آسٹریلیا کے اصل باشندوں کا المیہ

آسٹریلیا کے مقامی یا اصل باشندوں کے حوالے سے ہر دور میں مختلف داستانیں گردش کرتی رہی ہیں۔ اِس بات پر بیشتر تجزیہ کار اور مؤرخین متفق دکھائی دیے ہیں کہ آسٹریلیا کے اصل باشندوں کا (جو عرفِ عام میں aboriginals کہلاتے ہیں) برطانوی نوآبادیاتی قوتوں نے بہت بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا تھا۔ یہ سب کچھ آسٹریلیا کی ریاست وِکٹوریہ میں ہوا تھا۔ برطانوی نوآبادیاتی قوتوں کے ہاتھوں رونما ہونے والا قتلِ عام ایبوریجنلز کی قیادت میں کی جانے والی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے۔

دی یوروک جسٹس کمیشن نے تحقیقات کے نتیجے میں پایا کہ جب برطانوی استعماری افواج نے ۱۸۳۰ء کی دہائی کے اوائل میں آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ پر لشکر کشی کرکے اُسے اپنی نوآبادی بنایا تب بیس سال کی مدت میں وہاں کے اصل باشندوں کی تین چوتھائی تعداد ختم کردی گئی۔

دی یوروک جسٹس کمیشن کی رپورٹ میں برطانوی استعماری افواج کے ہاتھوں ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کے اِزالے اور متعلقہ کارروائیوں کے لیے ۱۰۰؍سے زائد سفارشات بھی شامل ہیں گو کہ چند ایک تجزیہ کاروں اور مُصنِّفین نے اس کمیشن کی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آنے والی تمام باتوں سے اتفاق نہیں کیا۔

یہ کمیشن ۲۰۲۱ء میں آسٹریلیا کی پہلی رسمی ’’ٹروتھ ٹیلنگ انکوائری‘‘ کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ اِس کمیشن کا بنیادی مقصد وکٹوریہ میں نوآبادیاتی قوتوں کے ہاتھوں مقامی یا اصل باشندوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کے بارے میں حقائق معلوم کرنا تھا۔

یاد رہے کہ ’دی یوروک جسٹس کمیشن‘ کا قیام آسٹریلیا کی مرکزی حکومت اور آسٹریلیا کے اصل باشندوں نیز آبنائے ٹوریز کے رہنے والوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا کرنے کی ایک بھرپور کوشش کی عملی صورت ہے۔ آسٹریلیا کے مقامی یا اصل باشندوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ماضی کے تمام معاملات کا اچھی طرح جائزہ لے کر اصل باشندوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی نوعیت دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ سب جان سکیں کہ نوآبادیاتی قوتوں کے ہاتھوں مقامی باشندوں پر کیا گزری ہوگی۔ ساتھ ہی ساتھ یہ رہنما آسٹریلوی سیاست میں وسیع تر کردار بھی چاہتے ہیں۔ اِن کا مطالبہ ہے کہ آسٹریلیا کے اصل باشندوں کو نمایاں مقام دیا جائے، قومی ترقی میں بہتر کردار ادا کرنے کی گنجائش پیدا کی جائے۔

چار سالہ تحقیقات کے دوران دی یوروک جسٹس کمیشن نے آسٹریلیا کے اصل باشندوں اور آبنائے ٹوریز کے باشندوں کو اِس بات کا بھرپور موقع دیا کہ وہ اپنے ماضی سے متعلق تمام خوشگوار و ناخوشگوار باتوں کو بیان کریں۔ کمیشن نے اپنی کارروائی کے دوران سیکڑوں افراد سے اُن کے اَجداد کے ماضی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

کمیشن نے آسٹریلیا کے اصل باشندوں کے لیے زمین اور آبی وسائل کے حقوق کی خلاف ورزی، ثقافتی اقدار کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں، قتلِ عام، صحتِ عامہ، تعلیم اور رہائش سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کیں تاکہ زیادتیوں کی اصل نوعیت اور حجم کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکے۔

کمیشن نے تحقیقات کے ذریعے معلوم کیا کہ ۱۸۳۴ء کے بعد سے وکٹوریا میں مقامی آبادی سے انتہائی نوعیت کا سلوک روا رکھنے کی ابتدا ہوئی۔ اُنہیں بڑے پیمانے پر قتل کیا گیا، بیماریاں پھیلائی گئیں، جنسی تشدد بھی کیا گیا، اُنہیں اُن کی زمینوں سے، علاقوں سے بے دخل کردیا گیا، اُنہیں اپنی زبان استعمال نہ کرنے کا پابند کیا گیا، ثقافتی ورثے کو پامال کیا گیا، اصل باشندوں کے قدرتی ماحول کو انتہائی خرابی سے دوچار کیا گیا، بچے چھین لیے گئے، لاپتا کردیے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ اِتنے بڑے پیمانے پر کیا گیا کہ وکٹوریہ کے اصل باشندوں کے لیے اپنے اجتماعی وجود کو برقرار رکھ پانا تقریباً ناممکن ہوگیا۔ وکٹوریہ میں اصل باشندوں کی تعداد ۶۰ ہزار سے زیادہ تھی جو ۱۸۵۱ء تک صرف ۱۵؍ہزار رہ گئی۔ اِسے صرف اور صرف قتلِ عام ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔

دی یوروک جسٹس کمیشن کی کارروائی مجموعی طور پر دو ماہ سے زیادہ جاری رہی اور اِس دوران کُھلی سماعتوں کے نتیجے میں ۱۳۰۰؍سے زائد افراد نے اپنے بیانات جمع کرائے۔ اُنہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اصل باشندوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا پورا حساب لیا جائے اور پوری کمیونٹی کو بڑے پیمانے پر ہرجانہ بھی دلوایا جائے۔ برطانوی نوآبادیاتی فوج نے بنیادی حقوق کی بہت بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کی تھیں۔ اِس کا حساب لیا جانا چاہیے۔

کمیشن میں جمع کرائی جانے والی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا کے جن اصل باشندوں کو تعلیم کے حق سے محروم رکھا گیا ہے، اُنہیں معیاری تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران ایبوریجنلز نے بھی خدمات انجام دیں مگر جنگوں کے خاتمے پر اِن سپاہیوں کو تھوڑی سی زمین دے کر فارغ کردیا گیا جبکہ باقی فوج کو زیادہ مراعات دی گئیں۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت اِس امتیازی سلوک پر آسٹریلیا کے اصل باشندوں سے معافی مانگے۔

کمیشن میں جمع کرائی جانے والی سفارشات اور بیانات میں بتایا گیا ہے کہ صحتِ عامہ کے نظام کے حوالے سے غیرمعمولی نسل پرستی پائی جاتی ہے۔ مقامی باشندوں کو بُری طرح نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ اب اُن کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈنگ کا اہتمام کیا جائے تاکہ وہ بھی کامل صحت کے ساتھ اچھی زندگی بسر کرسکیں۔ صحتِ عامہ سے وابستہ اداروں میں اصل باشندوں کی تعداد برائے نام ہے۔ انہیں ملازمت کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ صحتِ عامہ کے حوالے سے قومی دھارے کا حصہ بن سکیں۔

دی یوروک جسٹس کمیشن کے پانچ میں سے تین ارکان (سُو این ہنٹر، میگی والٹر اور انتھونی نارتھ) نے تحقیقات سے معلوم ہونے والی کلیدی باتوں کو حتمی رپورٹ میں شامل کرنے کی منظوری نہیں دی۔ اس حوالے سے مزید تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔

وکٹوریہ کی لیبر پارٹی کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس رپورٹ کے مندرجات کا جائزہ لے کر کوئی فیصلہ کرے گی۔ وکٹوریہ کی وزیراعظم جیسِنٹا ایلن کا کہناہے کہ رپورٹ سے چند تلخ سچائیوں پر روشنی ضرور پڑتی ہے۔

وکٹوریہ میں اصل باشندوں کی صحت و بہبود سے متعلق ادارے کی سربراہ جل گیلینگر نے کہا ہے کہ اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قتلِ عام سے متعلق حقائق ایسے ہیں کہ اُن سے انکار کیا جاسکتا ہے نہ تردید کی جاسکتی ہے۔ یہ امر طے ہے کہ اصل باشندوں کا قتلِ عام کیا گیا۔ آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن سے گفتگو میں جِل نے کہا کہ اصل باشندوں پر مظالم ڈھانے والے گزرے ہوئے زمانوں کے لوگ تھے۔ آج کے کسی بھی انسان کو اس حوالے سے ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا مگر ہاں، جو لوگ آج زندہ ہیں، اُنہیں ماضی کے اِن گھناؤنے واقعات سے متعلق سچ کو قبول کرنا چاہیے۔ وکٹوریہ کے تمام باشندوں کو ماننا چاہیے کہ ماضی میں اصل مقامی باشندوں سے انتہائی نوعیت کا سلوک روا رکھا گیا تھا۔

دی یوروک جسٹس کمیشن کی رپورٹ آسٹریلیا میں اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ ہے۔ ویسے آسٹریلیا کی دیگر ریاستوں میں بھی اِسی نوعیت کی تحقیقات جاری ہیں اور مختلف مراحل میں ہیں۔ اِن کارروائیوں میں بھی لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیے جارہے ہیں۔

ٹروتھ ٹیلنگ انکوائری

کوئنز لینڈ میں ایک ’’حق بیان تحقیقات‘‘ لیبر پارٹی کی حکومت کے خاتمے اور لبرل نیشنل حکومت کے قیام کے باعث روک دی گئی تھی۔ آسٹریلیا میں چند برسوں کے دوران اس کے اصل باشندوں کو مختلف سطحوں کی حکومت کے تحت ملک کے اصل ثقافتی ورثا کی حیثیت سے قبول کرنے کے حوالے سے گرما گرم بحث چل رہی ہے۔ اس حوالے سے اصل باشندوں کے حق میں اور اُن کے خلاف بہت سے لوگ سامنے آئے ہیں۔ مقامی باشندوں کے بہت سے مطالبات ہیں، جو سب کے سب قبول کرنا کسی کے لیے بھی آسان نہیں۔

آسٹریلیا کے باشندوں نے اکتوبر ۲۰۲۳ء میں ایک ریفرنڈم کے خلاف ووٹ دیا۔ اُنہوں نے آئین میں ایسی تبدیلی کو مسترد کردیا جو آسٹریلیا کے اصل باشندوں کی مرکزی و ملک گیر تنظیم دی ایبوریجنلز اینڈ ٹوریز اسٹریٹ آئلینڈرز وائس کو قوانین کے بارے میں رائے دینے کا حق دیتی ہے۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Inquiry finds British committed genocide on Indigenous Australians”. (“BBC”. July 2, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں