوتاژ فورس کو سمجھنے کے لیے جنوبی افریقا کی نسل پرست انتظامیہ کے ماضی کی طرف جانا ہوگا۔ اس میں بھی اسی طرح کے جرائم کا پس منظر رکھنے والے افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ یہ فورس ۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء کے عشروں تک جنوبی افریقا میں سرگرم رہی تھی۔ یہ جنوبی افریقا کی نسل پرست انتظامیہ کی تھرڈ فورس تھی۔ اس میں قتل و غارت، لوٹ مار اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے الگ الگ اسکواڈ بنائے گئے تھے۔
اس قدر الگ مثال سے زیادہ قربت کی مثالیں خود صہیونیت کے اپنے ماضی میں موجود ہیں۔ اسرائیل کی ناجائز اور غیرقانونی ریاست کے قیام سے ذرا پہلے صہیونیت کے دہشت گرد گروہ سرگرم تھے۔ ان میں کچھ گروہ وہ تھے جنہیں خود صہیونیت نے تیار اور منظم کیا تھا۔ اس وقت برطانیہ کو مشرق وسطیٰ کے اہم حصوں پر مینڈیٹ حاصل تھا۔ اس نے بعض گروہ تیار کیے تھے۔ بعض مغربی قوتوں نے بھی سبوتاژ کرنے کے گروہ بنا رکھے تھے۔ ان سب کا مقصد ایک اور ٹارگٹ مختلف تھے۔ ان کا مقصد اس وقت کے فلسطین سے عرب آبادی کو توڑنا، فرار ہونے پر مجبور کرنا اور فلسطینی زندگی کو بے ترتیب کرنا تھا۔ ہم یہاں چند ایسے ہی گروہوں کا تذکرہ کریں گے تاکہ نیتن یاہو کے شیطانی ذہن نے تھرڈ فورس کے عنوان سے جو کچھ کیا ہے، اسے سمجھا جاسکے۔
دی ہگانہ گینگ (The Hagana Gang)
ڈیوڈ بن گوریان اور آئزک بن زوی نے ہاشومر (Hashomar) یا گارڈین کے عنوان سے ایک نیم فوجی تنظیم قائم کی تھی۔ اس کا نعرہ تھا: آگ اور خون نے جودیہ (مغربی کنارے کا علاقہ) ہم سے چھین لیا۔ ہم آگ اور خون سے ہی اسے واپس لیں گے۔ اس گروہ نے الجلیلی (Galilee) کی یہودی بستی کو اپنا مرکز بنایا۔ یہ بات واضح رہے کہ برطانوی مینڈیٹ کے زیر سایہ نوآبادیاتی یہودی آبادکاری جاری تھی۔ دوسرے ممالک سے یہودیوں کو لاکر اس ’’بستی‘‘ اور دیگر مقامات پر آباد اور وہاں سے فلسطینیوں کو بے دخل کیا جانا تھا جس طرح مغربی کنارے میں آج انہیں آباد اور وہاں سے مقامی فلسطینیوں کو نکالا جاتا ہے۔
جون ۱۹۲۰ء میں Ahdut ha Avodah کانفرنس کے انعقاد پر ہگانہ گروپ کی تشکیل کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ یہ گروپ تب ہاشومر کا تسلسل کہا گیا۔ اس گینگ نے ۱۹۲۴ء میں اپنے دستور کا اعلان کیا۔ اس کے مطابق یہ گینگ ایک خفیہ فوج کے قیام کا آغاز تھا۔ فلسطین میں تب یہودیوں کو اجتماعی شکل دینے کے لیے یشوو (Yishuv) کا نام دیا گیا تھا۔ ہگانہ کا تعلق یہودی لیبر یونینز سے جوڑا گیا۔ اس کے ارکان کو اسلحہ استعمال کرنے کی فوجی تربیت دی گئی۔ یہ تربیت یہودی بستیوں اور ان کے لیے قائم خصوصی (Kibbutz) میں دی جاتی تھی۔
دوسری جنگ عظیم میں اس گینگ کو برطانوی فوج کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ یہ گینگ جنگ کے خاتمے پر یہودی ریاست کے قیام سے منسلک کردیا گیا۔ اس وقت تک کسی یہودی ریاست کا وجود تھا اور نہ ہی اس کا تصور موجود تھا۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس کے ارکان کی تعداد ۶۰ ہزار اور اس کے افسران کی تعداد ۷۰۰ سے زیادہ ہوگئی۔
دی ارگون (ایتزل) گینگ [The Irgun (Itazel) Gang]
۱۹۲۳ء میں صہیونیت میں ایک الگ طبقہ سامنے آیا۔ اس کی قیادت ولادی میر جیبٹ ٹینسکی (Jabottensky) کر رہے تھے۔ یہ گروہ یا گینگ لٹویا (تب سوویت یونین) میں اس کے دارالحکومت ریگا میں قائم کیا گیا۔ جلد ہی فلسطین میں بھی ارگون قائم کردیا گیا۔ یہ نیشنل ملٹری آرگنائزیشن کے نام سے متعارف کرایا گیا۔ اس کا سربراہ ایوراھم تہومی کو بنایا گیا۔ اس نے کہا کہ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے دہشت گردی ضروری ہے۔
۱۹۴۲ء میں میناھم بیگن (بعد کے وزیراعظم اسرائیل) نے گروپ کی کمان سنبھالی۔ اس گروہ یا گینگ نے درپردہ سازش کے تحت ملی بھگت اور برطانیہ کی اجازت سے برطانوی مینڈیٹ سے بغاوت کا اعلان کردیا۔ اس کے بعد گروہ نے دہشت گردی سے فلسطینی زندگی کو سبوتاژ کرنا شروع کردیا۔
دی اسٹرن گینگ (The Stern Gang) یہ گینگ ارگون سے ٹوٹے ہوئے دہشت گردوں نے مل کر بنایا۔ اس کا بانی یوراہم اسٹرن تھا۔ اس کا کوڈ نام یائر (Yair) تھا۔
دی لیحی گینگ (The Lehi Gang)
برطانوی پولیس نے ۱۲؍فروری ۱۹۴۲ء کو ایوراہان اسٹرن کو قتل کردیا۔ اس کے ساتھیوں نے نیا گینگ بنا لیا جس کا نام لیحی گینگ رکھا گیا۔
جنوبی افریقا میں جس طرز پر گینگ تشکیل دیے جاتے تھے، ان کا یوں بھی ہوا کہ ایک گینگ کے دو گرفتار ارکان نے ’ڈیلی میل‘ کے رپورٹر کو بتایا کہ کس طرح لوٹ مار، قتل و غارت کے لیے ان کا حوصلہ بڑھایا جاتا، انہیں جدید ہتھیار فراہم کیے جاتے، انہیں باقاعدہ تربیت دی جاتی اور متشدد سرگرمیوں میں شریک ہونے کے طریقے بتائے جاتے۔ پھر ان کے ٹارگٹ مقرر کرکے ان سے کارکردگی رپورٹ لی جاتی تھی۔
غزہ میں بھی اسی طرز پر گینگ بنائے جاتے ہیں۔ ان کا خصوصی ہدف یہ ہوتا ہے کہ انہیں حماس کے ارکان کو ڈھونڈ کر انہیں قتل کرنا ہے تاکہ ان کو دیکھ کر عام فلسطینی عبرت پکڑے۔ اس طریقہ کار پر فوج کے یونٹ عمل کراتے اور خود نگرانی کرتے ہیں۔ حماس نے اسی طرح کے ایک گروہ کے ۴۰؍ارکان کو تلاش کیا۔ ان میں سے بعض کے ساتھ باقاعدہ آمنا سامنا ہوا۔ ان سب کا آخرکار خاتمہ کیا گیا ہے۔
صحافیوں نے غزہ میں ایسے گینگ اپنی رپورٹوں میں نہ صرف بیان کیے بلکہ یہ بات ثابت ہوئی کہ ان کو صہیونی قابض فوج تشدد کرنے، مارپیٹ اور قتل و غارت کی تربیت دیتی ہے۔ یہ لوگ نیتن یاہو کی تھرڈ فورس کا حصہ بنتے اور فوج کو کارکردگی رپورٹ بھی دیتے ہیں۔
ان گینگز کے بنانے میں صہیونیت کی تاریخ ان کے کام آتی ہے۔ ان سے فلسطینیوں کی نسل کشی کا کام بھی لیا جاتا ہے اور یہ حماس کے خلاف بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے نیتن یاہو کو صحافیوں کے تند و تیز سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
نیتن یاہو اور جوبائیڈن اور اب ڈونلڈ ٹرمپ حماس کے خاتمے کو پوری مشینری کے باوجود یقینی نہ بناسکے۔ وہ ان سرگرمیوں میں سرپرستی کرنے کے الزامات سے دامن نہ چھڑا سکے۔ اس طرح کے گینگ بنا کر وہ براہ راست انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے الزامات کی زد میں آنے سے خود کو بچاتے آئے ہیں۔ ان گینگز کو صحافی Gangs of Thugs کا نام دیتے ہیں۔ ان گینگ میں سے ہی ایک یاسر ابوشہاب کی قیادت میں سرگرم رہا۔ اس کا تعلق محمود عباس صدر فلسطینی اتھارٹی گروپ سے رہا۔
ان کے علاوہ نیتن یاہو کابینہ کے موجودہ اور سابق ارکان حماس اور دیگر مزاحمتی گروہوں کے خلاف کام کرتے ہیں۔ سابق وزیر دفاع لائبرمین حزب اختلاف کی جماعت یسرائیل بیتینو پارٹی کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے نیتن یاہو کی طرف سے یاسر ابو شہاب گینگ کو اسلحہ منتقلی پر شدید احتجاج بھی کیا تھا۔
اس طرح کے گروہ غذائی امداد لوٹنے اور اس کے الزام میں مزاحمتی گروہوں بالخصوص حماس کو بدنام کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ غذائی امداد سے فلسطینیوں کو محروم کرکے بھوک اور پیاس کو انہی کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر یہ گروپ استعمال کرتے ہیں۔ ان کو قابض صہیونی حکومت، فوج کا کمان اینڈ کنٹرول سرپرستی اور تحفظ دیتا ہے۔ اس طرح کے گینگز کے ارکان کئی مواقع پر اسرائیلی فوج کی وردیوں میں بھی نظر آتے ہیں۔
حماس کو علم ہے کہ نیتن یاہو اس کے خلاف اس طرح کے گندے ہتھکنڈے بے دریغ استعمال کر رہا ہے۔ حماس نے ۳۰ مئی کو ایک ویڈیو جاری کی جس میں دکھایا گیا تھا کہ یہ افراد کس طرح سے حماس کا نام لے کر ایسی کارروائیاں کرتے ہیں جو حماس نے زندگی بھر نہیں کیں۔ حماس نے وڈیو میں بتایا کہ کس طرح سے یہ گینگ اسرائیل کی قابض فوج کی نگرانی میں سرگرم ہیں۔
اب تو یہ بات غزہ میں عام ہے کہ اس طرح کے گینگ زیر زمین کام کر رہے ہیں، ان سے بچا جائے۔ حماس مخالف بعض قبائل کے لوگوں کو بطور خاص ان سرگرمیوں میں ملوث دیکھا جارہا ہے۔
(بحوالہ: ماہنامہ ’’براہِ راست‘‘ لاہور۔ جولائی ۲۰۲۵ء)