یہ حقیقت تو اب بالکل واضح ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی معیشت کو نئی زندگی دینے کے لیے کچھ بھی کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ وہ دن رات ایسے اعلانات اور اقدامات کر رہے ہیں جن کے نتیجے میں صرف بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا کے ادارے امریکی صدر کے اقدامات کے حوالے سے خبردار کر رہے ہیں کیونکہ معیشتیں اکھاڑ پچھاڑ کا شکار ہیں۔ بہت سے چھوٹے ممالک کے لیے ابھی سے مشکلات بہت بڑھ گئی ہیں۔ زیرِنظر مضمون میں اس امر کا جائزہ لیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ٹیرف کو ہتھیار بناکر جو کچھ رہے ہیں، امریکی قیادت سرِدست بدحواس ہے۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ معیشت کو کس طور مکمل بحالی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ تجارتی خسارہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اِس کے بعد توازنِ ادائیگی کے رخصت ہونے کی باری ہے۔ امریکا اپنی برآمدات کو بڑھانا اور درآمدات کو گھٹانا چاہتا ہے مگر سوال لاگت کا ہے۔ امریکا میں تیار کی جانے والی اشیا کی لاگت بہت زیادہ آرہی ہے۔ امریکی برآمدات بڑھ نہیں پارہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف (درآمدی ڈیوٹی) بڑھائی ہے تو اِس کی دو وجوہ ہیں۔ امریکا کو زیادہ محصولات کی ضرورت ہے اور دوسری طرف وہ بلاواسطہ ٹیکس بڑھانے سے مجتنب ہے۔ اِس کے لیے ٹیرف کا سہارا لیا جارہا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ٹیرف کے نام پر جو کچھ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں، اُس سے امریکا سمیت دنیا بھر میں کروڑوں گھرانوں کو معاشی مشکلات کا تادیر سامنا کرنا پڑے گا۔ ساتھ ہی ساتھ ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی کا ووٹ بینک بھی متاثر ہوگا۔
بڑھتا ہوا امریکی قرضہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے عہدِ صدارت کے دوران ٹیکسوں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کی تھیں۔ اِس کے نتیجے میں امریکا پر قرضہ بڑھ گیا تھا۔ رواں سال صدر ٹرمپ نے ٹیکسوں میں اضافی کٹوتیوں کا اعلان کیا ہے جس کے نتیجے میں امریکا کے مجموعی قرضے میں ۲۰ فیصد اضافہ ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے ۲۰۱۷ء میں ٹیکسوں میں جن کٹوتیوں کا اعلان کیا تھا، وہ دس سالہ حساب کتاب ذہن میں رکھتے ہوئے کی گئی تھیں۔ اس مدت میں کٹوتیوں کے اقدامات کی مجموعی لاگت کم و بیش ۴ہزار ۶۰۰؍ارب ڈالر ہونی تھی۔ وہ مزید ۲ہزار ارب ڈالر کی ٹیکس کٹوتیاں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ریاستی سطح کی ٹیکس کٹوتیوں اور مقامی ٹیکسوں کی بحالی کی صورت میں مزید ۱۲۰۰؍ارب ڈالر کا بوجھ پڑے گا۔
کانگریس میں ری پبلکن پارٹی کے معاشی انتہا پسندوں اور فیڈرل ریزرو نے قرضوں میں اضافے کی حکمتِ عملی کو مسترد کردیا ہے۔ سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے قائم کیے جانے والے ادارے DOGE کی چھتری تلے ارب پتی آجر ایلون مسک نے جو اقدامات کیے ہیں، اُن سے وفاقی بجٹ کے لیے تھوڑی سی بہتری پیدا ہوئی ہے۔
صاحبانِ ثروت کی پارٹی
مالیاتی حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ جو کچھ بھی کر رہے ہیں، اُس کی جڑ میں دراصل ری پبلکن پارٹی کا آج کا کردار اور مزاج ہے۔ ری پبلکن پارٹی اب ارب پتی امریکیوں کی پارٹی میں تبدیل ہوچکی ہے۔ اس کا جو بھی ایجنڈا ہے، وہ اب انتہائی مالدار عطیہ کنندگان اور کارپوریٹ بورڈز کا طے کیا ہوا ہے۔ ۲۰۲۴ء میں ری پبلکن پارٹی کو انتہائی مالدار افراد کی طرف سے ملنے والے مجموعی عطیات ۲؍ارب ۴۷ کروڑ ڈالر تھے۔ ری پبلکن پارٹی کے مجموعی عطیات میں اِن ۲؍ارب ۴۷ کروڑ ڈالر کا حصہ ۵۶ فیصد تھا۔
یہ بات کسی بھی سطح پر حیرت انگیز نہیں ہے کہ ری پبلکن پارٹی کو عطیات دینے والے یہ مالدار افراد ٹیکس ادا کرنے کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ ایلون مسک کی مثال سے یہ بات بخوبی سمجھی جاسکتی ہے کہ یہ لوگ ٹیکس ادا کرنے سے بچنے کے لیے جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
یہ مالدار افراد اور کارپوریٹ ادارے بلند اجرتوں اور مزدور انجمنوں کی تشکیل اور تحرک کے بھی مخالف ہیں۔ ٹرمپ اُن کے مؤقف کو درست سمجھتے ہیں۔ کیا اس حقیقت سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ تیزی سے پنپتے ہوئے متوسط طبقے کا معیارِ زندگی بلند کرنے کے لیے بلند اجرتیں بھی لازم ہیں اور اجتماعی سَودا کار انجمنوں کا ہونا ناگزیر ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ ری پبلکن پارٹی کی کامیابی کا مدار محنت اور متوسط طبقے کے ووٹروں پر ہے۔ اگر محنت کشوں اور زیریں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں کے حالات بگڑیں گے تو وہ ری پبلکن پارٹی سے بدظن ہوں گے اور اگلے صدارتی الیکشن میں اُن کی حمایت ری پبلکنز کو حاصل نہ ہوسکے گی۔
معمولی فرق سے فتح
۲۰۲۴ء کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ پنسلوانیا، مشی گن اور وسکونسن جیسی سوئنگ ریاستوںمیں بہت معمولی فرق سے جیتے۔ پنسلوانیا میں یہ فرق ایک اعشاریہ سات فیصد، مشی گن میں ایک اعشاریہ چار فیصد اور وسکونسن میں صفر اعشاریہ ۸ فیصد تھا۔ ان تینوں سوئنگ ریاستوں میں کملا ہیرس مجموعی طور پر ایک لاکھ ۱۵ ہزار ووٹوں کے معمولی فرق سے شکست کھا گئیں۔ ٹرمپ کی یہ فتوحات واقع نہ ہوئی ہوتیں تو کملا ہیرس امریکی صدر ہو جاتیں۔ ان ریاستوں میں نصف سے زائد ووٹر سفید فام اور نان کالج تھے۔ ان کی غالب اکثریت نے غیر معمولی افراطِ زر اور معاشی الجھنوں کو اہم ترین مسئلہ بتایا تھا۔
یہ امر کسی بھی سطح پر حیرت انگیز نہیں کہ ری پبلکن پارٹی کے بڑے عطیہ کنندگان میں اجتماعی سوداکار انجمنوں کے لیے حمایت برائے نام بھی نہیں۔ ٹرمپ نے ٹیرف کا کھڑاگ بھی اس لیے ڈالا ہے کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں نئی ملازمتوں کی گنجائش پیدا ہوسکے۔ اگر ٹیرف محدود پیمانے پر لگائے جاتے یا اُن میں معمولی اضافہ کیا جاتا تو بہتری کا امکان تھا۔ اِس سے بہت مدد ملتی مگر کیا کیجیے کہ ڈونلڈ ٹرمپ تو ہر معاملے میں بڑی سوچ اپنانے کے عادی ہیں۔ دنیا بھر میں ٹیرف کے ہاتھوں آگ سی لگی ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے اندازہ لگایا تھا کہ جیسے ہی وہ ٹیرف عائد کریں گے، دنیا گھبرا جائے گی اور امریکا کے آگے گھٹنے ٹیک دے گی۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ اب یہ طے ہے کہ ٹرمپ نے قومی آمدنی میں جس اضافے کا سوچا تھا، وہ ممکن نہ ہو پائے گا۔
ٹرمپ کا فلاپ معاشی ڈراما
اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ نے جو ٹیرف کارڈ کھیلا ہے، اُس سے دنیا بھر میں ہنگامہ برپا ہے کیوں کہ پہلے مرحلے میں تو بہت کچھ الٹ پلٹ جائے گا۔ دنیا بھر سے امریکا پہنچنے والی مصنوعات پر اوسط ڈیوٹی ڈھائی فیصد سے اچانک بائیس فیصد تک جا پہنچے گی۔ اِس کے نتیجے میں بہت سی مصنوعات امریکا میں مہنگی پڑیں گی اور یوں صارفین اپنے ملک میں تیار کی جانے والی مصنوعات استعمال کرنے پر مائل ہوں گے۔
ٹرمپ نے دوبارہ صدر کا انتخاب محض اس لیے جیتا تھا کہ افراطِ زر کی شرح بہت زیادہ ہوگئی تھی۔ لوگ مہنگائی سے پریشان تھے۔ معیارِ زندگی بُری طرح متاثر ہو رہا تھا۔ لوگ تبدیلی چاہتے تھے اور اُن کی خواہش تھی کہ ری پبلکنز آئیں اور کچھ ایسا کر دکھائیں کہ اُن کی زندگی میں بہتری آئے۔ اب ٹیرف کے ہاتھوں امریکا میں چینی مصنوعات ۲۲ فیصد اور یورپی مصنوعات ۱۷؍فیصد مہنگی ہوجائیں گی۔ اگر یورپ اور چین کی بہت سی مصنوعات کا متبادل امریکا نہ ہوا تو صورتحال بہت پریشان کن ثابت ہوگی۔ جے پی مورگن نے پیش گوئی کی ہے کہ ٹیرف میں اضافے کے نتیجے میں امریکا میں گاڑیوں کی قیمت میں اوسطاً ۴ء۱۱؍فیصد تک اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں مجموعی افراطِ زر میں ۲۰۲۵ء کے دوران ۷ء۲ فیصد تک اضافہ ہوگا۔ عمومی قیمتوں میں یہ اضافہ بیشتر امریکیوں کے لیے غیرمعمولی اور غیرضروری بوجھ ثابت ہوگا اور یوں گھرانوں کی بنیاد پر آمدنی میں اچھی خاصی کمی واقع ہوجائے گی۔ دی نان پارٹیشن ٹیکس فاؤنڈیشن نے تخمینہ لگایا ہے کہ درآمدی ڈیوٹی بڑھنے سے عام امریکی کو سال بھر میں اِتنی زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی گویا اُس نے ۱۹۰۰؍ڈالر کا ٹیکس ادا کیا ہو۔ امریکا میں صارفین کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔ صارفین کے اعتماد میں ۳۰ فیصد تک واقع ہونے والی گراوٹ کے نتیجے میں عالمی سطح پر کساد بازاری میں ۴۰ فیصد تک اضافہ ہوگا۔ امریکی گھرانوں کی اکثریت زیادہ خرچ نہیں کر پائے گی اور بیشتر معاملات میں سہولتوں کی شدید کمی محسوس کرے گی۔
امریکا میں رواں سال شرحِ نمو میں صرف اعشاریہ سات فیصد کی کمی واقع ہوگی۔ اس کے نتیجے میں بعد از ٹیکس آمدن میں کم و بیش ۲ فیصد کمی واقع ہوگی اور کیپٹل بیس میں صفر اعشاریہ ۶ فیصد سکڑاؤ واقع ہوگی جس کے نتیجے میں کم از کم ۶ لاکھ ملازمتیں جاتی رہیں گی۔
کاروبار پر اثرات
ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ٹیرف بڑھانے کے اقدامات سے امریکا بھر میں کاروباری یعنی صنعتی ادارے خصوصی طور پر متاثر ہوں گے۔ فیکٹریاں اور آٹو پلانٹس جو پُرزے اور خام مال درآمد کرتے ہیں، وہ مہنگے ہوجائیں گے۔ اس کے نتیجے میں اِن اداروں کو اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا پڑیں گی۔ قیمتیں بڑھانے سے فروخت گھٹے گی۔ نقصان کا دائرہ محدود رکھنے کے لیے ان اداروں کو چھانٹیاں بھی کرنی پڑیں گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ درآمدات مہنگی ہونے سے امریکی مصنوعات کی کھپت بڑھے گی مگر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران ۲۰۱۸ء اور ۲۰۱۹ء کے دوران ٹیرف کی پہلی لہر کے نتیجے میں انفرادی آمدنی گھٹی تھی اور جی ڈی پی میں بھی کمی واقع ہوئی تھی۔ اب بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امریکن ہارٹ لینڈ میں معاشی سرگرمیاں بھرپور توانائی کے ساتھ بحال ہوں مگر جی ڈی پی میں واقع ہونے والی کمی سے اُن کا خواب چکنا چور ہوسکتا ہے۔ اُجرتوں اور ملازمت کے مواقع میں ہونے والا اضافہ رُکنے سے زیریں متوسط اور محنت کش طبقات کے مرد و زن شدید مشکلات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔
شکایات کی پروا نہیں
ڈونلڈ ٹرمپ صارفین اور کاروباری اداروں کی طرف سے آنے والی شکایات پر دھیان نہیں دیتے بلکہ اُنہیں یکسر مسترد کردیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے گزشتہ برس کے صدارتی انتخاب میں افراطِ زر اور معاشی مسائل سے متعلق شکایات کا بھرپور فائدہ اٹھاکر ووٹرز کے جذبات ابھارے اور اُن سے بہتری کے وعدے کیے۔ اِس وقت ٹرمپ ایک بڑا سبق بھول رہے ہیں۔ وہ اور اُن کی ٹیم کے ارکان کُھل کر، ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ سستی اشیا کا حصول ترجیحات میں سرِفہرست نہیں۔ وہ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ گاڑیاں مہنگی ہوتی ہیں تو ہوا کریں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے نتیجے میں کساد بازاری کی راہ ہموار ہو رہی ہے مگر اُسے کچھ پروا ہی نہیں۔ صدر ٹرمپ کو صورتحال کی سنگینی کا احساس نہیں۔ وہ اس بات سے بھی بے نیاز سے رہتے ہیں کہ اُن کی کسی بھی پالیسی کے کیا نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
جوابی اقدامات
یہ نکتہ ہر حال میں ذہن نشین رہنا چاہیے کہ تجارتی جنگیں بہت تیزی سے شدت اختیار کرتی ہیں اور پیچیدہ تر ہوتی جاتی ہیں۔ امریکا کی طرف سے عائد کیے جانے والے ٹیرف کے جواب میں چین، کینیڈا، جاپان اور یورپ کے ردِعمل اور جوابی اقدامات کے نتیجے میں تجارتی جنگ انتہائی پیچیدہ ہوتی جارہی ہے۔ یہ سب کچھ انتہائی منفی اثرات کا حامل ہوگا۔ امریکی کسانوں کی پیداوار کا بڑا حصہ چین اور دیگر ترقی یافتہ اقوام خریدتی ہیں۔ ٹیرف کے نتیجے میں امریکی کسان براہِ راست متاثر ہوں گے۔ ٹرمپ نے یہ حقیقت بھی نظرانداز کردی ہے کہ ۲۰۱۸ء میں جب ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عائد کیے جانے والے ٹیرف کے جواب میں چینی حکومت نے بھی ٹیرف کارڈ کھیلا تو امریکی سویا بین، گندم، بیف اور مکئی کی برآمدات کو شدید دھچکا لگا اور اِس کے نتیجے میں امریکی کھیتوں کی آمدنی میں دسیوں ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ جب کسانوں نے احتجاج کیا تو ٹرمپ انتظامیہ نے اُن کی مالی مدد کی۔ کاؤنسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق ہوا یہ کہ دوسرے ملکوں پر ٹیرف عائد کرنے سے امریکا کی آمدنی میں ۶۶؍ارب ڈالر کا اضافہ ہوا تاہم کسانوں کو دی جانے والی مالی امداد ۶۱؍ارب ڈالر تھی!
حتمی نتیجہ
اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ آنے والے چند ماہ کے دوران بہت سے کاروباری اداروں یا شعبوں کو خطیر رقوم پر مبنی بیل آؤٹ پیکیج دے رہی ہوگی۔ ایسا ہوا تو ٹیرف لگانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ محصولات کی آمدنی میں کمی واقع ہوگی اور یوں ملک وہیں کا وہیں کھڑا رہ جائے گا۔ ایسی کسی بھی صورتحال سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ ٹیکس بڑھائے جائیں اور اضافی آمدنی سماجی بہبود کی مد میں خرچ کی جائے تاکہ محنت کش اور زیریں متوسط طبقہ ری پبلکن پارٹی سے بدظن و بدگمان نہ ہو۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی تجارتی جنگ کسی بھی صورت معقول نتائج کی حامل نہیں ہوتی۔ ایسی ہر جنگ سے لاکھوں، کروڑوں افراد متاثر ہوتے ہیں اور اُن کی زندگیاں یوں تلپٹ ہو جاتی ہیں کہ پھر سنبھلنے اور دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں زمانے لگ جاتے ہیں۔ ہر تجارتی جنگ کی طرح یہ تجارتی جنگ بھی خطرناک اور انتہائی پریشان کن نتائج کی حامل ثابت ہوگی۔ (مترجم: محمد ابراہیم خان)
جارج آر ٹائلر ماہرِ معاشیات اور ’’واٹ وینٹ رانگ‘‘ اور بلینئرز ڈیموکریسی: دی ہائی جیکنگ آف دی امریکن پولیٹیکل سسٹم‘‘ کے مصنف ہیں۔ وہ امریکا کے نائب وزیرِ خزانہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
“Understanding Trump’s tariff blunder”.
(“The Globalist”. April 7, 2025)