بنگلادیش: طلبہ انقلاب اور شیخ حسینہ کے ظالمانہ اقتدارکا خاتمہ (دوسری قسط)

بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ حسینہ واجد کے ساتھ مل کر بنگلادیش میں اسلامی فورسز کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بنگلادیش میں لوگوں کو گم کرنا، ان کا خون بہانا اور جیلوں میں ڈالناان سب میں را کا ہاتھ ہے۔ بھارتی حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسی را شیخ حسینہ واجد کے ساتھ ہے۔ اس لیے لوگ بھارت کے ساتھ تعلقات سے نفرت کرتے ہیں۔ اس وقت بنگلادیش کے عوام بھارت کے ساتھ کیے گئے سارے معاہدے ختم کرنے کے مطالبات کررہے ہیں اور بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔ کلکتہ کے بازار اور اسپتال خالی پڑے ہیں۔ بنگلادیش کے طلبہ نے اس وقت بھارت کے ساتھ کسی قسم کے دوستانہ تعلقات کے خلاف تحریک کا اعلان کیا تو عوام بھی ان طلبہ کے ساتھ مل کر سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین کو کچلنے کے لیے بنگلادیش کی سکیورٹی فورسز نے بہت ظلم کیا۔ حسینہ واجد نے بھارت سے مدد مانگی تو بھارتی سکیورٹی فورسز بھی عوام کو کچلنے میں شامل ہوگئیں لیکن عوام کے غم و غصے کے سامنے ٹھہر نہ سکیں اور بالآخر شیخ حسینہ واجد کو فرار ہونا پڑا۔

یہ ۱۹۷۱ء کی بات ہے جب مشرقی پاکستان، پاکستان سے الگ ہو کر بنگلادیش بنا تھا۔ یہ واضح ہے کہ بھارتی مداخلت سے یہ ہواکہ صرف مداخلت ہی نہیں کی بلکہ باقاعدہ جنگ کی۔ بھارت کی ۱۰؍لاکھ افواج نے بنگلادیش کا محاصرہ کرکے اس پر حملہ کیا۔ پاکستان کی فوج کی کمی اور دیگر وجوہات کی بنا پر پاکستانی افواج مشرقی پاکستان پر کنٹرول نہ رکھ سکیں اور اس طرح بنگلادیش وجود میں آیا۔ جب پاکستانی فوج کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کااعلان ہوا تو اس وقت بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی ایک جلسہ عام سے خطاب کررہی تھی۔ اس دوران اندرا گاندھی کو اطلاع دی گئی تو اس نے جلسہ عام میں اعلان کیااور کہاکہ ہم نے پاکستان سے ہزارسال کابدلہ لے لیا ہے۔ وہ برصغیر میں مسلمانوں کی حکومت کاذکر کررہی تھی۔ برصغیر میں ہندوئوں نے مسلمانوں کی حکومت ختم کرنے کے لیے بہت کوشش کی مگر اس کو ختم نہ کرسکے۔ مگر جب انگریز آئے تو ہندوئوں نے مسلمانوں سے بغض اور عناد کی بنا پر انگریزوں کا ساتھ دیا۔ برصغیر میں خود تو حکومت نہ کرسکے مگر انگریزوں کا ساتھ دے کر مسلمانوں کی حکومت کو ختم کروایا اور برصغیر کو انگریزوں کا غلام بنادیا۔ ہندو قوم ہمیشہ انگریزوں کے پٹھوئوں کا کام کرتی رہی ہے۔ انگریز سے ملی بھگت کرکے مسلمانوں پر ظلم کیا۔ مسلمانوں نے ہر قسم کا ظلم برداشت کیا۔ مسلمان اپنی سا لمیت کے لیے ہندو، انگریز گٹھ جوڑ کے خلاف جدوجہد کرتے رہے۔ مسلمانوں کی ہزاروں کی تعداد میں شہادتیں ہوئیں پھر قائداعظم کی جدو جہد سے پاکستان وجود میں آیا۔ اس وقت بھی انگریز نے ہندوئوں کے ساتھ مل کر بد دیانتی کی۔ زمین کی تقسیم میں بددیانتی کی۔ وسائل کی تقسیم میں بددیانتی کی۔ فوجی سازو سامان کی تقسیم میں بھی بددیانتی کی گئی۔ ہندو انگریز گٹھ جوڑ ہر موقع پر سامنے آیا اور انگریز وں نے ہندوئوں کی خدمت اور خوشامدکی بدولت مکمل طور پر ہندوئوں کا ساتھ دیا کیونکہ انگریز کی غلامی سے آزادی کی جنگ صرف برصغیر کے مسلمانوں نے ہی لڑی اور جب برصغیر کی تقسیم کا فیصلہ ہوا تو فریق دوہی تھے ایک مسلمان او ر دوسرے ہندو۔ ہندوئوں کی پوری کوشش تھی کہ برصغیر تقسیم نہ ہو اور انگریز سارا برصغیرہندوئوں کے حوالے کرکے چلے جائیں۔ مگر قائد اعظم اور دیگر مسلمان رہنمائوں کی جدوجہد اور ولولہ انگیز قیادت اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کی وجہ سے برصغیر کی تقسیم تین حصوں میں ہوئی۔ مشرقی پاکستان، مغربی پاکستان اور بھارت۔ بھارت زمین کی تقسیم کے وقت مشرقی پاکستان کو اپنے پاس رکھنا چاہتاتھا۔ مگر بنگال کے مسلمانوں نے جناب سہروردی کی قیادت میں کلکتہ میں جنگ لڑی جس کی وجہ سے انگریزبرصغیر کی تقسیم پر مجبور ہوئے۔ جو بات کہنے اور سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ہندوئوں نے مشرقی پاکستان کے مسلمانوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف جنگ کی۔ برصغیر کی تاریخ میں ہندوغلام ہی رہے ہیں۔ پہلا موقع ہے کہ بنگال کے مسلمانوں کو ورغلا کر ساتھ ملایا اور پاکستان کو دولخت کردیا۔ اندرا گاندھی اسی فتح کاتذکرہ کررہی تھی کہ ہم نے مسلمانوں سے ہزار سال کا بدلہ لے لیا۔

بنگلادیش بننے کے بعد بھارتی آرمی چیف نے کہاتھاکہ ہم نے بنگلادیش کو کبھی اپنے ریڈار سے غائب نہیں ہونے دینا۔ یعنی بنگلادیش کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔ پاکستان کو دولخت کرنے کے بعد را نے بھارتی حکومت سے پوچھا تھاکہ آگے کیا کرنا ہے؟ اشارہ پاکستان کے نقشہ کی طرف تھا۔

جاندار طلبہ تحریک !

بنگلادیش کے مسلمان طلبہ نے سب باتوں کا جواب دے دیا ہے۔ بھارتی آرمی کے ریڈار ناکام ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کے دلوں میں بھارت کے خلاف پیداہوتی نفرت اور بنگلادیش کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کا دشمن کو پتا ہی نہ چل سکا، جبکہ بنگلادیش کے فوجی آفس کے ساتھ بھارتی فوج کا آفس ہے مگر کسی کو معلوم نہ ہوسکا کہ یہ موومنٹ کون چلا رہاہے۔ حسینہ واجد کی سکیورٹی فورسز اور اور ہندو فوج اور را سب مشترکہ کوششوں سے بھی اس تحریک کو ناکام نہ کرسکے۔ اس سے پہلے جب بھی حکومت کے خلاف کوئی تحریک چلی اس کو مختلف طریقوں سے ختم کردیا جاتا تھا۔ رہنمائوں کو خرید لیا جاتاتھا، جو بکتا نہ تھا اس کو قتل کر دیا جاتا، یا اغوا کروا دیاجاتایا پھر جیلوں میں ڈال دیاجاتا۔ پولیس کی زیر حراست ہزاروں مظاہرین کو بند کردیاجاتا اور اس طرح مہم ختم کردی جاتی۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ عوام اور طلبہ کے اتحاد کے سامنے سکیورٹی فورسز بے بس نظر آئیں۔ نہ کوئی سیاسی پارٹی سامنے ہے نہ کوئی دینی جماعت ہی سامنے ہے، بلکہ سامنے ایک قوم ہے جو ظلم کے خلاف کھڑی ہوگئی ہے اور اس کو متحد کرنے والے اور چلانے والے کون ہیں اس کا علم کسی کو نہ ہوسکا۔ بنگلادیش آرمی چیف نے اس کا کھل کر اعتراف کیاکہ اس تحریک کو کون لیڈ کررہاہے، کون پلان کررہاہے اور کون اس پر عمل کروا رہاہے، ہمیں اس کا کوئی علم نہ ہوسکا۔ طلبہ نے یہ حکمت عملی اس لیے اپنائی کہ ان کی قیادت کو گولیوں سے ختم نہ کیاجاسکے، قید نہ کیاجائے اور اغوانہ کروادیاجائے۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے ساری تحریک نہایت مہارت سے چلائی بلکہ عوام کو جس حکمت عملی سے وہ ساتھ لے کر چلے گویا وہ ایک ناقابل شکست تحریک تھی جو ایک قوم نے مل کر چلائی۔

تحریک جب شروع ہوئی اس وقت شیخ حسینہ واجد چین کے دورے پر تھی۔ اس کو پَل پَل کی خبریں دی جارہی تھیں۔ اس کی طرف سے سخت احکامات آ رہے تھے کہ ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کرلو مگر سکیورٹی فورسز کے سامنے کوئی نہیں آرہا تھا۔ جب حسینہ واجد واپس بنگلادیش آئی تو اپنی پریس کانفرنس میں کہنے لگی کہ یہ جماعت اسلامی یا شبر کا کام ہے کیونکہ اسے اور کچھ نظر نہیں آ رہاتھا۔ وہ خوب گرجی برسی اور کہاکہ ہم سب کو کچل کر رکھ دیں گے کہ مظاہرین سب رضاکار ہیں، ملک کے غدار ہیں (دراصل ۱۹۷۱ء میں رضاکار پاکستان کا ساتھ دینے والوں کو نام دیاگیا تھا) نوجوانوں نے طیش میں آکر سب جگہ نعرہ بلند کیا کہ ہاں ہم رضا کار ہیں اور جواباً حسینہ واجد اور اس کے ساتھیوں کو کہاکہ بھارت کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے۔ ۳۰ دن کی اس تحریک میں حسینہ حکومت کو سنبھلنے کاموقع ہی نہ مل سکا۔ اور حسینہ کو حکومت چھوڑ کر فرار ہوناپڑا۔

کوٹہ سسٹم !

اب میں یہاں تحریک کی بنیاد کوٹہ سسٹم سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ہے کیا چیز جس کی وجہ سے تحریک اتنی کامیابی سے آگے بڑھی اور حکومت کا خاتمہ ہوا۔ عوامی لیگ حکومت نے بنگلادیش میں کوٹہ سسٹم کو متعارف کروایاتھا۔ سوسائٹی کے مختلف طبقات کے لیے یہ کوٹہ مقرر کیاگیا تھا۔ دراصل کوٹہ سسٹم سے فریڈم فائٹرز (مکتی باہنی) کے خاندانوں کو نوازا جارہا تھا اور حکومت اپنے منظور نظر کو بھی اس سے فائدہ پہنچارہی تھی۔ اس کوٹہ سسٹم کی تقسیم حسب ذیل ہے :

۱)         فریڈم فائٹرز فیملیز  ۳۰ فی صد

۲)         اقلیت                              ۵ فی صد

۳)         خواتین                            ۱۰ فی صد

۴)         پسماندہ علاقے                   ۱۰ فی صد

۵)         معذور افراد                      ایک فی صد

۷)         میرٹ                             ۴۴ فی صد

طلبہ برادری کا مطالبہ تھاکہ ایک معمولی حصہ کوٹہ پر رکھا جائے اور باقی سب جگہ میرٹ کو بنیاد بنایا جائے۔ اسکول، کالج، یونیورسٹی کا معاملہ ہو یا میڈیکل کالج اور انجینئرنگ یونیورسٹی کا معاملہ یا ملازمت کا معاملہ، ہر جگہ اس کوٹہ سسٹم سے اقربا پروری کا راج تھا۔ کوٹہ کے علاوہ جو نشستیں تھیں وہ بھی حکومت کے وزرا اور مشیر اپنے اثر و رسوخ سے لے لیتے تھے۔ یہ طلبہ برادری کا ایک جائز مطالبہ تھا اور وہ حکومت سے بات کرنا چاہتے تھے۔

حکومت کو یہ بُرا لگا کہ یہ کون سا فریق آگیا جو فیصلوں میں ہمیں ڈکٹیٹ کرے۔ ہم حکومت کے وارث ہیں جو چاہیں کریں۔ حکومت نے طیش میں آکر کوٹہ سسٹم کو آئینی تحفظ دینے کے لیے بنگلادیش ہائی کور ٹ سے رجوع کیا۔ بنگلادیش ہائی کورٹ نے حکومت کی منشا کے مطابق کوٹہ سسٹم کی تقسیم کو تسلیم کیا اور حکم نامہ جاری کردیا۔طلبہ برادری نے اس پر اعتراض کیا اور احتجاج کیا۔ یہ فیصلہ ۵ جون ۲۰۲۳ء کو سنایا گیا تھا۔ طلبہ نے اس کو طلبہ حقوق کے منافی اقدام قرار دیا اور اس کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔ پہلا احتجاج ڈھاکا یونیورسٹی کے اندر ہوا اور یہ مسلسل ایک ہفتہ جاری رہا۔ طلبہ نے کوشش کی کہ اعلیٰ حکام تک ان کی بات پہنچے اور مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل ہو مگر حکومت نے ان کی کوششوں اور احتجاج کو کوئی اہمیت نہ دی۔ اس سے پہلے بھی کوٹہ سسٹم کے خلاف مختلف اوقات میں طلبہ برادری احتجاج کرتی رہی تھی لیکن حکومت نے انتظامیہ کی مدد سے اُس پر قابو پالیاتھا۔ طلبہ کو جیلوں میں ڈالاگیا، تشدد کیاگیا، کالج اور یونیورسٹی سے خارج کردیاگیا اور ہمیشہ معاملے کو یوں دبادیاجاتا۔ ۲۰۱۸ء میں بھی نورالحق نور کی قیادت میں بھرپور مظاہرہ ہوا تھا۔ ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبہ سڑکوں پر امڈ آئے تھے اور دیگر کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔ حکومت کو مشکلات کا سامنا تھا لیکن حسینہ نے طلبہ تحریک کے قائد نورالحق نور سے معاملات طے کرلیے تھے۔ نور الحق نور کو وزیراعظم ہائوس بلایا گیا۔

نور الحق نور نے حسینہ واجد کے پائوں چھو ئے اور کہاکہ آپ میری ماں جیسی ہیں، نور نے حسینہ واجد سے اپنے معاملات طے کیے اور طلبہ تحریک کو ختم کردیا، یا یوں کہنا چاہیے کہ بیچ دیا۔ طلبہ برادری بہت مایوس ہوئی۔ ڈھاکا یونیورسٹی اور دیگر کالجوں کے طلبہ نور الحق سے الگ ہوگئے، مگر تحریک بھی ختم ہوگئی۔

اسی طرح متحدہ اپوزیشن میں شامل جماعت اسلامی، بی این پی ودیگر پارٹیوں نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے، جلسے جلوس کیے، جن میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی لیکن ان میں سے بہت سی پارٹیوں نے حکومت سے مک مکا کرلیا، جس کے نتیجے میں حکومت کے خلاف تحریک ختم ہوجاتی۔ حسینہ حکومت کاکہناہے کہ جماعت اسلامی کے سوا ہر پارٹی برائے فروخت ہے۔ جماعت اسلامی کے کارکن برائے فروخت نہیں ہیں اور ان کے کسی رہنمااور کارکن پر یہ الزام بھی نہیں کہ انہوں نے حکومت کے کسی ادارے یا انتظامیہ سے کوئی مراعات لی ہوں۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں کو اپنے رہنمائوں پر اعتماد ہے اور وہ اپنے رہنمائوں کی ذاتی زندگی سے واقف اور ان کی جماعتی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ لوگوں کے درمیان میں رہتے ہیں اور ان کے دُکھ سُکھ میں شامل ہوتے ہیں۔ منظم اور چوکس ہیں۔

حکومت کے خلاف تحریکوں پر صرف جماعت اسلامی کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ ان کے رہنمائوں اور کارکنوں پر ظلم و جبر کیاجاتاہے۔ لیکن اس بار صورت حال بالکل مختلف ہے۔

مشترکہ کمان!

سابقہ تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے طلبہ نے فیصلہ کیا کہ کسی ایک فرد کو قیادت سونپنے کے بجائے کو آرڈی نیٹرز مقرر کیے جائیں جو ڈھاکا یونیورسٹی کے علاوہ مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ رہنمائوں پر مشتمل ہوں۔ اس میں ہر کالج اور یونیورسٹی کو نمائندگی دی جائے۔ چنانچہ اسی منصوبے پہ عمل کیا گیا۔ آغاز میں ۵کو آرڈی نیٹر نامزد ہوئے، پھر ۳۲، بعد ازاں ۱۰۵ آخر میں ۱۵۰؍ کوآرڈی نیٹر نامزد ہوئے۔ یہ مختلف کلچرل پروگراموں کے نام پر اکٹھے ہوتے تھے اور بحث مباحثہ کرکے معاملات طے کرتے تھے۔ شروع شروع میں یہ رات کے دو بجے ڈھاکا یونیورسٹی کے ’’بڑ‘‘ کے درخت کے نیچے اکٹھے ہوتے اور اگلے دن کا پروگرام طے کرتے تھے۔ اگلے دن اس پر عمل درآمد ہوتا، پھر اگلی رات کو اکٹھے ہوتے اور جائزہ لیتے۔ طلبہ تحریک کے رہنمائوں نے حسینہ واجد کے خلاف چلنے والی تمام تحریکوں کاجائزہ لیا۔ ان تحریکوں کی ناکامی کی وجہ معلوم کی گئی تو انہیں ایک بات سمجھ میں آئی کہ سیاسی رہنما جب پروگرام دیتے ہیں تو اپنا ایجنڈا عوام کے ذریعے حکومت تک پہنچاتے ہیں، عوام کے مسائل پر ان کی خاص توجہ نہیں ہوتی۔ لہٰذا طلبہ رہنمائوں نے کہا کہ ہمیں عوام کے مسائل کو لے کر چلنا ہے۔ ہمارا اور عوام کا مسئلہ ایک ہوگا تو ہم متحد ہو کر حکومت کے خلاف کامیاب تحریک چلاسکتے ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق تحریک کو حکومت کی ایجنسیوں کی پہنچ سے دور رکھ کر منظم کرنا پڑے گا۔ مرکزی قیادت کے ذریعے نہیں بلکہ گروپ کوآرڈی نیٹر کے ذریعے اس مہم کو چلایاجائے گا۔ ان طالب علم رہنمائوں نے پولیس، RAB، آرمی،ڈی جی ایف آئی اوراین ایس آئی سب کی کارکردگی کاجائزہ لیا اور فیصلہ کیاکہ تحریک کی رفتار اور سیکریسی کو برقرار رکھا جائے گا۔ آپس میں رابطے کیسے کرنے ہیں، اس پر بھی غور کیاگیا اور مختلف فیصلے کیے گئے۔ حکومت کے خلاف تحریک میں چونکانے والے انداز سے فیصلے کیے جائیں گے۔ نئے سلوگن کے ذریعے اس تحریک کو آگے بڑھا یا جائے گا۔ سلوگن اور مطالبات میں ہم آہنگی ہوگی۔ شروع میں پورے بنگلادیش کی طلبہ کمیونٹی کو اس میں شامل کیاجائے گا اور بعد میں عوام کو اس میں شامل کیاجائے گااور کوئی فیصلہ عوام پر مسلط نہیں کیاجائے گا۔ ڈھاکا شہر کو مختلف حصوں میں تقسیم کیاگیا۔ پوائنٹ منتخب کیے گئے اور ہر پوائنٹ پر ایک ایک کوآرڈی نیٹر کی ذمہ داری لگائی گئی۔ تمام کوآرڈی نیٹرز کو کہا گیا کہ خود کو ایجنسیوں سے خفیہ رکھیں، ان پر اپنی شناخت کبھی ظاہر نہ ہونے دیں تاکہ گرفتاری سے بچ سکیں۔ یوں اپنی اس منصوبہ بندی کے ساتھ وہ میدان میں آئے۔ اس منصوبہ بندی کے تحت پہلے یونیورسٹی میں مظاہرہ کیا گیا اور یہ مظاہرہ کئی دن جاری رہا۔ تمام طلبہ کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیاگیا اور سب کو ساتھ چلنے کو کہاگیا۔

بنگلادیش کی تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بھی مظاہرے کیے گئے اور اس طرح ڈھاکا یونیورسٹی میں طلبہ کا بڑا مظاہرہ ہوا۔ ۲ جولائی کو تمام طلبہ یونیورسٹی سے سڑکوں پر نکل آئے جو ڈھاکا کے مرکزی علاقہ شاہ باغ میں جاکر ختم ہوا۔ ۳جولائی کو ڈھاکا کے طلبہ نے اپنی اپنی یونیورسٹیوں کے باہر مظاہرے کیے اور پانچ گھنٹے کے لیے سڑکیں بلاک کیں اور اپنے مطالبات پیش کیے اور پرامن طریقے سے منتشر ہوگئے۔ ۷ جولائی تک ان مظاہروں کو اسی طرح جاری رکھا گیا۔ طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا، امتحانات کا بائیکاٹ کیا اور تمام یونیورسٹیوں کے سامنے سڑکوں کو بلاک کیا۔

اب طلبہ رہنمائوں نے منصوبے کے مطابق عوام کو شامل کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد کیا۔ ۸جولائی کو ڈھاکا کے گیارہ مقامات پر جلسہ عام منعقد کیے گئے۔ ۹ جولائی کو بنگلادیش کی تمام یونیورسٹیوں میں مظاہرے کیے گئے۔ ریلوے لائنز اور تمام سڑکیں بھی بلاک کی گئیں۔ ۱۰۔۱۱؍اور ۱۲؍جولائی کو طلبہ نے ڈھاکا کو مکمل طور پر بلاک کردیا۔ مختلف شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات پیش کیے۔ طالب علم رہنمائوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے صدر مملکت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔

طلبہ کو مظاہرہ کرتے ہوئے ۱۵؍دن سے زیادہ ہوچکے تھے۔ اب طلبہ بہت مشتعل ہوگئے تھے اور اپنے مطالبات منوانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھے۔ حسینہ واحد ۱۴؍جولائی کو چین کا دور ہ مکمل کرکے ڈھاکا پہنچی۔ ایک پریس کانفرنس میں اس نے اس تحریک کی سختی سے مذمت کی۔ طالب علم رہنمائوں کو دھمکایا کہ تحریک سے سختی سے نپٹا جا ئے گا۔ اس نے کہا کہ انتظامیہ چوکس ہے کسی کو گڑ بڑ کرنے نہیں دی جائے گی۔ مزید اس نے کہا کہ کوٹہ سسٹم پر اسی طرح عمل کیا جائے گا۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور اس نے مظاہرین کو رضاکار اور غدار کہا۔ اس کا لہجہ بہت جارحانہ تھا۔

پریس کانفرنس کے ختم ہوتے ہی طلبہ رہنما یونیورسٹی میں اکٹھے ہوئے اور نعرے بازی کی۔ رات کے وقت یونیورسٹیز میں مظاہرے کے دوران طلبہ جن میں طلبہ و طالبات سب شامل تھے،نعرے لگا رہے تھے کہ ’’ہاں ہم سب رضا کار ہیں، بھارت کا جو یار ہے غدار ہے، غدار ہے‘‘۔

’’گو حسینہ گو‘‘، ’’حسینہ انڈیا واپس جائو‘‘ واضح رہے کہ مجیب کے قتل کے وقت شیخ حسینہ دہلی میں موجود تھیں اور وہاں سے بنگلادیش آئی تھیں۔ یاد رہے کہ ۱۹۷۱ء میں پاکستان کا ساتھ دینے والوں کو رضاکار کہا جاتا تھا۔ ۱۴؍اور ۱۵؍جولائی کو ڈھاکا میں یہ سلوگن گونجتا رہا۔ ۱۵؍تاریخ کو عوامی لیگ کے سیکرٹری جنرل نے یہ اعلان کیاکہ اس تحریک کو ختم کرنے کے لیے چھاترو لیگ (عوامی لیگ کا طلبہ ونگ) ہی کافی ہے۔ اس نے چھاترو لیگ کو تحریک ختم کرنے کا حکم دیا۔ وزیرداخلہ عبدالرزاق نے پولیس اور سکیورٹی ایجنسی کو طلبہ تحریک سے سختی سے نپٹنے کے احکامات جاری کیے۔ ۱۶؍جولائی بروز منگل رنگ پور میں بیگم رقیہ یونیورسٹی کا طالب علم ابوسعید پولیس کی گولی سے شہید ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر اس کو گولی لگنے کی ویڈیو اور بعد کی تصاویر تیزی سے پھیل گئیں۔ عوامی لیگ کی طلبہ یونین کے لڑکوں اور پولیس نے حکومتی ایما پر مظاہرین پر شدید تشدد کیا اور اس کشمکش میں ۶ طالب علم شہید ہوگئے۔ سیکڑوں زخمی ہوئے اور پھر دست بہ دست لڑائی سارے ڈھاکا میں پھیل گئی۔ ۱۷؍جولائی کو شہید ہونے والے لڑکوں کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور اس کے بعد طلبہ و طالبات نے شدید مظاہرے کیے۔

ڈھاکا یونیورسٹی میں طالبات کا بہت بڑا مظاہرہ ہوا، وہ اس ظلم و جبر کے خلاف مظاہرہ کررہی تھیں کہ ان پر اسٹوڈنٹ لیگ کے مسلح کارکنوں نے شدید تشدد کیا، انہیں زمین پر گھسیٹا گیا، ان کے دوپٹے نوچے گئے،ڈنڈوں سے مارا گیا، بہت سی طالبات زخمی ہوئیں۔ اس واقعے کے بعد یونیورسٹی کے تمام طلبہ مزید مشتعل ہوئے اور جوش سے میدان میں آگئے۔ ۱۷؍اور ۱۸؍جولائی کو مظاہرین کے ساتھ مزید مظاہرین شامل ہو گئے اور سب یونیورسٹیز سے عوامی لیگ کی طلبہ یونین کے تمام لڑکوں کو نکال دیاگیا۔ ۱۹؍اور ۲۰ جولائی کو پولیس سے دست بدست لڑائی ہوئی۔ سیکڑوں طلبہ زخمی ہوئے، مظاہرین پر ٹارگٹڈ گولیاں برسائی گئیں۔ تمام اسپتال زخمیوں اور شہدا سے بھر گئے۔

 معاوضہ، معافی اور رہائی کا مطالبہ!

۲۱ جولائی کو سپریم کورٹ نے طلبہ کے حق میں فیصلہ دیا۔ ۷ فیصد کوٹہ رکھا باقی ۹۳ فیصد میرٹ پر رکھنے کا حکم دیا۔ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے فوری طور پر منظوری دے دی اور نوٹیفکیشن جاری ہوگیا۔ طالب علم رہنمائوں نے مشورہ کیاکہ اب کیا کیا جائے؟ تحریک ختم کی جائے یا جاری رکھی جائے۔ اس مشاورت میں انہوں نے پورے بنگلادیش کے کوآرڈی نیٹرز سے رائے طلب کی۔ سب نے کہا کہ اب بہت دیر ہوگئی ہے اس لیے اتنے خون خرابے کے بعد اب صرف کوٹہ نہیں کچھ اور ہونا چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ گرفتار طلبہ کو رہا کیا جائے۔ شہدا کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے۔ وزیرداخلہ سے استعفیٰ لیاجائے اور وزیراعظم طلبہ اور عوام سے معافی مانگیں۔ طالب علموں کو یقین تھاکہ وزیراعظم سب مطالبات پورے کرسکتی ہیں مگر معافی نہیں مانگ سکتی۔ طلبہ کے مطالبات منظر عام پر آنے کے بعد حکومت نے طلبہ کی سوچ کے مطابق ردعمل کااظہار کیا۔ اس موقع پر بھی مظاہرے ختم ہوسکتے تھے اگر وزیراعظم تدبر سے کام لیتی اور طلبہ سے اظہار ہمدردی کرکے معافی مانگ لیتی، مگر حسینہ واجد نے ایسا نہ کیا۔ اس نے قوم سے خطاب کیا اور مظاہرین کے ساتھ سختی سے نپٹنے اور انہیں کچلنے کا اعلان کیا۔ ۲۷ جولائی کو حکومت نے ۶ کوآرڈی نیٹرز کو گرفتار کرلیا۔ ان میں ایک طالبہ بھی شامل تھیں۔ ان کے خیال میں یہ لوگ ہی تحریک چلا رہے تھے۔ ان سے مظاہروں سے دستبرداری کا اعلان کروایا گیا اور طلبہ برادری سے اپیل کی گئی کہ مظاہروں کو ختم کرکے حکومت کا ساتھ دیں۔

حکومت کاخیال تھاکہ اس سے مظاہرے ختم ہوجائیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ حکومت نے مزید سختی کی،ہزاروں لوگ زخمی اور مزید سیکڑوں شہید ہوئے۔ لاکھوں لوگ سڑکوں پر منہ پر سرخ کپڑا باندھ کر نکل کھڑے ہوئے اور خون کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا۔ ۳۰ جولائی کو یونائیٹڈ نیشن کے سیکرٹری جنرل اور بہت سارے دیگر ممالک کے عہدیداران نے اس ظلم و بربریت کی مذمت کی۔ حکومت نے دیکھا کہ رہنمائوں کی گرفتاری کے باوجود مزاحمت اور تحریک میں زیادہ شدت آرہی ہے۔ ایک طالب علم پر تشدد کرتے تو ہزاروں طالب علم میدان میں نکل آتے تھے۔ اس تحریک میں طلبہ کے ساتھ ساتھ تمام کالجز اور یونیورسٹیز کے اساتذہ بھی شامل ہوگئے۔

حکومت کے انتہائی اقدامات کے باوجود تحریک مزاحمت ختم نہ ہوسکی۔ یکم اگست کو حکومت نے جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شبر پر پابندی عائد کردی۔ ۳؍اگست کو طلبہ اور عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر سڑکوں پر امڈ آیا۔ یہ بات کوآرڈی نیٹرز کے لیے بہت حیرت انگیز تھی کہ حکومت طلبہ اور عوام پر اتنا ظلم ڈھا سکتی ہے۔ حکومتی ہر ادارہ طلبہ اور عوام پر گولیاں برسا رہا تھا۔ اسی طرح ہزاروں گرفتاریاں بھی عمل میں آ رہی تھیں، مگر عوام کا جم غفیر تھا جو آہ و فغاں کرتا اور زخمیوں کی مدد کرتا ،احتجاج کرتا نظر آرہا تھا۔ ۳؍اور ۴؍اگست کو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اب لوگ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہی سکون میں آئیں گے۔ طالب علم رہنمائو ں کو اب یقین ہو گیا تھا کہ حسینہ واجد کا اقتدار زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکے گا۔ وہ سب ایک دوسرے کو پیغام رسانی کررہے تھے کہ Now or Never، حسینہ واجد کی حکومت کو اب مزید کوئی مہلت نہیں دی جائے گی۔ عوام کے ساتھ مل کر طالب علموں نے نعرہ بلند کیا۔ اس نعرے سے ڈھاکا سمیت پورا بنگلادیش گونج اٹھا۔ طالب علم رہنمائوں نے اعلان کیا تھاکہ ۶؍اگست کو پورا ڈھاکا جام ہوگا اور فائنل رائونڈ ہوگا۔ لانگ مارچ ٹو ڈھاکا ہوگا۔ سب رہنمائوں نے اپنے اپنے گھروں کو الوداع کہہ دیا تھا کہ کامیابی یا موت۔ ۴تاریخ کو ایک عجیب سی صورتِ حال پیدا ہوگئی۔ طلبہ ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے۔ جیسے کہ یہ آخری ملاقات ہو اور موت ان کی منتظر ہو۔

ایک دم ہر طرف خاموشی چھا گئی تھی۔ طالب علم رہنمائوں نے محسوس کیاکہ ۶تاریخ بہت دور ہے ۵ تاریخ کو حکومت مزید اقدامات کرکے خون خرابہ کرسکتی ہے۔ ۵تاریخ کی حکومت کو مہلت دینا حکمت عملی کے خلاف ہے۔ حکومت کسی نئی منصوبہ بندی کے ساتھ آسکتی ہے اور بہت زیادہ خون خرابہ اور نقصان ہوسکتا ہے۔ حکومتی ادارے اس دوران لاکھوں طلبہ کو گرفتار کرسکتے ہیں اور حکومت تحریک کو دبانے کے لیے کچھ اسی طرح کی منصوبہ بندی کرسکتی تھی۔ ایک دم ۴؍اگست کی رات کو ۲ بجے اعلان ہوا۔ ڈھاکا مارچ ۶ کو نہیں ۵؍اگست کو ہوگا۔ انہوں نے ڈھاکا سے ملحق علاقوں کے تمام طلبہ اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ابھی ڈھاکا کے لیے چل پڑیں۔ اپنی خاطر ، اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر ، ملک کی خاطر۔

طلبہ رہنمائوں کو یہ ڈر تھا کہ حکومتی جبر کے سامنے اگر عوام کھڑے نہ رہ سکے یا حکومت نے اندھا دھند لاکھوں لوگوں کو گولیوں سے بھون ڈالنے کا فیصلہ کرلیا تو پھر کیا ہوگا؟ مگر انہوں نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مزید حکمت عملی کو اپنایا اور ڈھاکا کے داخلی راستوں پر لڑکوں کو بھیج کر وہاں قبضہ کیا اور لوگوں کو وہاں تمام سہولیات پہنچائیں۔ ان کا کہناتھا کہ بنگلادیش ایک نئی تاریخ رقم کررہا ہے، آپ اس میں شامل ہوں۔ یہ آخری لمحات ہیں، آخر ی موقع ہے۔ انہیں یقین تھاکہ اسنائپر کے ذریعے انہیں شوٹ کیاجائے گا۔ ان کو یہ بھی اطلاع تھی کہ مظاہرین کو کچلنے کے لیے حسینہ واجد نے بھارتی سکیورٹی فورسز کی مدد حاصل کی ہے۔

۳؍اگست ۲۰۲۴ء، آرمی چیف کی دانشمندانہ حکمت عملی!

اس سے پہلے ۳؍اگست کو بنگلادیش آرمی کے سربراہ نے ڈھاکا آرمی ہیڈکو ارٹر میں فوجی آفیسرز کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔ انہیں معلوم تھاکہ حالات کی نزاکت اور پریشان کن صورت حال سے فوجی آفیسرز بہت بے چین ہیں۔ اتنا خون خرابہ ہونے پر ان سب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکاتھا۔ ملک خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ چکاتھا۔ فوجی آفیسرز بہت جذباتی ہو رہے تھے۔ وقار الزماں نے پہلے فوج سے خطاب کیا اور کہاکہ آپ صبر کا دامن نہ چھوڑیں۔ تھوڑا سا بھی جذباتی فیصلہ ملک کو تباہی کی طرف لے جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی فوج بارڈر پر الرٹ کھڑی ہے۔ کوئی بھی غلط فیصلہ بھارت کو مداخلت کاموقع نہ دے دے۔

ڈھاکا آرمی ہیڈکوارٹر میں اور پورے کینٹ میں آرمی میں سخت بے چینی پائی جاتی تھی اور دوسری طرف سڑکوں پر لاکھوں عوام تھے اور وہ ہر حال میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ چاہتے تھے اور شیخ حسینہ کسی صورت میں بھی حکومت چھوڑنے کو تیار نہ تھی۔ حسینہ بار بار سکیورٹی فورسز کو حکم دے رہی تھی کہ Do More crush all۔۔ ایسی صورتِ حال میں نوجوان فوجی آفیسرز نے چیف آف آرمی اسٹاف کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور فوری کوئی فیصلہ کرنے پر زور دیا۔ ایک فوجی آفیسر نے قرآن پاک کے حوالے سے گفتگو کی اور کہاکہ ہمیں دور کھڑے تماشا دیکھنے کا حکم نہیں ہے۔ انہوں نے بہت ساری قرآنی آیات کے حوالے دیے اور کہاکہ یوں لوگوں کے قتل عام کی اللہ تعالیٰ نے بالکل اجازت نہیں دی۔ ہمیں ضرور کچھ کرنا پڑے گا۔ آخر میں اس فوجی آفیسر نے اللہ سے دعا کی کہ فوج کو بہتر فیصلہ اور بہتر حکمت عملی کی توفیق عطا فرمائے۔ جس پر آرمی چیف نے بلند آواز میں آمین کہا۔ راجشاہی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون فوجی آفیسر نے روتے ہوئے کہاکہ آج ہر گھر میں مائیں رو رہی ہیں۔ نوجوان سڑکوں پر اپنی جان دے رہے ہیں۔ یہ صورت حال دیکھی نہیں جاتی۔ انہوں نے بہت سارے ظلم و جبر کا حوالہ دیا اور کہاکہ فوج کو فوری طور پر کچھ کرنا ہوگا۔ اس کے بعد اجلاس میں کچھ دیر کا وقفہ ہوا اور وقفہ کے بعد لوگوں کو توقع تھی کہ مزید سوال و جواب ہوں گے مگر ایسا نہ ہوا۔ آرمی چیف نے اعلان کیاکہ فوج لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کرے گی۔ فوج مظاہرین پر گولی نہیں چلائے گی اور کسی تشد د میں شامل نہیں ہوگی اور فوج ہر صورت میں عوام کا ساتھ دے گی اور ملک کا دفاع کرے گی۔

تازہ مضامین

آبنائے ہرمز کی بندش نے سعودی عرب کی ’’ویژن ۲۰۳۰ء‘‘ کی حکمتِ عملی اور اس کے معاشی انقلاب کے منصوبوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف

دنیا یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ کہیں امریکا اور چین کے درمیان جنگ نہ چھڑ جائے۔ تاہم پوری کوشش کی جارہی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ بات سیدھی سی ہے کہ اگر دو

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول کے ایکسپو سینٹر کے باہر گاڑیوں کی قطاریں اس قدر طویل ہو چکی تھیں کہ بعض مندوبین نے ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بجائے اپنی گاڑیاں وہیں چھوڑ دیں اور

جس کے واقع ہونے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، وہ اب اختتام کی منزل تک پہنچتا دکھائی نہیں دے رہا۔ تیل کے عالمی تاجروں کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی

پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کے بڑے تناسب کو اس ملک کی ایک اہم طاقت اور برتری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔ جہاں بہت

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جس میں سہولتیں ہی سہولتیں ہیں اور بحران ہی بحران ہیں۔ قدم قدم پر کچھ نہ کچھ نیا ہے۔ ایک طرف انسان کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی