۷فروری ۲۰۲۵ء کو ۱۰؍سالہ صدام رجب مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا۔ وہ چند روز قبل ایک اسرائیلی فوجی کی گولی کا نشانہ بنا تھا۔ صدام اپنے گھر کے سامنے گلی میں کھڑا تھا جب اسرائیلی فوجیوں نے طولکرم کے قریب اس کے گاؤں پر حملہ کیا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں صدام کو گولی لگنے کا لمحہ لمحہ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ گولی لگتے ہی وہ زمین پر گر گیا اور پیٹ کو تھام کر تکلیف کے باعث سمٹ کر بیٹھ گیا۔ جس اسپتال میں اسے ابتدائی طور پر لے جایا گیا تھا، وہ اس کا علاج کرنے سے قاصر تھا جس کے باعث اسے نابلس کے ایک دوسرے اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
راستے میں ایمبولینس کو اسرائیلی فوجی چیک پوسٹ پر گھنٹوں تک روکے رکھا گیا جہاں ایک اسرائیلی فوجی نے صدام کے والد کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے تمہارے بیٹے کو گولی ماری ہے، خدا کرے کہ وہ مر جائے‘۔
صدام ان ۱۳؍فلسطینی بچوں میں شامل ہے جنہیں اسرائیلی فوج نے رواں سال کے آغاز سے مقبوضہ مغربی کنارے میں شہید کیا۔ اسرائیلی فوجیوں اور آباد کاروں کے ہاتھوں مقبوضہ مغربی کنارے میں قتل ہونے والے فلسطینی بچوں کی تعداد جنوری ۲۰۲۳ء سے اب تک ۲۲۰ سے تجاوز کر چکی ہے جو ایک المناک حقیقت ہے۔
صدام کی کہانی دیگر فلسطینی بچوں کی طرح بین الاقوامی سرخیوں میں کبھی جگہ نہ بنا سکی۔ اس کے قتل پر عالمی برادری کی جانب سے کوئی ردعمل بھی ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فلسطینی بچوں کے ساتھ مسلسل غیرانسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے اور ان کی تکالیف کو یکسرنظرانداز کیا جاتا ہے۔
یہ حقیقت ان چند کہانیوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہے جو میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں، جیسا کہ ۵ سالہ ہند رجب کا واقعہ جسے اسرائیلی فوج نے ۲۹ جنوری ۲۰۲۴ء کو غزہ میں شہید کردیا تھا۔ تقریباً ٹھیک ایک سال بعد اسی طرح صدام کو گولی ماری گئی۔
ہند اپنی خالہ، چچا اور کزنز کے ہمراہ غزہ شہر سے نکلنے کی کوشش کررہی تھی کہ اسرائیلی افواج نے ان کی گاڑی کو گھیرے میں لے لیا اور ان پر فائرنگ کردی۔
ہند کے رشتہ دار جائے وقوع پر ہی جاں بحق ہوگئے لیکن وہ ابتدائی حملے میں زندہ بچ گئی اور فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی سے مدد کے لیے رابطہ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ اس کی فون کالز کی ریکارڈنگ جس میں وہ اسرائیلی ٹینکوں کے قریب آنے پر مدد کی درخواست کررہی تھی، دنیا بھر میں صدمے اور غم و غصے کا باعث بنی۔
جو ایمبولینس اسے بچانے کے لیے بھیجی گئی تھی، وہ بھی واپس نہ آئی اور کچھ وقت بعد ہند کی ہلال احمر سے رابطے کی کوششیں بھی بند ہو گئیں۔ تقریباً دو ہفتے بعد ہند، اس کے رشتہ داروں، اور دو ایمبولینس کے کارکنان یوسف زینو اور احمد المدہون کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر ایمبولینس اور ہند کی گاڑی پر فائرنگ کی حالانکہ انہیں ایمبولینسوں کی موجودگی کے درست محل وقوع (Coordinates) فراہم کیے جاچکے تھے۔
ہند کے المناک قتل کی خبر غیرمعمولی طور پر بین الاقوامی میڈیا میں جگہ بناسکی جبکہ غزہ میں ہلاک ہونے والے ۱۷؍ہزار سے زائد بچوں میں سے بیشتر کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔
ہند کی شہادت کے واقعے کی حیثیت کو بھی کم کرنے اور اسے بطور معصوم بچی پیش کرنے سے گریز کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ مثال کے طور پر جب کولمبیا یونیورسٹی کے طلبہ نے ایک عمارت کو ہند کے نام سے منسوب کیا، تو سی این این نے رپورٹنگ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ’’ہند ہال‘‘ ایک ’’خاتون‘‘ کے نام پر رکھا گیا ہے جو غزہ میں مار دی گئی تھی، گویا وہ ایک بچی نہیں بلکہ ایک بالغ عورت تھی۔
جنوری ۲۰۲۴ء کی اسکائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایک براڈکاسٹر نے دعویٰ کیا کہ ’حادثاتی طور پر ایک گولی اگلی گاڑی میں جا پہنچی، جس کے نتیجے میں تین یا چار سالہ ایک نوجوان خاتون ہلاک ہو گئی‘۔ یہ ’نوجوان خاتون‘ ایک فلسطینی بچی رقیہ احمد عودہ جہالین تھی جسے اسرائیلی فوجیوں نے مغربی کنارے میں اپنے خاندان کے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھے ہوئے پیچھے سے گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔
یہ مثالیں فلسطینی اسکالر نادرہ شلبوب۔کیوورکیان کی طرف سے بیان کردہ ’ان چائلڈنگ‘ کے تصور کو واضح کرتی ہیں۔ انہوں نے اس اصطلاح کو اس لیے وضع کیا تاکہ بچوں کے خلاف تشدد کے دوران ہونے والے غیر انسانی سلوک کو بے نقاب کیا جاسکے۔ مقبوضہ اور نوآبادیاتی فلسطین میں فلسطینی بچوں سے ان کا بچپن چھین لیا جاتا ہے تاکہ ان پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کا جواز فراہم کیا جاسکے۔
دہائیوں سے اسرائیلی حکومت اور مغرب نے فلسطینی بچوں کو یا تو دوسرے بچوں سے کمتر ہونے کے طور پر پیش کیا یا پھر انہیں بچہ سمجھا ہی نہیں گیا۔ انہیں اکثر بالغوں کے مساوی قرار دیا جاتا ہے جو ’دہشت گرد‘ بن سکتے ہیں۔ اس طریقے سے انہیں فطری طور پر خطرناک سمجھا جاتا ہے اور ان سے ’بچے‘ کی حیثیت اور اس حیثیت سے جڑی معصومیت کو چھین لیا جاتا ہے۔
’ان چائلڈنگ‘ نہ صرف فلسطینی بچوں کے قتل اور معذوری کو چھپاتی ہے بلکہ یہ ان کے اغوا، حراست اور اسرائیلی جیلوں میں تشدد کے عمل میں بھی سہولت کاری کرتی ہے۔
پچھلے سال ایہم السلامہ جو سلوان، یروشلم کا ۱۴؍سالہ فلسطینی لڑکا تھا، اسرائیلی جیل میں قید کی سزا پانے والا سب سے کم عمر فلسطینی بن گیا۔ ایہم کو دو سال قبل گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر غیرقانونی اسرائیلی آباد کاروں پر پتھر پھینکنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس سے تفتیش کی گئی اور اسے دو سال تک گھریلو قید میں رکھا گیا، اس کے بعد اسے نئے اسرائیلی قانون کے تحت سزا دی گئی، وہ قانون جو فلسطینی بچوں کو ’دہشت گردی‘ کے زمرے میں آنے والے سنگین جرائم کے لیے قید کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جو بچوں پر منظم طور پر مقدمہ چلاتا اور انہیں قید کرتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا باقاعدگی سے ایہم جیسے فلسطینی بچوں کو ممکنہ سکیورٹی خطرات، ذہنی طور پر تربیت یافتہ نابالغ یا انسانی ڈھال کے طور پر پیش کرتا ہے، تاکہ ان کی قید اور تشدد کو جواز فراہم کیا جاسکے۔
جیسے جیسے فلسطین میں نسل کشی بڑھتی جارہی ہے، حقیقت یہ ہے کہ مزید فلسطینی بچے اور بزرگ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں شہید ہوں گے اور دنیا خاموش تماشائی بن کر دیکھے گی۔ ان کے قتل کو مغربی مین اسٹریم میڈیا میں نشر نہیں کیا جائے گا، ان کے خاندانوں کے انٹرویوز کے دوران بچپن کی تصاویر کی کوئی نمائش نہیں کی جائے گی اور نہ ہی عالمی رہنماؤں کی طرف سے کوئی مذمتی بیان آئے گا۔ فلسطینی بچوں کو ان کے بچپن اور اس کے ساتھ ان کی انسانیت سے محروم کر دیا گیا ہے۔
(مترجم: محمودالحق صدیقی) “Unchilding Palestine’s children”. (“aljazeera.com”.)