ٹرمپ بھارت کو کیوں بخش نہیں رہے؟

امریکا نہیں چاہتا کہ رُوس سے تیل خریدا جائے۔ جو مُمالک روس سے تیل خریدتے ہیں، اُنہیں امریکا اور اُس کے چند اتحادیوں کی ناراضی مَول لینا پڑتی ہے۔ یوکرین جنگ کے نتیجے میں روس کو مغربی طاقتوں کی ناراضی جَھیلنا پڑ رہی ہے۔ اُس کے دوستوں کو بھی مغرب کی طرف سے ناراضی کا سامنا رہا ہے۔

امریکی قیادت بھارت سے اِس بات پر ناراض ہے کہ وہ روس سے سَستا خام تیل خرید رہا ہے۔ دوسری طرف چِین بھی روس سے بہت بڑے پیمانے پر خام تیل خرید رہا ہے مگر امریکا اِس معاملے میں چین سے زیادہ ناراض نہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ تعلقات بہتر بنانے کی راہ پر گامزن ہے۔ ’ٹیرف جنگ‘ کے باوجود امریکا چاہتا ہے کہ چین سے معاملات زیادہ نہ بگاڑے جائیں یا زیادہ نہ بگڑنے دیے جائیں۔

ایسا کیوں ہے؟ کیا امریکا کو صرف اپنے مفادات عزیز ہیں؟ یقینا ایسا ہی ہے۔ ہر ملک اپنے مفادات کو عزیز رکھتا ہے مگر امریکا اِس معاملے میں کئی قدم آگے جاکر سوچتا ہے اور وہی کرتا ہے جس کے نتیجے میں اُس کے اپنے مفادات کو تحفظ ملتا ہو۔ پھر چاہے فریقِ ثانی کا بیڑا غرق ہی کیوں نہ ہوجائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ روس پر نئی پابندیاں تھوپیں گے اور جو ممالک روس سے خام تیل خریدیں گے، اُن کے خلاف بھی بہت بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی جائیں گی۔ ان پابندیوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ روس پر دباؤ بڑھے اور وہ یوکرین میں جنگ روک دے۔

صدر ٹرمپ نے اگست کے دوران مزید ۲۵ فیصد ٹیرف عائد کیا ہے جس کے بعد بھارت کی مصنوعات پر ٹیرف بڑھ کر ۵۰ فیصد ہوگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارتی مصنوعات اب امریکیوں کو زیادہ مہنگی پڑیں گی۔ اِس کے نتیجے میں بھارت کی برآمدات کو جھٹکا لگے گا۔ یہ اِقدام روس سے خام تیل خریدنے کی بنیاد پر ہے جبکہ چین کے خلاف ایسا کوئی خصوصی اقدام کرنے سے گُریز کیا گیا ہے جبکہ وہ بھی روس سے بہت بڑے پیمانے پر خام تیل خرید رہا ہے۔

ایسا کیوں ہے کہ صدر ٹرمپ اور اُن کے ساتھی روس کا خام تیل خریدنے پر بھارت کو تو پابندیوں میں جَکڑ رہے ہیں مگر چین کے خلاف جانے سے واضح طور پر گُریزاں ہیں؟ ایک اہم سوال یہ ہے کہ روس سے خام تیل کون کون خرید رہا ہے اور اِس عمل کو روکنے کے لیے صدر ٹرمپ کیا کچھ کرسکتے ہیں۔

روسی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار چین ہے جس نے گزشتہ برس ۱۰؍کروڑ ۹۰ لاکھ ٹن خام تیل خریدا۔ یہ مقدار چین کی توانائی کی مجموعی درآمدات کا ۲۰ فیصد ہے۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چِینی معیشت کے لیے اِس وقت روسی خام تیل کس قدر اہم ہے۔

۲۰۲۴ء کے دوران بھارت بھی روسی تیل کی خریداری میں پیچھے نہیں رہا۔ اُس نے ۸ کروڑ ۸۰ لاکھ ٹن روسی خام تیل خریدا۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارتی معیشت کے لیے اِس وقت روس کا سَستا خام تیل کس قدر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

روسی خام تیل چینی معیشت کے لیے بہت اہم ہے اور چین کا روس سے اِتنے بڑے پیمانے پر خام تیل خریدنا یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یوکرین سے جنگ کے دوران روسی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے اِزالے کے لیے چین کس قدر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ روس کو زیادہ سے زیادہ مالی وسائل کی ضرورت ہے۔ وہ خام تیل، گیس اور معدنیات کی فروخت بڑھارہا ہے تاکہ قومی خزانہ بھرا رہے اور جنگ جاری رکھنے میں مدد مِل سکے۔ یہ جنگ اَب چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہے۔ ساڑھے تین سال قبل شروع کی جانے والی جنگ میں روس کو اب تک غیرمعمولی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کبھی کبھی تو واضح طور پر محسوس ہوا کہ اب یہ جنگ روس بس ہار ہی جائے گا مگر پھر کچھ ایسا ہوا جس نے روس کو مضبوط کیا اور جنگ جاری رہی۔

امریکا میں دونوں بڑی جماعتوں کے قانون ساز ایک مدّت سے ایسا مسودۂ قانون لانے کی بھرپور تیاری کرتے رہے ہیں جس کا بنیادی مقصد صرف یہ ہے کہ کسی نہ کسی طور ہر اُس ملک کو نشانہ بنایا جائے جو روس سے خام تیل اور گیس خرید رہا ہے۔

یہ بِل صدر ٹرمپ کو یہ اختیار دے گا کہ اگر کوئی ملک روسی تیل خریدنے سے باز نہ آئے تو اُس پر ۵۰۰ فیصد تک ٹیرف عائد کردیا جائے۔ امریکی سینیٹرز اِس بِل کے لیے صدر ٹرمپ کی طرف سے گرین سگنل کا انتظار کرتے رہے ہیں۔

آخر کیا سبب ہے کہ صدر ٹرمپ چین کے خلاف غیرمعمولی ٹیرف کی راہ پر گامزن نہیں ہو رہے؟ ایسی کون سی بات ہے جو اُنہیں چین کے خلاف فیصلہ کن قسم کے اقدام سے روک رہی ہے؟

جب ’فاکس نیوز‘ نے ۱۵؍اگست کو الاسکا میں سربراہ ملاقات کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی طرف سے یوکرین جنگ میں سیزفائر پر رضامندی سے صاف انکار کے بارے میں پوچھا تو ٹرمپ نے کہا کہ ابھی میں اِس حوالے سے کچھ بھی نہیں سوچ رہا یعنی روس کی طرف سے جنگ روکنے سے صاف انکار کے باوجود امریکی صدر روس اور چین کے درمیان جاری اقتصادی اشتراکِ عمل کی روک تھام کے لیے کچھ بھی کرنے سے صاف گریز کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں (یعنی نہیں کر رہے ہیں) وہ وسیع تر امریکی مفادات کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روس سے خام تیل کی خریداری جاری رکھنے پر چین کے خلاف کسی بھی بڑے اقدام کے لیے دو تین ہفتے تو سوچنا ہی پڑے گا اور اِس کے بعد ہی کچھ طے کیا جاسکے گا۔

سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک اُمور کے تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ امریکی صدر کچھ وقت چاہتے ہیں تاکہ چین سے وسیع تر معاشی مذاکرات کامیاب ہوں اور رَیئر اَرتھ کہلانے والی معدنیات سے متعلق کوئی جامع معاہدہ طے پاجائے۔

اس وقت دنیا بھر میں ریئر ارتھ منرلز کا غَلغلہ ہے۔ چین دنیا بھر سے یہ معدنیات خرید رہا ہے۔ بھارت بھی اس حوالے سے بہت فکرمند دکھائی دے رہا ہے۔ یہ معدنیات جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کی جانے والی اشیا کی تیاری میں غیرمعمولی کردار کی حامل ہیں۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں پوری دنیا بھرپور مسابقت کر رہی ہے۔ ایسے میں اہم ترین معدنیات کا بہت بڑے پیمانے پر موجود ہونا لازم ہے۔ چین اِس شعبے میں اپنی برتری قائم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے اور ایسا کرنے میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہے۔

ریئر ارتھ ایسی ۱۷؍معدنیات ہیں جو بہت سی مینوفیکچرنگ انڈسٹریز کے لیے انتہائی بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان صنعتوں کا تعلق آٹو پارٹس سے ملٹری ٹیکنالوجی تک سے ہے۔ چین ایک طویل مدّت سے دنیا بھر میں بہت بڑے پیمانے پر کان کَنی کے حُقوق خرید رہا ہے۔ افریقا سے معدنیات نکالنے کے حوالے سے اُس کی سرمایہ کاری بہت زیادہ ہے۔ چین نے افریقا سے ریئر ارتھ مِنرلز بہت بڑے پیمانے پر حاصل کی ہیں اور اُن کی بنیاد پر اپنی صنعتی بنیاد کو قابلِ رشک حد تک توانا کردیا ہے۔

امریکا میں بہت سی صنعتیں اب چین سے منگوائی جانے والی معدنیات پر منحصر ہیں۔ امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی بات چیت میں معدنیات کا موضوع کَلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

روسی تیل کی خریداری پر بھارت کے خلاف اقدامات اور چین کو رعایت دینے کی پشت پر ایک بڑی منطَق یہ ہے کہ امریکی صدر اِس مرحلے پر چین سے کوئی بڑا تجارتی مناقشہ نہیں چاہتے۔ امریکا بھر میں ریٹیلرز اور ہول سیلرز کرسمس کے حوالے سے چین سے بہت کچھ منگوا رہے ہیں۔ امریکا میں کرسمس پر جو کچھ بھی فروخت ہوتا ہے، اُس کا نصف سے زیادہ تو چین ہی سے آتا ہے۔ اِس معاملے میں چینی صنعتی ادارے بھی خاص تیاری کرتے ہیں۔ اُنہیں آرڈر کم و بیش پانچ ماہ قبل مِل جاتے ہیں تاکہ مال کرسمس سے کم و بیش ایک ماہ قبل تک بھیج دیا جائے۔ اِس وقت چین بھر میں ہزاروں بڑے کارخانے امریکا اور یورپ میں کرسمس کے لیے مال تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ چین بھی نہیں چاہے گا کہ اِس مرحلے پر امریکا کی طرف سے کسی نوعیت کی تادیبی کارروائی ہو۔ یہی سبب ہے کہ وہ بھی چند ایک معاملات میں امریکا کو رعایت دے رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے چند ہفتوں کے دوران بھرپور کوشش کی ہے کہ چین سے تجارت کے معاملے میں کوئی بڑا تنازع کھڑا نہ ہو۔ ہاں، جہاں ضرورت پڑتی ہے وہاں گنجائش نکال کر وہ چین کے خلاف کوئی نہ کوئی اِقدام ضرور کرتے ہیں۔ چین کو سیمی کنڈکٹرز کی ضرورت بڑے پیمانے پر ہے۔ امریکا سیمی کنڈکٹرز کا بڑا سپلائر ہے۔ چین کو اس معاملے میں امریکا پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اگست کے دوران صدر ٹرمپ نے چین کو سیمی کنڈکٹرز کی سپلائی محدود کرنے کے حوالے سے خصوصی اقدامات کیے۔ چینی حکومت بھی اچھی طرح جانتی ہے کہ تجارتی جنگ میں ایسا تو ہوتا ہی رہتا ہے۔ وہ اِس کھیل کے اصول اور طریقے سمجھتی ہے، اِس لیے امریکا کے کسی بھی تجارتی اقدام پر محض جذبات میں ڈوبا ردِعمل نہیں دِکھاتی بلکہ جہاں تک ہوسکتا ہے، جذبات قابو میں رکھ کر تعقّل پر مبنی فیصلے کرتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ۱۱؍اگست کو امریکی کمپنی این وڈیا کو اجازت دی کہ چین کو جدید ترین چپس فراہم کرے۔ اس چپس کی فروخت کا ۱۵؍فیصد امریکی خزانے میں جائے گا۔ این وڈیا اِس پر بھی راضی ہے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے کچھ مدت پہلے این وڈیا کو چپس چین کو فراہم کرنے سے روک دیا تھا۔

’سی این بی سی‘ سے گفتگو کے دوران امریکا کے وزیرِخزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ چین کے خلاف ثانوی درجے کے اقتصادی اقدامات کی گنجائش اس لیے کم رہ گئی ہے کہ اُس نے روس سے خام تیل کی ایک بڑی کنسائنمنٹ یوکرین جنگ سے پہلے حاصل کی تھی۔ ہاں، اب روسی تیل کی خریداری کے معاملے میں چین خاصا آگے بڑھ چکا ہے مگر ایسا نہیں ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اِس طرف سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ تمام معاملات کا جائزہ لیا جارہا ہے اور تمام ممکنہ عواقب پر غور کرکے ہی کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔ چین بہت سے ملکوں اور ذرائع سے خام تیل خریدتا ہے۔ اِس پورے معاملے کو نہایت باریکی سے دیکھنا ہوگا۔ اسکاٹ بیسنٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس سے خام تیل کی خریداری میں بھارت اور چین کے طریقِ کار میں بہت فرق ہے۔ بھارت جس طور روسی تیل خرید رہا ہے، چین اُس سے مختلف طریق اختیار کر رہا ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ چین کی حکومت یوکرین جنگ سے پہلے بھی روس سے خام تیل خرید رہی تھی جبکہ بھارت نے موقع غنیمت جان کر زیادہ منافع کے لیے ایسا کرنا شروع کیا ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرین جنگ سے قبل بھارت روس سے اپنی ضرورت کا صرف ایک فیصد خام تیل خرید رہا تھا۔ اب وہ کم وبیش ۴۲ فیصد خرید رہا ہے۔ اِس سے صاف پتا چلتا ہے کہ بھارتی قیادت بہتی گنگا میں ہاتھ دَھو رہی ہے۔ امریکی وزیرِخزانہ نے الزام لگایا کہ بھارت بہت بڑے پیمانے پر روسی خام تیل خرید کر اُسے صاف کرکے بلند نرخ پر فروخت کر رہا ہے اور یوں نفع خَوری میں مُبتلا ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ بھارت میں جو کاروباری گھرانے روسی خام تیل بڑے پیمانے پر خرید رہے ہیں، اُنہوں نے اب تک کم و بیش ۱۶؍ارب ڈالر کا اضافی منافع کمایا ہے۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ روس سے خام تیل خریدنے میں بھارت اِتنی زیادہ دلچسپی کیوں لے رہا ہے۔ سوال صرف نفع خوری کا ہے۔ بھارتی عوام کو اِس کا کچھ فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ اُنہیں پٹرول اور ڈیزل اب بھی پُرانے نرخوں ہی پر فروخت کیا جارہا ہے۔

امریکی ایوانِ صدر میں تجارت کے مشیر پیٹر نیوارو نے بھی بھارت پر یوکرین جنگ میں روس کی مالی مدد کا الزام عائد کیا ہے۔ اگست کے اوائل میں وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن مِلر نے کہا تھا کہ بھارت کی طرف سے روس سے بہت بڑے پیمانے پر خام تیل خریدنا قابلِ قبول نہیں ہے۔ اُن کا استدلال تھا کہ نئی دہلی بالواسطہ طور پر ماسکو کے ہاتھ مضبوط کر رہا ہے تاکہ وہ یوکرین میں جنگ جاری رکھ سکے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی بھارت کی طرف چین کے خلاف اقدامات کے حوالے سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ۱۲؍اگست کو جب اُن سے پوچھا گیا ہے کہ بھارت کو تو روس سے خام تیل کی خریداری پر ۲۵ فیصد اضافی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑا ہے، کیا واشنگٹن ایسا ہی اقدام چین کے خلاف بھی کرے گا تو اُنہوں نے کچھ کہنے سے صاف گُریز کیا۔

جے ڈی وینس نے بعد میں کہا کہ بھارت کے خلاف تو اقدامات کیے گئے ہیں مگر چین کا معاملہ بہت مختلف ہے کیونکہ چین کے ساتھ بہت سے درجوں اور مدوں میں تجارتی تعلقات ہیں۔ اگر روسی تیل کی خریداری پر چین کے خلاف اقدامات کیے گئے تو بہت سے معاملات متاثر ہوں گے جن کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں۔ یہی سبب ہے کہ چین کے خلاف کوئی بڑا اقدام کرنے سے صدر ٹرمپ کو بہت سوچنا پڑے گا، بہت سے معاملات کو ذہن نشین رکھنا پڑے گا تاکہ مجموعی طور پر پوری معیشت متاثر نہ ہو۔

امریکی نائب صدر کی بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکا ہو یا کوئی اور طاقت، جب اپنے مفادات کی بات آتی ہے تو جُھکنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی جاتی۔ سب کو اپنے بنیادی مفادات زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔ یہ مسابقت کی دنیا ہے اور سب کمانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی اقدام محض جذبات کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی خبردار کردیا تھا کہ اگر روسی خام تیل کی خریداری اور چین میں اُسے صاف کرنے کی بنیاد پر اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں تو امریکا میں ایندھن اور توانائی کی قیمت میں غیرمعمولی نوعیت کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

’فاکس نیوز‘ سے انٹرویو میں مارک روبیو نے کہا کہ چین کے خلاف اقدامات سے معاملات بہت بگڑ سکتے ہیں۔ اگر چین نے روس سے سستا خام تیل خرید کر صاف کیا اور پھر مارکیٹ میں لے آیا تو دنیا بھر میں قیمتیں شدید متاثر ہوں گی اور امریکا سمیت بہت سے ملکوں میں ایندھن اور توانائی کے نِرخ ڈانوا ڈول ہوجائیں گے۔ ہم ایسا کچھ نہیں چاہتے کیونکہ چین کے خلاف جانے سے کئی معاملات بِلاسبب بگڑ جائیں گے۔

دوسری طرف چین ڈَٹا ہوا ہے۔ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ روس سے چین کی تجارت پوری کی پوری بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔ امریکا یا کوئی اور ملک چین پر یہ الزام عائد نہیں کرسکتا کہ چینی حکومت بین الاقوامی قوانین اور اُصولوں کو نظرانداز کر رہی ہے۔

اب ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ بلند ٹیرف سے امریکا اور چین کی معیشت کو کس طور فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ یوکرین میں سیزفائر ہونے سے روس پر اقتصادی پابندیاں گھٹیں گی۔ اِس کے نتیجے میں انٹرنیشنل ٹریڈ سسٹم میں بہتری آئے گی۔ اِس سے چین کی معیشت کو بڑھاوا ملے گا۔ چینی حکومت بھی چاہے گی کہ یوکرین جنگ یا تو ختم ہو یا پھر معقول مدّت کے لیے رُک جائے۔

گزشتہ ماہ چینی معیشت میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اشیا ساز کارخانوں کی سرگرمیاں ماند پڑیں۔ جون کے مقابلے میں سرمایہ کاری کا گراف بھی گرا اور خُوردہ فَروشی کی سطح بھی نیچے آئی۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ امریکی صدر نے چین پر اضافی ٹیرف عائد نہیں کیا تب بھی دوسرے ملکوں پر اضافی ٹیرف عائد کیے جانے سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت خاصی متاثر ہوئی۔ چین میں نوجوانوں کی بے روزگاری بھی گیارہ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ شہروں میں ۱۶ سے ۲۴ سال کے ایج گروپ میں بے روزگاری کی شرح ۱۷؍فیصد سے زیادہ ہے۔ جون میں یہ شرح ۵ء۱۴؍فیصد تھی۔

ہانگ کانگ کے ادارے Natixis میں ایشیا و بحرالکاہل کے معاشی اُمور کے شعبے کی سربراہ الیسیا گارشیا ہیریرو نے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ چینی معیشت پر امریکی اقدامات کے منفی اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ چینی معیشت مجموعی طور پر ایسی نہیں کہ بالکل مطمئن ہوکر بیٹھا جائے۔ الیسیا ہیریرو کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ چین کے کاروباری ادارے اور بینک آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ وہ ثانوی نوعیت کے اقتصادی اقدامات (پابندیوں) کے حوالے سے بھرپور تیاریوں میں مصروف رہے ہیں اور یہ سب کچھ جوبائیڈن کے دور میں شروع ہوگیا تھا۔ چینی معیشت کو مضبوط رکھنے سے متعلق اقدامات بہت پہلے سے کیے جارہے ہیں، تیاریاں پوری ہیں تاکہ جھٹکا کم سے کم لگے۔

چین نے تجارت میں زیادہ سے زیادہ تنوّع یقینی بنانے کی بھرپور تیاری کی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اسٹریٹجک پروڈکٹس اپنے ہاں بنانے پر خاص توجہ دے رہا ہے تاکہ دفاعی معاملات میں دوسروں پر زیادہ انحصار نہ کرنا پڑے۔ ایسے میں چینی حکومت کو اقتصادی پابندیوں کے ذریعے فوری طور پر جھکا دینا کسی بھی ملک کے لیے آسان نہیں ہوسکتا، امریکا کے لیے بھی نہیں۔ امریکا کے لیے چین کی برآمدات بہت زیادہ ہیں۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ نے اقتصادی پابندیوں کی راہ پر گامزن ہونے کی کوشش کی تو امریکا میں عام آدمی کے لیے مہنگائی بڑھ جائے گی کیونکہ روزمرہ استعمال کی جو اشیا چین سے درآمد کی جاتی ہیں، اُن کی قیمت بہت بڑھ جائے گی۔ گزشتہ برس چین سے تجارت میں امریکی خسارہ ۲۹۵؍ارب ۴۰ کروڑ ڈالر تھا۔ یہ سطح ۲۰۲۳ء کے مقابلے میں ۸ء۵ فیصد بلند تر ہے۔

اِس وقت امریکا اور چین کی تجارت کہاں کھڑی ہے۔ یہ اہم سوال ہے کیونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر اِس قدر اِنحصار کرتے ہیں کہ تجارتی محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ۱۲؍اگست کو امریکا اور چین نے ٹیرف عائد نہ کرنے سے متعلق سمجھوتے میں مزید ۹۰ دن کی توسیع کردی تاکہ مکمل تجارتی جنگ کو ٹالا جاسکے۔ اب چین پر زیادہ ٹیرف عائد کرنے سے متعلق امریکی اقدامات پر ۱۰؍نومبر ۲۰۲۵ء تک pause لگ گیا ہے۔ اس سے قبل دونوں ملکوں نے ۱۱؍مئی کو ایک دوسرے پر ٹیرف عائد نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Why is the US sparing China, but not India, for importing Russian oil?

(“Aljazeera”. Aug 20, 2025)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں