ایپسٹین نے مالداروں کو کیسے لُبھایا؟

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس یہی خوف اُسے زیادہ سے زیادہ اور عجیب و غریب تعلقات کی پگنڈنڈیوں پر رواں رہنے پر اُکساتا رہتا ہے۔ اِس کی ایک واضح مثال ایپسٹین ہے۔
جیفرے ایپسٹین نے ایک ایسا جزیرہ بسایا جس میں دنیا بھر کی قبیح سرگرمیاں جاری رہیں۔ انتہائی مالدار طبقے کے لوگ اِس جزیرے کی سیر کرنے والوں میں شامل تھے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا تھا جس نے مالداروں کو اِس طرف متوجہ کیا۔ ایپسٹین نے ایک خاص معاملے سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ وہ انتہائی متمول افراد کی ایک بڑی نفسیاتی کمزوری کو اچھی طرح جانتا تھا اور اُسی کے ذریعے انہیں قابو میں کیا۔ وہ جانتا تھا کہ جو چند افراد پورے معاشرے کی دولت پر فیصلہ کن حیثیت میں قابض ہیں اُن میں یہ احساس بہت شدت سے پایا جاتا ہے کہ غیر معمولی پیمانے پر دولت کے حصول کے نتیجے میں بھی اُن میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔ یہی سبب ہے کہ بہت بڑے پیمانے پر پائی جانے والی ذاتی دولت انہیں عجیب و غریب اور انتہائی قبیح حرکتوں کے ارتکاب پر اُکساتی ہے۔


کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس یہی خوف اُسے زیادہ سے زیادہ اور عجیب و غریب تعلقات کی پگنڈنڈیوں پر رواں رہنے پر اُکساتا رہتا ہے۔ اِس کی ایک واضح مثال ایپسٹین ہے۔
جیفرے ایپسٹین نے ایک ایسا جزیرہ بسایا جس میں دنیا بھر کی قبیح سرگرمیاں جاری رہیں۔ انتہائی مالدار طبقے کے لوگ اِس جزیرے کی سیر کرنے والوں میں شامل تھے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا تھا جس نے مالداروں کو اِس طرف متوجہ کیا۔ ایپسٹین نے ایک خاص معاملے سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ وہ انتہائی متمول افراد کی ایک بڑی نفسیاتی کمزوری کو اچھی طرح جانتا تھا اور اُسی کے ذریعے انہیں قابو میں کیا۔ وہ جانتا تھا کہ جو چند افراد پورے معاشرے کی دولت پر فیصلہ کن حیثیت میں قابض ہیں اُن میں یہ احساس بہت شدت سے پایا جاتا ہے کہ غیر معمولی پیمانے پر دولت کے حصول کے نتیجے میں بھی اُن میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔ یہی سبب ہے کہ بہت بڑے پیمانے پر پائی جانے والی ذاتی دولت انہیں عجیب و غریب اور انتہائی قبیح حرکتوں کے ارتکاب پر اُکساتی ہے۔

یہ بات بہت سوں کو بہت عجیب لگتی ہے کہ ایپسٹین جیسا کالج ڈراپ آؤٹ کس طور دنیا کے طاقتور ترین مالدار افراد کو اپنے دام میں پھنسانے میں کامیاب ہوسکا۔ اُس کی حقیقی صلاحیت کی نوعیت کیا تھی؟ کیا وہ بلیک میل کیا کرتا تھا؟ کیا وہ سماجی حیثیت سے متعلق کج فکری کو اپنے اہم ہتھیار کے طور پر بروئے کار لاتا تھا؟ ساری دنیا جانتی ہے کہ جس جزیرے پر ایپسٹین نے اپنی الگ دنیا بسائی تھی وہاں شدید غیر اخلاقی سرگرمیاں عام تھیں۔ اُس نے بہت سے لڑکیوں اور عورتوں کو کسی نہ کسی طور لُبھا اور رِجھاکر اپنی دنیا کا حصہ بنایا۔ ہوسکتا ہے کہ دنیا کو یہ بات درست محسوس ہوتی ہو کہ ایپسٹین نے حیا باختہ عورتوں کے ذریعے طاقتور شخصیات کو اپنے بس میں یا اپنی دنیا میں رہنے کا عادی کیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ ایپسٹین نے بہت سی عورتوں سے جنسی مراسم قائم کیے اور طاقتور شخصیات کو اِس حوالے سے بہت آگے جانے کی گنجائش فراہم کی مگر وہ سب سے زیادہ توجہ اِس بات پر دیتا تھا کہ انتہائی طاقتور شخصیات کا ایک بڑا نیٹ ورک تیار کرے۔ وہ اِس نیٹ ورک کے ذریعے مزید بہت کچھ کرنا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اُس کا قائم کردہ نیٹ ورک عالمی معاملات پر فیصلہ کن حیثیت میں اثر انداز ہو۔
نیو یارک ٹائمز نے ایپسٹین کے مالیاتی معاملات کے سمندر میں گہری ڈبکیاں لگاکر بہت کچھ سطح پر لانے کی کوشش کی ہے۔ جو کچھ بھی نیو یارک ٹائمز نے دریافت کیا ہے اُس کا عمیق جائزہ لینے پر بھی یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ سب کچھ محض جنسی بے راہ روی اور کم عمر بچیوں سے جنسی تلذذ کے لیے تھا۔ معاملات کچھ اور ہی تھے۔ یہ شدید نوعیت کی جنسی بے راہ روی تو اُن بڑے معاملات کا محض ایک حصہ تھے۔
جن طاقتور افراد کو ایپسٹین نے اپنے جال میں پھانسا، نیٹ ورک کا حصہ بنایا اُن میں اینڈریو ماؤنٹ بیٹن وِنڈسر بھی شامل تھا جسے گرفتار کیا جاچکا ہے۔ اینڈریو برطانوی تختِ شاہی کی دوڑ میں آٹھویں نمبر پر ہے۔ وہ کل تک اپنے بارے میں بتانے کے حوالے سے بہت زیادہ جھجھکتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ ایپسٹین کا طریقِ واردات ایسا تھا کہ وہ ایسی اہم شخصیات کو زیادہ اہمیت دیتا تھا جو کسی کے زیرِسایہ ہونے کے باعث خود ابھر نہیں پاتی تھیں۔ اِن میں خطاب والے تو تھے مگر وہ خطاب اُن کے کام نہیں آرہے تھے۔ اینڈریو کو اپنے بھائی کے زیرِسایہ رہنا پڑا تھا۔ ایپسٹین نے بہت چالاکی سے اُسے یقین دلایا کہ اگر وہ اُس کے گروہ میں شامل ہو جائے تو اپنی الگ اور منفرد حیثیت کو عمدگی سے منوانے میں کامیاب رہے گا۔
ایپسٹین نے انتہائی مالدار اور بااثر شخصیات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کیں اور انہیں وہ سب کچھ فراہم کرنے کی کوشش کی جس کے لیے وہ ترسے ہوئے تھے۔ معاملہ غیر اخلاقی سرگرمیوں سے بہت آگے کا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اختیار کے ترسے ہوئے لوگوں کو بتائے اور سمجھائے کہ اختیار کیا ہوتا ہے اور اِس مقصد کے حصول کے لیے اُس نے ایسے ترسے ہوئے لوگوں کو سبز باغ دکھائے، انہیں یقین دلایا کہ وہ جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں وہ اُس کے جزیرے پر کرسکیں گے، کوئی ٹوکنے اور روکنے والا نہ ہوگا۔
ایپسٹین کے جزیرے کی سیر کرنے والوں میں ایسے بہت سے لوگ تھے جو دنیا کی نظر میں بہت سنجیدہ، صاف ستھرے اور باعزت تھے۔ لوگ اُن کے بارے میں کسی ایسی ویسی سرگرمی میں ملوث ہونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
ایپسٹین انتہا طاقتور شخصیات کی کمزوریوں سے واقف تھا اور اُن سے بخوبی استفادہ کرنا بھی جانتا تھا۔ جب اُسے کسی مصیبت کا سامنا ہوتا تھا تو انہی طاقتور ترین افراد ہی سے تحفظ بھی حاصل کرتا تھا۔ وہ اِس بات کو بہت اچھی طرح سمجھ چکا تھا کہ جن طاقتور ترین لوگوں کا اُس نے نیٹ ورک بنایا ہے وہ اپنے آپ کو اُس سے زیادہ کا مستحق سمجھتے تھے جو کچھ اُن کے پاس تھا۔ بس اِسی نکتے یا خواہش کا وہ بھرپور فائدہ اٹھاتا تھا۔
ایپسٹین کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا تھا جو اپنی چکنی چُپڑی باتوں سے اُن سب کو اپنے جال میں پھانس سکتا تھا جو اپنی غیر معمولی حیثیت سے کبھی مطمئن نہیں ہوتے اور مزید بہت کچھ پانے اور کرنے کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔ ہر دور میں انتہائی طاقتور اور مالدار ترین افراد کے ایسے گروہ رہے ہیں جو دنیا کو چلانے کے خبط میں مبتلا رہے ہیں۔ ایپسٹین بھی ایک ایسا ہی گروہ یا کلب قائم کرنا چاہتا تھا اور اِس میں کسی حد تک تو کامیاب بھی ہوچکا تھا۔ ایپسٹین کے حوالے سے حقائق کے سامنے آنے میں اِتنا زیادہ وقت اِس لیے لگا کہ جن پردہ نشینوں کے نام اِس میں تھے وہ معاملات کو دبا ہی رہنے دینا چاہتے تھے۔
آج دنیا ایپسٹین کے حوالے سے جو کچھ بھی جانتی ہے اُس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اُس کی بسائی ہوئی نام نہاد ’’بہشت‘‘ کا بنیادی مقصد محض اِتنا نہیں تھا کہ طاقتور ترین شخصیات وہاں غیر اخلاقی سرگرمیوں میں مبتلا ہوں بلکہ ساتھ ہی ساتھ وہ ایک دوسرے سے ربط بھی بڑھائیں اور مل کر ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل دیں جس کے ذریعے وسیع تر پیمانے کے اقدامات کی راہ ہموار ہو، جنگ اور امن کے فیصلے ہوں، ریاستوں کو کمزور کرنے، ہتھیانے، شکست و ریخت سے دوچار کرنے کے اقدامات کی راہ ہموار کی جائے۔ جن کے ہاتھوں میں لاکھوں، کروڑوں لوگوں کی قسمت کے فیصلے دکھائی دیتے ہیں اُن کی سوچ کو سمجھنا آسان نہیں۔ اُن کی خواہشات الگ ہوتی ہیں اور اُن خواہشات کی تکمیل کے تقاضے بھی بہت مختلف ہوتے ہیں۔
(مترجم: ابو صباحت)
“How did Epstein ensnare so many rich men? By knowing they were entitled and insecure”. (“The Guardian”. February 25, 2026)

تازہ مضامین

’ہم قلت کی دنیا میں جی رہے ہیں‘، یہ الفاظ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کے ہیں جو انہوں نے ۲۰۲۴ء میں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ادا کیے تھے۔انہوں نے خبردار کیا تھا کہ

اسرائیل نے ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے نئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے ذریعے مہلک کارروائیاں تیز کردی ہیں۔امریکی اور اسرائیلی فوجی کمانڈر جب ایران کے خلاف جنگی حکمتِ عملی تیار

جنگ کسی کو کچھ نہیں دیتی۔ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے، نقصان دونوں یا تمام ہی فریقوں کا ہوتا ہے۔ ہر جنگ اپنے پیچھے تباہی چھوڑ جاتی ہے۔ جن اقوام نے برسوں کی محنت کے

بریگیڈیئر جنرل محمد باقر ذوالقدر کو ممتاز ایرانی رہنما علی لاریجانی کی جگہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔علی لاریجانی حال ہی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس وقت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر حملے بند کرنے کے لیے ایرانی قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں جبکہ ایران اس کی تردید کررہا ہے۔تاہم ایک بات واضح ہے

گزشتہ ۲۵ فروری کی شام جب یروشلم کے پرانے شہر کی فضاؤں میں مسجد اقصیٰ کے بلند پایہ میناروں سے اذان کی آواز کے ساتھ افطار کا اعلان ہورہا تھا، تو اس سے چند سو