پاک افغان سرحد کا مخمصہ

موجودہ کیفیت

۴ دسمبر ۲۰۲۴ء کو افغانستان کے صوبے پکتیکا کے علاقے بمل میں نام نہاد تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے تربیتی کیمپوں پر پاکستانی فورسز کے حملے افغانستان کی رجوعی پالیسی کو منظرِعام پر لے آئے ہیں۔ یہ حملے پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر کالعدم ٹی ٹی پی کے متعدد حملوں کے بعد کیے گئے ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی، جسے عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاسکتا ہے، افغان طالبان کی خودساختہ عبوری حکومت کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے۔ افغانستان کی عبوری حکومت، جسے تحریکِ طالبان افغانستان کہا جاتا ہے، پاکستان کی طرف سے متعدد بار استدعا اور پالیسی میں تبدیلی کے باوجود کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کو غیرمؤثر کرنے سے انکار کیا ہے۔

تحریکِ طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کی حکمتِ عملی کے تین پہلو ہیں۔ اول وہ پاکستان کے اس موقف کو ماننے سے انکار کرتی رہی ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان کے علاقوں میں حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتی رہی ہے، دوم وہ یہ کہتی رہی ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور سوم وہ پاکستان سے کہتی رہی ہے کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی سے دوطرفہ بنیاد پر خود مذاکرات کرے۔

ٹی ٹی اے کی پالیسی ہر اعتبار سے غیرمعیاری اور ناقص ہے مگر خیر، تنظیم کے (مفادات کے) تناظر میں یہ پالیسی خوب سوچ بچار کے بعد تیار کی گئی ہے۔ دو حقائق معلوم اور فطری ہیں: افغانستان کی سرزمین پر کالعدم ٹی ٹی پی کی موجودگی اور ٹی ٹی اے کی طرف سے اِس دہشت گرد گروپ کے خلاف کچھ بھی کرنے سے انکار۔ پاکستان کی طرف سے ٹی ٹی اے کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائیاں کرنے پر مائل کرنے کی کوششوں اور ۲۰۲۱ء اور ۲۰۲۲ء میں کابل میں کالعدم ٹی ٹی پی سے پاکستانی حکام کے مذاکرات کے مختلف ادوار ٹی ٹی اے کے قائدین کے بیانات سے واضح ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی اینیلٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ بھی افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کی موجودگی اور ٹی ٹی اے سے اُس کے رابطوں کو ثابت کرتی ہیں۔ ان رپورٹس میں طالبان اور القاعدہ کے درمیان لِنک کو مضبوط اور علامتی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹس یہ بھی کہتی ہیں کہ تحریکِ طالبان افغانستان کی چھتری تلے کئی دہشت گرد تنظیموں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت اور آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہ تنظیمیں ٹی ٹی اے کی طرف سے ملنے والی پناہ اور کام کرنے کی اجازت کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں افغانستان سمیت پورے خطے میں دہشت گردی کے خطرے کا گراف بلند تر ہوتا جارہا ہے۔

پاکستان کے سِول اور فوجی حکام سے متعدد میٹنگز میں ٹی ٹی اے کی قیادت نے کالعدم ٹی ٹی پی کے قائدین اور جنگجوؤں کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے تاہم اُن کے خلاف کچھ بھی کرنے سے اس لیے معذوری ظاہر کی ہے کہ افغان سرزمین پر امریکا کی قیادت میں تعینات بین الاقوامی افواج کے خلاف لڑائی کے دوران اُن کے کالعدم ٹی ٹی پی سے تعلقات مضبوط تھے اور اُن کے درمیان مغربی افواج کے خلاف اشتراکِ عمل ہوا تھا۔ یہ بات اِس حقیقت سے بھی منظرِعام پر آئی کہ جب مذاکرات کا مرحلہ شروع ہوا تو ٹی ٹی اے نے اسلام آباد کو یقین دلایا کہ اگر وہ کالعدم ٹی ٹی پی سے بات چیت کرنا چاہے تو اس سلسلے میں سہولت کاری کی جائے گی۔

۱۵؍اگست ۲۰۲۱ء کو جب ٹی ٹی اے نے کابل پر قبضہ کیا (یعنی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہوچکی) تب پاکستان نے فوری طور پر کالعدم ٹی ٹی پی کے معاملے پر ٹی ٹی اے کی قیادت سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد چند ماہ کے دوران حقانی نیٹ ورک کے جنگجوؤں نے (جیسا کہ اعلیٰ سطح کے چند حکام کے انٹرویوز سے معلوم ہوا) کئی معرکوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں اور قائدین کو ہلاک بھی کیا۔ حقانی نیٹ ورک کے لیڈر سراج الدین حقانی نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی سے اپنے معاملات معقولیت کے ساتھ درست کرے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ امریکا کی قیادت میں موجود بین الاقوامی فوج کے خلاف معرکہ آرائیوں میں حقانی نیٹ ورک اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان اشتراکِ عمل ایک حقیقت ہے۔ اُسی زمانے میں ٹی ٹی اے میں اندرونی سطح پر حقانی، قندھاری اور ہلمندی گروپوں کے درمیان طاقت (اقتدار) کی کشمکش چلی رہی۔ شمالی افغانستان میں ایک اور چھوٹا گروپ بھی فعال تھا جسے غیرپختون طالبان کہا جاسکتا ہے۔ یہ گروپ مشرقی اور مغربی افغانستان کے درمیان تھا۔ آئیے، وہیں چلتے ہیں جہاں سے بات شروع ہوئی تھی۔

افغانستان سرزمین پر پاکستانی حملوں نے جن کو بوتل سے نکال دیا ہے۔ افغانستان نے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور افغان وزارتِ خارجہ نے کابل میں پاکستانی سفارتی مشن کے سربراہ کو طلب کرکے احتجاجی مراسلہ بھی دیا ہے۔

اِن رسمی کارروائیوں سے ہٹ کر دیکھیے تو دو معاملات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ٹی ٹی اے کے وزیرِ اطلاعات و ثقافت مُلا خیراللہ خیرخواہ نے کہا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی درحقیقت ٹی ٹی اے کے لیے مہمان کا درجہ رکھتی ہے، اس لیے ٹی ٹی اے اُس کی حمایت و امداد بند نہیں کرے گی۔ اِس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی وزارتِ دفاع نے اپنے بیانات میں (جو سوشل میڈیا پورٹل ایکس پر بھی جاری کیا گیا ہے) کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد محض مفروضے کا درجہ رکھتی ہے۔ جنوری ۲۰۲۴ء میں سرحدی اور قبائلی امور کے افغان وزیر ملا نوراللہ نوری نے کہا تھا کہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد محض خیالی نوعیت کی ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے ہم دیکھیں کہ کس طور ٹی ٹی اے کا موقف دھوکے پر مبنی اور جعلی ہونے کے باوجود اچھی طرح سوچ سمجھ کر اپنایا گیا ہے۔ کابل پر حکمرانی کرنے والے دیگر فریقوں کی طرح ٹی ٹی اے بھی بین الاقوامی سرحد کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔

ٹی ٹی اے کے کیس میں پشتون قوم پرستی بھی فرقہ وارانہ مذہبیت میں ملفوف ہے۔ سوویت دور سے اب تک سرحدی علاقوں میں آزادانہ نقل و حرکت نے اِسے مزید بڑھاوا دیا ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے پاکستان کے مقابل اپنی پوزیشن کو ٹی ٹی اے کے ذریعے مضبوط کیا ہے۔ ٹی ٹی اے نے مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے تاہم اُس نے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے کالعدم ٹی ٹی پی کو مضبوط کرنے کرنے سلسلہ بھی جاری رکھا ہے۔ مذاکرات کے ذریعے کالعدم ٹی ٹی پی کو بھی حکومتِ پاکستان کے مقابل (یعنی اُس کی ٹکر کا) فریق بنانے کی بھی کامیاب کوشش کی گئی۔ ایک اور مثال بھی کافی ہوگی۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے وفاق کے زیرِانتظام رہ چکے علاقوں کو خیبر پختونخوا سے الگ کرکے پُرانی حیثیت کی بحالی، اِن علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کے کارکنوں کی واپسی اور اِن علاقوں میں پاکستان کے برائے نام نظم و نسق کا مطالبہ کیا ہے۔ سادہ الفاظ میں کہیے تو کالعدم ٹی ٹی پی کو استعمال کرکے ٹی ٹی اے اِن علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہتی ہے۔ اس کے لیے ہمیں تاریخ کے جھروکے میں جھانکنا پڑے گا جہاں اوڈیپس کی ماں اور بیوی جوکاسٹا (سوفوکلیس کے لکھے ہوئے) عالمی شہرت یافتہ ڈرامے اوڈیپس ریکس میں کہتی ہے کہ دانش کے حامل مرد کو عہدِ حاضر کا درست اندازہ لگانے کے لیے ماضی کے تجربے کو بروئے کار لانا ہی چاہیے۔

ماضی پر ایک نظر

قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک افغانستان دریائے سندھ کے مشرقی حصے تک کے پاکستانی علاقے کی ملکیت کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ جغرافیہ کی اصطلاح میں اِسے cis-Indus کہا جاتا ہے۔ پاکستان سے ملحق سرحد کے مختلف مقامات کو تسلیم نہ کرنے کے حوالے سے بھی افغانستان ریاستی سطح پر ناہموار پالیسی کا حامل رہا ہے۔ ماضی کی طرف بار بار پلٹنے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ یہ مشق ہمیں ٹی ایس ایلیٹ کی ’’برنٹ نارٹن‘‘ کا ایک جملہ یاد دلاتی ہے کہ ’’جو کچھ رہا ہوگا، وہ محض مجرد اہمیت کا حامل ہے، وہ ایک مستقل امکان کی شکل میں ہے اور قیاس کی دنیا کی حقیقت ہے۔‘‘ ماضی میں خواہ کچھ بھی ہوا ہو، اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود سرحد (ڈیورینڈ لائن) بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور غیرمتنازع ہے۔ افغانستان کی طرح سے دریائے سندھ کے مغربی سِرے (بلوچستان) تک کے علاقے پر ملکیت کا دعویٰ دوطرفہ تعلقات اور خود بلوچستان کو بھی شدید نقصان پہنچاتا رہا ہے۔

ماضی کو یاد دلانے کا بنیادی مقصد کابل کے دعووں کو بے بنیاد قرار دینا اور اِس ضرورت کی نشاندہی کرنا ہے کہ پاکستان اب اپنی افغان پالیسی نئے سِرے سے ترتیب دے۔

پاکستان نے افغانستان پر بہت زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سرحد کو مکمل طور پر تسلیم کرے، پاکستان کے مغربی اور شمال مغربی اضلاع میں خفیہ کارروائیوں کے ذریعے مداخلت سے باز رہے اور مثبت اشتراکِ عمل کے ذریعے بین الاقوامی سرحد کے دونوں طرف آباد قبائل کے لیے نقل و حرکت کو آزاد اور محفوظ بنائے۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو پایا ہے اور پاکستان کو افغانستان سے مستقل نوعیت کے تخریبی اقدامات سے نپٹنے کے لیے سخت تر اقدامات کرنا پڑے ہیں۔

تاریخ اور دیو مالائی داستانیں، بالخصوص مذہبی دیومالا پر مبنی داستانیں، لوگوں پر قیامت ڈھاسکتی ہیں۔ صہیونیوں کی آباد کاری کی شکل میں نوآبادیاتی انداز ایک جاری المیہ ہے جس کی جڑیں دیو مالائی ماضی میں گڑی ہوئی ہیں۔ اس سے موجودہ زمانے میں آگ بھڑکی ہوئی ہے اور مستقبل کے حوالے سے امکانات بھی خطرے میں پڑے ہوئے ہیں۔

افغان عوام نے مجموعی طور پر وہ استحکام حاصل نہیں کیا تھا جس نے اُنہیں احمد شاہ ابدالی کے مفتوحہ وسیع علاقوں کا نظم و نسق سنبھالنے کی طاقت عطا کی ہو۔ اور نہ ہی وہ مغلوں کی مرتی ہوئی سلطنت یا بادشاہت کی جگہ کوئی اور بادشاہت یا سلطنت قائم کرنے کے قابل ہی ہوسکے تھے۔ مجموعی طور پر قبائلی طرزِ زندگی اور سوچ کے حامل افراد کے لیے اِتنی بڑی سلطنت کو سنبھالنا بہت مشکل کام تھا۔ ایسی ہی کیفیت ماضی کے اسکاٹ لینڈ میں بھی تھا۔ فریزر ٹِٹلر جانتا تھا۔ وہ اسکاٹش تھا۔ اب ہم ۱۹۴۷ء میں تقسیمِ ہند کا سبب بننے والے حالات یا کیفیات پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔

جب دُرانیوں نے بارک زئی (محمد زئی) قبائل کے ہاتھوں شکست کھائی اور زیرِ تصرف رقبہ گھٹ گیا تب لڑائی پھیل گئی۔ ۱۸۱۸ء میں دُرانیوں کی حکومت کے خاتمے سے بھی حقیقی امن قائم نہ ہوسکا۔ معاملات ۱۸۲۶ء میں درست ہوسکے جب پائندہ خان کے سب سے چھوٹے بیٹے دوست محمد نے اپنے بھائیوں پر قابو پاکر درانیوں کی بادشاہت کے بچے کھچے حصے پر دعویٰ کیا مگر خیر تب تک بچا ہی کیا تھا۔

فریزر ٹِٹلر نے لکھا ہے ’’دُرانیوں کے دور کے انتشار اور اندرونی لڑائیوں کے دوران، جو ربع صدی تک جاری رہی، یکے بعد دیگرے صوبے مرکزی اتھارٹی سے الگ ہوتے گئے۔ سندھ، بلوچستان، پورے جنوب نے ایرانی سرحد سے غزنی اور بلخ تک یکے بعد دیگر علیحدگی اختیار کی۔

اب ایک اور بڑا مسئلہ پیدا ہوا جو سِکھوں کی شکل میں تھا۔ احمد شاہ ابدالی نے اپنے دورِ حکومت کے آخری برسوں میں پنجاب کو سِکھوں کے کنٹرول میں جانے دیا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کے پوتے زمان شاہ کے دور میں سِکھوں نے افغانستان کے نمائندے کو قتل کردیا تھا۔ اس واقعے نے زمان شاہ کو پنجاب واپس آکر مرکزی اتھارٹی دوبارہ قائم کرنے پر مجبور کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اُس نے درالحکومت کابل سے لاہور منتقل کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔ ایسا اس لیے نہ ہوسکا کہ قبائلی سردار کابل سے دور نہیں ہونا چاہتے تھے۔ تب اُس نے لاہور میں سِکھ گورنر تعینات کرنے کو ترجیح دی۔ اب رنجیت سنگھ کی انٹری ہوئی۔

رنجیت سنگھ نے دُرانیوں کی اتھارٹی کے کمزور ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ۱۸۱۸ء تک اُس نے دریائے سندھ اور دریائے ستلج کے درمیان پورے شمالی پنجاب پر اپنا اقتدار قائم کرلیا۔ ۱۸۲۰ء اور ۱۸۲۳ء کے درمیان رنجیت سنگھ نے اٹک کی لڑائی میں مغربی اٹک اور نوشہرہ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ نوشہرہ کی لڑائی نے پشاور کی پوری وادی کو سِکھ راج کے حوالے کردیا۔ ملک درہ خیبر تک کا کنٹرول اپنے پاس رکھتے ہوئے رنجیت سنگھ نے تھوڑے سے نذرانے کے عوض پشاور کی گورنر شپ سلطان محمد خان کو سونپ دی۔

۱۸۳۷ء میں رنجیت سنگھ اور دوست محمد کی افواج کے درمیان جمرود کے لیے لڑائی تک دوست محمد خان کو افغانستان میں اپنے زیرِ تصرف علاقوں کے لیے اپنوں ہی کی طرف سے غداری کا سامنا کرنے پر اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ انگریز اُس کے اور رنجیت سنگھ کے درمیان مصالحت کروائیں۔ یہی سبب ہے کہ سِکھ فوج کو ہرانے اور ہری سنگھ نلوا کو قتل کرچکنے کے باوجود اُس نے پشاور کی طرف بڑھنے سے گریز کیا۔ تب کچھ دن قبل ہی بھارت میں وارد ہونے والے لارڈ آکلینڈ کے نام دوست محمد کے خط نے وسطِ ایشیا کے امور میں انگریزوں کی مداخلت کا دروازہ کھولا۔

دوست نے انگریزوں سے اچھی خاصی خط و کتابت کی۔ کانگریس کی لائبریری میں دوست محمد کی زندگی کے بارے میں اچھا خاصا مواد موجود ہے۔ وہ انگریزوں سے اپنے معاملات میں مداخلت اور مصالحت کا طالب رہا۔ اس نے مارچ ۱۸۵۵ء اور جنوری ۱۸۵۷ء میں انگریزوں سے معاہدے بھی کیے۔ اِن معاہدوں سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اُس نے افغانستان اور برطانوی راج میں جینے والے بھارت کے درمیان واقع سرحد کو مکمل طور پر قبول کرلیا تھا۔ تب افغان سرحد کا مشرقی سِرا درہ خیبر کے دہانے پر واقع قلعہ علی مسجد تک تھا۔ فرنٹیئر اب اس قلعے میں ایک کمپنی تعینات رکھتی ہے۔

اِن دونوں معاہدوں کا تذکرہ لازم ہے کیونکہ اِن کے بعد ہی ۱۸۹۳ء میں ڈیورینڈ ٹریٹی ہوئی اور یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ افغانیوں کی حکومت اس معاہدے سے بہت پہلے بھی دریائے سندھ تک نہیں تھی۔ اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ ۱۸۴۹ء کے بعد افغان فوج نے کبھی پشاور کے نزدیک بھی قدم رکھا ہو۔ ۱۸۵۷ء کے معاہدے کے تحت دوست محمد کے لیے سپاٹ نالی والی چار ہزار بندوقیں اور سالانہ ایک لاکھ روپے کا زرِ اعانت بھی طے کیا گیا۔

افغانوں اور انگریزوں کے درمیان دوسری جنگ کے پہلے معرکے کے بعد ۱۸۷۹ء میں انگریزوں اور افغانوں کے درمیان گندامک کا معاہدہ ہوا تھا۔ جب انگریزوں نے افغانستان پر حملہ کیا تو دوست محمد کا بیٹا شیر علی خان بھاگ نکلا اور اُس کے بیٹے یعقوب خان نے امن کے قیام کی خواہش ظاہر کی۔

گندامک کی ٹریٹی کے نویں شِق کے مطابق سِبی، کُرم اور پشین کے اضلاع پر افغانستان کی حکمرانی سے دست بردار ہونا قبول کیا گیا اور خیبر اور مچنی کے دروں پر بھی انگریزوں کا راج تسلیم کیا۔ یہ دونوں درے پشاور اور جلال آباد کے درمیان واقع ہیں۔ آزاد قبائل کے درمیان تمام تعلقات اِن دونوں دروں سے جُڑے ہوئے ہیں۔ یہ سب کچھ اس معاہدے کے متن میں شامل ہے۔

یہ امن معاہدہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ لوئی کیویگنری کی قیادت میں آنے والے ایک برطانوی مشن کو چند افغان سپاہیوں نے مار ڈالا اور برطانوی سفارت کاروں کی لاشوں نے اس معاہدے کو ختم کردیا۔ جب عبدالرحمن کابل کے تختِ شاہی پر رونق افروز تھا تب اُس نے اعلان کردیا تھا کہ قندھار اُس کی حکمرانی کے دائرے میں شامل نہیں۔

یعقوب خان کے چھوٹے بھائی اور ہرات کے گورنر ایوب خان کی فوج کے ہاتھوں مائیونڈ کے معرکے میں برطانوی فوج کی شکست نے قندھار پر برطانوی راج کی پوزیشن کو کمزور بنادیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایوب خان کو افغانستان میں ہیرو کا درجہ ملا۔ اُس کا انتقال ۱۹۱۴ء میں لاہور میں ہوا اور پشاور میں اُسے دفن کیا گیا۔ طالبان نے اپنے ترانوں میں مائیونڈ کے معرکے کا بھی ذکر کیا ہے۔

۱۸۹۳ء میں ڈیورینڈ کا معاہدہ

عبدالرحمن نے انگریوں سے ایک معاہدہ کیا جس نے انگریز راج کے ہندوستان اور افغانستان کے درمیان سرحدوں کو مزید سکیڑ دیا اور یوں اُن کا اثر و نفوذ بھی گھٹ گیا۔ معاہدے سے نقشے بھی منسلک کیے گئے۔ امیر عبدالرحمن نے باجوڑ، سوات، چترال اور چاغی کے اضلاع پر سے افغانستان کی حکمرانی سے ہاتھ کھینچ لیا۔ اس کے عوض انہیں اسمار، کافرستان اور بیرمل کے علاقے دیے گئے۔ اِس سے قبل ان علاقوں پر افغانستان کی حکمرانی تھی نہ کنٹرول۔ اگر کوئی تعلق تھا بھی تو بس برائے نام۔ مزید یہ کہ ہندوستان کے انگریز وائسرائے کو خراج کی شکل میں سالانہ بارہ لاکھ روپے دیے جانے لگے اور ہندوستان کی حکومت نے اس میں سالانہ ۶ لاکھ روپے کا اضافہ ممکن بنانے کی ذمہ داری قبول کی۔

بیشتر افغان مصنفین اور سیاست دانوں کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ افغانستان نے دریائے سندھ اور ڈیورینڈ لائن کے درمیان واقع علاقے کا بیشتر حصہ ڈیورینڈ ٹریٹی کے بعد کھویا۔ تاریخ کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا علاقہ ڈیورینڈ ٹریٹی سے بہت پہلے ۱۸۱۰ء اور ۱۸۷۰ء کی دہائیوں کے درمیان افغانستان ہار چکا تھا۔ افغانستان کے ایک مصنف اروِن راہی کا کہنا ہے کہ ڈیورینڈ ٹریٹی کے ذریعے افغانستان نے چند علاقے پہلی بار نہیں بلکہ آخری بار برطانوی راج کے حوالے کیے۔

افغانستان اور ہندوستان کے بعض مصنفین اور تجزیہ کاروں کا یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہے کہ ڈیورینڈ معاہدہ ۱۰۰؍سال کے لیے تھا۔ معاہدے کے متن میں ایسی کوئی بات درج نہیں۔ متن کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔ افغانوں کا دعویٰ ہے کہ معاہدے کا جو متن امیر عبدالرحمن کو دیا گیا تھا، اُس میں ۱۰۰؍سال کا ذکر تھا مگر یہ بات کوئی بھی ثابت نہیں کرسکا۔

یہ دعویٰ بھی بالکل بے بنیاد ہے کہ امیر عبدالرحمن نے ڈیورینڈ ٹریٹی پر شدید دباؤ کی حالت میں دستخط کیے۔ برطانوی تاریخ دان بیرسٹر بیجان اومرانی نے لکھا ہے کہ ڈیورینڈ ٹریٹی کے لیے مذاکرات ایک ماہ تک جاری رہے۔ اس دوران ہندوستان کی حکومت اور سر مارٹائمر ڈیورینڈ کے درمیان خط و کتابت ہوتی رہی۔ اس خط و کتابت سے اندازہ ہوتا ہے کہ فریقین میں ہر معاملے پر کھل کر بات ہوئی اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں چند ایسے علاقے بھی افغانستان کو ملے جنہیں افغان حکمران ہندوستان کے کنٹرول میں دیکھنا چاہتے تھے۔

اِس وقت جو کچھ بھی اُس حوالے سے میسر ہے، اُس کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر اس معاہدے کے حوالے امیر عبدالرحمن کے جذبات ملے جلے تھے تب بھی اِتنا ضرور ہے کہ یہ معاہدہ مجبوری کی حالت میں نہیں ہوا تھا۔ اُس دور میں الحاق کے حوالے سے کوئی باضابطہ بین الاقوامی قانون موجود نہ تھا۔ شواہد موجود ہیں کہ افغان مہم جُو ہندوستانی علاقوں پر حملے کرتے اور اُن پر قبضہ کرلیتے تھے۔ معاہدے عام طور پر علاقوں پر قبضہ جمانے کے بعد ہی کیے جاتے تھے۔ جرمن قانون دان لاسا اوپنہائم کا کہنا ہے کہ امن معاہدوں کے حوالے سے دباؤ ایک ناگزیر فیکٹر تھا تاکہ جنگ کو موجودہ قوانین کی تبدیلی کے محرک کے طور پر تسلیم اور قبول کیا جائے۔ یہ بات اومرانی نے لاسا اوپنہائم کے مقالے انٹرنیشنل لا سے بیان کی ہے۔

ڈیورینڈ ٹریٹی کے تحت ۱۸۹۳ء میں طے پانے والی سرحدوں کا امیر عبدالرحمن کے بیٹے اور جانشین امیر حبیب اللہ نے ۱۹۰۵ء میں طے پانے والے کابل کے معاہدے میں بھی ذکر کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ڈیورینڈ لائن کو ہندوستان کے ساتھ سرحد کے طور پر قبول کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ امیر حبیب اللہ کے لیے فتح کے مساوی تھا کیونکہ امیر عبدالرحمن کے انتقال کے بعد ہندوستان نے افغانستان سے زیادہ رعایتیں طلب کی تھیں اور کابل کو زرِ اعانت دینا بھی بند کردیا تھا۔ لوئی ڈین کے ساتھ تین ماہ تک جاری رہنے والی خط و کتابت کے ذریعے امیر حبیب اللہ ڈیورینڈ ٹریٹی کے تحت معاملات درست کرنے میں کامیاب ہوسکا۔ ۱۹۱۹ء میں امان اللہ خان نے کابل کے معاہدے کو منسوخ کردیا جس کے نتیجے میں افغانوں اور انگریزوں کے درمیان تیسری جنگ ہوئی۔ اس کے بعد راولپنڈی میں ہونے والا معاہدہ مختصر، پیچیدہ اور ناخوش گوار رہا۔ اس معاہدے کے تحت سرحد میں تھوڑی سی تبدیلی بھی کی گئی اور امیر امان اللہ کو یہ تبدیلی قبول کرنے پر مجبور بھی ہونا پڑا۔ درہ خیبر کے مغرب تک جس علاقے کی ڈیمارکیشن برطانوی کمیشن نے نہیں کی تھی، اُس کی ڈیمارکیشن بھی اب کی گئی۔ یہیں حالیہ افغان جارحیت ہوئی ہے۔ معاہدے کے دوسرے اور تیسرے آرٹیکل کے تحت افغانستان کے لیے بعض رعایتیں بھی ختم کردی گئیں اور امیر امان اللہ کو دی جانے والی گزارے کی رقم بھی ختم کردی گئی۔

طے شدہ سرحدوں کو پھر تسلیم کرنے اور تجارتی و سفارتی روابط کے قیام کے حوالے سے ۱۹۲۱ء میں پھر ایک معاہدہ کیا گیا۔ اس معاہدے کے آرٹیکل نمبر۲۴ میں ایک شِق دست بردار ہونے کی بھی ہے۔ ۱۹۳۰ء میں افغانستان کے اُس وقت کے حکمران محمد نادر نے اِسے بحال کردیا۔ افغانستان نے ۱۹۲۱ء میں معاملات سے جو دست برداری قبول کی تھی وہ ۱۹۴۹ء تک برقرار رہی۔ ۱۹۴۹ء میں کابل نے دعویٰ کیا کہ اُس نے ۱۹۲۱ء کے معاہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعلان یا دعویٰ ڈیورینڈ ٹریٹی کے تحت کیے جانے والے رجوعی دعووں سے بہت مختلف تھا۔

آزادی کے بعد کا ماضی

افغانستان نے ستمبر ۱۹۴۷ء میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے خلاف ووٹ دیا۔ اس کا استدلال یہ تھا کہ جب تک پشتونوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہ دیا جائے تب تک پاکستان کی شمال مغربی سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) کو پاکستان کا حصہ نہ گردانا جائے۔ اکتوبر ۱۹۴۷ء میں افغانستان نے اپنی منفی رائے واپس لے لی اور دونوں ملکوں نے فروری ۱۹۴۸ء میں سفارتی تعلقات قائم کرکے سفیر تعینات بھی کردیے۔ افغانستان کے حکمران ظاہر شاہ نے اپنے انکل سردار شاہ ولی خان سفیر بناکر کراچی بھیجا۔ سردار شاہ ولی خان اردو بولتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ ایک موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ پاکستان میں پشتونوں کی اکثریت والے علاقوں پر افغانستان کا دعویٰ تھا تاہم اب وہ اس دعوے سے دستبردار ہوچکا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں خدمات انجام دینے والے امریکی سفارت کار جیمر اسپین کے بقول پاک افغان تعلقات کا مرکزی نکتہ افغانستان کا یہ مطالبہ ہے کہ پشتونستان اُس کا حصہ ہونا چاہیے اور افغانستان نے خفیہ سرگرمیوں کے ذریعے پختون اکثریت والے علاقوں اور بلوچستان کے چند علاقوں کو بھی اپنی حدود میں شامل کرنے کی کوشش کی۔

پشتونستان کا اِشو، جو پختونوں کے لیے حقِ خود ارادیت کا معاملہ تھا، بنیادی طور پر رجوعی معاملہ تھا۔ یہ حقیقت تو بالکل واضح تھی کہ اگر ایسی کوئی ریاست معرضِ وجود میں آبھی گئی تو اُس کی بقا ممکن نہ ہو پائے گی اور بالآخر افغانستان میں ضم ہو جائے گی اور یوں کابل کے گریٹر افغانستان کے خواب کو تعبیر مل جائے گی۔

۱۹۶۳ء میں ایشیا سروے کے لیے اپنے آرٹیکل ’’پاک افغان ڈیٹینٹ‘‘ (پاک افغان پُرامن بقائے باہمی) میں کراچی یونیورسٹی میں امریکی تاریخ کے وزٹنگ پروفیسر جارج مانٹیگنو نے لکھا کہ پختون قبائلیوں میں افغان ایجنٹ ایک زمانے تک کام کرتے رہے۔ انہوں نے خطیر رقوم بانٹیں، اسلحہ دیا اور ٹرانزسٹر ریڈیو بھی تقسیم کیے۔ یہ لوگ پختونستان کے لیے جذبات پروان چڑھانا چاہتے تھے۔

مانٹیگنو نے یہ بھی لکھا کہ کابل نے مستقبل کے پختونستان میں افغانستان کے پشتو بولنے والے علاقے شامل کرنے کیا عندیہ نہیں دیا تھا۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ افغانستان دراصل اپنے ماضی کو بحال کرنا چاہتا تھا، اُسے پختونستان کاز سے کچھ خاص غرض نہ تھی۔

اس مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ مئی ۱۹۶۳ء میں تہران میں ہونے والے معاہدے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ ستمبر ۱۹۶۰ء میں افغانستان کے وزیراعظم (اور افغانستان کے حکمران ظاہر شاہ کے کزن) سردار محمد داؤد نے افغان فوج باجوڑ بھیجی تھی جس کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سرد مہری در آئی تھی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان اور باجوڑ کے قبائلیوں کو افغان عناصر کو نکال باہر کرنے میں ایک سال لگا تھا۔ داؤد بین الاقوامی سرحد کا کھلم کھلا مخالف تھا۔ وہ پشتونستان کے معاملے میں سخت گیر اور انتہا پسندانہ موقف کا حامل تھا۔ پاکستان نے افغانستان کو چیلنج کیا کہ وہ اپنی حدود میں واقع پختون علاقوں میں ریفرینڈم کرواکے دیکھ لے کہ افغانستان کے پختون افغانستان کا حصہ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔

کابل نے سرحدی تنازعات کو زندہ رکھنے کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ خفیہ سرگرمیاں جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اُس نے بہت سا مواد بھی تقسیم کیا ہے۔ اس سے اور کچھ نہ تو ہوا مگر دو باتیں ضرور ہوئیں۔ اول یہ کہ پاکستان کے لیے افغانستان کی سوچ اور پالیسی میں نفی در آئی اور دوسری طرف پاکستان کی افغانستان پالیسی میں نمایاں تبدیلی رونما ہوئی۔ افغانستان کا جھکاؤ واضح طور پر بھارت کی طرف رہا ہے۔ اس جھکاؤ نے پاکستان کو افغان پالیسی نئے سِرے سے مرتب کرنے کی تحریک دی ہے۔

ظاہر شاہ کی معزولی

۱۷ جولائی ۱۹۷۳ء کو سردار داؤد نے ظاہر شاہ کے اقتدار کا تختہ الٹ دیا اور افغانستان کو جمہوری ریاست بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ سب کچھ خوں ریزی کے بغیر ہوا اور افغان فوج کے بیشتر افسران کی حمایت حاصل رہی۔ داؤد نے پشتونستان کی تحریک کو دوبارہ زندہ کیا۔ انہوں نے پختون اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی حمایت اور مدد شروع کی۔ اندرونِ ملک داؤد نے رجعت پسندوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔ افغانستان کے بہت سے اعلیٰ افسران پاکستان بھاگ گئے۔ ان میں گل بدین حکمت یار، احمد شاہ مسعود، برہان الدین ربانی اور عبدالرب رسول سیاف نمایاں تھے۔

میجر جنرل (ر) نصیراللہ بابر مرحوم تب بریگیڈیئر اور فرنٹیئر کور کے انسپکٹر جنرل تھے۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو، جو اُس وقت وزیراعظم تھے، صورتحال کے بارے میں بتایا۔ بارنیٹ ریوبن نے ’’دی فریگ مینٹیشن آف افغانستان: اسٹیٹ فارمیشن اینڈ کولیپس اِن دی انٹرنیشنل سسٹم‘‘ میں لکھا ’’۱۹۷۴ء میں اسلام پسند پناہ گزینوں کی آمد بھٹو حکومت کے لیے ایک اچھا موقع تھا۔ پاکستان نے خفیہ طور پر اُنہیں منظم کرکے اُن کی بھرپور معاونت کی۔ یہ ۱۹۷۵ء کی بات ہے۔ دوسری طرف ایران کے بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کی طرف سے بھی خاصا دباؤ تھا۔ وہ داؤد کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے تھے تاکہ وہ پختون اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی حمایت و امداد کے حوالے سے سَودے بازی پر مجبور ہو۔

میں نے ۱۹۹۸ میں کولمبو کے ریجنل سینٹر آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے لیے ایک رپورٹ کی تیاری کے سلسلے میں نصیراللہ بابر کا انٹرویو کیا۔ نصیراللہ بابر نے مجھے بتایا کہ اِن افغان قائدین کو برطانوی دور کے ملٹری پے رول کی طرز پر وظیفہ دیا جاتا تھا۔ نصیراللہ بابر نے اسپیشل سروسز گروپ کی ایک ٹیم کو افغان جلا وطنوں کو بنیادی انفنٹری ہتھکنڈے سکھانے کا ٹاسک سونپا تھا۔ اس معاملے میں انٹرو سروسز انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کا کوئی عمل دخل نہ تھا۔ اس پورے معاملے کا علم صرف وزیراعظم بھٹو، اس وقت کے وزیرِ خارجہ عزیز احمد اور آرمی چیف جنرل ٹِکا خان کو تھا۔ ۱۹۹۴ء میں نصیراللہ بابر کو جنوب میں ترکمانستان کی طرف کا روٹ کھولنے کے لیے طالبان کی سہولت کاری کا ٹاسک سونپا گیا۔ ویسے نصیراللہ بابر کا طالبان (تنظیم) کی تشکیل کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ اس دور کی رپورٹس اور تجزیوں سے اس بات کی مکمل وضاحت ہوتی ہے۔ بعد میں یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ افغانستان کے حکمران داؤد پر دباؤ ڈالنے کی پاکستانی پالیسی کا بنیادی مقصد افغانستان کے معاملات میں مداخلت کرنا نہیں بلکہ داؤد کو دباؤ میں رکھ کر اُسے سرحدی تنازعات پر افہام و تفہیم کے لیے رضامند کرنا اور رجعت پسندانہ پالیسی اختیار نہ کرنے پر مجبور کرنا تھا۔

داؤد نے سوویت یونین سے دور ہوتے ہوئے امریکا، مصر، ایران، پاکستان، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کی طرف جھکنا شروع کیا۔ اس وقت کے اقوامِ متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے خصوصی سیاسی معاملات ڈیگو کارڈوویز (جنہوں نے سیلِگ ہیریسن کے ساتھ ’’آؤٹ آف افغانستان‘‘ لکھی)، پشاور میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے پناہ گزین کے ڈائریکٹر انجیلو ریزانیاگم، بارنیٹ ریوبن اور دیگر شخصیت نے لکھا کہ داؤد پر اتنا دباؤ مرتب ہوچکا تھا کہ وہ ڈیورینڈ لائن پر بات چیت اور سودے بازی کے لیے آمادہ ہوگیا۔ بعد میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ریاض کھوکھر (مرحوم) نے بھی اِس کی تصدیق کی۔ تب وہ نوجوان تھے اور داؤد سے بھٹو کی ملاقات میں اُنہوں نے نوٹس لیے تھے۔

جون ۱۹۷۶ء میں ذوالفقار علی بھٹو کابل گئے اور داؤد نے اُسی سال اگست میں اسلام آباد کا دورہ کیا۔ بھٹو کی طرف سے نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں کی رہائی کے وعدے پر داؤد نے بھی ڈیورینڈ لائن کو باضابطہ بین الاقوامی سرحد کے طور پر قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

یاد رہے کہ ۱۹۷۵ء تک بھٹو کو بھی مغربی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں سوویت یونین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی سے خاصی تشویش لاحق ہوچکی تھی۔ اُس سال جون سے اگست تک بھٹو نے امریکی صدر جیرالڈ فورڈ کو تین خطوط لکھے۔ یہ خطوط بہت پُراسرار نوعیت کے ہیں۔ ۱۷؍اگست کے خط میں انہوں نے واضح طور پر لکھا کہ یکم اگست ۱۹۷۵ء کو ہیلسنکی فائنل ایکٹ پر دستخط کے نتیجے میں وسطِ یورپ میں استحکام یقینی بنانے کے بعد سوویت یونین اب مغربی ایشیا (مشرقِ وسطیٰ) اور جنوبی ایشیا پر متوجہ ہوگا۔ یورپ میں سلامتی کا اہتمام کرنے کے بعد سوویت یونین کی طرف سے پاکستان سمیت ایشیا کی چھوٹی ریاستوں پر دباؤ ڈالے جانے کا قومی امکان تھا۔ بھٹو کا کہنا تھا کہ سوویت یونین ایشیا کی سطح پر اپنی پوزیشن اِتنی مضبوط بنانا چاہتا ہے کہ کوئی بھی اُسے چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہ رہے۔ آن لائن فورڈ لائبریری میوزیم سے بھٹو کے تینوں خطوط کا متن حاصل کیا جاسکتا ہے۔

فورڈ نے اپنے جواب میں بھٹو کے نکات کو بنیادی طور پر نظرانداز کیا۔ امریکا نے اُس تبدیلی کو سمجھنے میں بہت دیر لگائی جو چار سال بعد رونما ہوئی اور سوویت افواج نے دریائے آمو پار کرکے کابل پر قبضہ کرلیا۔

بھٹو کو البتہ یہ اندازہ نہ ہوسکا کہ گھر میں ایک بغاوت اُس کی منتظر تھی۔ جولائی ۱۹۷۷ء میں بھٹو کو معزول کرنے کے بعد اقتدار سنبھالنے والے جنرل محمد ضیاء الحق نے افغان حکمران داؤد کے ساتھ ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے کی ٹھانی۔ انہوں نے پختون اور بلوچ قائدین کو رہا کرنے کے بھٹو کے فیصلے کو مسترد کردیا۔ داؤد کو انہوں نے الجھائے رکھا۔ وہ اکتوبر ۱۹۷۷ء میں کابل گئے اور اس کے جواب میں داؤد نے مارچ ۱۹۷۸ء میں اسلام آباد کا دورہ کیا۔

کارڈوویز اور ہیریسن نے لکھا ہے کہ اسلام آباد میں اختتامی پریس کانفرنس میں داؤد نے بتایا کہ ڈیورینڈ لائن سمیت تمام معاملات پر بات چیت ہوئی ہے۔ اور یہ بھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تمام معاملات درست ہوتے چلے جائیں گے۔ اِن دونوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ داؤد نے افغانستان میں رائے عامہ ہموار کرنی شروع کردی تھی اور وہ پختون اور بلوچ قائدین سے بھی ملے تھے اور انہیں بتایا کہ پاکستان سے آنے والے تمام سیاسی کارکنوں اور چھاپہ ماروں کو ۳۰؍اپریل ۱۹۷۸ء تک افغان سرزمین سے نکل جانا چاہیے۔ نیشنل عوامی پارٹی اور بعد میں عوامی نیشنل پارٹی کے لیڈر اجمل خٹک نے کہا تھا کہ داؤد بے وقوف ہیں اور یہ کہ وہ پاکستان نہیں جائیں گے۔

یہ ڈیڈ لائن بہت دور کی ثابت ہوئی۔ ۲۷؍اپریل ۱۹۷۸ء کو داؤد اور اس کی فیملی کو چند اعلیٰ افسران نے (جن کا تعلق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان سے تھا) ایک بغاوت میں قتل کردیا۔ ہوا یہ تھا کہ پی ڈی پی اے کے پرچم نامی دھڑے سے تعلق رکھنے والے ایک معروف بائیں بازو کے دانشور میر اکبر خیبر کے قتل کے بعد ہونے والے احتجاج کو کچلنے کے لیے داؤد نے طاقت استعمال کی تھی اور پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کو گرفتار کیا تھا۔

پی ڈی پی اے نے اقتدار سنبھالا۔ افغانستان کی تاریخ کے مطابق قبائلی گروپوں نے مزاحمت کی اور اس کے جواب میں کمیونسٹوں نے بھرپور جابرانہ ’’اصلاحات‘‘ کیں۔

سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری لیوند بریزنیف کو افغانستان کے امور میں مداخلت کی دعوت دی گئی۔ ۲۴ دسمبر ۱۹۷۹ء کو سوویت فوج نے افغانستان پر حملہ کردیا۔ افغانستان پر سوویت یونین کا قبضہ کم و بیش سوا نو سال رہا۔

پاکستان کی طرف سے افغانستان کو بین الاقوامی سرحد قبول کرنے پر راضی کرنے کی کوششوں کا نئے سِرے سے آغاز ہوا۔ پاکستان نے سوچا مجاہدین کی مدد کرنے سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔ یہ غلط فیصلہ تھا۔ سوویت افواج کے نکل جانے سے ملک میں خانہ جنگی پھوٹ پڑی۔ اس کے نتیجے میں طالبان ابھرے۔ انہوں نے بین الاقوامی سرحد قبول نہیں کی۔ اب یہ مسئلہ پھر سر اٹھا چکا ہے۔ دنیا اس سرحد کو مانتی ہے مگر طالبان کی دوسری حکومت اس کے لیے تیار نہیں۔

موجودہ رفتار پاکستان کے پالیسی آپشنز کی مکمل ٹریٹمنٹ کی اجازت نہیں دیتی۔ لازم ہوچکا ہے کہ دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا تاریخ کے تناظر میں جائزہ لیا جائے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے تمام طریقوں پر بھرپور غور کیا جانا ہے۔

ڈیورینڈ لائن بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے۔ کسی بھی پرانے معاہدے کو بحال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کسی مردہ گھوڑے کو زندہ کرنے سے کچھ نہ ہوگا۔ پاکستان کو اس حوالے سے اپنا موقف ڈٹ کر پیش کرنا ہے اور پوری قوت سے اپنی بات منوانی ہے۔

اس حوالے سے ویانا کنونشن کے مندرجات اور پروویژنز سے مدد لی جاسکتی ہے۔ اس کنوشن کی رو سے کوئی بھی ملک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد کو خود نہیں بدل سکتا۔ یہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے طے کردہ رہنما خطوط کے مطابق بھی ہے یعنی یہ کہ اب آزاد ریاستوں کو وہی سرحدیں قبول کرنی چاہئیں جو آزادی ملنے سے قبل تسلیم شدہ تھیں۔ سات عشروں سے پاکستان جن علاقوں پر متصرف رہا ہے، وہ اب اُسی کے ہیں اور یہ سب کچھ بین الاقوامی قوانین کے تحت تسلیم شدہ ہے۔

پالیسی پر نظرثانی کے وقت کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ یہ کارروائیاں پاکستان اور افغانستان، دونوں ہی کی سرزمین پر کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ دیکھنا چاہیے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کہاں کہاں ریاستی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے الگ الگ پالیسی اور حکمتِ عملی درکار ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو اندرونی ہم آہنگی یقینی بنانے کے بعد ہی بیرونی محاذ پر کچھ کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے جامع پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ وہی نافذ بھی کی جاسکتی ہے۔                     (مترجم: محمد ابراہیم خان)

“The Durand Line and Afghanistan”. (Daily “Dawn” Karachi)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں