مقبوضہ کشمیر کی دور دراز گوریز وادی میں اعجاز ڈار اپنے مٹی اور لکڑی سے بنے گھر کے باہر بیٹھا ہے۔ وہ زندگی کے ۲۶ مہ و سال دیکھ چکا ہے۔ اس کی نگاہوں کے سامنے کوئی بارہ کلو میٹر دور ناہموار پہاڑی چوٹیاں دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ چوٹیاں لائن آف کنٹرول بناتی ہیں۔ یہ کشمیر کے دو متنازع حصوں کے درمیان بے قاعدہ سرحد ہے۔ اعجاز ڈار بھارتی مقبوضہ میں ہے اور چوٹیوں کے دوسری طرف پاکستان ہے۔
ڈار کا گھر بہت خطرناک جگہ پر واقع ہے۔ لیکن وہ اس خیال کو ایک طرف جھٹک دیتا ہے۔ یہ ۲۰۱۹ء کی بات ہے۔ یہاں لوگ عام طور پر بنکروں میں رہتے ہیں۔ اس کی خالہ اپنے بچے کی خوراک کا بندوبست کرنے اپنے اس بنکر سے باہر نکلی ہے جہاں وہ اپنے اہل خانہ سمیت رہ رہی ہے۔
اچانک ہی بہت تیز گولہ باری ہونے لگی ہے۔ مارٹر کا گولہ کہیں قریب ہی آن گرا ہے۔ چشم زدن میں ہر شے بکھر گئی ہے۔ پھر خاموشی نے ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ ’’خالہ کا کچھ بھی تو نہیں بچا ہے۔‘‘ ڈار دور بیٹھا کہتا ہے اور پھر خاموش ہوجاتا ہے۔ ’’میں جب بھی جنگ کی باتیں سنتا ہوں، میرا ریڈیو بولتا ہے تو خالہ کی یادیں بولنے لگتی ہیں‘‘۔
کشمیر میں غم کوئی نئی بات، نیا احساس نہیں ہے۔ لیکن جس انداز سے دو ایٹمی ملکوں کے مابین جھڑپیں ہونے لگی ہیں، خوف پھر سے زندہ ہوگیا ہے۔ اعجاز ڈار کی طرح عارضی سرحد کے آس پاس رہنے والوں میں تو خوف لہر بن کے ان کی رگوں میں دوڑنے لگا ہے۔ حالیہ لہر اس اعتبار سے خاص ہے کہ ۲۲؍اپریل سے پہلگام کے علاقے سے بہت زیادہ ڈر سا لگنے لگا ہے۔ یہ مقبوضہ کشمیر کا ہی ایک گائوں ہے۔ یہاں سیاحت کی غرض سے آنے والوں میں سے ۲۶؍افراد مارے گئے ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد ہندوئوں کی تھی۔
پہلے ایک گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی، پھر اس نے اپنا دعویٰ واپس لے لیا۔ اس گروہ کے ترجمان نے کہا کہ اس کی ویب سائٹ ہیک کرلی گئی ہے۔ بھارت نے اس واقعہ کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا۔ بھارت نے اس واقعہ کا بدلہ لینے کا اعلان بھی کردیا۔ پاکستان نے حملے سے مکمل لاتعلقی کا دعویٰ کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کا اعلان بھی کردیا۔
دو دن بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف ’’آپریشن سندور‘‘ شروع کردیا۔ فضائی حملے شروع کردیے اور ان کو ’’عدم اشتعال زدہ‘‘ قرار دے دیا۔
بھارت نے اسرائیلی ساخت کے کئی ڈرون پاکستان پر داغے۔ ان میں ’’ہیروپ‘‘ ڈرون بھی تھے۔ انہیں خودکش کہا گیا۔ ان کو اسرائیل کی ایرواسپیس انڈسٹریز (آئی اے آئی) نے تیار کیا تھا۔ یہ ہدف کے اوپر پرواز کرتے۔ پھر ہدف پر آن گرتے۔ ان میں ۱۰؍کلو گرام وار ہیڈ تھا اور چھ گھنٹے پرواز کرتے رہتے۔
اوشرٹ پرویدکر کا تعلق یروشلم انسٹی ٹیوٹ برائے اسٹریٹجی اینڈ سکیورٹی سے ہے۔ اوشرٹ نے ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کو بتایا کہ ہیروپ کا بہت زیادہ انحصار واضح کرتا تھا کہ بھارت بڑی حد تک دفاع میں ان پر بھروسا کر رہا تھا۔
پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے بہت سے ہیروپ ڈرون پکڑے۔ ان کے تباہ شدہ ڈھانچے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے۔ ان کو ان کے کام دکھانے سے قبل یا بعد میں پکڑا گیا۔ ان میں سے ایک کے ڈھانچے پر لکھا تھا: انرکان ٹیکنالوجیز۔ یہ ایک اسرائیلی کمپنی ہے جو برکان کی یہودی بستی میں کام کرتی اور اسرائیلی دفاعی سامان تیار کرتی ہے۔ انرکان کو اب امریکا میں قائم ادارے بل فیوز (BelFuse) نے لے لیا ہے۔
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے ہیرون (Heron) ڈرون بھی پکڑا ہے۔ یہ بھی اسرائیل سے بنا ہے اور بہت بلندی پر جاسوسی کا کام کرتا ہے۔
بھارت کا اصرار ہے کہ وہ دہشت گرد مراکز پر حملے کر رہا تھا۔
اسرائیل بھی اسی طرح غزہ پر حملوں کا جواز دیتا ہے اور اسپتالوں، اسکولوں اور بے گھر لوگوں کے کیمپوں پر حملے کرتا ہے۔
دائیں بازو کی بھارتی حکومت کے لیے اسرائیل محض ایک سپلائر نہیں ہے۔ وہ ایک رول ماڈل ہے۔ وہ ایک ایسی ریاست ہے جسے وسیع تر قبضے کا بہت زیادہ تجربہ ہے۔
ہیروپ ڈرون کے علاوہ بھارت اسرائیل کا بنا باراک۔۸ میزائل بھی استعمال کر رہا ہے۔ یہ ایک پورا دفاعی نظام ہے اسرائیل کے ایرواسپیس انڈسٹری اور بھارت کی دفاعی تحقیق اور ترقی کی آرگنائزیشن (DRDO) دونوں باراک۔۸ اور دیگر منصوبوں پر مشترکہ کام کرتے ہیں۔
حالیہ حملوں سے ثابت ہوا کہ اسرائیل اور بھارت بہت سے منصوبوں پر مل کر کام کر رہے ہیں۔ بھارت اور یوکرائن اس وقت اسلحہ و گولہ بارود کے سب سے بڑے امپورٹر ہیں۔ بھارت نے اسرائیل سے ۲۲۔۲۰۲۱ء کے درمیان ۴؍ارب ۲۰ کروڑ ڈالر کا اسلحہ و دیگر فوجی سامان خریدا ہے۔
غزہ میں جاری نسل کشی کے دوران بھی بھارت اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے۔ ۲۰۲۴ء میں بھارت نے اسرائیل کے کارگو بحری جہاز Marianne Danica کو اپنی بندرگاہ استعمال کرنے کی سہولت دی، جس کو اسپین نے اس لیے انکار کردیا تھا کیوں کہ وہ ۲۷ ٹن دھماکا خیز مواد لے جارہا تھا جو غزہ پر استعمال ہوا۔ یہ مواد حیفہ جارہا تھا اور چنائی سے لیا گیا تھا۔
اس سے نہ صرف یہ ظاہر ہوا کہ بھارتی گولہ بارود کا سب سے بڑا درآمد کنندہ اسرائیل ہے جبکہ وہی اس کا بڑا حمایتی بھی ہے۔ اس تجارت میں ایڈانی ایلیٹ ایڈوانسڈ سسٹمز انڈیا، جو اسرائیل اور بھارت کا مشترکہ منصوبہ ہے، کے علاوہ میونیشنز انڈیا بھی شامل ہے جو ریاستی ادارہ ہے۔
غزہ میں جاری فلسطینی نسل کشی میں نصیرات کیمپ میں پناہ گزین کیمپوں پر میزائلوں سے حملے میں وہاں ان کی باقیات پر میڈ ان انڈیا آسانی سے پڑھا جاسکتا تھا۔ اسلحہ کی یہ برسات اسرائیل کے لیے بہت اہم رہی۔ بہت سی یورپی کمپنیوں پر بہت زیادہ دبائو رہا کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ و گولہ بارود دینا بند کریں، بھارت کسی دبائو کے بغیر یہ کام آسانی سے کرتا رہا۔ اسے کسی نے پوچھا بھی نہیں۔
اس مدت میں بھارت نے باقاعدگی سے اسرائیل سے بھاری مقدار میں اسلحہ کی برآمد جاری رکھی۔ اس دوران بھارتی سامان کے دیگر خریداروں کو انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی۔
تجارت کھلے عام جاری رہی ہے۔ لیکن یہ ہمیشہ ہی ایسا آسان نہیں تھا۔ کئی عشروں قبل بھارت سے رسمی تعلقات اس قدر عام نہیں تھے۔ وہ فلسطین کی حمایت بھی کرتا رہا۔ اس نے ۱۹۴۷ء میں فلسطین کی دو ریاستوں میں تقسیم کے مرحلے میں تنظیم آزادی فلسطین یا پی ایل او کو تسلیم کیا تھا۔ ۱۹۷۵ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد میں صہیونیت کو نسل پرستی کے مترادف قرار دیا گیا تو بھارت نے اس کی حمایت کی تھی۔
فلسطین بھی برطانوی نوآبادیات میں رہا، جس طرح پاکستان اور بھارت نے برطانوی نوآبادیات سے آزادی حاصل کی تھی۔ وہ خود کو آزادی کے بعد نوآبادیاتی اقتدار سے آزادی کے لیڈر کے طور پر پیش کرتا رہا۔ اس نے غیرجانبدار تحریک میں بھی خود کو پیش پیش رکھا۔
مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو، دونوں بھارت کی آزادی کے ہیرو سمجھے جاتے ہیں۔ وہ صہیونیت کو نوآبادیات کا تسلسل قرار دیتے تھے۔ ایک موقع پر گاندھی نے کہا تھا:
’’فلسطین عربوں کا ہے۔ یہ اسی طرح سچ ہے جس طرح انگلینڈ انگریزوں کا ہے۔ فرانس فرانسیسیوں کا ہے۔‘‘
جن برسوں میں بظاہر دونوں ملکوں میں سفارتی فاصلہ رہا ہے، اسلحہ کا بہائو بہت تواتر لیکن خاموشی سے جاری رہا ہے۔ چین اور بھارت کی ۱۹۶۲ء کی جنگ میں ہتھیار اسرائیل فراہم کرتا رہا۔ اس کی شرط تھی کہ جن جہازوں میں یہ سامان بھارت جائے گا، ان پر اسرائیل کا جھنڈا ضرور بنا رہے گا۔
پاکستان سے کارگل کی ۱۹۹۹ء کی جنگ کے دوران اسرائیل بھارت کو اسلحہ فراہم کرتا رہا۔ وہ بھارت کو لیزر گائیڈڈ بم بھی دیتا رہا۔ اس نے بھارت کو ہتھیار فراہم کرنے میں لیڈنگ کردار ادا کیا۔
بھارت نے اسرائیل کے ساتھ رسمی سفارتی تعلقات ۱۹۹۲ء میں قائم کیے۔ تب سرد جنگ ختم ہوئی تھی۔ بھارت امریکا سے قریبی روابط چاہتا تھا۔ اس وقت بھارتی سورمائوں نے جانا کہ واشنگٹن جانے والی شاہراہ تل ابیب سے ہو کر گزرتی ہے۔
نریندرا مودی اقتدار میں آئے تو دونوں ملکوں میں منفرد نظریاتی سوچ ابھرتی محسوس کی گئی۔ مودی وہ پہلے وزیراعظم تھے جو ۲۰۱۷ء میں اسرائیل کے دورے پر گئے۔ ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی ’’محسوس‘‘ کیا کہ اسے اسرائیل کی نسلی قومیت میں اپنے دل دھڑکتے محسوس ہو رہے ہیں۔ بی جے پی کے لیے یہ بھی انکشاف تھا کہ صہیونی اسرائیل کے ’’یہودی ملک‘‘ کے لیے فلسطین ایک آئیڈیل جگہ ہے۔ یہی کچھ بی جے پی ہندتوا بھارت میں چاہتی ہے۔ اس طرح بھارت کو ’’ہندو دیش‘‘ میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ یہ ’’نظریاتی ملاپ‘‘ علامتی نہیں تھا۔
۲۰۱۹ء میں بھارتی سفارت کار سندیپ چکروارتی نے تجویز کیا کہ کشمیر میں ہندو آبادکاروں کی طرز پر مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادیاں بسائی جاسکتی ہیں۔ بھارت کے سائنس دان آنند رنگاناتھن نے تجویز کیا کہ کشمیر کا مسئلہ اسرائیل کی طرح حل کیا جاسکتا ہے۔
۲۰۱۹ء میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی محدود خودمختاری ختم کردی۔ اور پھر ۲۰۲۲ء میں بھارتیوں کو یہ ’’حق‘‘ دیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے شہری بھی بن سکتے ہیں۔ اس طرح ۸۰ ہزار نان ریزیڈنٹس بھارتیوں کو کشمیر کی غیرمشروط شہریت دے دی گئی۔ یہ مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی نوآبادیات کی طرز پر بھارتیوں کی کشمیر میں نوآبادی بنادی گئی۔
پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی افواج نے خطے میں کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے ۲ ہزار گھر مسمار کردیے اور انہیں بے گھر کردیا گیا۔ دہلی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ایوروا نند نے کہا کہ ہندوتوا اسرائیلی ہتھکنڈوں کو خوبی سے کشمیر میں استعمال کر رہی ہے۔
گوتم ایڈانی بھارت کے ارب پتی تاجر ہیں اور ایڈانی گروپ کے سربراہ ہیں۔ وہ نظریے کے لیے اسلحہ کی تجارت بھی کرتے ہیں۔ یہ بھارت کے دوسرے امیر ترین فرد ہیں۔ نریندر مودی کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔
ایڈانی نے ۲۰۱۸ء میں اسرائیل کی (Albit Systems) کے ساتھ حیدرآباد میں ڈرون بنانے کی فیکٹری کا آغاز کیا۔ ۲۰۲۴ء تک اس کمپنی نے اسرائیل کو ۲۰ Hermes قسم کے ۹۰۰ ڈرون فراہم کردیے تھے۔ مودی سرکار نے پالیسی سازی سے ایڈانی گروپ کو فائدے دیے۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے مبینہ طور پر ایڈانی گروپ کے ڈرون استعمال ہوتے ہیں۔
پاک۔بھارت جنگ بندی امریکا نے کروائی تھی۔ یہ کام ۱۰؍مئی کو ہوا تھا۔ اس جنگ بندی کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان معاملات اب تک کشیدہ چلے آرہے ہیں۔ پاکستان اس جنگ بندی پر عمل کر رہا ہے تاکہ خون خرابے سے بچا جاسکے۔ غزہ کی حدتک نسل کشی جاری ہے۔ اس میں وقفہ نہیں آسکا۔
(بحوالہ: ماہنامہ ’’براہِ راست‘‘ لاہور۔ جولائی ۲۰۲۵ء)