صہیونیت اپنے حتمی مرحلے میں

اسرائیل کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں چاہتا، اِس بحث سے قطع نظر یہ سوال زیادہ اہم ہے کہ اب اسرائیل کو لگام کس طور دی جاسکتی ہے۔ جو کچھ اُس نے سوا سال کے دوران غزہ میں کیا ہے، اُس کے بعد اس بات کی گنجائش کم ہی رہ گئی ہے کہ اُسے بے لگام رہنے دیا جائے۔ اِس بار اُس نے غزہ کے باشندوں پر قیامت ہی ڈھائی ہے اور اب لازم ہوچکا ہے کہ طاقت کا سامنا بھرپور طاقت ہی سے کیا جائے۔

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ایک ہفتے کی یخ بستہ صبح ایلان پاپے ایک سنیما ہال میں وارم اپ ہوئے۔ سیاہ کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے ایلان پاپے نے اُس کانفرنس کے منتظمین سے معیاری اور فصیح عربی میں گفتگو کی، جس سے وہ خطاب کرنے والے تھے۔ دوسرے اسرائیلیوں کے برعکس ایلان پاپے نے ’’نوآبادیات والے لوگوں‘‘ کی زبان سیکھی ہے۔ عربی میں مہارت پیدا کرنے کے لیے انہوں نے فلسطین میں قیام کیا۔ عربی کے رسمی اسباق لینے کے لیے وہ فلسطینی دوستوں میں گِھرے رہتے تھے۔

غزہ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں ڈھائی جانے والی قیامت کی مذمت میں منعقد کی جانے والی کانفرنس میں سیکڑوں اہلِ علم، حکام، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ بنیادی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں اور دوسرے بہت سے لوگوں نے شرکت کی۔ ان میں ڈنمارک کے وہ عام باشندے بھی شامل تھے جو غزہ کی صورتحال سے بہت خوفزدہ تھے۔ کانفرنس کا اہتمام یورپ فلسطین نیٹ ورک نے کیا تھا۔ ایلان پاپے نے کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ غزہ کے خلاف اسرائیلی جنگی کارروائیوں پر یورپ کا ردِعمل اُن کے لیے چونکانے والا رہا ہے۔ اسٹیج پر انہوں نے کہا کہ یورپ کی پوزیشن سے حیران ہوتے ہوئے میں نے یہ حیرانی بہت سوں کے ساتھ شیئر کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ تہذیب کا ماڈل یا نمونہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے یورپ نے حالیہ زمانوں میں قتلِ عام کے بڑے واقعات کو مجموعی طور پر نظرانداز کیا ہے۔

کانفرنس کے دوران قطر کے میڈیا نیٹ ورک ’’الجزیرہ‘‘ نے اسرائیل کے ۷۰ سالہ تاریخ دان، تجزیہ کار، مصنف اور مدرس (پروفیسر) ایلان پاپے کا انٹرویو کیا۔ اُن کی عمر کا بڑا حصہ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے میں گزرا ہے۔ زیرِ نظر انٹرویو میں انہوں نے صہیونیت، یکجہتی اور امریکا میں بدلتے ہوئے منظرنامے کے غزہ پر اثرات پر گفتگو کی ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ انٹرویو تب لیا گیا تھا جب غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ نہیں ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔

الجزیرہ: آپ ایک زمانے سے کہہ رہے ہیں کہ صہیونیت کے لوازم میں (یہودی ریاست کے قیام کی خاطر قوم پرست سوچ اور سیاسی نظریے کے ساتھ ساتھ) زیادہ سے زیادہ زمین کا حصول اور وہاں بسے ہوئے لوگوں کو نکالنا بھی شامل ہے۔ گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران غزہ نے یومیہ بنیاد پر غیرمعمولی قتلِ عام کا سامنا کیا ہے۔ ہم صہیونیت کا کون سا مرحلہ دیکھ رہے ہیں؟

ایلان پاپے: ہم اُس مرحلے میں ہیں جسے نئی صہیونیت کہا جاتا ہے۔ صہیونیت کی پُرانی اقدار اب اور بھی شدید اور انتہا پسندانہ ہیں۔ صہیونیوں کی گزشتہ نسلیں جو کچھ طویل مدت میں حاصل کرنا چاہتی تھیں، وہی سب کچھ صہیونیوں کی نئی نسل بہت تیزی سے اور بہت کم وقت میں حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ کل کے صہیونی بہت کچھ پانا چاہتے تھے تاہم مرحلہ وار جبکہ آج کے صہیونی بے صبرے ہیں۔

صہیونیوں کی نئی قیادت کی کوشش ہے کہ جو کام انہوں نے ۱۹۴۸ء میں شروع کیا تھا، وہ مکمل کیا جائے یعنی تاریخی طور پر تسلیم شدہ فلسطین پر قبضہ کرکے اُس پر یہودی ریاست قائم کرنا اور اِن علاقوں سے زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو نکال باہر کرنا اور پھر ایک ایسی صہیونی ریاست کا وجود یقینی بنانا جس سے تمام پڑوسی یا تو ڈریں یا اُس کا احترام کریں۔ اضافی کام یہ ہے کہ جب فلسطین کی تاریخی حدود میں صہیونی ریاست قائم اور مضبوط ہوجائے تو اُس کی توسیع بھی کی جائے یعنی ملحق علاقوں پر قبضہ کرکے اُنہیں گریٹر اسرائیل کا حصہ بنادیا جائے۔

تاریخ کے تناظر میں یہ بات میں قدرے احتیاط کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ یہ صہیونیت کا حتمی مرحلہ ہے۔ کسی بھی نظریاتی تحریک میں، پھر چاہے وہ نوآبادیاتی دور کے حوالے سے ہو یا پھر کسی سلطنت کی توسیع کے حوالے سے، بالعموم آخری مرحلہ انتہائی پُرتشدد ہوتا ہے اور اُس تحریک کے چلانے والے اپنی اُمنگوں کی تکمیل کے حوالے سے بہت پُرجوش اور بہت عجلت پسند دکھائی دیتے ہیں۔ وہ حد سے گزر جاتے ہیں اور پھر اِس کے بعد وہ گرتے ہیں اور سب کچھ ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔

الجزیرہ: ہم ایک نئے سیاسی منظر نامے سے کچھ ہی فاصلے پر ہیں کیونکہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے والے ہیں۔ وہ خود بھی بہت بڑھ چڑھ کر بولتے ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک ایلون مسک بھی اُن کی ٹیم میں ہیں۔ ایلون مسک اسرائیلی پالیسیوں کو سراہتے نہیں تھکتے۔ اور اُس کی فوج کو بھی۔ آپ ٹرمپ کی صدارت کو اسرائیل پر کس حد تک اثرانداز ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں؟ کیا غزہ میں مکمل امن قائم ہو رہے گا یا جنگ کسی نہ کسی شکل میں جارہی ہی رہے گی؟

ایلان پاپے: امریکی ایوانِ صدر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ آمد اور ایلون مسک کے اُن کے ساتھ ہونے کی صورت میں کسی بھی مثبت تبدیلی کی توقع رکھنا عبث ہے۔ اسرائیل اور صہیونیت کا مستقبل امریکا کے مستقبل سے وابستہ ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ تمام امریکی ٹرمپ کے حامی اور مددگار ہیں۔ اور تمام امریکی ایلون مسک کے طرفدار اور مددگار بھی نہیں ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ میں اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ اگلے دو یا تین سال میں کوئی بڑی مثبت تبدیلی واقع نہ ہوسکے گی۔

اچھی خبر یہ ہے کہ ٹرمپ جیسے عوام کو جذباتی کرنے والے لیڈر اور ایلون مسک جیسے ’’خر دماغ‘‘ زیادہ اہلیت کے حامل نہیں۔ یہ لوگ اپنے ساتھ ساتھ امریکی معیشت کو بھی زوال سے دوچار کریں گے اور ساتھ ہی ساتھ عالمی برادری میں امریکا کی ساکھ مزید خراب کریں گے۔ اگر ایسے لوگ امریکا کی قیادت پر مامور ہوتے رہے تو نتائج امریکا کے لیے بہت بُرے ثابت ہوں گے۔

میری ذاتی رائے یہ ہے کہ یہ صورتحال مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی کم از کم مداخلت کی نشاندہی کرتی ہے۔ امریکا کا عمل دخل کسی بھی خطے میں کم ہونا ایک مثبت پیش کیفیت ہے۔

ہمیں صرف مشرقِ وسطیٰ میں نہیں بلکہ پوری عرب دنیا میں بین الاقوامی مداخلت کی ضرورت ہے مگر یہ مداخلت جنوب کی طرف سے ہونی چاہیے نہ کہ شمال کی طرف سے۔ شمالی نصف کرّے نے جو کچھ کیا ہے، جو ورثہ چھوڑا ہے، اُس کی روشنی میں دنیا بھر میں کم ہی لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ شمال نے ایک اچھے اور دیانت دار مصالحت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ قلیل المیعاد بنیاد پر میں اس حوالے سے خوفزدہ ہوں۔ میری خواہش ہے کہ کاش میری رائے غلط ہو یا مجھے غلط سمجھا جائے۔ کچھ ہی مدت بعد جو تباہی رونما ہونے والی ہے، اُسے روکنے والی قوتیں مجھے دکھائی نہیں دے رہیں۔ اچھی خاصی تباہی ہماری منتظر ہے۔

وسیع تر تناظر میں سوچنے پر میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ہم انسانیت کے ایک بہت ہی بُرے اور بھیانک مرحلے یا باب کے آغاز پر نہیں بلکہ اختتام پر کھڑے ہیں۔

الجزیرہ: جنگ بندی کے لیے مذاکرات چل رہے ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں فلسطین کو حقیقی امن سے مستفید و محظوظ ہونے کا موقع کب ملے گا؟

ایلان پاپے: میں نہیں جانتا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ میری نظر میں جنگ بندی کا معاہدہ بھی، بدقسمتی سے، اختتام نہیں کیونکہ قتلِ عام بہت بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ خیر، مقامِ شکر ہے کہ اِس صورتحال کو روکنے والی نہ سہی تو اِسے ایک حد تک رکھنے والی طاقت ضرور میسر ہے۔ میں ایک ایسے دور کو چشمِ تصور سے دیکھ سکتا ہوں جو کم و بیش دو عشروں پر محیط ہو مگر ان کی کوششوں سے متعلق وہ دور مجھے اس وقت شروع ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ فلسطینی علاقوں سے یہودی آباد کاروں کو نکالنے کا عمل طویل ہوگا اور اس حوالے سے بہت کچھ جھیلنا بھی پڑے گا۔

کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہم تاریخ کے مطالعے کے ذریعے اِسے جان سکتے ہیں، سمجھ سکتے ہیں۔ یہودیوں کو فلسطینیوں کے علاقوں سے نکالنا انتہائی پُرتشدد مرحلہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور یہ بھی لازم نہیں کہ اس کے بعد آنے والی انتظامیہ بہت اچھی ہو یا یہ کہ اس کے نتیجے میں بہتر حالات کی راہ ہموار ہو یا ایسی صورتحال جنم لے جس میں ہر فریق کے لیے فتح ہو اور نقصان کسی کا نہ ہو۔

الجزیرہ : فلسطینیوں اور بہت سے مبصرین کی نظر میں دنیا محض تماشا دیکھ رہی ہے جبکہ اسرائیل توسیع پسندی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اپنے پڑوسیوں پر حملے کر رہا ہے اور کسی بھی نوع کے مواخذے کے بغیر پوری آزادی سے قتلِ عام کر رہا ہے۔

ایلان پاپے: تاریخی اعتبار سے دیکھیے تو کسی بھی تحریک کا حتمی مرحلہ خاصا طویل ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ ایسا ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کب ہوگا۔ اِس میں وقت تو لگے گا۔

علاقائی اور عالمی سطح پر ایسی بہت سی تبدیلیاں رونما ہو رہی جو اس مرحلے کے جاری رہنے کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔ ٹرمپ جیسے عوامی جذبات کی لہر پر سوار ہوکر ایوانِ اقتدار میں آنے والے سیاست دان، ملٹی نیشنل کارپوریشنز کی طاقت، فاشزم کی دوبارہ آمد، یورپ میں انتہائی دائیں بازو کا فاشزم، عرب دنیا میں کرپشن کی بڑھتی ہوئی سطح۔۔۔ یہ سب کچھ مل کر ایک ایسے عالمی اتحاد کو برقرار رکھنے کا سبب بن رہا ہے جو اسرائیل کو وہ سب کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے جو وہ کر رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایک اور اتحاد بھی ہے جسے ایسی طاقت میسر نہیں تاہم وہ بہت پھیلا ہوا ہے۔ یہ اتحاد ناانصافی کے خلاف کی جانے والی جدوجہد سے جُڑا ہوا ہے۔ اس وقت تو خیر ایسا ممکن نہیں مگر مستقبل بعید میں محض فلسطین پر توجہ مرکوز رکھنے والا نہیں بلکہ عالمی حرارت میں اضافے، افلاس، ترکِ وطن اور دیگر مسائل کے حوالے سے کوئی ایسا عالمی اتحاد ابھرے جو طاقتور بھی ہو یعنی ایک بڑی سیاسی قوت میں تبدیل ہو۔ اس دوسرے یا متوازی عالمی اتحاد کی ہر چھوٹی کامیابی صہیونی منصوبے کو اختتام کی طرف لانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

الجزیرہ: اس متوازی عالمی اتحاد کو کیا کرنا ہے؟ اِس کے کاز کے لیے کون سی بات زیادہ معاون ثابت ہوسکتی ہے؟

ایلان پاپے: دو باتیں ہیں۔ ہمارے پاس ایسی کوئی تنظیم نہیں جو غیرمعمولی ساکھ رکھتی ہو، تعاون کی حامل ہو، ناانصافی اور مظالم کے خلاف لڑنے کی توانائی رکھتی ہو۔ صہیونی منصوبے کو روکنے کے لیے بھرپور تنظیم درکار ہے۔ اس کے لیے جوان خون بھی درکار ہے۔ ہمیں ایسا بنیادی ڈھانچا لازمی طور پر درکار ہے۔ دوسرے یہ کہ ہمیں یہ متقیانہ اور سادہ لوحی پر مبنی سوچ ترک کرنی ہے اور ایسے نیٹ ورک اور اتحاد تیار کرنے ہیں جو یہ بات سمجھیں کہ لوگ بعض بنیادی معاملات پر اختلافِ رائے کا شکار ہوتے ہیں تاہم اُنہیں ساتھ لے کر چلنے کی صورت میں بھرپور کامیابی یقینی بنائی جاسکتی ہے اور غزہ کے لوگوں کو قتلِ عام سے بچایا جاسکتا ہے۔

الجزیرہ: آپ کا کہنا ہے کہ ایک مضبوط تر عالمی اتحاد صہیونیت کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور مضبوط بھی کر رہا ہے۔ آپ نے یورپ میں تیزی سے ابھرتے انتہا پسند دائیں بازو کی بات بھی کہی۔ اِن میں یہودی مخالف جذبات بھی پائے جاتے ہیں۔

ایلان پاپے: ایک ناپاک اتحاد شروع ہی سے موجود تھا۔ اگر منطقی اعتبار سے بات کی جائے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ صہیونیت پسند اور یہودیت مخالف عناصر کا مقصد یا ہدف ایک تھا۔ یہ لوگ یورپ میں یہودیوں کو دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ یہودیوں کو فلسطین میں دیکھنا اِن دونوں ہی قسم کے عناصر کا مشترکہ ہدف رہا ہو۔

اب یورپ میں ابھرنے والے انتہائی دائیں بازو اور اسرائیل کے درمیان خیالات کے اتحاد کا ایک نقطہ موجود ہے اور اِسے ہم اسلامو فوبیا کے نام سے جانتے ہیں۔

یورپ میں ابھرنے والے انتہائی بازو کے عناصر میں یہودیوں کے مخالفین کی تعداد بھی کم نہیں تاہم اس وقت وہ بنیادی طور پر مسلم اور عرب کمیونٹیز کو نشانے پر لیے ہوئے ہیں۔ فی الحال یہ لوگ یہودیوں کو نشانہ نہیں بنارہے۔ یورپ کے انتہائی دائیں بازو کے لوگ اس وقت یہودیوں کو سب سے بڑی اسلام مخالف اور عرب مخالف قوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ یہودی اگر اسرائیل سے باہر ہوئے تو ایسے کسی بھی اتحاد کا حصہ بننے پر صرف پچھتائیں گے۔ اس وقت یورپ میں آباد جو یہودی اسرائیل کے حامی ہیں، وہ بھی بیک وقت اسرائیل اور نازی ازم کے پرچم لہرانے میں خاصی بے چینی محسوس کرتے ہیں۔

میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ اب یورپ میں آباد یہودی بھی اسرائیل سے اپنے تعلق پر نظرثانی کرنا چاہیں گے۔ ہمیں اس حوالے سے علامات دکھائی بھی دے رہی ہیں۔ امریکا میں آباد یہودیوں کی نئی نسل اس حوالے سے بہت نمایاں ہے۔ انہیں بہت شدت سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اسرائیل ایک بڑے عالمگیر سیاسی اتحاد (یا ایجنڈے) کا حصہ ہے اور خود کو اُس کے آئینے میں دیکھا نہیں جاسکتا۔

اس وقت اسرائیل کو ٹرمپ جیسے بڑبولے سیاست دانوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے جو اُتھلے پانیوں جیسے عوامی جذبات کی لہر پر سوار ہیں۔ پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اسرائیل کو اس نوعیت کی حمایت مستقبل میں حاصل نہیں ہوسکے گی۔

الجزیرہ: غزہ میں جو قتلِ عام ہوا ہے، اس نے بعض یہودی گروپوں سمیت بہت سوں کو اسرائیل کے قیام اور فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کے بارے میں سوچنے کی راہ سُجھائی ہے۔ آپ نے اس قضیے کی تفہیم کی بنیاد پر خاندانوں کو منقسم ہوتے دیکھا ہے؟

ایلان پاپے: اسرائیل میں تو ایسا نہیں ہے مگر ہاں، اسرائیل سے باہر جو یہودی آباد ہیں، اُن میں یہ تبدیلی ضرور رونما ہوئی ہے۔

غزہ کے حوالے سے دنیا بھر کے میڈیا آؤٹ لیٹس نے جو خبریں دی ہیں، جو وڈیوز منظرِعام پر آئی ہیں، اُن سے غیراسرائیلی یہودیوں کی نئی نسل کسی بھی طور لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ اگر ان کی تعلیم و تربیت یہودیوں کی روایات کے مطابق کی گئی ہے تب تو اُنہیں غزہ میں اسرائیلی فوج کے مظالم زیادہ واضح طور پر دکھائی دیں گے۔

غزہ کا قضیہ بہت حد تک نسلوں پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک اچھی بات ہے کیونکہ نئی نسل بہرحال زیادہ معلومات کے حصول کی بدولت اس قضیے کی نوعیت کو بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے اور اُس سے مثبت سوچ کی توقع کی جاسکتی ہے۔

الجزیرہ: اسرائیل میں بھی تو نئی نسل کو سوشل میڈیا پورٹلز کے ذریعے غزہ کے وسیع تر قتلِ عام کے بارے میں اچھی خاصی معلومات حاصل ہیں۔ ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی تو بہت کچھ منظرِعام پر آچکا ہے۔ پھر کیا سبب ہے کہ اسرائیلیوں کی نئی نسل غزہ میں قتلِ و غارت کے حوالے سے اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کرتی، اُسے مکمل طور پر غلط سمجھنے سے گریز کرتی ہے؟

ایلان پاپے: اسرائیل میں یہودیوں کی نئی نسل کو وہ تعلیم نہیں ملتی جو امریکا میں یہودیوں کے بچوں کو ملتی ہے۔ اسرائیلی بچے ایک ایسے ملک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو ایک خاص نظریے کی چادر اوڑھے ہوئے ہے۔ یہی اس مسئلے کی بنیاد ہے۔ اسرائیل کی نئی نسل کو اسرائیلی نظامِ تعلیم نے پیدا کیا ہے، انجینئرڈ کیا ہے۔

میں نے ۱۹۹۹ء میں اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ موجودہ اسرائیلی نصابِ تعلیم کا جائزہ لے کر یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ اگلی نسل کے گریجویٹ انتہائی نوعیت کے جنونی نسل پرست ہوں گے اور دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنے لیے بھی انتہائی خطرناک ہوں گے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ میری رائے بالکل درست ثابت ہوئی۔ امریکا میں اس وقت جو نئی نسل پائی جاتی ہے، وہ ایک ایسے معاشرے کی پیداوار ہے جسے ایک خاص نظریے کے سانچے میں ڈھالا گیا ہے۔ اسرائیل میں ماں کی گود سے قبر تک ایک خاص نظریاتی تعلیم دی جاتی ہے اور یہ سلسلہ کسی وقفے کے بغیر جاری ہے۔

اسرائیل میں بچوں اور نوجوانوں کی تعلیمی بنیادیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ محض تصویریں اور وڈیوز وغیرہ دکھا کر آپ اس نسل کو سوچنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ اسرائیل کے نوجوان فلسطینی بچوں کی لاشیں دیکھ کر کہہ سکتے ہیں بہت اچھا، شاباش۔ انسانیت سے محرومی اسرائیلی ڈی این اے کا حصہ ہے۔ محض سمعی و بصری معلومات کے ذریعے اسرائیلیوں کے دل بدلے نہیں جاسکتے۔             (مترجم: ایم ابراہیم خان)

“Israeli historian Ilan Pappe:

‘This is the last phase of Zionism’.” (“Al Jazeera”.)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں