اسلام قبول کرنے والے جاپانی

کچھ روز قبل میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ اس بات کی تحقیق کی جائے کہ جو جاپانی شہری دین اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوکر مسلمان ہوئے ہیں، وہ جاپان میں کتنے ترقی یافتہ ہیں یا انہوں نے اپنے شعبے میں کوئی ایسی گرانقدر خدمات انجام دی ہیں جن سے جاپان میں اسلام کو فروغ حاصل ہوا ہو؟ تھوڑی سی تحقیق کے بعد ۱۵؍ایسے اہم جاپانی مسلمانوں کے نام اور ان کی خدمات میرے سامنے تھیں جو کسی بھی مسلمان کے لیے باعث فخر ہوسکتی ہیں۔ آیے آپ کو ایسے ۱۵ معروف جاپانی مسلمانوں سے متعارف کراتے ہیں جنہوں نے جاپانی معاشرے میں بطور جاپانی مسلمان اہم خدمات انجام دیں۔

۱۔ کینجی گوڈا ایک مشہور جاپانی صحافی اور فوٹوگرافر تھے جو اسلام قبول کرنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق اور امن کے سفیر بن گئے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جنگ زدہ علاقوں کی رپورٹنگ کی اور اسلام کے پیغام کو دنیا بھر میں عام کرنے کی کوشش کی۔

۲۔ نور محمد جن کا جاپانی نام نوریو ایتو ہے، ایک مشہور اسلامی اسکالر اور مترجم ہیں۔ انہوں نے جاپانی زبان میں قرآن کا ترجمہ کیا اور اسلام کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لیے کئی کتابیں لکھیں۔ ان کا کام جاپانی معاشرے میں اسلام کو سمجھنے کا ایک ذریعہ بنا۔

۳۔ یوشی یوکی جاپان میں ایک معروف بزنس مین اور اسلامی فلاحی تنظیم کے بانی ہیں۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی زندگی کو فلاحی کاموں کے لیے وقف کر دیا اور جاپان میں ضرورت مند مسلمانوں کے لیے کئی منصوبے شروع کیے۔

۴۔ ریحان ماتسور جاپانی ٹیکنالوجی کے میدان کی ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنی کمپنی کے ذریعے اسلامی اخلاقیات پر مبنی کاروباری ماڈل اپنایا اور اپنی مصنوعات کو حلال معیار کے مطابق بنایا۔

۵۔ یاسر ناکامورا ایک جاپانی معمار ہیں جنہوں نے کئی اسلامی طرز کے منصوبے بنائے ہیں۔ ان کی ڈیزائن کردہ مساجد اور اسلامی مراکز جاپان بھر میں مشہور ہیں۔ وہ اسلامی فنِ تعمیر کو جاپانی طرزِ تعمیر کے ساتھ ملانے میں مہارت رکھتے ہیں۔

۶۔ عائشہ کوبایاشی جاپان کی پہلی معروف مسلم خاتون صحافی ہیں۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد جاپانی خواتین میں اسلامی حجاب کے بارے میں شعور بیدار کرنے کا کام کیا اور کئی سیمینار منعقد کیے۔

۷۔ عثمان فوکودا ایک کامیاب جاپانی کاروباری شخصیت ہیں جو حلال فوڈ انڈسٹری میں پیش پیش ہیں۔ انہوں نے جاپان میں پہلا حلال فوڈ ریسٹورنٹ قائم کیا اور اسلامی کھانوں کو مقبول بنایا۔

۸۔ حسین تاکا ہاشی جاپان میں اسلامی تعلیمات کے ایک مشہور استاد ہیں۔ وہ قرآن کی تعلیم دینے کے لیے مختلف کورسز کا انعقاد کرتے ہیں اور نوجوانوں میں اسلام کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

۹۔ فاطمہ یاماموتو جاپان کی معروف سماجی کارکن ہیں۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد خواتین کے حقوق کے لیے کام شروع کیا اور جاپان میں مسلم خواتین کی نمائندگی کے لیے کئی پلیٹ فارمز بنائے۔

۱۰۔ عبداللہ کیکوچی جاپان کے معروف پروفیسر ہیں جو اسلامی فلسفے اور ثقافت پر تحقیق کررہے ہیں۔ ان کی تحریریں اور لیکچر جاپانی نوجوانوں میں اسلام کے بارے میں دلچسپی پیدا کررہے ہیں۔

۱۱۔ آدم اوکاڈا جاپان میں ایک مشہور اسلامی اسپیکر اور موٹیویشنل کوچ ہیں۔ وہ اسلام کی تعلیمات کو جاپانی زبان میں آسان انداز میں پیش کرتے ہیں اور جاپانی نوجوانوں کو اسلام کی طرف مائل کرتے ہیں۔

۱۲۔ سمیع ناگانو آرٹ اور ثقافت میں اسلامی رنگ لانے کے لیے مشہور ہیں۔ وہ اسلامی خطاطی کے ماہر ہیں اور ان کا آرٹ جاپان اور دیگر ممالک میں نمائش کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

۱۳۔ امینہ موری مسلمان خواتین کے لیے فیشن ڈیزائننگ کے میدان میں نمایاں ہیں۔ انہوں نے حجاب اور جاپانی روایتی لباس کو ملا کر ایک منفرد فیشن اسٹائل متعارف کرایا، جو جاپانی اور مسلم خواتین دونوں میں مقبول ہے۔

۱۴۔ یوسف شیزوکا ایک مشہور مترجم ہیں، جنہوں نے کئی اسلامی کتابوں کا جاپانی زبان میں ترجمہ کرکے اسلامی تعلیمات کو جاپانی معاشرے تک پہنچایا۔

۱۵۔ زینب تاکایا جاپان کی پہلی مسلم خاتون ڈاکٹر ہیں جنہوں نے حلال میڈیسن کی تحقیق میں مہارت حاصل کی۔ وہ اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن آف جاپان کی رکن ہیں۔

یہ ۱۵ جاپانی مسلمان اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام ایک جامع اور عالمی مذہب ہے جو کسی بھی قوم یا معاشرے کے افراد کو کامیابی کے مواقع فراہم کرسکتا ہے۔ جاپانی مسلمانوں کی یہ کامیابیاں نہ صرف ان کے ایمان اور محنت کا نتیجہ ہیں بلکہ یہ اسلام کے عالمی پیغام کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ مذہب اور پیشہ ورانہ کامیابی میں کوئی تضاد نہیں۔ (بحوالہ: روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی)۔

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں