’ٹینک تو اچھے ہیں یورپ، لیکن انہیں چلائے گا کون؟‘‘ یہی وہ طعنے ہیں جو یورپ کے جرنیلوں کو سننے پڑسکتے ہیں، خاص طور پر جب ۲۴ اور ۲۵ جون کو دی ہیگ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں دفاعی اخراجات میں بڑے اضافے کا اعلان متوقع ہے۔
اگر یورپی حکومتیں یوکرین میں کسی نہ کسی قسم کے امن معاہدے کے بعد یا ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس سے رخصت ہونے پر دفاعی بجٹ میں اضافے کے وعدوں سے پیچھے نہ ہٹیں تو آئندہ دہائی میں ان کے دفاعی اخراجات تقریباً دگنے ہوجائیں گے۔
دفاعی بجٹ کو جی ڈی پی کے ۲ فیصد سے بڑھا کر ۵ء۳ فیصد تک لے جانے کے اس اضافے کا بڑا حصہ ہتھیاروں اور آلات کی خریداری پر خرچ ہوگا لیکن فوج صرف ہتھیاروں سے نہیں بنتی، یہ انسانوں سے بھی بنتی ہے۔ نوجوانوں کو ایسی پیشہ ورانہ زندگی کے لیے آمادہ کرنا جو ان کی زندگی کو خطرے میں ڈالے، کبھی بھی آسان نہیں رہا۔
بعض ممالک میں تو زبردستی فوجی بھرتی (جسے عسکری اصطلاح میں ’ جبری بھرتی‘ یا “conscription” کہا جاتا ہے) پر پہلے ہی غور ہو رہا ہے لیکن نوجوانوں کو جبراً وردی پہنا دینا بھی اس مسئلے کو حل نہیں کرے گا جو یورپ کی اجتماعی نفسیات میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ یورپی اپنی پُرامن طرزِ زندگی پر فخر کرتے ہیں، اگر یورپ میں جنگ چِھڑ گئی، تو کیا واقعی کوئی لڑنے کو تیار ہوگا؟
وہ سروے جن میں لوگوں سے یہ پوچھا گیا کہ وہ بیرونی حملے کی صورت میں کیا ردعمل دیں گے، یورپی افواج کے لیے خوفناک نتائج لے کر آتے ہیں۔ گزشتہ سال گیلپ کے ایک عالمی سروے میں ۴۵ ممالک کے شہریوں سے پوچھا گیا کہ اگر جنگ چھڑ جائے تو وہ ہتھیار اٹھانے کے لیے کس حد تک تیار ہوں گے۔ دنیا کے پانچ ایسے ممالک، جن میں چار یورپ میں تھے، جہاں جنگ کے لیے سب سے کم آمادگی پائی گئی، ان میں اسپین، جرمنی اور خاص طور پر اٹلی شامل ہے، جہاں صرف ۱۴؍فیصد افراد نے کہا کہ وہ کسی غیرملکی دشمن کے خلاف لڑنے کو تیار ہیں۔
چونکہ روس نے ۲۰۲۲ء میں یوکرین پر مکمل حملے کے بعد بہت سست پیش رفت کی ہے، اس لیے یوکرین کے محاذ سے کم و بیش ایک ہزار کلو میٹر یا اس سے زیادہ دور واقع ان ممالک میں شاید زیادہ خطرہ محسوس نہ ہورہا ہو۔
ان ممالک کے برعکس پولینڈ تو یوکرین اور روسی علاقے کالینن گراڈ سے جُڑا ہوا ہے لیکن یہاں بھی نصف سے کم شہریوں نے کہا کہ اگر ان کے ملک کو جنگ کا سامنا ہوا تو وہ لڑیں گے۔ ایک اور سروے، جو روسی حملے سے پہلے کیا گیا تھا، میں ۲۳ فیصد لتھووین مردوں نے کہا کہ وہ حملے کی صورت میں ملک چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح دیں گے۔ جب یورپی شہریوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے دفاع کے لیے آگے بڑھیں تو اُن کی طرف سے صرف غیردلچسپی پر مبنی خاموشی ہی سنائی دیتی ہے۔
کئی یورپی شہریوں کے نزدیک جنگ سے گریزاں قوم دراصل ایک کامیاب منصوبے کا نتیجہ ہے۔ یورپی یونین، جو اس براعظم کے مرکز میں قائم ہے، خود کو ایک ’امن منصوبہ‘ قرار دیتی ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں کا محور یہ تھا کہ جرمنی اور فرانس ایک دوسرے کے خلاف دوبارہ کبھی ہتھیار نہ اٹھائیں۔ یورپی یونین کے اندر اور باہر معیشتوں کو آپس میں جوڑنے کا مقصد یہ تھا کہ حملے پہلے غیرعملی اور پھر مکمل طور پر ناقابلِ تصور بن جائیں۔
یورپی یونین میں جو بیوروکریٹک امن پسندی کا کلچر پروان چڑھا ہے، وہ شاید شہریوں کے دلوں میں کچھ زیادہ ہی رچ بس گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگ بھول چکے ہیں کہ یورپی کلب سے باہر موجود افراد، مثلاً ولادیمیر پوٹن، اس منصوبے کا حصہ نہیں ہیں۔ عسکری امور کو عرصے تک یونین میں ایک ضمنی مسئلہ ہی سمجھا جاتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف پچھلے سال ہی یورپی یونین نے پہلی بار ایک دفاعی کمشنر مقرر کیا ہے، وہ بھی اس وضاحت کے ساتھ کہ اس کا دائرہ کار صرف گولہ بارود اور میزائل بنانے والی کمپنیوں کی نگرانی تک محدود ہوگا نہ کہ افواج کی کمان تک۔
سوال یہ ہے کہ آخر یورپ کی عام آبادی جنگ کی صورت میں بھی ہتھیار اٹھانے کے لیے تیار کیوں نظر نہیں آتی؟ ماہرین عمرانیات یورپ کو ایک ’بعد از ہیروزم‘ معاشرہ قرار دیتے ہیں، جہاں انفرادی آزادی اور خود کو مکمل کرنے کے خواب، ماضی کی نسلوں کے حب الوطنی کے جذبے پر غالب آچکے ہیں۔
یورپ میں سیاسی تقسیم بھی اس رجحان میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ حالیہ دہائیوں میں دائیں اور بائیں بازو کی انتہاپسند جماعتوں کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے اور ان کے ووٹرز اپنے ملک کے لیے لڑنے کے تصور سے خاصے لاتعلق نظر آتے ہیں۔ معمر افراد عمومی طور پر ہتھیار اٹھانے کے معاملے میں کم جوش و خروش دکھاتے ہیں اور چونکہ یورپ ایک عمررسیدہ براعظم بنتا جا رہا ہے، اس لیے یہ رجحان مزید گہرا ہو رہا ہے۔
اسپین اور پرتگال جیسے ممالک جنہیں ماضی قریب میں آمریت کا سامنا رہا ہے، جنگ سے مزید گریزاں ہیں۔ افغانستان اور عراق میں امریکی عسکری مہمات کی ناکامی، جن میں یورپی شمولیت برائے نام تھی، نے یورپی امن پسندوں کو مزید یقین دلا دیا ہے کہ ان کا عدم تشدد کا راستہ ہی درست ہے۔
اپنے پرامن رویے کے باوجود، یورپ میں فوجی مرد و خواتین کی کمی نہیں ہے۔ اگرچہ ۱۹۹۰ء کے بعد بیشتر یورپی ممالک میں فوجیوں کی تعداد آدھی سے بھی کم ہو چکی ہے، پھر بھی مجموعی طور پر یورپ کے پاس امریکا سے زیادہ فوجی ہیں اور آبادی کے تناسب سے دونوں تقریباً برابر ہیں۔
تاہم اب کچھ ممالک، جیسے پولینڈ، لازمی فوجی بھرتی (conscription) کو دوبارہ متعارف کروانے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ چند ممالک جیسے ڈنمارک اور یونان نے اسے کبھی ختم ہی نہیں کیا تھا۔ کسی زمانے میں لازمی فوجی سروس کا خاتمہ ایک بڑی لبرل کامیابی سمجھا جاتا تھا لیکن اب نوجوانوں کو فوج میں لانا اس سوچ کو فروغ دینے کا ذریعہ سمجھا جا رہا ہے کہ قومی دفاع صرف تنخواہ دار سپاہیوں کا نہیں بلکہ ہر شہری کا فرض ہے۔
امن کی دُھند
یہ سوچ عوام میں جڑ پکڑنے میں وقت لے سکتی ہے، کیونکہ جب یورپی شہریوں سے دفاعی امور پر رائے لی جاتی ہے تو ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ یورپی کمیشن کی جانب سے کرائے گئے سروے میں شہریوں نے روس کے یوکرین پر حملے اور دفاعی معاملات کو یورپی یونین کو درپیش سب سے بڑے خطرات میں شمار کیا۔ نصف سے زیادہ شہریوں کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں یورپ کی سرزمین پر جنگ کے امکانات موجود ہیں۔
تاہم جب یہی لوگ یہ بتاتے ہیں کہ ان کی ذاتی زندگی پر کن مسائل کے اثرات زیادہ ہیں، تو روس کا ذکر تقریباً غائب ہو جاتا ہے۔ ان کی ترجیحات میں مہنگائی، ٹیکس، پنشن اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل کہیں زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ یورپی باشندے خطرے کو محسوس نہیں کرتے، بلکہ وہ اسے کسی اور کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ یورپ ایک ایسا براعظم دکھائی دیتا ہے جو جنگ سے تھکا ہوا ہے، حالانکہ اس نے اصل میں کوئی جنگ لڑی ہی نہیں۔ امریکا میں ٹرمپ کے حامی پہلے ہی یورپیوں کی جنگی صلاحیت کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مارچ میں طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ ’کوئی عام یورپی ملک، جو گزشتہ ۳۰ یا ۴۰ سال سے کسی جنگ میں شامل نہیں ہوا، یوکرین میں اپنے فوجی بھیج کر روس کو کیسے روک سکتا ہے؟‘ ان کا یہ بیان سخت ضرور تھا، مگر اس میں کچھ حقیقت بھی چھپی ہوئی تھی۔
یورپی ممالک کو اپنی دفاعی ذمہ داریوں پر زیادہ خرچ کرنے پر آمادہ کرنے میں امریکیوں کو کئی عشرے لگے ہیں۔ اب انہیں جنگ کی اہمیت پر قائل کرنے میں شاید اس سے بھی زیادہ وقت لگے۔
(مترجم: بن فاروق)
“Europe wants to show it’s ready for war”.
(“The Economist”. June 19, 2025)