بھارتی باشندے کینیڈا کا فوڈ بینک کھاگئے

مغربی کلچر میں بہبودِ عامہ ایک بنیادی حقیقت ہے۔ برِاعظم امریکا اور یورپ، دونوں ہی خطوں میں اعلیٰ درجے کے فلاحی اور خیراتی ادارے پائے جاتے ہیں۔ ان اداروں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جو لوگ زیادہ کمانے کے قابل نہیں، وہ اپنی ضرورت کی ہر چیز حاصل کریں اور قدرے بہتر انداز سے جئیں۔ یہ ادارے کھانا بھی فراہم کرتے ہیں۔

کینیڈا میں غریبوں کو مفت کھانا فراہم کرنے کے لیے ۵۵۰۰ سے زائد فوڈ بینک ہیں۔ لوگ فوڈ بینک سے کھانے پینے کی اشیا مفت حاصل کرتے ہیں۔ اب یہ فوڈ بینک بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں کیونکہ اِن سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔

کینیڈا میں رہائش بھی مہنگی ہے اور تعلیم بھی۔ سفر کے لیے بھی اچھا خاصا خرچ کرنا پڑتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ نئے تارکینِ وطن کو کینیڈا کے شہروں میں رہنے کے لیے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں کھانے پینے کے جھنجھٹ سے نجات کے لیے یہ لوگ فوڈ بینک کا رخ کرتے ہیں۔ خیراتی کھانا لینے والوں کی تعداد اب اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ فوڈ بینک بحران سے دوچار ہوگئے ہیں۔ فوڈ بینک کا رخ کرنے والوں میں ۳۰ فیصد وہ ہیں جو نئے نئے کینیڈا آئے ہیں۔ ایسے میں فوڈ بینک کینیڈین ڈریم کے لیے ریٔلٹی چیک کی طرح ہیں۔

جوزیفائن سِنڈانی اُس وقت آٹھ برس کی تھی جب وہ پہلی بار فوڈ بینک گئی تھی۔ جوزیفائن اور اُس کی ماں افریقی ملک سوڈان سے کینیڈا منتقل ہوئی تھیں۔ دارالحکومت اوٹاوا کی ہڈیوں میں گودا جما دینے والی سردی کا مقابلہ کرنا اُن کے لیے بہت مشکل مرحلہ تھا کیونکہ سوڈان بہت گرم ملک تھا جہاں سردی برائے نام پڑتی ہے۔ اُس دن جوزیفائن نے اپنی ماں کو کھلونوں، جیکٹ اور کرسمس کے تحائف کے ساتھ گھر آتے دیکھا۔ جوزیفائن اور اُس کی ماں نے فوڈ بینک کے ذریعے خوراک کا مسئلہ حل کیا۔ تعلیم پانے کے بعد اب جوزیفائن کنسٹرکشن بزنس میں ہے۔

دوسروں کے لیے سہارا بننے والے فوڈ بینک اب خود بحرانی کیفیت کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ بحران کینیڈا کی ایک مایوس کن حقیقت ہے۔ کینیڈا بہت سے بھارتی باشندوں کے لیے اب خوابوں کی منزل میں تبدیل ہوچکا ہے۔

صرف ایک ماہ میں ۲۰ لاکھ سے زائد افراد فوڈ بینک سے مستفید ہوئے ہیں۔ فوڈ بینکس کینیڈا ہنگر کاؤنٹ ۲۰۲۴ء کی رپورٹ کے مطابق یہ تعداد ۲۰۲۳ء کے مقابلے میں ۶ فیصد اور ۲۰۱۹ء کے مقابلے میں ۹۰ فیصد زیادہ ہے۔ رہائشی کرائے بڑھتے جارہے ہیں اور مہنگائی کی شرح بھی بڑھتے رہنے پر تُلی ہوئی ہے۔ ایسے میں کم آمدنی والے افراد کے پاس فوڈ بینک سے مدد لینے کے سوا چارہ نہیں۔

فوڈ بینک سے مستفید ہونے والوں میں ۳۰ فیصد وہ ہیں جو نئے نئے آئے ہیں۔ ۳۲ فیصد سے زائد وہ ہیں جو کینیڈا میں ۱۰؍سال یا اِس سے کم مدت سے مقیم ہیں۔ فوڈ بینک سے مستفید ہونے والوں میں اکثریت بھارتی باشندوں کی ہے۔

نیشنل فاؤنڈیشن فار امریکن پالیسی کے مطابق ایک عشرے کے دوران بھارت سے کینیڈا امیگریشن میں ۳۲۶ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران کینیڈین تعلیمی اداروں میں بھارتی طلبہ کی انرولمنٹ ۵۸۰۰ فیصد بڑھی ہے۔ یہ طلبہ پرائیویٹ کالجوں میں انرولمنٹ کراتے ہیں اور اِن میں سے چند ہی ہیں جو باقاعدگی سے کالج جاتے ہیں۔ کینیڈا ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔ بس یہی کافی ہے۔ یہ طلبہ ایک ترقی یافتہ ملک میں رہتے ہوئے مستقبل کو تابناک بنانے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔

کینیڈا میں تارکینِ وطن کی تعداد کے بڑھتے رہنے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہاں آنے اور مستقل قیام کا اجازت نامہ حاصل کرنے کا عمل بہت آسان اور سستا ہے۔ زیادہ قانونی پیچیدگیاں نہیں پائی جاتیں۔

کینیڈا پہنچنے اور مستقل بنیاد پر آباد ہونے کی کوشش کرنے والوں کی تعداد ایک عشرے میں کئی سو فیصد بڑھی ہے مگر ہاؤسنگ اور ہیلتھ کیئر کا انفرا اسٹرکچر وہی کا وہی ہے۔ ایک طرف حکومت رہائشی یونٹس کی تعداد بڑھانے میں ناکام رہی ہے اور دوسری طرف ملازمت کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ مہنگائی بھی بڑھتی جارہی ہے۔ کچن آئٹم خریدنا بھی دشوار ہوتا جارہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ فوڈ بینکس پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کھانے پینے کا خرچہ تو بچا ہی لیا جائے۔

کینیڈا میں فوڈ بینک ایک زمانے سے نادار اور پریشان حال افراد کی مدد کرتے آئے ہیں مگر اب بحرانی کیفیت اس قدر ہے کہ وینکوور کے ایک فوڈ بینک نے ان بیرونی طلبہ کو کھانے پینے کے آئٹم دینے سے انکار کا فیصلہ کیا ہے جو کالج میں پہلے سال میں ہیں۔

دی گریٹر وینکوور فوڈ بینک کا کہنا ہے کہ بیرونی طلبہ کے لیے کینیڈا کی پالیسی سفر اور ٹیوشن کی مد میں ۲۰ ہزار ۶۳۵ ڈالر اضافی طور پر ادا کرنے کا پابند بناتی ہے۔ اتنی زیادہ ادائیگی کرنے کے بعد ان کے لیے کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں بچتا۔

کینیڈا میں دنیا بھر سے لوگ آئے ہوئے ہیں۔ طلبہ بھی دنیا بھر کے ہیں مگر سب سے زیادہ طلبہ بھارت سے ہیں۔ بعض تعلیمی اداروں میں بھارتی طلبہ کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ دیکھنے والوں کو لگتا ہے دہلی یا ممبئی کے کسی کالج میں قدم رکھ دیا ہے۔

اپریل میں ایک بھارتی طالب علم نے سوشل میڈیا پر اپنی وڈیو اپ لوڈ کی تھی جس میں اس نے خاصی بے شرمی اور ڈھٹائی سے اُن چیزوں کی نمائش کی تھی جو اس نے فوڈ بینک سے بٹوری تھیں۔ یہ سب کچھ اس کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ اس نے تسلیم کیا تھا کہ اس نے فوڈ بینک سے ہزاروں ڈالر کی چیزیں حاصل کی ہیں۔ اس نے اب تک بچائی ہوئی رقم کا حساب بھی پیش کیا تھا۔ اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی ہنگامہ برپا ہوگیا تھا۔ لوگوں نے اس نوجوان پر شدید نکتہ چینی کی تھی اور پھر اُس کے ادارے نے اُس کی ملازمت بھی ختم کردی تھی۔ وہ اچھی خاصی تنخواہ پاتا تھا مگر پھر بھی خیرات کے ٹکڑوں پر پل رہا تھا۔

کینیڈا میں کم آمدنی والے افراد کے لیے فوڈ بینک بہت بڑا سہارا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ شدید عسرت کے زمانے میں فوڈ بینک کا سہارا لیتے ہیں اور جب اچھی جاب مل جاتی ہے تو اپنے بل پر کھانے پینے کا اہتمام کرتے ہیں۔

بہت سے لوگوں کا گزارا جب تنخواہ سے نہیں ہو پاتا تو وہ بنیادی سہارے کے طور پر فوڈ بینک کا رخ کرتے ہیں۔ فوڈ بینک والی اپنی گاڑی کہیں بھی کھڑی کردیتے ہیں اور جو بھی چاہے، وہاں سے کھانے پینے کی چیزیں لے سکتا ہے۔ اخلاقی تقاضا یہ ہے کہ جن کے مالیاتی وسائل اچھے ہیں، وہ فوڈ بینک سے مدد نہ لیں۔

جوزیفائن سِنڈانی کہتی ہے کہ فوڈ بینک سے مدد لینے میں ہرج نہیں مگر کسی جواز کے بغیر مدد لینے سے عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔ ضرورت مند ہوکر بھی کوئی کچھ لیتا ہے تو عزتِ نفس بہرحال مجروح ہوتی ہے۔ انسان اپنی ہی نظروں میں گرنے لگتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ غیرت مند افراد صرف ضرورت کی حد تک خیراتی اداروں سے مستفید ہوتے ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا کے دوران بھی فوڈ بینک نے لاکھوں کینیڈینز کی مدد کی۔ آج بھی ہر سال کینیڈا کے لاکھوں باشندے فوڈ بینک کے ذریعے اپنا گھر ڈھنگ سے چلاتے ہیں۔ کینیڈا کے طول و عرض میں ۵۵۰۰ فوڈ بینک پریشان حال لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ اشیائے خور و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام کینڈین باشندے کے لیے جینا دشوار کردیا ہے۔ بڑے شہروں میں رہائش اس قدر مہنگی ہے کہ لاکھوں کینیڈین باشندے بھی اُن میں آباد ہونے کا خواب تک نہیں دیکھتے۔ دی کنزرویشن کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۰ء اور ۲۰۲۱ء کے دوران کینیڈا میں املاک کی قیمت میں ۳۵۵ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

رہی سہی کسر بے روزگاری نے پوری کردی ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے میں کسی حد تک مدد ملی ہے مگر بے روزگاری اور بلند رہائشی کرائے معاملات کو خراب کر رہے ہیں۔ بینک آف کینیڈا کا کہنا ہے کہ عوام کو گروسریز کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں مل رہی۔ حکومت راحت دینے میں ناکام رہی ہے۔

کانفرنس بورڈ آف کینیڈا کے چیف اکنامسٹ پیڈرو اینٹیونز نے ریڈیو کینیڈا سے ایک انٹرویو میں کہا کہ کینیڈین معیشت کی نمو اس لیے رک گئی ہے کہ تمام حصے یکساں رفتار سے فروغ نہیں پارہے۔ اس وقت کینیڈا میں مہنگائی قابو میں ہے تاہم معیشتی نمو یقینی بنانے کے لیے اجرتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔ تب تک لوگ فوڈ بینک پر انحصار پذیر رہیں گے۔ تارکینِ وطن کی بڑی تعداد چونکہ فوڈ بینک پر منحصر ہے، اس لیے ملکی باشندوں کو خاطر خواہ حد تک مدد نہیں مل پارہی۔ فوڈ بینک پر بڑھتا ہوا انحصار معاملات کو خرابی کی طرف لے جارہا ہے۔ فوڈ بینک کینیڈا کے چیف ایگزیکٹیو افسر کرسٹِن بیٔرڈزلے کہتے ہیں کہ بحران جڑ پکڑتا جارہا ہے۔ ایسے میں لازم ہے کہ حکومت آگے بڑھے اور ہماری مدد کرے۔ رواں سال فوڈ بینک سے مستفید ہونے والوں کی تعداد میں ۳۰ فیصد اضافہ متوقع ہے۔ مقامی یعنی سفید فام کینیڈینز کے لیے فوڈ بینک سے مستفید ہونا دشوار تر ہوتا جارہا ہے۔

فوڈ بینک کی ایگزیکٹیو لیزلے برجیس نے سی بی سی کو بتایا کہ مسائل پیچیدہ تر ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے میں لازم ہے کہ فوڈ بینک کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے اور رولز بھی تبدیل کیے جائیں۔ لیزلے برجس کا کہنا ہے کہ فوڈ بینک بھوک پر قابو پانے میں آج مدد کرسکتا ہے مگر کل شاید ایسا کرنا ممکن نہ ہو۔ حکومت کو آگے بڑھ کر کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا۔ ایک طرف تو اشیائے خور و نوش کی قیمتیں نیچے لانی ہیں اور دوسری طرف اجرتوں کا گراف بلند کرنا ہے۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

“Crisis at Canada food banks is a reality check of the Canadian dream”. (“India Today”.)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں