دنیا گرمی بحران کی زَد میں

دنیا بھر میں درجۂ حرارت بڑھتا جارہا ہے۔ اس کے بہت سے بنیادی اسباب ہیں۔ ایک طرف تو فضا میں کاربن ڈایوکسائڈ کی مقدار بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف وہ قدرتی سہولتیں ختم ہوتی جارہی ہیں جو ماحول کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ اگر گاڑیوں کا دھواں فضا میں بڑھ بھی جائے تو جنگلات کا رقبہ بڑھانے کی صورت میں خرابی کا سامنا ڈھنگ سے کیا جاسکتا ہے۔ جنگلات کا رقبہ گھٹ رہا ہے کیونکہ لوگ ایک طرف تو لکڑی کے حصول کے لیے درخت کاٹ رہے ہیں اور دوسری طرف آبادیوں کو توسیع دینے کی کوشش میں حیوانات کے لیے جگہ کم پڑتی جارہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ہماری زمین شدید بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ سالِ رواں کے دوران ہر ماہ معلوم تاریخ کا گرم ترین مہینہ ثابت ہوا ہے۔ انسان نے سات آٹھ عشروں کے دوران ماحول کو نقصان پہنچانے والی (گرین ہاؤس ایفیکٹ) گیسوں کے اخراج پر قابو پانے کی برائے نام بھی کوشش نہیں کی۔ پسماندہ ممالک میں توانائی اور ایندھن کے ذریعے کے طور پر لکڑی اور قدرتی تیل جلایا جاتا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ماحول کو جو نقصان پہنچ سکتا تھا‘ وہ پہنچ ہی چکا ہے۔

چار عشروںکے دوران عالمگیر سطح پر درجۂ حرارت مسلسل بڑھتا رہا ہے۔ گزشتہ عشرے کے دوران ہر برس معلوم تاریخ کا گرم ترین برس رہا ہے۔ خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا نے دنیا بھر میں واقع موسمی کیفیت پر نظر رکھنے والے اداروں سے حقائق اور اعداد و شمار لے کر اُن کے تجزیے کی بنیاد پر بتایا ہے کہ کرۂ ارض کا ماحول اس وقت خطرناک حد تک بحرانی کیفیت کا شکار ہے۔

جنوبی ایشیا میں گزشتہ ماہ اور رواں ماہ کے دوران کئی ملکوں میں ہیٹ ویوز آئیں۔ پاکستان، بھارت اور بنگلا دیش کے علاوہ سری لنکا اور افغانستان بھی شدید گرمی کی لہر سے دوچار ہیں۔ پاکستان میں چند روز کے دوران لوگوں کو گرمی سے تھوڑی سی راحت ملی ہے مگر وہ بھی صرف چند علاقوں میں۔ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے بیشتر علاقے اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔

ناسا کے گوڈرڈ انسٹیٹیوٹ فار اسپیس اسٹڈیز سے وابستہ ماہرین نے بتایا کہ مئی ۲۰۲۴ء سے زیادہ گرم مئی کوئی نہیں گزرا۔ اور خیر سے ایک سال کے دوران دنیا بھر میں شدید گرمی ہی رہی ہے۔ یہ سب کچھ انتہائی خطرناک ہے کیونکہ دنیا بھر میں عام آدمی شدید متاثر ہو رہا ہے۔ ایک طرف تو بیماریاں پھیل رہی ہیں اور دوسری طرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ بے قاعدہ بارشوں کے نتیجے میں سیلابی کیفیت سے بعض ممالک کے بیشتر علاقے مزید پسماندگی کی طرف چلے گئے ہیں۔

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن کہتے ہیں ’’اب اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ ہم ماحول کے معاملے میں ایک بہت بڑے بحران کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس وقت شمالی اور جنوبی امریکا بھی غیرمعمولی گرمی کی زد میں ہیں۔ ایریزونا، کیلیفورنیا اور نیواڈا کی طرح دنیا بھر کے ممالک میں بیشتر علاقے غیرمعمولی گرمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماحول کو متوازن رکھنے لیے کی جانے والی کوششیں ضرورت سے بہت کم اور نیم دِلانہ ہیں۔ ناسا اور بائیڈن ہیرس ایڈمنسٹریشن اس بات کو بہت شدت سے محسوس کر رہی ہیں کہ زمین کو بچانے کے لیے عالمگیر عمومی ہنگامی حالت کا اعلان ناگزیر ہے۔ لازم ہوچکا ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کو ماحول کے شدید منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کی کوششوں میں اضافہ کیا جائے۔ یہ کام عالمگیر سطح ہی پر کیا جاسکتا ہے کیونکہ کسی ایک ملک یا چند ممالک کے گروہ میں ایسا کرنے کی صلاحیت و سکت نہیں پائی جاتی‘‘۔

ترقی یافتہ ممالک نے چاہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کے اخراج پر قابو پایا جائے مگر ایسا ہو نہیں پارہا کیونکہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں کمزور طرزِ حکمرانی اجتماعی مفاد کے فیصلوں کی تعمیل کرانے میں ناکام رہی ہے۔ حالیہ بارہ ماہ کے دوران ریکارڈ درجۂ حرارت سے قبل ۲۰۱۵ء اور ۲۰۱۶ء کے دوران مسلسل ۷ ماہ تک دنیا بھر میں انتہائی گرمی پڑی تھی۔

ناسا کے چیف سائنٹسٹ اور سینئر کلائمیٹ ایڈوائزر کیٹ کیلوِن کہتے ہیں کہ ’’گرم ترین ترین دن، مہینے اور سال ہمارے حصے میں آرہے ہیں۔ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ شدید گرمی ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے یعنی ایک طرف تو گرین ہاؤس ایفیکٹ والی گیسوں کا اخراج کم نہیں کیا جاسکا ہے اور دوسری طرف درخت بہت بڑے پیمانے پر کاٹے جارہے ہیں۔ جنگلات کا گھٹتا ہوا رقبہ دنیا بھر میں بہت بڑے پیمانے پر خرابیاں پیدا کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور ہم صرف تماشا دیکھ رہے ہیں‘‘۔

ناسا کی تحقیق اور ماہرانہ رائے کے مطابق کسی بھی خطے میں درجۂ حرارت کی بیس لائن بالعموم تین عشروں کے مجموعی درجۂ حرارت اور اس میں پیدا ہونے والے نشیب و فراز کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔ گزشتہ بارہ ماہ کے دوران اوسط عالمگیر درجۂ حرارت ۳ء۱؍سینٹی گریڈ رہا ہے۔ یہ ۱۹۵۱ء سے ۱۹۸۰ء کے دوران طے کی جانے والی عالمگیر بیس لائن سے زیادہ ہے۔ انیسویں صدی عیسوی کے اواخر کے مقابلے میں یہ ۵ء۱؍سینٹی گریڈ زیادہ ہے۔

ناسا کے ماہرین دنیا میں موسمی کیفیت پر نظر رکھنے والے اداروں کے علاوہ جہازوں پر نصب آلات کی مدد سے بھی زمین کے مجموعی درجۂ حرارت کی پیمائش کرتے ہیں۔ خام معلومات کی مدد سے شہری علاقوں میں شدید گرمی کے منفی اثرات کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور پھر اُن معلومات کی بنیاد پر حکومتوں کو سفارشات پیش کی جاتی ہیں۔

ایل نینو اور لا نینا نامی قدرتی مظاہر بحرالکاہل کو گرم اور سرد رکھنے میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان مظاہر ہی سے عالمی درجۂ حرارت میں فرق پیدا ہوتا ہے۔ ۲۰۲۳ء کے موسمِ بہار میں طاقتور ایل نینو ایفیکٹ پیدا ہوئی جس نے دنیا کو بھٹی بنا ڈالا۔

مئی ۲۰۲۴ء کی موسمی کیفیت اور متعلقہ اعداد و شمار کی روشنی میں موسمیات کے عالمی اداروں نے پیش گوئی کی ہے کہ جون اور اگست کے دوران لا نینا کی لہر کے پیدا ہونے کا امکان ۴۹ فیصد ہے جبکہ جولائی اور ستمبر کی درمیانی مدت کے دوران لانینا ایفیکٹ عالمی درجۂ حرارت کو جزوی طور پر نیچے لاسکتا ہے۔ یہ بحرالکاہل کے ٹھنڈا پڑنے سے ہوگا۔

پاکستان اور بھارت میں گرمی کا موسم پورے جوبن پر ہے۔ بھارت میں کئی ہیٹ ویوز آچکی ہیں۔ متعدد ریاستیں گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ کروڑ انسانوں کے لیے دن کا وقت عذاب کی صورت ہے۔ بھارت سے سَٹے ہوئے پاکستانی علاقوں میں بھی گرمی کو زور نہیں ٹوٹ رہا۔ ویسے پاکستان میں پڑنے والی گرمی کچھ بھارت کے موسم پر منحصر نہیں۔ سندھ اور بلوچستان میں جسم کے ساتھ ساتھ روح تک کو جھلسانے والی گرمی پڑتی ہے۔

شدید گرمی سے دوچار ممالک کی حکومتوں پر لازم ہے کہ معاملے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے ایسے اقدامات کریں جن سے چند برسوں کے دوران گرمی کا زور ٹوٹے۔ ماحول میں ٹھنڈک پیدا کرنے کے لیے ایک طرف تو گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج روکنا ہوگا اور دوسری طرف شجر کاری کے رجحان کو زیادہ سے زیادہ تقویت بہم پہنچانی ہوگی تاکہ ماحول کو ٹھنڈا رکھنے والے عوامل پوری قوت کے ساتھ موجود ہوں۔

(ترجمہ: ابو صباحت)

“Earth in crisis mode: Every month in 2024 has been the hottest on record”.

(“India Today”)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں