عالمی بالا دستی کا بھارتی خواب!

گزشتہ ۲۵ فروری کی شام جب یروشلم کے پرانے شہر کی فضاؤں میں مسجد اقصیٰ کے بلند پایہ میناروں سے اذان کی آواز کے ساتھ افطار کا اعلان ہورہا تھا، تو اس سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ایک صحن میں جہاں بھارتی ترنگا لہرا رہا تھا، انصاری خاندان کی نظریں اپنے ٹیلی ویژن سیٹ پر جمی ہوئی تھیں۔
اس جگہ سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسرائیلی پارلیمان یعنی کنیسٹ میں خطاب کر رہے تھے۔
یہ خاندان تقسیمِ ہند سے قبل کے برصغیر کے اس تہذیبی نقشِ قدم کا امین اور پاسباں ہے جسے دنیا ’زاویہ الہندیہ‘ کے نام سے جانتی ہے۔
مقدس شہر یروشلم کے ہیرودس گیٹ یعنی بابِ زاہرہ سے چند ہی میٹر کے فاصلے پر واقع اس مقام کے مکینوں کو قوی امید تھی کہ شاید بھارتی وزیراعظم ان کے تاریخی صحن میں بھی قدم رنجہ فرمائیں گے۔ مگر مودی کی مصروفیات کچھ اور ہی تھیں، جس میں کسی بھی مسلم علامت کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
زاویہ الہندیہ وہ نادر و نایاب مقام ہے جہاں برصغیر کے مسلمانوں کی روحانی تاریخ اور فلسطین ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ یہ صحن بارہویں اور تیرہویں صدی کے عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کی یادوں سے منوّر ہے، جنہوں نے روایات کے مطابق یہاں چالیس روز تک چلّہ کشی اور اعتکاف کیا تھا۔
بابا فریدؒ کا مزارِ اقدس اگرچہ آج پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر پاکپتن میں مرجع خلائق ہے، لیکن اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات کی عدم موجودگی نے عملی طور پر ۱۹۴۷ء کے بعد بھارت کو برصغیر کی اس عظیم مشترکہ میراث کا تنہا وارث اور نگراں بنا دیا ہے۔
سال ۱۹۹۲ء میں اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات کی بحالی کے چار سال بعد جب بھارت کے اُس وقت کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے یروشلم کا دورہ کیا تھا، تو انہوں نے اس خانقاہ میں حاضری دی تھی۔
تب سے آج تک اسرائیل اور فلسطین کا سفر کرنے والے تقریباً ہر بھارتی وزیر اور معزز شخصیت نے زاویہ الہندیہ کو اپنے شیڈول کا لازمی حصہ بنایا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ وزیر خارجہ ایس جئے شنکر بھی تین بار یہاں حاضری دے چکے ہیں۔ سفارتی حلقوں میں اسے اکثر یروشلم میں ایک ’بھارتی نگینہ‘ یعنی انڈین جویل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جس کے ماتھے پر یہ عبارت درج ہے:
’یروشلم میں موجود بھارت میں خوش آمدید۔‘
زاویہ الہندیہ کے موجودہ نگراں شیخ منیر حسن انصاری بتاتے ہیں کہ ان کے دادا، جن کا تعلق اتر پردیش سے تھا، کو ٹھیک سو سال قبل عثمانی ترکوں کے اس علاقے سے انخلا کے بعد اس صحن کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
یہ فیصلہ مفتیٔ اعظم فلسطین کی درخواست پر تحریکِ آزادی کے اکابرین جیسے ایم ایم انصاری اور مولانا محمد علی جوہر نے کیا تھا تاکہ یروشلم میں موجود برصغیر کی اس یادگار کی حفاظت کی جاسکے۔
مودی نے صرف یروشلم میں موجود اس ’بھارتی نگینے‘ کو نظرانداز نہیں کیا، بلکہ اس کے بجائے انہوں نے اپنا وقت اسرائیلی ٹیلی ویژن سیریز ’فوضیٰ‘ کے اداکاروں کے ساتھ گزارا اور اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) میں ان کے تجربات پر تبادلۂ خیال کیا۔
نئی دہلی واپسی سے قبل انہوں نے یروشلم میں ہولوکاسٹ میوزیم یدوشم کا دورہ بھی کیا۔
بھارت میں اس وقت مودی کے اس دورے کے وقت کے حوالے سے خاصی بحث ہو رہی ہے۔ کوئی یہ بتا نہیں پا رہا ہے کہ مودی نے اسرائیل کا یہ دورہ کیوں کیا، جبکہ باری ان کی نہیں بلکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی نئی دہلی آنے کی تھی۔
یہ سب اس حقیقت کو جاننے کے باوجود کیا گیا کہ ایران پر جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے دورے کا بنیادی مقصد نیتن یاہو کو ان کی عالمی تنہائی سے نکالنے میں مدد فراہم کرنا تھا اور اپنے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سفارش کروانی تھی، جس نے تجارتی معاہدوں اور مودی کے دستِ راست صنعتکار اڈانی کا ناطقہ بند کیا ہوا ہے۔
مودی اُن گنے چنے چند سربراہانِ مملکت میں شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ دو سالوں کے دوران اسرائیل کا سفر کیا ہے، جس دوران اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی میں مصروف رہا ہے۔
ان کی نئی دہلی واپسی کے محض ایک دن بعد ہی، اسرائیل نے امریکا کے ساتھ ایران کے خلاف نہ صرف اعلان جنگ کیا، بلکہ ایران کے سپریم لیڈر اور روحانی لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ سیاسی و فوجی رہنماؤں کو ہلاک کردیا، جو عمان کی ثالثی میں طے پائے گئے امریکا کے ساتھ جوہری معاہدہ کے خدوخال کو آخری شکل دینے کے لیے جمع ہوگئے تھے۔
ان حملوں نے بھارت کے لیے سفارتی محاذ پر ایک ناگوار صورتِ حال پیدا کردی ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب فروری ۱۹۷۹ء کو چین اور ویت نام کی جنگ چھڑ گئی تھی، تو بھارت کے اُس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی پیکنگ (موجودہ بیجنگ) کے سرکاری دورے پر تھے۔ بطور احتجاج وہ دورہ ادھورا چھوڑ کر نئی دہلی واپس لوٹے اور جنگ کے خلاف احتجاج بھی درج کروایا۔
بھارت نے ابھی تک ایران پر ہونے والے اس بلا اشتعال حملے کی مذمت بھی نہیں کی ہے، حالانکہ ایران کے ساتھ اس کے گہرے دو طرفہ تعلقات رہے ہیں۔ جب ۲۰۲۴ء میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی ایک ہوائی حادثے میں ہلاک ہوگئے، تو بھارت میں ایک دن کے قومی ماتم کا اعلان کیا گیا اور وزیراعظم مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ
’وہ ایرانی صدر کی ناگہانی موت سے بہت دکھی اور سوگوار ہیں اور بھارت ماتم کی اس گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔‘
اب مبصرین یہ سوال کرتے ہیں کہ ۲۰۲۴ء اور ۲۰۲۶ء کے درمیان ایسا کیا کچھ ہوگیا کہ بھارت کے پاس ایران کے لیے ہمدردی کے دو بول بھی نہیں نکل سکے۔ اور تو اور وزارتِ خارجہ نے تمام سفارت خانوں کو باضابطہ ایک میمو کے ذریعے متنبہ کیا کہ ایرانی سفارت خانوں میں تعزیت پرسی کے لیے نہ جائیں۔
جب کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے واویلا مچایا، تو سیکرٹری خارجہ وکرم مصری نے نئی دہلی میں مقیم ایرانی سفارت خانے جاکر تعزیتی رجسٹر پر دستخط کیے۔
پھر اسی ہفتے، بھارت کے دورے سے واپس جانے والے ایران کے ایک بحری جہاز کو امریکا نے بین الاقوامی پانیوں میں تارپیڈو سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز پر سوار درجنوں افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ جہاز غیرمسلح تھا اور امریکا۔اسرائیل کی ایران پر جنگ کے آغاز سے قبل بھارت کی دعوت پر ’انٹرنیشنل فلیٹ ریویو‘ میں شرکت کے لیے گیا تھا۔
سابق بھارتی فوجی افسران اور سفارت کاروں نے اس واقعے کو بھارتی حکومت کے لیے ایک تزویراتی شرمندگی اور اس کی علاقائی ساکھ کے لیے ایک دھچکا قرار دیا ہے۔
بھارت کے اس سرد ردعمل نے بھارتی لبرل طبقے اور اہم اپوزیشن جماعتوں کو حیران کر دیا ہے۔ آخرکار، ایران بھارت کے لیے محض ایک واقف کار نہیں تھا۔ بلکہ دہائیوں سے ایران کا شمار بھارت کے قریب ترین اتحادیوں میں ہوتا رہا ہے۔
بھارت، طویل عرصے سے خود کو بحرِ ہند میں سلامتی کے ضامن کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ تشویش ناک پہلو یہ تھا کہ اس جہاز پر موجود عملہ کو بچانے کے لیے بھارت کے بجائے سری لنکا کی بحریہ حرکت میں آئی۔
بقول سینئر صحافی شیکھر گپتا ’آپریشن سیندور بھارت کے لیے ایک تلخ حقیقت بن کر سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق یکے بعد دیگرے پی ایس ایل وی کی دو ناکامیاں، عسکری صلاحیت کے حامل بیش قیمت سیارچوں کا زیاں، انٹیلی جنس اور نگرانی (آئی ایس آر) کے اپنے وسائل کی کمی، اور ایک نئے معرکے کی صورت میں اسٹینڈ آف ہتھیاروں، ڈرونز، سینسرز اور فضائی دفاع کی ناگزیر ضرورت یہ سب نوشتہ دیوار بن چکے ہیں اور اس کے لیے اسرائیلی مدد درکار ہے۔‘
یہ بھی عیاں ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بھارت اب ایک فریق بن چکا ہے، اور وہ فریق ’اسرائیل۔امارات گٹھ جوڑ‘ ہے۔ اس پس منظر میں ۱۹؍جنوری کا متحدہ عرب امارات کے حکمران شیخ محمد بن زاید (ایم بی زیڈ) کا تین گھنٹے کا اچانک اور پُراسرار دورہ نئی دہلی بھی اب سمجھ میں آتا ہے۔
اس صورتِ حال نے ان سوالات کو جنم دیا ہے کہ بھارت کس طرح اسرائیل کے ساتھ اپنی بڑھتی ہوئی شراکت داری اور مغربی ایشیا میں اپنے دیرینہ مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھے گا، جہاں لاکھوں بھارتی برسر روزگار ہیں۔
اپنے خطاب میں مودی نے ویسے تو غزہ امن اقدام کی حمایت کی اور اعلان کیا کہ کوئی بھی پائیدار امن فلسطینی مسئلے کے حل کے بغیر ممکن نہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف کاغذ کی حد تک توازن پیدا کرنے کی کوشش تھی۔
فلسطینی رہنماؤں اور کئی اسرائیلی تجزیہ نگاروں نے بھی مودی کے دورے کو ’قبل از وقت‘ قرار دیا، جس کی تصدیق ایران پر حملے سے ہوگئی، کیونکہ اب یہ دورہ ان حملوں کی خاموش تائید معلوم ہوتا ہے۔
فلسطینی مصنف اور سماجی کارکن احمد ارتیما کا استدلال ہے کہ ایک دانش مندانہ طریقہ کار یہ ہوتا کہ غزہ میں جنگ بندی کے مستحکم ہونے اور انسانی ہمدردی کی راہداریوں کے فعال ہونے کا انتظار کیا جاتا، نہ کہ ایسے وقت میں دورہ کیا جاتا جب خطہ ایک فعال میدانِ جنگ میں تبدیل ہونے والا تھا۔
موجودہ صورتِ حال نے بھارت کے گلوبل ساؤتھ کے لیڈر کے دعوے کی بھی پول کھول کر رکھ دی۔
بھارت کے لیے ایران یا سعودی عرب سے کھلی دشمنی مول لینا ایک پیچیدہ اور مہنگا سودا ہوگا۔ بھارت نے تاریخی طور پر ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہیں اور چابہار بندرگاہ جیسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔
اسرائیل کے ساتھ گہری تزویراتی وابستگی نئی دہلی پر دباؤ بڑھا سکتی ہے کہ وہ ایران مخالف محور کا حصہ نہ بنے۔ اب تہران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی قیمت بڑھ سکتی ہے، اور بھارت کی مغربی ایشیا پالیسی کو ’ملٹی الائنمنٹ‘ کے بجائے اسرائیل کی طرف بتدریج منتقلی کے طور پر دیکھا جائے گا۔
فلسطینی رہنما احمد مجدلانی یاد دلاتے ہیں کہ بھارت، اسرائیل میں اپنی ساکھ کو امن کے لیے اسی طرح استعمال کر سکتا تھا جیسے ۸۰ کی دہائی کے اوائل میں ناروے نے کیا تھا۔ ۱۹۷۹ء میں جب ناروے میں تیل کے ذخائر دریافت ہوئے، تو اس پر اسرائیل کو تیل فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، لیکن نارویجن وزیراعظم نے جب یاسر عرفات سے مشورہ کیا، تو بتایا جاتا ہے کہ فلسطینی لیڈر نے ایک عملی موقف اختیار کرکے ناروے کو بتایا کہ وہ اس پوزیشن کو استعمال کر کے اسرائیل کو فلسطینیوں کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات پر مجبور کردے۔
یہی کوششیں چودہ سال بعد ’اوسلو معاہدے‘ پر منتج ہوئیں، جہاں دو ریاستی فارمولے کو پذیرائی ملی اور عرفات کی فلسطین واپسی ہوئی اور مغربی کنارہ اور غزہ کو اسرائیل سے خالی کر دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کو کا کہنا ہے کہ بھارت کا سیاسی وزن ناروے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس میں تمام فریقین سے بات کرنے کی صلاحیت ہے، بشرطیکہ وہ اپنی علامات کا انتخاب احتیاط سے کرے۔
آخرکار، سفارت کاری صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ اُن جگہوں سے بنتی ہے جہاں ایک لیڈر دورہ اور تقریر کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
زاویہ الہندیہ کو نظرانداز کر کے کنیسٹ کو اوّلیت دینا کسی ایسے رہنما کا اشارہ نہیں تھا جو پائیدار امن، فلسطینی وقار یا گلوبل ساؤتھ کی لیڈرشپ کے لیے کوشاں ہو۔
بھارت نے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو فوری طور پر قبول نہیں کیا اور ہتھیاروں کی پابندی کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے ہتھیاروں کے سودوں پر نظرثانی کرنے سے پہلے اپنے قومی مفاد کو مدنظر رکھے گا۔
مختصراً یہ کہ، اس جنگ میں بھارت کی عالمی حیثیت بری طرح متاثر ہوگئی ہے۔ شیکھر گپتا، جو کئی برسوں سے مودی کی مدح سرائی میں مصروف تھے، بھی اب بتا رہے ہیں کہ بھارت اپنی بڑائی کے اس نشے میں دھت تھا۔ اس نے مان لیا تھا کہ وہ ایک ابھرتی ہوئی اور ناگزیر عالمی طاقت ہے اور اسی خمار میں اس کے رہنما پچھلی ایک دہائی سے جی رہے تھے اور یہی سبق اپنی قوم کو میڈیا کے ذریعے پڑھا رہے تھے۔
(بحوالہ: ’’دی وائر اردو ڈاٹ کام‘‘۔ ۱۱؍مارچ ۲۰۲۶ء)

تازہ مضامین

’ہم قلت کی دنیا میں جی رہے ہیں‘، یہ الفاظ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کے ہیں جو انہوں نے ۲۰۲۴ء میں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ادا کیے تھے۔انہوں نے خبردار کیا تھا کہ

اسرائیل نے ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے نئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے ذریعے مہلک کارروائیاں تیز کردی ہیں۔امریکی اور اسرائیلی فوجی کمانڈر جب ایران کے خلاف جنگی حکمتِ عملی تیار

جنگ کسی کو کچھ نہیں دیتی۔ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے، نقصان دونوں یا تمام ہی فریقوں کا ہوتا ہے۔ ہر جنگ اپنے پیچھے تباہی چھوڑ جاتی ہے۔ جن اقوام نے برسوں کی محنت کے

بریگیڈیئر جنرل محمد باقر ذوالقدر کو ممتاز ایرانی رہنما علی لاریجانی کی جگہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔علی لاریجانی حال ہی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس وقت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر حملے بند کرنے کے لیے ایرانی قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں جبکہ ایران اس کی تردید کررہا ہے۔تاہم ایک بات واضح ہے

وکٹورین عہد کے ایڈمرل سرجیکی فشر نے کہا تھا کہ پانچ اسٹریٹجک چابیاں ایسی ہیں جو دنیا کو مقفل کردیتی ہیں۔ اُن کا اشارہ اُن نازک اور حساس مقامات کی طرف تھا جو بڑی کاروباری