بریگیڈیئر جنرل محمد باقر ذوالقدر کو ممتاز ایرانی رہنما علی لاریجانی کی جگہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔
علی لاریجانی حال ہی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس وقت مارے گئے جب ایک اسرائیلی میزائل نے ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔
باقر ذوالقدر کی تقرری ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیل کی قیادت میں جاری اس جنگ کے دوران ہوئی ہے جس میں ان دونوں ممالک کا ہدف ملک کی اہم عسکری اور سیاسی شخصیات ہیں۔ ذوالقدر پاسدارانِ انقلاب کور کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں اور ان کی تقرری کا اعلان ایرانی صدر کے دفتر کے ایک اہلکار نے کیا۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کا کہنا ہے کہ ذوالقدر کو ایران کی جس سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، اس کی باضابطہ صدارت ایرانی صدر کرتے ہیں۔
یہ ادارہ ملک کی سلامتی اور خارجہ پالیسیوں میں ربط قائم رکھنے کا ذمہ دار ہے اور اس میں سینئر فوجی، انٹیلی جنس اور حکومتی اہلکاروں کے علاوہ رہبرِ اعلیٰ کے نمائندے بھی شامل ہیں، جن کا تمام ریاستی امور پر فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔
باقر ذوالقدر کون ہیں؟
ایران کی خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق ذوالقدر پاسداران انقلاب کے ان ابتدائی ارکان میں سے ایک ہیں، جنہوں نے ایران۔عراق جنگ میں حصہ لیا۔ انہوں نے جنگ کے بعد کچھ عرصہ کے لیے آئی آر جی سی کے نائب کمانڈر اِن چیف کے طور پر خدمات انجام دیں۔
اس کے علاوہ وہ وزارت داخلہ اور عدلیہ کے ساتھ بھی بطور معاون کام کرتے رہے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کے طور پر تقرری کے وقت وہ سیکرٹری اور ایکسپیڈینسی کونسل کے رکن بھی تھے۔
۱۹۵۱ء میں صوبہ فارس کے شہر فاسا میں پیدا ہونے والے محمد باقر ذوالقدر منصورن نامی اس مسلح گروہ کے پہلے ارکان میں شامل تھے، جس نے ۱۹۷۹ء کے انقلاب سے پہلے شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت کے خلاف خاص طور پر جنوبی ایران میں کارروائیاں کیں۔
اس گروہ پر ایک امریکی مشیر اور ایرانی آئل کمپنی کے ایک اہلکار کے قتل کے بھی الزامات ہیں۔
’منصورون: بنیاد سے اتحاد تک‘ کے عنوان سے ایک مضمون میں، جو ’ہسٹوریکل اسٹڈیز‘ نامی جریدے میں شائع ہوا، باقر ذوالقدر نے اس گروپ کو قتل کی وارداتوں کے لیے دستیاب قانونی تحفظ کے بارے میں بات کی، اور کہا کہ انہوں نے اور ان کے دیگر ساتھیوں نے بہبہان کے تھانے کے سامنے دو پولیس افسران کو ۱۵؍گولیاں مار کر قتل کیا۔
ایران۔عراق جنگ کے دوران، ذوالقدر پاسدارانِ انقلاب کے رمضان ہیڈکوارٹر کے کمانڈر تھے، جو غیرروایتی طریقوں سے بیرون ملک کارروائیاں انجام دیتا تھا اور جسے بعد ازاں قدس فورس کے قیام کا مرکز سمجھا گیا۔
۱۹۸۴ء تک رمضان ہیڈکوارٹر پاسدارانِ انقلاب کے اندر ایک غیرمنظم جنگی فورس کے طور پر قائم ہو چکا تھا، اور اس کی ساخت میں عراق کے کرد، شیعہ، افغان اور دیگر عناصر شامل تھے، اور یہ آئی آر جی سی کے بیرونِ ملک کام کو بڑھانے کے لیے ایک اہم نقطۂ آغاز تھا۔
جنگ کے اختتام کے بعد، وہ جنرل اسٹاف آف دی گارڈز کے سربراہ بنے، جسے ۱۹۹۱ء میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا نام دیا گیا اور ۱۹۹۷ء میں محسن رضائی کے استعفے اور یحییٰ رحیم صفوی کی گارڈز کمانڈر کے طور پر تقرری کے بعد، ذوالقدر نے ڈپٹی کمانڈر انچیف کا عہدہ سنبھالا۔
۱۹۹۰ء کی دہائی میں، انہیں انصار حزب اللہ جیسے گروپوں کی تنظیم کی ذمہ داریوں میں شامل کیا گیا، اور غلام حسین کربسجی کے دور میں سکیورٹی اور عدالتی دستاویزات کی رپورٹس میں بھی ان کا ذکر ہوا۔
محمود احمدی نژاد کے ۲۰۰۵ء میں صدر منتخب ہونے کے بعد، ذوالقدر کو نائب وزیر داخلہ برائے سلامتی امور مقرر کیا گیا، جو ایران کے اندر سکیورٹی فائلز کے انتظام میں ایک اہم عہدہ تھا۔
اس وقت، انہیں احمدی نژاد کو اقتدار میں لانے کے لیے کردار ادا کرنے والے رہنماؤں میں شمار کیا جاتا تھا، اور بعد میں انہوں نے ایک ’کثیر سطحی منصوبے‘ کے وجود کو تسلیم کیا تاکہ قدامت پسند تحریک انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکیں۔
تاہم ۲۰۰۷ء میں اس وقت کے سرکاری حکام کے ساتھ اختلافات کی خبریں سامنے آنے کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
اِسی سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان کا نام جوہری اور میزائل پروگراموں سے منسلک ۱۵؍ایرانی حکام کی فہرست میں شامل کیا، جس میں سفری اور اثاثوں کے انجماد کی پابندیاں عائد کی گئیں۔
جب صادق امیلی لاریجانی ملک کی عدلیہ کے سربراہ تھے تو باقر ذوالقدر نے اس دَور میں ان کے سماجی مشیر اور تزویراتی اُمور کے نائب کے طور پر خدمات انجام دیں۔
ستمبر ۲۰۲۱ء میں، انہیں ایکسپیڈینسی کونسل کے سربراہ اور سپریم لیڈر کی منظوری سے کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا۔
ذوالفقار ایرانی حکومت کے اندر سخت گیر فوجی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔
انہوں نے بار بار ایران پر کسی بھی امریکی حملے کے بارے میں خبردار کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب ردعمل کے لیے تیار ہیں۔ ۲۰۰۷ء میں مہر نیوز ایجنسی کے حوالے سے ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو ’امریکا کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہوگی‘ اور تہران امریکی اہداف پر ’روزانہ ہزاروں میزائل‘ داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وہ ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں جس کا عنوان ’اسرائیل کا زوال‘ ہے۔
اسے انہوں نے مہدی حمد الفتلوی کی ۲۰۰۱ء میں پہلی بار بیروت سے شائع ہونے والی کتاب کے ’ترجمے اور تحقیق‘ کے طور پر پیش کیا اور یہ اسرائیل کے ساتھ تنازع کے مذہبی نظریاتی وژن سے متعلق ہے۔
اگست ۲۰۲۵ء میں، ۱۲؍دن کی لڑائی کے بعد، ذوالقدر نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی بات چیت کو ’امریکیوں کو جوابدہ ٹھہرانے‘ پر مرکوز ہونا چاہیے۔
پریس ٹی وی نے آئی آر جی سی کے حوالے سے ایک بیان میں محمد باقر ذوالقدر کی اس حساس عہدے پر تقرری کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں اسلامی انقلاب کے ’باقی ماندہ اثاثوں‘ میں سے ایک قرار دیا، اور اسلامی جمہوریہ کی تاریخ میں ان کے اہم کردار کی تعریف بھی کی۔
اس بیان میں ان کی جانب سے شاہ کے نظام اور ایم ای کے کا مقابلہ کرنے اور ایران۔عراق جنگ میں ان کی شرکت کو اجاگر کیا گیا تھا۔
(بحوالہ: ’’بی بی سی اردو ڈاٹ کام‘‘۔ ۲۸ مارچ ۲۰۲۶ء)