شام: دروزیوں کا تحفظ، اسرائیل کا کھوکھلا عزم

بشارالاسد کے بعد کا شام بہت بدلا ہوا ہے۔ اسرائیل کو اپنے مفادات کی فکر لاحق ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طور شام کو اب بھی غیرمستحکم رکھا جائے تاکہ وہاں قائم ہونے والی نئی حکومت کچھ بھی ایسا نہ کرسکے جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج اور عوام کے لیے الجھنیں پیدا ہوں۔

اسرائیل کی خواہش ہے کہ شام کے حصے بخرے ہوں۔ اِس کے نتیجے میں علاقائی سطح پر انتشار بڑھے گا۔ مگر امریکا نہیں چاہتا کہ شام کے ٹکڑے ہوں۔ ایسی صورت میں اُس کے اپنے مفادات کو بھی کاری ضرب لگ سکتی ہے۔ شام کے حصے بخرے کرنے کی صورت میں غیرمعمولی شدت کے حامل معاشی اور معاشرتی اثرات مرتب ہوں گے۔

جنوبی شام میں جو کچھ ہو رہا ہے، اُس سے یکسر غیرمتعلق رہنا ممکن نہیں، بالخصوص صوبۂ سویدا کے حوالے سے۔ یہ تبدیلیاں ایسے وقت رونما ہو رہی ہیں جب شام کی چودہ سالہ خانہ جنگی اور اُس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی نقل مکانی و دربدری کے بعد سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور امریکا کے درمیان مثالی نوعیت کا اتفاقِ رائے اُبھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ گزشتہ دسمبر میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی بار یہ امید پیدا ہوئی کہ صدر احمد الشرع کے دور میں شام علاقائی استحکام کا نیا باب شروع کرے گا اور تعمیرِنو کے مرحلے سے گزرے گا۔ خیر، جو کوئی بھی یہ سمجھتا ہے کہ یہ تبدیلی آسان اور رواں ہوگی، وہ غلطی پر ہے۔ شام میں چودہ سالہ خانہ جنگی نے بہت گہرے زخم لگائے ہیں، خاصے بدنما داغ چھوڑے ہیں۔

بشارالاسد کے دورِ حکومت میں لاکھوں شامی باشندوں نے انتہائی نوعیت کے مظالم کا سامنا کیا۔ بشار انتظامیہ کی بقا کا صرف ایک طریقہ تھا۔۔۔ شدید جبر کے تحت لوگوں کو کنٹرول کیا جائے، مزاحمت کی ہر کوشش ناکام بنادی جائے، مخالفت میں اُٹھنے والی ہر آواز دبا دی جائے۔ بشار انتظامیہ کا یہ ورثہ اب پھر سَر اُٹھا رہا ہے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی برقرار رکھ کر ہی بشار انتظامیہ اپنی بقا کا اہتمام کرتی رہی تھی۔ گزشتہ ہفتے صوبۂ سویدا میں دروز اور بدو قبائل کے درمیان پُرتشدد واقعات پُھوٹ پڑے۔ اِن واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ شام میں اب بھی فرقہ وارانہ کشیدگی کے پنپنے کا ماحول موجود ہے۔ ملک میں اب بھی ہزاروں سابق جنگجو موجود ہیں۔ ہزاروں نوجوان ایسے ہیں جو بھرپور بحالی کے مرحلے سے نہیں گزرے ہیں یعنی اُنہیں معاشرے میں دوبارہ ضم ہونا ہے۔

شام کو بحالی اور تعمیرِنو کے مرحلے سے گزرنا ہے۔ نئی حکومت کو بہت کچھ کر دکھانا ہے۔ اُس کے سامنے تعمیرِنو کا مرحلہ ہے جو بہت بڑی آزمائش ہے۔ ساتھ ہی ساتھ قومی سطح پر مکالمہ بھی ناگزیر ہے تاکہ حقیقی مصالحت کاری اور اتفاقِ رائے کی راہ ہموار ہو۔ یہ سب کچھ کس حد تک کامیاب ہوسکے گا، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ہاں، نئی شامی حکومت کو بہت متوجہ ہوکر کام کرنا پڑے گا۔

شامی فوج پر حملے کرنے کے اسرائیلی فیصلے نے معاملات کو مزید خراب کردیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے دمشق میں شامی فوج کے ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ یہ حملے امن کے قیام کے لیے کر رہا ہے مگر حقیقت میں اس نوعیت کے اقدامات کا بنیادی مقصد مزید انتشار کے بیج بونا اور شام کے نارمل حالات کی طرف واپسی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔

اسرائیل نے دروزیوں کو بچانے کے نام پر یہ حملے کیے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ اسرائیلی قائدین نے شامی حکومت کو ڈھکے چھپے الفاظ میں دھمکیاں بھی دی ہیں۔ حد یہ ہے کہ احمد الشرع کو بھی دھمکانے سے گریز نہیں کیا گیا ہے۔ اسرائیل کے چند مبصرین نے شام کو تقسیم کرنے اور جنوبی شام میں دروزیوں کا خود مختار علاقہ قائم کرنے کی بات کُھل کر کی ہے۔

اسٹریٹجک دلدل

اسرائیل نے شام کو تقسیم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ کہنے کو یہ سازش شام کے خلاف ہے مگر خود اسرائیل کے لیے بھی یہ بہت پریشان کن ہے۔ غزہ میں اسرائیل نے جو کچھ کیا ہے، وہ اسرائیل کے نظریۂ جنگ کے ساتھ ساتھ اخلاقی سطح پر بھی تباہی ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ یہ سب کچھ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ کی غیرمسلم اقلیتوں کے محافظ کے طور پر اُبھرنے کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔

اسرائیل نے غزہ کے باشندوں پر جو انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں، اُنہیں یہ کہتے ہوئے اخلاقی طور پر درست قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایسا کرنا ناگزیر تھا۔ اِس کے نتیجے میں نسلی و لسانی سطح پر معاملہ بہت بگڑا ہے اور اسرائیل کثیر النسلی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی قومی ریاست کے قیام کی راہ میں خود ہی دیواریں کھڑی کر رہا ہے۔

اسرائیل نے پہلے بھی شام کی تقسیم کا نظریہ پیش کیا تھا۔ عملی سطح پر یہ نظریہ قابلِ عمل نہیں۔ بین الاقوامی اتفاقِ رائے بھی ناپید ہے۔ شام میں معاشرتی سطح پر بہت پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں۔ شام کو تقسیم کرنے کی کوئی بھی کوشش انتہائی نوعیت کی خانہ جنگی، بلکہ خانہ جنگیوں کو جنم دے گی۔ شامی معاشرہ اِس نوعیت کا ہے کہ اِسے آسانی سے تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر اسرائیل یا کسی اور طاقت نے شام کو کسی نہ کسی طور تقسیم کرنے کی کوشش کی، اِس کے حصے بخرے کرنا چاہے تو انتشار مزید بڑھے گا۔ اسرائیل نے شام کی خانہ جنگی کو بھی اپنے لیے اسٹریٹجک ایڈوانٹیج سے تعبیر کیا ہے۔

اگر اسرائیل نے شام کے جنوب میں دروزیوں کو بچانے کی خاطر شام کو تقسیم کرنے کا ڈول ڈالا تو اُسے صوبۂ سویدا میں فوج اتارنا پڑے گی۔ یہ علاقہ اسرائیل کے رقبے کا ایک چوتھائی ہے۔ اس علاقے کو فتح کرنا زیادہ مشکل نہ ہوگا مگر فتح کو برقرار رکھنا انتہائی دشوار ہوگا۔

اسرائیل نے غزہ میں نام نہاد جنگ کو طُول تو دیا ہے مگر اِس سے اسرائیل کی اپنی طاقت یا استعداد کا بھرم کھل گیا ہے۔ غزہ چھوٹا سا علاقہ ہے اور اسرائیل کو مغربی طاقتوں کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے مگر پھر بھی غزہ کو پوری طرح کنٹرول کرنا اسرائیلی فوج کے لیے اب تک ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ اگر اسرائیل نے سویدا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی تو اُس کی فوج پر دباؤ بڑھ جائے گا اور وہ شدید تھکاوٹ اور بیزاری سے دوچار ہوگی۔

اسرائیلی حکام اِس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ امریکا اور کلیدی علاقائی کردار خطے میں مزید عدم استحکام اور شام کی تقسیم کے خلاف ہیں۔ اسرائیلی فوج میں بھی شام سے متعلق منصوبوں کے بارے میں خاصی مزاحمت پائی جاتی ہے۔ غزہ کی صورتحال نے اسرائیل کو یہ دردناک سبق سکھایا ہے کہ عرب دنیا کے مضبوط ممالک تو غزہ میں الجھنے سے مجتنب رہے ہیں اور لبنان، عراق اور یمن جیسی غیرمستحکم ریاستیں اب بھی اسرائیل کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

بڑھتا ہوا دباؤ

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل پر اُس کے اپنے دروزی شہریوں کی طرف سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ وہ دو گروپوں میں منقسم ہیں۔ ایک طرف وہ ہیں جو تاریخی طور پر فلسطینی ہیں۔ اِن کی قیادت نے ۱۹۴۸ء میں اسرائیل میں رہنا قبول کیا اور دھیرے دھیرے اسرائیلی معاشرے کا حصہ بن گئے۔ اِن میں سے بیشتر نے فوج کی لازمی سروس قبول کی۔ گولان کی پہاڑیوں میں بھی تھوڑی تعداد میں دروزی آباد ہیں۔ یہ لوگ تاریخی طور پر اسرائیلی حاکمیت کے مخالف ہیں۔

کم و بیش ۸۰ فیصد دروزی مرد اور عورتیں لازمی فوجی سروس کے لیے اپنے نام درج کراتے ہیں۔ اِن میں سے ۳۹ فیصد اسرائیلی فوج کے کمبیٹ یونٹس میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کو اس وقت نفری کی کمی کا سامنا ہے۔ الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کی طرف سے فوج کی لازمی سروس کی مخالف کی جاتی رہی ہے۔ اِس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کے لیے بحرانی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ اسرائیل کی آبادی میں دروزی ۲ فیصد تک ہیں تاہم اسرائیلی فوج میں اُن کی تعداد اچھی خاصی ہے اور فیصلہ سازی میں بھی اُنہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

دروزی کتنے طاقتور اور بااثر ہیں، اِس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ماہ سیکڑوں اسرائیلی دروزی مقبوضہ گولان ہائٹس میں حفاظتی باڑ کی پروا کیے بغیر جنوبی شام میں داخل ہوئے۔ بہت سے واپس آچکے ہیں تاہم چند ایک اب بھی شام کی حدود ہی میں موجود ہیں۔ وہ اپنی عسکری اہلیت ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق وہ غیرقانونی بیرونی جنگجو نہیں کہلائیں گے۔

اسرائیل نے عسکری معاملات میں بڑھکیں تو بہت ماری ہیں تاہم وہ اپنے دروزی باشندوں کے لیے اپنے اسٹریٹجک مفادات کو کسی صورت داؤ پر نہیں لگائے گا۔ ایک ایسا ملک جو دروزی شہریوں کو علامتی شناخت دینے سے انکاری ہے اور اُنہیں تحفظ فراہم کرنے سے بھی قاصر ہے۔ وہ اُن کی خاطر کُھلی جنگ شروع کرے، اِس کا کچھ زیادہ امکان نہیں۔

شام میں اسرائیل کی مداخلت اپنے علاقائی ایجنڈے پر اندرونِ ملک رونما ہونے والے دباؤ کو متوازن رکھنے کی کوشش ہے۔ ایسا کرنے میں اسرائیلی حکومت دروزیوں کے ساتھ اپنے نازک تعلقات کو بے پردہ بھی کر رہی ہے اور دوسری طرف اُسے اپنے اہداف کے برخلاف عالمی برادری کے اتفاقِ رائے کا بھی سامنا ہے۔

ویسے سب سے بڑا المیہ تو خود شام کے اپنے معاملے میں ہے۔ فریقین کی جاری کردہ وڈیوز سے لبنان کی خانہ جنگی اور فرقہ وارانہ تشدد کی ہولناکی ظاہر ہوتی ہے۔ شامی حکومت کے نزدیک سب سے بڑا کام اپنے قصبوں کو واپس لینے یا عسکری فتوحات کا نہیں بلکہ سخت تر سیاسی سوال پوچھنے کا ہے۔ مثلاً یہ کہ کس نوعیت کا مشترکہ معاشرہ قائم کیا جاسکے گا، مذہبی اور نسلی خطوط پر یہ امتزاج کیسا دکھائی دے گا؟

اگر دروزی اسرائیل کی حمایت اور مدد سے ایک خود مختار علاقہ قائم کرنے میں کامیاب ہو بھی گئے تو اُنہیں معاشی اور معاشرتی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گھرانے منقسم ہوجائیں گے، دروزی مرد لڑائی میں مارے جائیں گے اور دروز قبائل اسرائیل پر انحصار پذیر ہوں گے۔ اِس کے نتیجے میں لبنان، اردن اور شام میں دروزی آبادیاں بھی متاثر ہوں گی۔ اگر خطے کی صورتحال بہتر نہ ہوئی اور شام میں حقیقی امن بحال نہ ہوا تو مزید سیکڑوں دروزی گھرانے منقسم ہوجائیں گے۔ اور اسرائیل اُنہیں بچانے کے لیے کچھ نہ کر پائے گا۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Syria after Assad: Why Israel’s vow to ‘protect’ the Druze is hollow”.

(“middleeasteye.net”. July 27, 2025)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں