فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کی تیاری؟

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُنہوں نے غزہ میں تعمیرِنو کے حوالے سے اردن کے شاہ عبداللہ سے بات کی ہے۔ ۱۰؍لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر متعدد ممالک میں آباد کرنے کے حوالے سے بھی مشاورت ہورہی ہے۔ دوسری بار امریکا کے صدر کے منصب پر فائز ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایک اچھا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے ۲۵ جنوری کو ایک فون کال کے دوران امریکا کے اہم پارٹنر اردن کے شاہ عبداللہ ثانی سے کہا کہ وہ مزید فلسطینیوں کو قبول کریں۔

ایئر فورس ون کی پرواز میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ میں نے اردن کے شاہ سے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو قبول کریں تاکہ غزہ میں تعمیرِنو ممکن ہوسکے۔ اس وقت غزہ مکمل تباہ شدہ ہے۔ ملبہ ہٹانے کے لیے بہت محنت کرنا پڑے گی۔

اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’پیٹرا‘ نے بتایا ہے کہ اردن کے شاہ عبداللہ ثانی نے امریکی صدر سے فون پر بات ضرور کی ہے تاہم فلسطینیوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق اردن میں پہلے ہی تقریباً ۲۴ لاکھ رجسٹرڈ فلسطینی موجود ہیں۔

صدر ٹرمپ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ وہ مصر کے صدر جنرل عبدالفتاح السیسی سے بھی بات کریں گے کہ وہ مزید فلسطینیوں کو قبول کریں، بسائیں۔ مصر کی سرحد بھی غزہ سے ملتی ہے اور فلسطینی مصر کا رخ کرتے رہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ’’اس خطے میں سیکڑوں سال سے تنازعات اور قضیے رہے ہیں۔ جنگیں بھی ہوتی رہی ہیں اور بہت بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی کوئی نئی بات نہیں۔ غزہ کی تعمیرِنو کے لیے لازم ہے کہ آبادی کو منتقل کیا جائے۔ ملبہ ہٹانے میں بھی وقت لگے گا اور اُس کے بعد تعمیرِنو بھی وقت کی طالب ہے۔ غزہ کی حالت ایسی نہیں کہ تمام ہی فلسطینی وہاں سکون سے جی سکیں۔ ملبہ جلد از جلد ہٹانا ضروری ہے۔ لوگ مر رہے ہیں۔ عرب دنیا سے بات کرکے ہم فلسطینیوں کے لیے کہیں اور مکانات تعمیر کرنے کی کوشش کریں گے جہاں یہ لوگ سلامتی اور سکون کے ساتھ رہ سکیں۔ یہ ہاؤسنگ عارضی بھی ہوسکتی ہے اور مستقل بھی۔

مصر کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی جبری منتقلی کی حمایت کسی طور نہیں کرے گا۔ وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر کا حوالہ نہیں دیا تاہم یہ ضرور کہا کہ مصر کبھی نہیں چاہے گا کہ فلسطینیوں کو اُن کے علاقوں سے کسی بھی بنیاد پر یا بزور نکالا جائے۔

مصری وزارتِ خارجہ نے فلسطینیوں کی منتقلی کے حوالے سے کہا کہ ایسے اقدامات سے خطے کی سلامتی داؤ پر لگتی ہے، مزید تنازعات کی راہ ہموار ہوتی ہے اور پُرامن بقائے باہمی کے مواقع کمتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔

اردن نے بھی کہا ہے کہ ہم فلسطینیوں کو اُن کی اپنی سرزمین پر آباد دیکھنا چاہتے ہیں۔ اردن کے وزیرِ خارجہ ایمن صفادی نے کہا کہ ہم فلسطینیوں کو اُن کے علاقوں سے کہیں اور منتقل کرنے کے حق میں نہیں اور اس حوالے سے پالیسی تبدیل نہیں کی جائے گی۔ اردن کے باشندوں کے لیے اردن ہے اور فلسطینیوں کے لیے فلسطین۔ ایمن صفادی نے کہا کہ ہم امریکا میں نئی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔ صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ خطے میں امن دیکھنا چاہتے ہیں۔

اردن کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ہم دو ریاستوں کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہودیوں کے لیے اسرائیل اور فلسطینیوں کے لیے فلسطین۔

مصر کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ عالمی برادری کو فلسطینی ریاست کا وجود یقینی بنانے کی سمت کام کرنا چاہیے۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان پائے جانے والے قضیے کا یہی حل ہے۔

اسرائیلی چینل ۱۲؍نیوز کے تجزیہ کار ایمٹ سیگل نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جو کچھ کہا ہے، وہ زبان کے پھسل جانے کا نتیجہ نہیں تھا۔ جو کچھ صدر ٹرمپ نے کہا وہ ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے اور یہ سب کچھ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ مل کر طے کیا ہے۔

اس پورے معاملے سے بخوبی واقف ایک ذریعے نے اس کی تصدیق کی، تاہم تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ سی این این کی ٹیم نے اس حوالے سے تبصرے کے لیے امریکی محکمہ خارجہ سے رابطہ قائم کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ریمارکس امریکی پالیسی میں تبدیلی کا پتا دیتے ہیں۔ جو کچھ ٹرمپ نے کہا، وہ غزہ کی جنگ کے چھیڑے جانے کے سوا سال بعد کی بات ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں غزہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ کی ۶۰ فیصد سے زائد عمارتیں یا تو تباہ ہوچکی ہیں یا اُنہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان میں اسکول اور اسپتال بھی شامل ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ۹۲ فیصد مکانات رہنے کے قابل نہیں رہے۔

غزہ کے کم و بیش ۹۰ فیصد مکین اس وقت بے گھری کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اِن میں بیشتر وہ ہیں جنہیں بار بار نقل مکانی کرنا پڑتی ہے۔ بعض نے تو دس بار ٹھکانے بدلے ہیں۔ یہ بات بھی اقوامِ متحدہ سے تصدیق شدہ ہے۔

امریکا ایک زمانے سے دو ریاستوں کے نظریے کی وکالت و حمایت کرتا آیا ہے۔ اب امریکی صدر کہہ رہے ہیں کہ فلسطینیوں کو اُن کے علاقوں سے نکال کر کہیں اور بسایا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غزہ کے قضیے کے حوالے سے امریکا اپنی پالیسی بدل رہا ہے۔ خطے میں ایک زمانے سے یہ خوف موجود رہا ہے کہ اسرائیل کی حکومت فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر علاقائی ممالک میں بسانا چاہتا ہے تاکہ پورے علاقے کو اپنا حصہ بناسکے۔ اسرائیل کی حکومت اس سے انکار کرتی رہی ہے مگر مخلوط حکومت میں شامل انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی تو یہی خواہش ہے۔

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے اکتوبر ۲۰۲۳ء میں شمالی غزہ سے دس لاکھ فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنے کی اسرائیل کی پالیسی کی شدید مذمت کی تھی۔ یہ گویا ایک ایسے بڑے منصوبے کا حصہ تھا جس کا مقصد پورے علاقے سے فلسطینیوں کو نکال باہر کرنا ہے۔

عبدالفتاح السیسی کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو بے دخل کرکے مصر میں دھکیلنے کا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ بالکل ایسا ہی عمل مقبوضہ غربِ اردن کے فلسطینیوں کے ساتھ بھی کیا جائے گا یعنی اُنہیں اردن میں دھکیل دیا جائے گا۔ ایسی صورت میں کسی فلسطینی ریاست کے وجود کے بارے میں بحث کرنے کی گنجائش ہی نہیں بچے گی کیونکہ زمین تو ہوگی مگر لوگ نہیں رہیں گے۔ اُسی زمانے میں اردن کے شاہ عبداللہ ثانی نے بھی کہا تھا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کو اردن یا مصر میں آباد ہونے پر مجبور کرنا ریڈ لائن ہے۔

حماس کے سینئر عہدیدار باسم نعیم نے کہا ہے کہ فلسطینی صدر ٹرمپ یا کسی اور کی طرف سے پیش کی جانے والی ایسی کوئی بھی تجویز قبول نہیں کریں گے جو ارضِ وطن چھوڑنے سے متعلق ہو۔ تعمیرِنو لازم ہے۔ تعمیرِنو نیک نیتی پر مبنی ہوسکتی ہے مگر اس کی آڑ میں فلسطینیوں کو اُن کی اپنی سرزمین سے نکال باہر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔

آزاد فلسطینی سیاست دان ڈاکٹر مصطفی برغوثی نے بھی صدر ٹرمپ کی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’مجرمانہ بمباری اور قتلِ عام سے جو کچھ حاصل نہیں کیا جاسکا، وہ سیاسی دباؤ کے ذریعے حاصل کرنے کی ہر کوشش ناکام بنادی جائے گی۔ غزہ یا غربِ اردن میں نسلی تطہیر کی سازش کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی‘‘۔

دنیا بھر میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد تقریباً ۵۹ لاکھ ہے۔ اِن میں سے بیشتر اُن فلسطینیوں کی اولاد ہیں جو ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد اپنی سرزمین سے نکالے گئے تھے۔

امریکا کے سابق صدر جوبائیڈن نے مقبوضہ غربِ اردن میں ہلاکت خیز تشدد کی پاداش میں اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ پابندیاں ختم کردی ہیں۔ اسرائیل کے وزیرِ خزانہ بیزیلل اسموترچ نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا تھا۔ اسموترچ نے مقبوضہ غربِ اردن میں اسرائیلیوں کو آباد کرنے کی زور و شور سے حمایت کی۔ اس حوالے سے بیزیلل نے ۲۰۰۵ء کے حکم نامے پر عمل کی وکالت کی ہے۔ بیزیلل نے، فطری طور پر، صدر ٹرمپ کے آئیڈیا کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو کسی معقول جگہ بسانا بہت اچھی بات ہوگی۔

یاد رہے کہ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ غزہ میں تعمیرِنو کی حمایت کریں گے کیونکہ غزہ سمندر کے کنارے واقع ہے اور اس کا موسم بھی بہت اچھا ہے۔

یہ رائے ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر کی ۲۰۲۴ء کی رائے سے بہت ملتی جلتی ہے۔ کُشنر نے کہا تھا کہ غزہ ساحل کے کنارے واقع ہے۔ یہ علاقہ بہت قیمتی ہے، اسرائیل کو تمام فلسطینی وہاں سے نکال دینے چاہئیں تاکہ علاقہ صاف ہوجائے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے بائیڈن دور میں اسرائیل کو ۲ ہزار پاؤنڈ کے بم فراہم کرنے پر عائد پابندی ہٹا دی ہے۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا  کہ اسرائیل کو ان بموں کا ایک مدت سے انتظار ہے۔ وہ ادائیگی کرچکا ہے اور ہم نے ڈلیوری کی اجازت دے دی ہے۔ یہ بم اسرائیل کو بہت جلد مل جائیں گے۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Trump suggests his plan for Gaza Strip

is to clean out the whole thing.” (“amp.cnn.com.”)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں