ایرانی قیادت پر حملے، مصنوعی ذہانت کا استعمال!

اسرائیل نے ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے نئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے ذریعے مہلک کارروائیاں تیز کردی ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی فوجی کمانڈر جب ایران کے خلاف جنگی حکمتِ عملی تیار کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تو انہوں نے مختلف اہداف، جن میں میزائل بیٹریاں، فوجی اڈّے اور جوہری تنصیبات شامل تھیں، پر حملوں کی ذمّہ داریاں تقسیم کرنے پر غور کیا۔
تاہم ابتدا ہی سے یہ واضح تھا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو تلاش اور ہلاک کرنے کا ایک نہایت حساس اور سنگین مشن اسرائیل کے حصے میں آئے گا۔
اسرائیل نے اس مشن کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کر دیا گیا اور اسرائیلی فوج کے مطابق اب تک ۲۵۰ سے زائد سینئر ایرانی عہدیداروں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ تازہ ترین کارروائی میں اسرائیل نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر کو ہلاک کر دیا ہے۔
اعلیٰ قیادت کو قتل کرنے کی حکمتِ عملی ایک ایسے خفیہ نیٹ ورک پر مبنی ہے جسے اسرائیل نے دہائیوں میں تیار کیا مگر حالیہ برسوں میں اسے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام کے مطابق، اب یہ نظام پہلے سے کہیں زیادہ مہلک اور مؤثر ہوچکا ہے۔
ان حکام کے مطابق اسرائیل کو ایران کے اندر وسیع پیمانے پر معلوماتی ذرائع حاصل ہوچکے ہیں جن میں ایسے اندرونی افراد بھی شامل ہیں جو اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں ڈیجیٹل سسٹمز جیسے ٹریفک کیمرے، ادائیگی کے نظام اور انٹرنیٹ کنٹرول پوائنٹس میں بھی دراندازی کی گئی ہے۔
ان تمام معلومات کا ایک خفیہ مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم کے ذریعے تجزیہ کیا جاتا ہے جو ایرانی قیادت کی نقل و حرکت اور روزمرہ سرگرمیوں کے بارے میں اہم اشارے حاصل کرتا ہے۔
اسرائیل کی ٹارگٹ کلنگ حکمتِ عملی میں مختلف طریقے شامل ہیں، جیسے مہینوں پہلے نصب کیے گئے بم، ایسے ڈرونز جو عمارتوں کی کھڑکیوں تک پہنچ سکتے ہیں، اور اسٹیلتھ جنگی طیاروں سے داغے جانے والے سپرسونک میزائل۔ یہ تمام حربے غزہ، لبنان اور ایران میں گزشتہ برسوں کی جنگوں کے دوران مزید بہتر کیے گئے ہیں۔
ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار کے مطابق ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری اسرائیل کو اس لیے دی گئی کیونکہ اس کے پاس اس میدان میں تجربہ اور صلاحیت موجود ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی اہلکار کے بقول ’انہیں نشانہ بنانا ضروری تھا، اور ہم یہ کام کرسکتے تھے‘۔
تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا قیادت کے خاتمے کی یہ مہم اسرائیل کو اپنے بنیادی جنگی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب بناسکے گی یا نہیں۔ ان اہداف میں ایران کے میزائل اور اس کے اتحادی گروپوں کے خطرے کا خاتمہ، اس کے جوہری پروگرام کو روکنا اور حکومت کو اس حد تک کمزور کرنا شامل ہے کہ اسے گرا دیا جائے۔
اب تک یہ مقاصد حاصل ہوتے نظر نہیں آرہے۔ قتل کیے جانے والے عہدیداروں کی جگہ اکثر زیادہ سخت مؤقف رکھنے والے افراد لے لیتے ہیں جبکہ مسلسل امریکی و اسرائیلی بمباری اور حکومتی کریک ڈاؤن کے خدشے کے باعث عوامی احتجاج بھی سامنے نہیں آسکا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کی حکومت کو شدید نقصان پہنچا ہے مگر وہ اب بھی مستحکم ہے اور خود کو کامیاب تصور کررہی ہے کیونکہ اس نے دنیا کی دو بڑی فوجی طاقتوں کے حملوں کا مقابلہ کیا ہے۔
یہ رپورٹ ان اعلیٰ سکیورٹی حکام کے انٹرویو پر مبنی ہے جنہوں نے حساس معلومات کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی مہارت، حتیٰ کہ اگر وہ انتہائی درست نشانہ بازی پر مبنی ہو، ایک خطرناک رجحان کو جنم دے رہی ہے جہاں قتل کو ایک باقاعدہ حکمتِ عملی بنا لیا گیا ہے اور اہداف کی فہرست مسلسل وسیع ہو رہی ہے۔
کارنیگی اینڈومنٹ کے ماہر ایریل لیوائٹ نے کہا کہ ’ہم نے اسے ایک مستقل حکمتِ عملی بنا دیا ہے، حالانکہ یہ صرف مخصوص مواقع پر استعمال ہونے والا طریقہ ہونا چاہیے تھا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ میں ذمہ داریوں کی تقسیم سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ امریکا نے گندے کام اسرائیل کے حوالے کر دیے ہیں یعنی ’ہم خود انہیں نہیں مار سکتے، لیکن اگر آپ مار دیں تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں‘۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق اسرائیل کو ایرانی قیادت پر حملوں کی ذمہ داری دینا دونوں ممالک کے درمیان اس سمجھوتے کا حصہ ہے کہ ’ہم مل کر کام کر رہے ہیں، لیکن ہمارے اپنے الگ اہداف بھی ہیں‘۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تقسیم قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے نہیں بلکہ دونوں ممالک کی صلاحیتوں کے مطابق کی گئی ہے۔ امریکا ماضی میں بھی ٹارگٹ کلنگ کرچکا ہے جن میں ۲۰۲۰ء میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا قتل بھی شامل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ حملوں کو مشترکہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے ان کی پوری قیادت کو ختم کر دیا، پھر انہوں نے نئی قیادت منتخب کی، تو ہم نے انہیں بھی ختم کر دیا‘۔
اسرائیل نے یہ قیادت کی تبدیلی انتہائی تیزی سے ممکن بنائی، جس کا آغاز ۲۸ فروری کے حملے سے ہوا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کردیا گیا اور یوں ان کی ۳۷ سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔ اس حملے میں ایران کی دفاعی کونسل کے سربراہ، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر، مسلح افواج کے سربراہ، وزیر دفاع اور درجنوں دیگر اعلیٰ حکام بھی مارے گئے۔
اگرچہ اس حملے کو ایک بڑی انٹیلی جنس کامیابی قرار دیا گیا لیکن اسرائیلی حکام کے مطابق درحقیقت انٹیلی جنس ادارے گزشتہ ایک سال سے اس ’گروپ آف فائیو‘ یعنی خامنہ ای اور ان کے قریبی مشیروں کی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے تھے۔
ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ ’وہ تقریباً ہر ہفتے ملاقات کرتے تھے، کبھی مختلف مقامات پر، کبھی زیادہ محفوظ جگہوں پر اور کبھی کم محفوظ ماحول میں‘۔
یہ معلومات اس قدر قابلِ اعتماد تھیں کہ ایران کے خلاف جون میں ہونے والی ۱۲؍روزہ جنگ سے پہلے بھی اس گروپ کو نشانہ بنانے پر غور کیا گیا تھا تاہم اسے مؤخر کر دیا گیا کیونکہ اس وقت ایران کے جوہری پروگرام کو ترجیح دی گئی تھی۔
اسرائیلی حکام کے مطابق، خامنہ ای اپنے گھر کی بالائی منزل پر موجود تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔ ان کا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای بھی وہاں موجود تھا، جو شدید زخمی ہوا مگر زندہ بچ گیا کیونکہ وہ حملے کے وقت قریبی باغ میں چلا گیا تھا۔
مجتبیٰ خامنہ ای جنہیں بعد میں اپنے والد کا جانشین قرار دیا گیا، اب محدود کردار ادا کر رہے ہیں اور زیادہ تر تنہائی میں رکھے گئے ہیں تاکہ ان کی حفاظت کی جاسکے۔
امریکی اور اسرائیلی حکام کے درمیان تیار کیے گئے جنگی منصوبے میں ’گروپ آف فائیو‘ کو ابتدائی حملے میں نشانہ بنانا شامل تھا، تاہم آخری لمحے میں وقت تبدیل کیا گیا کیونکہ اسرائیل کو اطلاع ملی کہ ان کی ملاقات شام کے بجائے صبح منتقل کر دی گئی ہے۔
اس وقت امریکا نے بھی ایران کے قریب بڑی فوجی قوت تعینات کر رکھی تھی، مگر حملہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے کیا جو اپنے اڈّوں سے تقریباً دو گھنٹے کی پرواز کے بعد ایران پہنچے اور ایرانی قیادت پر میزائل داغے۔
یہ کارروائی دراصل کئی برسوں پر محیط اس کوشش کا نتیجہ تھی جس کے تحت اسرائیل نے ایرانی قیادت کی نقل و حرکت کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کی۔ اس میں موساد اور اسرائیلی فوج کا سائبر یونٹ ۸۲۰۰ مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔
یہ دونوں ادارے تل ابیب کے شمال میں ایک ہی علاقے میں واقع ہیں اور امریکا کے سی آئی اے اور این ایس اے کے ساتھ مل کر کئی برسوں سے ایران کے خلاف خفیہ کارروائیوں میں تعاون کرتے رہے ہیں، جن میں ۲۰۱۰ء کا مشہور ’اسٹکس نیٹ‘ سائبر حملہ بھی شامل ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والی بہت سی جدید انٹیلی جنس صلاحیتیں دراصل پانچ سال قبل شروع ہونے والی ایران اور اسرائیل کے درمیان سائبر جنگ کے بعد سامنے آئیں۔
جب ایران کی جانب سے مبیّنہ سائبر حملوں نے اسرائیل کے پانی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو متاثر کیا تو اسرائیل نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔ ان حملوں کے نتیجے میں تہران میں ٹریفک سگنلز متاثر ہوئے، پیٹرول پمپس بند ہوگئے اور بعض نیم فوجی دستوں کے ارکان کو اے ٹی ایم سے رقم نکالنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم یہ کارروائیاں دراصل ایک بڑے اور خفیہ سائبر آپریشن کا حصہ تھیں، جس کے تحت اسرائیلی یونٹ ۸۲۰۰ نے ایران کے ڈیجیٹل نظام میں گہری رسائی حاصل کرلی۔
ایک اسرائیلی فوجی اہلکار کے مطابق ’جو کچھ بھی ہیک کیا جاسکتا تھا، ہم نے اس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی، فون کال، ٹریفک کیمرے، حتیٰ کہ اندرونی سکیورٹی سسٹم بھی‘۔
ان اہداف میں وہ ڈیٹابیس بھی شامل تھے جن میں ایرانی سکیورٹی اداروں نے ہنگامی حالات میں قیادت کے محفوظ ٹھکانوں اور متبادل مراکز کی معلومات محفوظ کر رکھی تھیں۔
اسرائیلی اہلکار کے مطابق ’کبھی ہمیں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس وِنگ کے ڈیٹا تک رسائی ملی، کبھی فوج یا پولیس کے نظام تک۔ وقت کے ساتھ ہم معلومات حاصل کرنے میں زیادہ مؤثر ہوتے گئے‘۔
ایران کی اندرونی نگرانی اور عوام پر کنٹرول کی پالیسیوں نے بھی اس کے لیے کمزوریاں پیدا کیں۔ حالیہ برسوں میں ایران نے انٹرنیٹ ٹریفک کو مرکزی نظام کے ذریعے کنٹرول کرنا شروع کیا تاکہ ضرورت پڑنے پر اسے بند کیا جاسکے۔
تاہم اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومتی اہلکاروں کی اپنی کمیونی کیشن بھی اسی نظام سے گزرتی رہی، جس سے اسرائیل کو خفیہ طور پر ان کے پیغامات، کالز اور ای میلز تک رسائی حاصل کرنے کا موقع ملا۔
ایران نے ان خطرات کے پیشِ نظر اقدامات بھی کیے، جیسے سکیورٹی اہلکاروں کے موبائل فون استعمال پر پابندیاں، مگر اسرائیلی حکام کے مطابق یہ اقدامات صرف عارضی رکاوٹ ثابت ہوئے۔
ایک اہلکار نے بتایا کہ ’آپ ڈیوٹی کے دوران فون استعمال نہ بھی کریں، لیکن جیسے ہی ڈیوٹی ختم ہوگی آپ فون ضرور چیک کریں گے۔ کوئی بھی ہمیشہ کے لیے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا‘۔
ان تمام معلومات کو مؤثر بنانے میں ایک جدید مصنوعی ذہانت کا پلیٹ فارم کلیدی کردار ادا کر رہا ہے جو ایران سے حاصل ہونے والے وسیع ڈیٹا کا تجزیہ کرتا ہے اور قیادت کی نقل و حرکت اور طرزِ زندگی کے بارے میں اہم معلومات اخذ کرتا ہے۔
اس شعبے کے ماہر راز زمِت کے مطابق، یہ اے آئی نظام ایسی معلومات کو قابلِ استعمال بناتا ہے جو پہلے موجود تو تھیں مگر ان کا تجزیہ ممکن نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’اے آئی نے اسرائیل کو وہ صلاحیت دی ہے کہ وہ ایسے ڈیٹا سے فائدہ اٹھا سکے جو پہلے موجود ہونے کے باوجود ناقابلِ استعمال تھا۔
گزشتہ برس ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف ۱۲؍روزہ کارروائی کے دوران ان صلاحیتوں کی ایک جھلک سامنے آئی جب اسرائیل نے بیک وقت ایرانی فوجی قیادت کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق، بعض اہداف کے بارے میں انٹیلی جنس اتنی درست تھی کہ میزائلوں کا رخ دورانِ پرواز ہی تبدیل کیا گیا تاکہ ہدف کی بدلتی ہوئی جگہ کے مطابق نشانہ لگایا جاسکے۔ ایک حملے میں ایک کمانڈر کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ دفتر سے قریبی اپارٹمنٹ کی طرف منتقل ہو رہا تھا۔
تاہم ہر بار معلومات مکمل طور پر درست ثابت نہیں ہوئیں۔ مارچ کے اوائل میں اسرائیل نے قُم میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا جہاں ایران کی مجلسِ خبرگان کے ارکان کے جمع ہونے کی توقع تھی مگر بعد میں معلوم ہوا کہ اجلاس آن لائن ہو رہا تھا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اسرائیل ماضی میں بھی مختلف طریقوں سے ٹارگٹ کلنگ کرتا رہا ہے، جن میں موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں کے ذریعے گاڑیوں پر بم نصب کرنا یا خفیہ دھماکا خیز مواد استعمال کرنا شامل ہے۔ تاہم حالیہ مہم میں زیادہ تر فضائی حملوں اور مسلسل نگرانی کرنے والے ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کی کامیابی میں ایک اہم عنصر ایرانی قیادت کی بعض غیرمتوقع غلطیاں بھی ہیں۔
ان کے مطابق حیران کن طور پر اتنے بڑے خطرے کے باوجود ایرانی قیادت ایک جگہ جمع ہوئی، حالانکہ حالات ایسے تھے کہ کسی بھی وقت حملہ متوقع تھا۔
ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ ’یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ دنیا کا کوئی بھی شخص اس صورتِ حال میں خطرے کو بھانپ لیتا‘۔
(مترجم: بن فاروق)
“Israel targets Iran’s leaders with lethal expertise using new AI platform”.

(“Washington Post”. March 30, 2026)

تازہ مضامین

’ہم قلت کی دنیا میں جی رہے ہیں‘، یہ الفاظ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کے ہیں جو انہوں نے ۲۰۲۴ء میں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ادا کیے تھے۔انہوں نے خبردار کیا تھا کہ

جنگ کسی کو کچھ نہیں دیتی۔ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے، نقصان دونوں یا تمام ہی فریقوں کا ہوتا ہے۔ ہر جنگ اپنے پیچھے تباہی چھوڑ جاتی ہے۔ جن اقوام نے برسوں کی محنت کے

بریگیڈیئر جنرل محمد باقر ذوالقدر کو ممتاز ایرانی رہنما علی لاریجانی کی جگہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔علی لاریجانی حال ہی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس وقت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر حملے بند کرنے کے لیے ایرانی قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں جبکہ ایران اس کی تردید کررہا ہے۔تاہم ایک بات واضح ہے

گزشتہ ۲۵ فروری کی شام جب یروشلم کے پرانے شہر کی فضاؤں میں مسجد اقصیٰ کے بلند پایہ میناروں سے اذان کی آواز کے ساتھ افطار کا اعلان ہورہا تھا، تو اس سے چند سو

وکٹورین عہد کے ایڈمرل سرجیکی فشر نے کہا تھا کہ پانچ اسٹریٹجک چابیاں ایسی ہیں جو دنیا کو مقفل کردیتی ہیں۔ اُن کا اشارہ اُن نازک اور حساس مقامات کی طرف تھا جو بڑی کاروباری