بھارتی مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندوں کا متعصبانہ رویہ

ہر صبح آٹھ بجے احمد حَسن اپنی ڈرائی کلیننگ کی دکان کا شٹر اٹھاتے ہیں، یہ دکان ننداکِنی ندی کے کنارے واقع ہے۔ یہ ندی بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے دور دراز ہمالیائی قصبے نندا نگر سے گزرتی ہے۔ احمد صاف ستھرے کپڑوں کو پلاسٹک کے کور میں لپیٹ کر دکان کی گلابی دیواروں پر قرینے سے ٹانگ دیتے ہیں پھر ۴۹ سالہ احمد حسن گاہکوں کا انتظار کرتے ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر تک احمد حسن کی دکان پر دوپہر تک ۲۰ سے ۲۵ گاہک آجاتے تھے جو اپنی شیروانیاں، سوٹ، کوٹ، پینٹ اور جاڑے کے کپڑے چھوڑ جاتے تھے۔ کچھ لوگ اُن کے ساتھ چائے پیتے ہوئے بات چیت کرتے اور اپنے دُکھ سکھ بانٹتے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر گاہک ہندو ہوتے تھے اور کچھ مسلمان۔

مگر اس دن دوپہر تک صرف پانچ ہندو گاہک اُن کی دکان پر آئے اور وہ جانتے تھے کہ کسی مسلمان گاہک کا انتظار کرنا بیکار ہے کیونکہ حسن اب اس شہر کے آخری مسلمان مرد ہیں۔

نندا نگر کئی نسلوں سے ۱۵؍مسلم خاندانوں کا گھر رہا ہے۔ حسن بھی یہیں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے، جہاں اُن کے خاندان کو ہندو تہواروں کی دعوتیں ملا کرتی تھیں اور وہ عید پر اپنے ہندو پڑوسیوں کی میزبانی کرتے تھے۔ اُنہوں نے ہندو جنازوں کے لیے لکڑیاں جمع کیں اور اپنے ہندو دوستوں کے جنازے اپنے کندھوں پر اٹھائے۔ لیکن یہ سب کچھ گزشتہ ستمبر میں بدل گیا جب ایک ہندو لڑکی کی طرف سے جنسی ہراسانی کا الزام لگنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف پُرتشدد کارروائیاں شروع ہوگئیں۔ اگرچہ یہ واقعہ ایک الزام سے شروع ہوا لیکن حسن کو معلوم تھا کہ اقلیتوں کے خلاف نفرت کا یہ رجحان دراصل کورونا وائرس کے بعد سے مسلسل بڑھ رہا تھا۔ نفرت انگیز نعرے اور جلوس بالآخر مسلمانوں پر جسمانی حملوں میں بدل گئے اور ان کی دکانیں تباہ کر دی گئیں۔ اپنی جان بچانے کے لیے شہر کی چھوٹی سی مسلمان آبادی رات کی تاریکی میں بھاگنے پر مجبور ہوگئی۔ صرف حسن ہی تھے جو اپنی اہلیہ، دو بیٹیوں اور دو بیٹوں کے ساتھ نندا نگر واپس آئے۔ وہ پُرعزم تھے کہ وہ اس جگہ جسے وہ اپنا گھر سمجھتے ہیں، زندگی گزارنے کا راستہ نکال لیں گے۔ لیکن اب اُن کا خاندان خوف کے سائے میں زندگی گزار رہا ہے۔

اُن کے ہندو پڑوسی اُن سے بات تک نہیں کرتے، حسن اب شام کو دریا کے کنارے سیر کے لیے نہیں جاتے جیسے وہ پہلے روزانہ جایا کرتے تھے۔ وہ اپنی بیوی اور بچوں کو بھی کسی سے ملنے نہیں دیتے اور اُنہیں ہر وقت دوبارہ ہنگامے پھوٹ پڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔

حسن کہتے ہیں کہ ’میں بس دکان پر جاتا ہوں اور واپس گھر آجاتا ہوں۔ یہی اب ہماری زندگی ہے، اپنی ساری زندگی اس شہر میں گزارنے کے بعد اب میں خود کو بھٹکتی ہوئی ایک روح محسوس کرتا ہوں، جیسے میں موجود ہی نہیں ہوں۔ کوئی مجھ سے بات بھی نہیں کرتا‘۔

نندا نگر بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سے ۱۰؍گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ قصبہ بھارت اور چین کی سرحد کے قریب ننداکنی دریا کی شاخوں کے سنگم پر بسا ہوا ہے اور اس کی آبادی تقریباً ۲ ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ ننداکنی دریا گنگا کی ۶ شاخوں میں سے ایک ہے اور ہندوؤں کے نزدیک مقدس سمجھا جاتا ہے۔

۱۹۷۵ء میں جب حسن کے دادا قریبی ریاست اُترپردیش کے ضلع بجنور کے شہر نجیب آباد سے ہجرت کرکے یہاں آئے تو اُن کا خاندان اسی قصبے میں آباد ہوگیا۔

حسن یاد کرتے ہیں کہ زندگی بہت پُرسکون تھی، یہاں تک کہ ۲۰۲۱ء آگیا۔ کورونا وائرس کی وبا کے دوران بھارت بھر میں مسلمانوں کو بدنام کیا گیا۔ ہندو انتہا پسند گروہوں نے سازشی نظریات پھیلائے جن میں مسلمانوں پر الزام لگایا گیا کہ وہ جان بوجھ کر اپنے مذہبی اجتماعات کے ذریعے وائرس پھیلا رہے ہیں۔ ان انتہا پسندوں نے اسے ’کورونا جہاد‘ کا نام دیا۔

اچانک حسن کو محسوس ہوا کہ اُن کے ہندو دوست دور ہوتے جارہے ہیں۔ حسن نے بتایا کہ ’کورونا سے پہلے عید کے موقع پر ہمارے گھر بہت سے لوگ آیا کرتے تھے اور دیوالی پر ہمیں دوستوں سے بہت سی دعوتیں ملا کرتی تھیں لیکن کورونا کے بعد یہ سب ختم ہو گیا‘۔

یکم ستمبر ۲۰۲۴ء کے واقعات ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئے۔ اس سے ایک ہفتہ پہلے ۲۲؍اگست کو ایک نوجوان ہندو طالبہ نے ایک مسلمان حجام محمد عارف پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا۔ یہ الزام لگتے ہی عارف جلد ہی قصبہ چھوڑ کر چلا گیا۔

یکم ستمبر کو قصبے کے دکانداروں کی انجمن نے ایک احتجاجی ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا تاکہ طالبہ کے ساتھ مبینہ ہراسانی کی مذمت کی جائے اور پولیس سے کارروائی کا مطالبہ کیا جاسکے۔ حسن قصبے کے دیگر مسلمانوں کے ساتھ اس احتجاج میں شامل ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ہم احتجاج میں اس لیے گئے کیونکہ اگر نہ جاتے تو ہندو الزام لگاتے کہ ہم مسلمانوں کے جرائم کی حمایت کررہے ہیں۔ مگر جلد ہی مجمع نے مسلم مخالف نعرے لگانے شروع کر دیے اور تشدد کی دھمکیاں دینے لگا۔ جب ہم مظاہرین کے ساتھ چل رہے تھے تو یہ نعرے لگے کہ ’ملوں کے دلالوں کو۔۔۔ جوتے مارو سالوں کو‘۔

جب ریلی نندا نگر کے تھانے کے قریب پہنچی تو مظاہرین کے ایک گروہ نے ایک ۳۰ سالہ مسلمان شخص ہارون انصاری کو پکڑ لیا اور اسے مارنے لگے۔ حسن کا کہنا ہے کہ کئی ہندوؤں نے ہارون پر تشدد کو اس بنیاد پر جائز قرار دیا کہ مبینہ ملزم عارف کو فرار ہونے میں قصبے کے مسلمانوں نے مدد دی تھی۔

حملے کے بعد ہارون انصاری نجیب آباد منتقل ہوگئے، ہم سے فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اُن کے سر پر کئی چوٹیں آئیں، ’مجھے بس یہ یاد ہے کہ ہجوم نے مجھے گھسیٹنا شروع کیا، اس کے بعد مجھے کچھ بھی نظر نہیں آیا‘۔

جب ہارون انصاری کو مارا گیا تو حسن سمیت تمام مسلمان مظاہرے سے بھاگ کر اپنے گھروں میں چھپ گئے اور دروازے بند کر لیے جس کے بعد سیکڑوں افراد پر مشتمل ایک ہجوم آیا اور ان کے گھروں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔

حسن کے مطابق مسلمان خاندان بار بار پولیس کو فون کرتے رہے تاکہ مدد مل سکے۔ ’لیکن کوئی بھی نہیں آیا‘۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ہندو دوستوں کو بھی فون کیا، ’مگر وہ میری کال تک نہیں اٹھا رہے تھے‘۔

مسلمان خاندان اس وقت تک گھروں میں ہی بند رہے جب تک ہجوم شام دیر گئے وہاں سے چلا نہ گیا۔ اُسی رات جب گھڑی نے آدھی رات کے بعد کا وقت دکھایا حسن چپکے سے اپنے گھر کے سامنے واقع دکان کی طرف گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ دکان کا شٹر ٹوٹا اور مڑا ہوا تھا۔ ڈرائی کلین کیے گئے کپڑے سڑک پربکھرے ہوئے تھے، کاؤنٹر جو ایک مضبوط لکڑی کی میز تھی اور جس کے اندر ایک دراز میں ۴ لاکھ روپے کی جمع پونجی رکھی تھی، مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھی اور رقم چوری ہوچکی تھی۔ یہ پیسے انہوں نے اپنے بچوں کی شادیوں کے لیے جمع کیے تھے۔

دکان کی ’’دی حسن ڈرائی کلینر‘‘ کے نام کی تختی کے ٹکڑے ننداکنی دریا کے کنارے بکھرے پڑے تھے۔ حسن نے ’الجزیرہ‘ کو اپنی تباہ شدہ دکان کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ ’میں اُس دن کو کبھی نہیں بھول سکتا‘۔

۲ ستمبر کو ہندو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے ایک اور بڑا احتجاج منظم کیا گیا، جس میں دیگر شہروں کے لوگوں کو بھی نندانگر آنے کی دعوت دی گئی۔ ہزاروں افراد جمع تھے جب کہ صرف ۶۰ یا ۷۰ پولیس والے موجود تھے۔

ایک معروف ہندو انتہا پسند رہنما درشن بھارتی جو مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے لیے جانا جاتا ہے، اُس دن نندا نگر آیا۔ حسن نے بتایا کہ اُس کی تقریر کے بعد ’ہجوم نے بپھر کر ہماری املاک کو تباہ کر دیا‘۔ انہوں نے ایک عارضی مسجد کو مسمار کر دیا اور ایک مسلمان کی گاڑی کو دریا میں پھینک دیا۔ بھارتی حکام نے ’الجزیرہ‘ کی جانب سے نندا نگر کے دورے اور اس کے بعد ہونے والے تشدد پر کیے گئے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

حسن نے بتایا ’شہر کے تمام مسلمان خاندان میرے گھر کی بالائی منزل پر چھپ گئے تھے اور ہجوم گھر پر پتھر برسا رہا تھا۔ آج بھی وہ دن یاد کرکے بدن میں کپکپی آجاتی ہے‘۔ اُن کے گھر پر لوہے کی جالیاں اور لوہے کا دروازہ نصب تھا جو دوسرے گھروں کے مقابلے میں نسبتاً محفوظ تھا، اسی لیے سب نے وہیں پناہ لی۔

عارف، وہ حجام جس پر جنسی ہراسانی کا الزام لگا تھا، اُسی دن اُتر پردیش سے گرفتار ہوگیا، عارف کو ایک ہفتے کے لیے پولیس کی تحویل میں دیا گیا اور بعد میں اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا، تاہم پولیس نے مسلمان خاندانوں کو آگاہ کیا کہ وہ اب اُن کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لے سکتی۔ رات کے اندھیرے میں پولیس اہلکاروں نے اُنہیں گاڑیوں میں بٹھایا اور ایک قریبی شہر میں چھوڑ دیا۔

زیادہ تر مسلمان خاندانوں کے لیے نندا نگر میں زندگی کا باب ختم ہوگیا تھا۔ لیکن حسن کے لیے نہیں۔ حسن نے کہا کہ ’یہ میرا گھر ہے۔ میری پیدائش، میری پرورش، میری زندگی کا ہر پہلو، میری شناخت تک سب کچھ اتراکھنڈ سے جڑا ہوا ہے، میرا پورا خاندان اتراکھنڈ میں رہتا ہے، اب میں کہاں جاؤں؟‘

پولیس نے انہیں ایک قریبی قصبے میں چھوڑا جہاں سے حسن اور ان کا خاندان ریاستی دارالحکومت دہرادون پہنچا جو نندا نگر سے ۲۶۶ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ چند دن بعد دہرادون میں حسن اور محمد ایّوب (عمر ۴۸ سال)، جو کہ نندا نگر سے ہی تھے، نے ۲۶ ستمبر کو اُتراکھنڈ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور تحفظ کی اپیل کی۔

ہائی کورٹ نے ضلع چمولی کے ایس ایس پی کو حکم دیا کہ وہ قانون کی مکمل عملداری کو یقینی بنائیں اور کسی مخصوص برادری کو نشانہ بنانے کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

حسن کے مطابق ’جب ہائی کورٹ نے ہمیں تحفظ دیا تو میں نے سوچا کہ اب میں نندا نگر واپس جاسکتا ہوں، لیکن کوئی اور مسلمان خاندان خوف کی وجہ سے میرے ساتھ چلنے کو تیار نہ تھا‘۔

حسن کا بھائی نندا نگر میں ایک سیلون چلاتا تھا۔ لیکن اُس کے مالک مکان نے دھمکی دی کہ اگر اُس نے دکان خالی نہ کی تو اُس کا سامان باہر پھینک دیا جائے گا۔ حسن کہتے ہیں کہ اُن کے کچھ رشتہ دار جو چمولی کے بڑے قصبے گوپیشور میں رہتے ہیں، اُنہوں نے بھی ان کے خاندان کی کوئی مدد نہیں کی۔

’بہت سوچ بچار کے بعد، میں نے واپس جانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ میرا سب کچھ، گھر اور دکان نندا نگر ہی میں ہے‘۔

حسن نے مزید کہا کہ اُن کی اہلیہ اُن سے زیادہ بہادر نکلیں اور وہ بچوں کو لے کر پہلے نندا نگر گئیں۔ خوف کے باوجود انہوں نے حسن سے کہا کہ اگر ہم واپس نہ گئے تو اپنا روزگار کھو بیٹھیں گے۔ تاہم، اُن کا خاندان اب بھی ایک مشکل فیصلے کا سامنا کر رہا تھا۔ حسن نے سوچا کہ وہ اپنی بڑی بیٹی جو چار بچوں میں سب سے بڑی ہے، اس کی اسکولنگ مکمل ہونے کے بعد خاندان کو دہرادون منتقل کر دیں، لیکن اُن کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ اگر وہ کسی اور جگہ گئے تو مقامی لوگ اُن کا گھر اور دکان ہڑپ لیں گے۔

بالآخر حسن ۱۶؍اکتوبر کو نندا نگر واپس پہنچے، تو دیکھا کہ ایک ہندو شخص نے اُن کی دکان کے سامنے ہی ایک نئی ڈرائی کلیننگ کی دکان کھول لی ہے۔

حسن نے اپنی دکان کی مرمت کروانے کی کوشش کی، لیکن کوئی بھی ہندو مزدور مدد کے لیے تیار نہ ہوا۔ ’یہ مسلمانوں کا مکمل بائیکاٹ تھا‘۔ حسن کے مطابق ’انہوں نے اتنا خوف پھیلا دیا ہے کہ کوئی مزدور ہماری دکان کی مرمت تک کرنے کو تیار نہیں۔ مزدوروں نے بتایا کہ اُنہیں ہندوتوا گروہوں کی جانب سے ہدایت ملی ہے کہ مسلمانوں کی مدد نہ کی جائے‘۔

بالآخر حسن نے خود ہی دکان کی مرمت کی اور اُسے کھولا، لیکن کوئی گاہک نہیں آیا۔ انہوں نے اپنے پرانے ہندو گاہکوں کو فون کیے، مگر انہوں نے آنے سے انکار کر دیا۔ حسن کے مطابق جو کوئی آتا، اُسے ’ہندوتوا کے غنڈے‘ دھمکا دیتے اور کہتے کہ وہ ہندو کلینر کے پاس جائے۔ حسن نے بتایا کہ ’اُس دن مجھے اندازہ ہوا کہ اب ڈرائی کلیننگ کا بھی مذہب ہوتا ہے‘۔

حسن کا خاندان بھی نئے نندانگر میں سخت حالات سے گزر رہا ہے، ایک ایسا نندا نگر جہاں اُن کے مذہب نے اُنہیں سب سے مختلف بنا دیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اُن کی ۱۶؍سالہ بڑی بیٹی کو اسکول میں صرف اس لیے تنگ کیا گیا کہ وہ مسلمان ہے۔ اُس کی ایک ہم جماعت نے یہاں تک کہہ دیا کہ اُسے اسکول سے نکال دینا چاہیے، کیونکہ وہ مسلمان ہے۔ یہ سب اُس وقت رکا جب پرنسپل کو شکایت کی گئی۔

حسن اور اُن تمام مسلمانوں کے لیے جو نندانگر سے ہجرت کرگئے تھے، انصاف اب بھی دور ہے۔ یکم ستمبر کے حملے کے بعد اُتراکھنڈ پولیس نے نندانگر تھانے کے انچارج سنجے سنگھ نیگی کی مشاہدات پر مبنی ایک باقاعدہ شکایت درج کی ہے، وہ مشاہدات کچھ یوں ہیں:

’میں نے دیکھا کہ ۲۵۰ سے ۳۰۰ لوگ ایک مخصوص برادری کے خلاف زور زور سے گالیاں دے رہے تھے۔ جب میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے مجھے دھکا دے کر پیچھے کر دیا۔ پھر میں نے اپنے اعلیٰ افسران کو فون کیا اور اضافی پولیس فورس کی درخواست کی، اُس کے بعد ہجوم نے مسلمانوں کی دکانوں اور ایک مسجد کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا۔

’مشتعل ہجوم ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنا رہا تھا، جس کی وجہ سے اُن گھروں کی عورتیں اور بچے خوف سے چیخنے لگے، ہجوم کے پاس لاٹھیاں، بیلچے اور لوہے کی سلاخیں تھیں‘۔

اس رپورٹ کے باوجود اُتراکھنڈ پولیس نے اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا۔ ’الجزیرہ‘ نے ضلع چمولی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سرویش پنوار سے رابطہ کی کوشش کی لیکن جواب نہیں ملا۔

کئی پہلوؤں سے دیکھا جائے تو نندا نگر، اُتراکھنڈ ریاست میں آنے والی اُس بڑی تبدیلی کی ایک جھلک ہے جس میں نفرت اور تعصب نے جڑیں مضبوط کرلی ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے دور حکومت میں ریاست کے مختلف شہروں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم اور امتیازی سلوک میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک کے بعد ایک قصبوں میں ہندو انتہا پسند گروہوں نے مسلمانوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرنے کی مہمات چلائیں اور کئی جگہوں پر یہ مہم کامیاب بھی ہوئیں۔

مسلمانوں کی دکانوں کو لوٹا یا جلا دیا جاتا ہے۔ غیرعلانیہ معاشی بائیکاٹ کیا جاتا ہے اور اکثر اوقات مسلمانوں کو جسمانی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ حال ہی میں دھامی حکومت نے یونیفارم سول کوڈ (UCC) کے قواعد لاگو کیے ہیں جن کے تحت مسلمانوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کو مذہبی بنیادوں پر ذاتی قوانین پر عمل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

عدالتیں کئی مواقع پر مداخلت کرچکی ہیں لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں مزید کچھ کرنا ہوگا۔ دہرادون میں مقیم سماجی کارکن خورشید احمد جنہوں نے حسن کو ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے میں مدد کی، کہتے ہیں کہ ’ہمارے ملک کی عدالتیں اس ظلم کی شدت کو نہیں سمجھتیں جس کا سامنا آج کل مسلمان کر رہے ہیں۔ یہ ظلم ہر سطح پر ہو رہا ہے‘۔

پھر بھی حال ہی میں حسن کو ایک چھوٹی سی امید کی کرن نظر آئی ہے۔

۱۹؍فروری کو، ستمبر کے پُرتشدد واقعے کے پانچ ماہ بعد، وہ ہندو شخص جو مسلمانوں کے خلاف احتجاج کی قیادت کر رہا تھا، حسن کی دکان پر آیا۔ اُس وقت حسن کی اہلیہ دکان سنبھال رہی تھیں۔ وہ ہندو شخص ایک کوٹ اور پینٹ لے کر آیا اور کہا کہ کیا یہ جلدی ڈرائی کلین ہوسکتے ہیں؟

حسن کی اہلیہ نے اس سے پوچھا کہ ’تم مجھے بہن کہتے تھے اور پھر یہ بھی چاہتے تھے کہ مسلمان یہاں سے چلے جائیں؟ اُس شخص نے جواب دیا ’جو کچھ ہوا، اُسے بھول جاؤ۔ تمہارا کام بہت اچھا ہے، اسی لیے میں تمہارے پاس آیا ہوں‘۔

حسن اُس واقعے کو یاد کرکے مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسا صرف اس لیے ہوا کہ میں نے ہار نہیں مانی، میں ڈٹا رہا۔

دوستیوں کے ٹوٹنے کا دکھ آج بھی باقی ہے۔ حسن کے مطابق ’جب مسلمان خاندان واپس آکر اپنا سامان لینے لگے تو وہی لوگ جن کے ساتھ ہم بیٹھا کرتے تھے، بات چیت کیا کرتے تھے، وہ ہمیں طعنے دینے لگے۔ انہوں نے پوچھا، تم واپس کیوں آئے ہو؟ یہ بات دل کو بہت چبھتی ہے۔ جسمانی تشدد تو کچھ حد تک ختم ہو چکا ہے، لیکن معاشرتی خاموش تشدد اب بھی جاری ہے‘۔

لیکن حسن نہ نندانگر سے مایوس ہوئے ہیں، نہ ہی اپنے مستقبل سے۔                                    

(مترجم: محمود الحق صدیقی)

“‘I didn’t go’: The last Muslim man in Indian town hit by religious strife”.

(“Al Jazeera”. April 12, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں