صبر سب سے بڑا ہتھیار ہے, بنگلا دیش جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمن کا انٹرویو

شفیق الرحمن بنگلا دیش جماعتِ اسلامی کے امیر ہیں۔ ان کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھرپور جدوجہد کر رہے ہیں۔ بنگلا دیش جماعتِ اسلامی کے دو امیروں اور پوری قیادت کو ختم کردیے جانے پر بھی بنگلا دیش جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے ہمت ہاری ہے نہ اُن کے قائدین نے۔ جماعتِ اسلامی نے پانچ عشروں کے دوران بہت کچھ جھیلا ہے، بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ شفیق الرحمن کہتے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا ہتھیار صبر ہے۔ ہم نے اب تک ہر مصیبت کا سامنا صبر کی بدولت ہی کیا ہے۔ اور صبر کی توفیق بھی اللہ ہی نے عطا فرمائی ہے۔

بنگلادیش کے اخبار ’دی ڈیلی اسٹار‘ نے بنگلادیش جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمن کا جامع انٹرویو کیا ہے۔ ۲۲؍اکتوبر ۲۰۲۴ء کو لیا گیا انٹرویو ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔

ڈیلی اسٹار: آپ ایک تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی منظر میں بنگلا دیش جماعتِ اسلامی کے امیر ہیں۔ ملک تبدیلی سے گزرا ہے مگر ابھی تک سنبھلا نہیں ہے۔ آپ یہ سب کچھ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

شَفیق الرَحمٰن: ہمارا معاشرہ کبھی مستحکم نہیں رہا۔ یہ تو اُس وقت بھی مستحکم نہیں تھا جب ہم پاکستان کا حصہ تھے۔ اور ہم یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتے کہ ہمارا معاشرہ بنگلا دیش کے قیام کے بعد مستحکم رہا ہے۔ جب ہم پاکستان کا حصہ تھے تب سیاسی قتل بھی ہوئے اور بہت سی دوسری منفی تبدیلیاں بھی رونما ہوئیں۔ اس کے باوجود جمہوریت کبھی آئینی شکل میں واپس نہیں آئی۔ بنگلا دیش کے قیام کے دوران ہزاروں افراد کی جانیں گئیں مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ مستحکم نہیں رہا۔

بنگلا دیش میں شیخ مجیب الرحمن کو اہلِ خانہ سمیت قتل کیا گیا۔ وہ بہت ہی نازک وقت تھا۔ ملک شدید عدمِ استحکام سے دوچار ہوا۔ ضیاء الرحمن کے اقتدار میں آنے سے قبل ملک اقتدار کے حوالے سے خاصی کشمکش سے گزرا۔ ضیا کو سیاسی اعتبار سے کچھ کر دکھانے کے لیے زیادہ وقت نہیں ملا۔ ضیا کے بعد ستار آئے مگر انہیں بھی جانا پڑا۔ ان کا دور بھی عدمِ استحکام سے عبارت تھا۔

پھر حسین محمد ارشاد آئے اور اپنی سیاسی جماعت بھی قائم کی۔ ان کے دور میں بھی کئی احتجاجی تحریکیں چلائی گئیں۔ ایک اور فوجی انقلاب کے نتیجے میں حسین محمد ارشاد کو بھی اقتدار چھوڑنا پڑا۔ وہ زمانہ بھی شدید عدمِ استحکام کا تھا۔

۱۹۹۱ء میں بیگم خالدہ ضیا نے بنگلا دیش نیشلسٹ پارٹی کے پرچم تلے حکومت بنائی۔ انتخابات میں کسی بھی جماعت کو اِتنی اکثریت نہیں ملی تھی کہ تنہا حکومت بناسکتی۔ یہ بھی عدمِ استحکام ہی کی ایک شکل تھی۔ تب جماعتِ اسلامی نے طاقت کے توازن میں کلیدی کردار ادا کیا۔ عوامی لیگ بھی اُس کی طرف سے حمایت چاہتی تھی اور بی این پی بھی۔ ہم نے بی این پی کا ساتھ دینے کو ترجیح دی۔ اور یہ ساتھ غیرمشروط تھا۔ ہم نے واضح کردیا تھا کہ اگر بی این پی حکومت بنا بھی لے تو ہم اپوزیشن میں رہنا پسند کریں گے۔ ہم نے صرف حکومت کی تشکیل میں مدد دی تھی، اور کچھ نہیں۔ انتخابات عبوری حکومت کے تحت ہوئے تھے اور اِسے نگراں حکومت کا درجہ بھی نہیں ملا تھا۔ ۱۹۸۴ء میں نگراں حکومت کا فارمولا اُس وقت کے امیرِ جماعتِ اسلامی پروفیسر غلام اعظم کی طرف سے عباس علی خان نے پیش کیا تھا۔ نگراں حکومت کا فارمولا بالکل ویسا ہی تھا جیسا غلام اعظم صاحب نے تجویز کیا تھا، صرف نام مختلف تھا۔

جاتیہ پارٹی سمیت تمام ہی بڑی سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ جاتیہ پارٹی نے ۳۶ نشستیں جیتیں۔ یہ انتخابات نگراں حکومت کے تحت ہوئے، اس لیے مجموعی طور پر بہت اچھے رہے۔ جاتیہ پارٹی کے لیے اِتنی نشستیں جیتنا بہت بڑی کامیابی تھی۔ جماعتِ اسلامی نے کسی سیاسی اتحاد کا حصہ بنے بغیر اور کسی بھی جماعت سے ہم آہنگی پیدا کیے بغیر اپنے طور پر الیکشن لڑا اور ۱۸؍نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔

جماعتِ اسلامی نے عباس علی خان کی قیادت میں ۶ رکنی وفد وزیراعظم کے پاس بھیجا اور کہا کہ بنگلا دیش میں پہلی بار ایسے انتخابات ہوئے ہیں جن کے نتائج پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ ٹرن اوور بھی غیرمعمولی رہا۔ جماعتِ اسلامی کے وفد نے حکمراں جماعت پر زور دیا کہ نگراں حکومت کے نظام کو باضابطہ شکل دینے کی تجویز پارلیمنٹ میں پیش کرے مگر یہ بات قبول نہیں کی گئی۔

ہم مجبور تھے کہ اس مطالبے کو سڑکوں پر آکر پیش کریں۔ ۱۹۹۶ء میں عوامی لیگ نے بھی نگراں حکومت کا نظام لانے کا مطالبہ کیا۔ ہماری بات نہیں سُنی گئی تھی، عوامی لیگ کی کال پر بی این پی کے سوا تمام سیاسی جماعتوں نے لبیک کہا۔

نگراں حکومت کے نظام سے متعلق تحریک اس قدر مضبوط تھی کہ بی این پی کو بھی اس کے آگے گھٹنے ٹیکنا پڑے۔ پارلیمنٹ اگرچہ خاصی کم مدت کے لیے تھی مگر پھر بھی اُس میں نگراں حکومت کے نظام کا مطالبہ پیش کیا گیا۔ یہ واحد قانون تھا جو اس پارلیمنٹ نے اپنی تحلیل سے قبل منظور کیا اور یوں ۱۹۹۶ء میں انتخابات ہوئے جن میں سب نے بھرپور قوت کے ساتھ حصہ لیا۔

عوامی لیگ نے معمولی اکثریت کے ساتھ انتخابات جیتے اور حکومت بنائی۔ یہ اقتدار ۲۰۰۱ء تک جاری رہا۔ اس دوران کئی بڑے واقعات رونما ہوئے۔ بنگلا دیش کے دریاؤں اور نہروں میں لاشیں پھینکی گئیں۔ وہ دور بھی انتہائی عدمِ استحکام کا تھا۔

۲۰۰۰ء میں بی این پی، جماعتِ اسلامی، جاتیہ پارٹی اور اسلامی اوئیکیا جوتے نے مل کر اتحاد تشکیل دیا۔ ایک مرحلے پر حسین محمد ارشاد اپنی پارٹی کو لے کر الگ ہوگئے اور جاتیہ پارٹی کا وہ دھڑا ہمارے اتحاد سے آ ملا جس کے سربراہ نذیر الرحمن منظور تھے۔ حکومت مخالف تحریک کے دوران اس اتحاد کی جماعتوں نے ایک اعلامیے پر دستخط کیے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام جماعتیں مل کر سیاست کریں گی، مل کر الیکشن لڑیں گی اور اگر جیت گئیں تو مل کر حکومت بھی بنائیں گی۔ تب ہم حکومت کا حصہ بنے۔

اس وقت کے امیرِ جماعتِ اسلامی مطیع الرحمن نظامی کو پہلے وزارتِ زراعت دی گئی اور بعد میں وزارتِ صنعت بھی ملی۔ جماعتِ اسلامی کے سیکرٹری جنرل علی احسن محمد مجاہد کو بھی سماجی بہبود کا وزیر بنایا گیا۔ اُس دور میں بھی ہر طرف کسی نہ کسی شکل میں عدمِ استحکام ہی تھا۔ عوامی لیگ نے پہلے ہی دن سے طے کرلیا تھا کہ وہ حکومت کو کسی طور چلنے نہیں دے گی۔

عوامی لیگ کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل عبدالجلیل نے کہا تھا کہ عوامی لیگ کے پاس ایک ٹرمپ کارڈ ہے جو وہ ۳۰؍اپریل ۲۰۰۴ء کو کھیلے گی۔ انہوں نے بنگلا دیش میں تمام این جی او ورکرز کو جمع کرکے مرکزی سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کرکے حکومت کو گرانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ حکومت کے بروقت اقدامات سے یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔

اس کے بعد چند مذہبی تنظیموں کے سربراہوں نے سر اٹھانا شروع کیا۔ انہوں نے عدمِ استحکام کے ایک اور دور کی راہ ہموار کی۔ ملک کی تقریباً تمام ہی عدالتوں میں دھماکے کیے گئے۔ حکومت نے بہت بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں۔ گرفتاری کے مراحل میں کچھ لوگ مرگئے یا مارے گئے۔ چند ایک پر مقدمات چلے اور فردِ جرم بھی عائد کی گئی۔ مرکزی دھارے کے مذہبی رہنما اِن نام نہاد مذہبی رہنماؤں کے خلاف تھے مگر وہ اپنے لیے خاص جگہ بنانے میں ناکام رہے۔

ان واقعات کے بعد شیخ حسینہ واجد نے اپنے چودہ رکنی اتحاد کے ساتھ تحریک شروع کی۔ ۲۸؍اکتوبر سے عبوری دور شروع ہوا۔ خیال تھا کہ حکومت اگلے ہی دن اپنی بساط لپیٹ کر تمام معاملات نگراں حکومت کو سونپ دے گی۔ اُس دن عوامی لیگ نے بہت بڑے پیمانے پر قتل و غارت کا بازار گرم کیا۔ ہمارے ۶ کارکن شہید کردیے گئے۔ یہ خبر پوری دنیا میں سُنی اور پڑھی گئی۔ قتل و غارت کے مناظر بہت خوف ناک تھے۔ غیر ملکی رہنماؤں اور سفارت کاروں نے کہا کہ جو کچھ انہوں نے دیکھا، وہ انتہائی بھیانک اور خوفناک تھا۔

نئی عبوری حکومت قائم کی گئی جس کی سربراہی ایازالدین کو سونپی گئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ خود صدرِ مملکت ہی کو نگراں حکومت کا بھی سربراہ بنایا گیا تھا۔ یہ سب کچھ اگرچہ آئین کی حدود میں رہتے ہوئے کیا گیا تھا مگر عجیب اس لیے لگا کہ پہلے کبھی ایسا نہیں کیا گیا تھا۔ عبوری حکومت عوامی لیگ کے پیدا کردہ عدمِ استحکام کے باعث ناکام رہی۔ خیر، یہ عدمِ استحکام صرف عوامی لیگ کا پیدا کردہ نہ تھا۔ اُس وقت کی حکومت بھی بہت حد تک اس کی ذمہ دار تھی۔ اب ایک اور نگراں حکومت قائم کی گئی۔ عام طور پر نگراں حکومت تین ماہ کے لیے ہوتی ہے مگر یہ نگراں حکومت دو سال تک قائم رہی۔ ایک مرحلے پر یہ نگراں حکومت اپنی سیاسی جماعت بھی بنانے پر تُل گئی۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل معین یو احمد نے ڈھاکا کے سونار گاؤں ہوٹل کے بال روم میں ایک پریزنٹیشن کے ذریعے بنگلا دیش میں جمہوریت کے نئے وژن کا تعارف کرایا۔ وہ اس موقع پر زیادہ سے زیادہ سپورٹ یقینی بنانا چاہتے تھے کیونکہ وہ اپنی حکومت قائم کرنے کے خواہش مند تھے۔ وہ ناکام رہے۔ جب انہیں گرم جوشی والا ریسپانس نہیں ملا تو انہوں نے حکومت سازی کے ارادے کی بساط لپیٹ دی۔

فوج کی حمایت یافتہ نگراں حکومت نے، جس کے سربراہ فخرالدین احمد تھے، ۲۰۰۸ء میں انتخابات کرائے مگر تب تک وہ بہت سی غلطیاں کرچکے تھے اور کرپشن کی کہانیاں بھی تھیں۔ فخرالدین احمد نے کرپشن کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تھا مگر خود اُنہی کی سربراہی میں قائم نگراں حکومت پر بھی کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے۔ بنگلا دیش کا ایک بنیادی مسئلہ یہ رہا ہے کہ ہر دور میں کرپشن جاری رہی ہے۔ جب نگراں حکومتیں قائم کی گئیں تب بھی کرپشن جاری ہی رہی۔ منتخب حکومتیں تو خیر بہت ہی بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث رہی ہیں۔

فخرالدین احمد کی سربراہی میں قائم نگراں حکومت چاہتی تھی کہ اُسے سیف ایگزٹ دی جائے۔ یہ اصطلاح بہت مقبول ہوئی۔ طے پایا کہ پارلیمنٹ میں یہ معاملہ طے کیا جائے گا۔ جو کچھ نگراں حکومت نے کیا تھا، اس کی بنیاد پر محاسبہ بھی لازم تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔

بنگلا دیش ہر دور میں شدید عدمِ استحکام سے دوچار رہا ہے۔ حکومت کے قائم ہوتے ہی پلکھانا میں فوجی حکام کو قتل کیا گیا۔ آزاد و خود مختار بنگلا دیش میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ فوجی افسران کے اہلِ خانہ کو بھی قتل کیا گیا۔ خواتین سے زیادتی کی گئی اور پھر انہیں قتل کرکے لاشیں نالوں میں پھینک دی گئیں۔ حکومت نے ہر خرابی کی ذمہ داری اپوزیشن پر عائد کی اور اُس کے خلاف محض پروپیگنڈا نہیں کیا بلکہ معاملات کو عدالتی کارروائی تک لے جایا گیا۔ بے بنیاد مقدمات قائم کیے گئے۔ حکومت نے جماعتِ اسلامی اور اس کے رہنمائوں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات قائم کیے جبکہ حقیقت یہ تھی کہ انہیں دیگر الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ بہت سوں کو قتل کردیا گیا۔ دوسرے بہت سے جماعتی لیڈر اور کارکن زخمی ہوئے۔ بہت سے لاپتا ہوئے۔ ان کے بارے میں آج بھی کسی کو کچھ نہیں معلوم۔ اس دوران جماعتِ اسلامی کو صرف دو بار کسی ایونٹ کی اجازت ملی۔ ۳۰ جون ۲۰۲۳ء کو اور ۲۸؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کو۔ جماعتِ اسلامی کو تو گلیوں میں میں بھی مظاہرے کرنے یا جلسے منعقد کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ہم اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر ہم نے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں تو ہمیں حکومت کی طرف سے اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا مگر ہم نے انتقامی ذہنیت کی پروا کیے بغیر اپنے حصے کا کام جاری رکھا۔ ہمارا احتجاج پُرامن تھا مگر اس کے باوجود ہمارے خلاف مقدمات دائر کیے گئے۔ ہم نے انجام کی پروا کیے بغیر ہر زیادتی کے خلاف احتجاج جاری رکھا۔ ہم چاہتے تھے کہ قوم کو یہ پیغام ملے کہ ہم کسی بھی صورت اپنے حصے کا کام چھوڑ نہیں سکتے۔ ہمارے خلاف ہزاروں مقدمات دائر کیے گئے۔ سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ اِس دوران پتا نہیں کتنے ہی شہید کردیے گئے۔ ایسے بُرے حالات کا سامنا ہم نے پہلے شاید ہی کبھی کیا ہو۔

رواں سال ۵؍اگست کو ایک بار پھر سب کچھ بدل گیا۔ عوامی لیگ کا پندرہ سالہ اقتدار ختم ہوچکا ہے مگر اس کے باوجود ملک اب تک مستحکم نہیں ہوسکا ہے۔ عدمِ استحکام ملک کی جان نہیں چھوڑ رہا۔ کیا اس طور ملک چلتے ہیں یا چلائے جاسکتے ہیں؟ کسی نہ کسی مرحلے پر تو یہ سب کچھ ختم ہونا ہی چاہیے۔ ہم پر بہت جبر کیا گیا ہے، بہت مظالم ڈھائے گئے ہیں مگر ہم نے صبر کیا ہے اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے صبر کیا ہے کہ ایک دن یہ سب کچھ ختم ہوگا اور اچھے دن آئیں گے۔ کوئی بھی حکومت کتنا ہی جبر کرلے، کتنے ہی مظالم ڈھائے، ایک نہ ایک دن اُسے جھکنا ہی پڑتا ہے۔ جن میں تحمل کا وصف ہوتا ہے، وہ سب کچھ جھیلتے رہتے ہیں اور ایک نہ ایک دن اپنی بات منوانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ ہم نے ہر طرح کے حالات میں صرف صبر کیا ہے اور اپنے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔ ہم پر جتنی بھی زیادتیاں کی گئی ہیں، ان کا بدلہ ہم کبھی نہیں لیں گے۔ ہمیں ہر حال میں اللہ سے بہتری کی توقع وابستہ رکھنی ہے۔ ظلم ہماری آزمائش ہے اور صبر کی توفیق بھی اللہ ہی نے عطا فرمائی ہے۔ جب بھی کسی معاشرے میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی رونما ہوتی ہے تب انتشار پھیلتا ہے۔ انتشار جب حد سے گزرتا ہے تو ریاست کا وجود ہی داؤ پر لگ جاتا ہے۔ مجمع کے ہاتھوں انتقام اور نام نہاد انصاف کے بہت سے معاملات ہمارے سامنے ہیں، ہمارے مشاہدے میں ہیں مگر ہم نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ جماعتِ اسلامی پر آج تک اجتماعی انتقام کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔

میں نے جماعتِ اسلامی کے عہدیداروں سے پوچھا ہے، دیگر ذرائع سے بھی معلومات حاصل کی ہیں کہ کہیں ایسے کسی واقعے میں ہماری جماعت کے کارکن تو ملوث نہیں مگر مجھے بتایا گیا ہے کہ اجتماعی انتقام کی کسی بھی کارروائی میں جماعتِ اسلامی کا کوئی کارکن ملوث نہیں پایا گیا۔

ہم ایک ایسی تنظیم کے طور پر اپنے وجود کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں جو ملک کو مستحکم کرنے کی ذہنیت کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کو بھرپور طور پر محسوس کرتی ہو۔ یہی سبب ہے کہ ہم ہر حال میں پُرسکون اور صابر و شاکر رہے ہیں۔ اگر بنگلا دیش میں کسی کو انتقام لینے کا حق دیا جانا چاہیے تو وہ ہم ہیں۔ مظالم دوسروں پر بھی ڈھائے گئے ہیں مگر شدت اور نوعیت دیکھیے تو جو کچھ ہمارے ساتھ روا رکھا گیا، وہ کسی اور جماعت کے لوگوں کے ساتھ روا نہیں رکھا گیا۔ بنگلا دیش جماعتِ اسلامی کے دو امیروں سمیت پوری کی پوری قیادت کو ختم کردیا گیا مگر ہم خاموش رہے، صبر کرتے رہے اور اپنے معاملات کو اللہ کے کرم پر چھوڑا۔ میں جماعتِ اسلامی میں کوئی خاص مقام نہیں رکھتا تھا یعنی میری کچھ خاص اہمیت نہ تھی۔ میں اس قابل بھی نہ تھا کہ اِتنا بڑا منصب مجھے دیا جاتا مگر جب پوری کی پوری قیادت ختم کردی گئی تو قیادت کی ذمہ داری میرے ناتواں کاندھوں پر آپڑی۔ ہم نے اِتنی بڑی قربانی صرف اس لیے دی کہ ہم اس ملک کو دوبارہ استحکام کی طرف لانا چاہتے تھے۔ آپ اِسے کوئی بھی نام دے سکتے ہیں مگر ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ ہم بنگلا دیش میں حقیقی استحکام چاہتے ہیں۔

عبوری حکومت میں کوئی بھی شخص ایسے اوصاف کا حامل نہیں۔ خیر، یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ پوری دنیا میں کوئی سے دو افراد یکساں نہیں۔ ہم ہر ایک سے یکساں توقعات وابستہ نہیں رکھ سکتے۔ ہر شخص اپنے مفاد اور تصورات کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے۔ اگر کوئی اچھی طرح کام کرنا چاہے تو کوئی بھی اسے ایسا کرنے سے نہیں روک سکتا۔ نگراں یا عبوری حکومت میں جن لوگوں کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، اُنہیں چاہیے کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور وہ سب کچھ کر دکھائیں جس کی اُن سے توقع وابستہ کی جارہی ہے۔

سوال: کیا عبوری حکومت اپنے حصے کا کام ڈھنگ سے کر رہی ہے؟ اس حوالے سے مجموعی کیفیت کیا ہے؟

شفیق الرحمن: اگر یہ لوگ طاقت اور لالچ کے چکر میں پڑجائیں تو ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائیں گے اور اِس سے بھی بڑھ کر یہ ہماری امنگوں اور امیدوں کا خون کریں گے۔ ان کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے۔ اور یہی اِن کی کھری آزمائش ہے۔

عبوری حکومت کے چند ارکان کبھی کبھی سیاسی بیان بھی دیتے ہیں۔ قوم اُن سے سیاست کی بات نہیں سننا چاہتی۔ عبوری حکومت کو غیرجانبدار رہنا ہے۔ اچھا ہے کہ اُن کے منہ سے کوئی بھی متنازع بات نہ نکلے۔ یہ ان کے لیے اچھا ہوگا نہ ہمارے لیے۔ ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ عبوری حکومت کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

خیر، کسی بھی طرح کے تحفظات خود بخود دور نہیں ہوتے۔ اس بڑی تبدیلی کے بعد بھی اس بات کا خدشہ تھا کہ عدلیہ ٹیک اوور کرلے گی۔ اِس کے بعد انصار والا معاملہ بھی تھا۔ انصار کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ ہم میں سے سب کا تعلق پیرا ملٹری فورس سے نہیں تھا۔ اگر ایسا ہے تو پھر فوجی یونیفارم میں وہ لوگ کون تھے۔ ہم عجیب و غریب واقعات دیکھ رہے ہیں۔ ان کے نتیجے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔

لوگ الزام لگارہے ہیں کہ اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے مقامات پر اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے جتھے کھڑے ہوگئے۔ ہم بھی ان میں شامل تھے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ میں ذاتی طور پر بھی اس بات کا قائل ہوں کہ تمام شہریوں کے حقوق مساوی ہیں۔ انہیں اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہے۔ اگر میری مسجد کی حفاظت کے لیے کسی کی ضرورت نہیں تو پھر کسی مندر کی حفاظت کی ضرورت کیوں پیدا ہو؟ ایسے معاملات ہی کیوں ہوں کہ ہندو یا کوئی اور اقلیت عدمِ تحفظ کے احساس سے دوچار ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سکیورٹی مسائل تو ہیں۔ افسوس کہ ہمارا معاشرہ اس معاملے میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرسکا۔ ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہیے۔

کسی کا مذہب چاہے کچھ بھی ہو اور وہ کسی بھی پارٹی کا ہو، ریاست تو سب کے لیے ہے اور سبھی کا تعلق ریاست سے ہے۔ سلامتی کے ساتھ جینے کا حق تو سبھی کو حاصل ہے۔ یہ بنیادی بات ہے جس سے سب کو اتفاق کرنا چاہیے۔ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جانا چاہیے۔ امتیازی سلوک کسی بھی معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہوتا ہے۔

سوال: جماعتِ اسلامی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دور اندیشی سے کام لیتی ہے، بہت بعد کا سوچ کر منصوبہ سازی کرتی ہے۔ یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جماعتِ اسلامی ۱۹۴۷ء اور ۱۹۷۱ء میں رائے عامہ کے بالکل خلاف گئی۔ آپ اِس کی توضیح کیسے کریں گے؟

شَفیق الرَحمٰن: اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے دھارے کے خلاف بہنے کی کوشش کی۔ خیر، جماعتِ اسلامی کا کوئی بھی لیڈر پاکستان کے قیام کا مخالف نہیں تھا۔ ہم نے یہ ضرور کہا تھا کہ ہمیں ایک متحدہ ہندوستان درکار ہے۔ بنیادی نکتہ یہ تھا کہ قائدین میں قیامِ پاکستان کی تحریک کی سوچ نہیں جھلک رہی تھی۔ مسلم قیادت اسلام کے جذبے کو پوری طرح پیش نہیں کر رہی تھی، اُس کی نمائندگی نہیں کر رہی تھی اور یہ بات ہم نے بیان کی تھی۔ ہمارا موقف اصولی تھا۔ کیا یہ غلط تھا؟ ہمارا موقف قیادت کے فکری رجحان سے متعلق تھا، پاکستان کے خلاف نہ تھا۔

حال ہی میں عوامی لیگ کے حوالے سے بھی ہماری یہی بات تھی۔ ہم نے عام معافی کا اعلان کیا تھا۔ میں نے عوامی لیگ کا نام نہیں لیا تھا۔ ایسی کوئی بھی بات کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں۔ میڈیا نے اس معاملے کو کچھ اور ہی رنگ دے دیا۔ یہ بہت افسوس ناک بات تھی۔ مجھ سے ایسی بات منسوب کردی گئی جو میں نے نہیں کہی تھی۔

متاثرین کے اہلِ خانہ اگر انصاف کے لیے رابطہ کریں گے تو ہم اُنہیں انصاف دلوانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ ہم نے انصاف دلوانے کی بات کہی تھی۔ کیا اِسے عوامی لیگ کے لیے عام معافی کہا جاسکتا ہے؟ بہت سوں نے ہم سے ناانصافی کی مگر اُن میں عوامی لیگ نمایاں رہی ہے۔ اُس نے کئی بار ہم پر مظالم ڈھائے۔ ہم ویسے کسی کا نام نہیں لینا چاہتے۔ میں نے ایک مشترکہ موقف بیان کیا ہے۔ بدلے کی سیاست کو اب دفن کردینا چاہیے۔ کسی نہ کسی کو تو اس بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنی ہے تو پھر وہ میں کیوں نہ ہوں؟

ساتھ ہی ساتھ میں نے یہ بھی تو کہا تھا کہ جو لوگ سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں، اُنہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔ اور یہ بھی کہ معافی کا کلچر تو مظالم ڈھانے والوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

ہم نے ۱۹۷۱ء میں عوامی لہر کے خلاف بہنے کی کوشش کی۔ ہم متحدہ پاکستان کی بات کر رہے تھے۔ خیر، شیخ مجیب الرحمن نے بھی تو یہی کہا تھا۔ انہوں نے آخری لمحات تک صرف اِس نکتے پر بات کی کہ اُنہیں پورے پاکستان کا وزیراعظم بنایا جائے۔ ہمارے اور اُن کے وژن میں فرق نہیں تھا۔

اب آپ یہ پوچھیں گے جب جنگِ آزادی ناگزیر ہوگئی اور پوری قوم اُس طرف مُڑگئی تو آپ کا رُخ کسی اور طرف کیوں ہوگیا۔

بنگلا دیش کے قیام کی تحریک بہت حد تک بھارت سے چلائی گئی، سابق مشرقی پاکستان کی سرزمین سے نہیں۔ عوامی لیگ کے بہت سے لوگ بھارت بھاگ گئے تھے۔ یہ لوگ وہاں دو مقاصد کے تحت گئے تھے۔ یا تو اپنے آپ کو بچانے کے لیے یا پھر وہاں بیٹھ کر جنگ چھیڑنے کے لیے۔ اِن کی تعداد ڈیڑھ سے دو لاکھ تھی۔ پناہ گزینوں کی تعداد کا یہ دو سے تین فیصد تھے۔ خود بھاشانی بھی بھارت گئے تھے مگر وہ وہاں ٹھہر نہ سکے۔ ایسا کیوں ہوا؟ صرف اس لیے کہ اُن کے نام کے ساتھ مولانا جُڑا ہوا تھا۔ اُنہیں بھارت چھوڑ کر بنگلا دیش آنا پڑا۔ اب آپ مجھے بتائیے، کیا جماعتِ اسلامی یا کسی اور اسلامی جماعت کے لیے بھارت جانے کی گنجائش تھی؟ اگر نہیں تو پھر ہم کیونکر جنگِ آزادی میں حصہ لے سکتے تھے؟

ایک اور سوال یہ ہوسکتا ہے کہ اگر جنگِ آزادی میں حصہ نہیں لینا تھا تو کوئی بات نہیں، آپ لوگ خاموش رہ سکتے تھے، ناانصافی کی مدد سے باز رہ سکتے تھے؟ ہم چاہتے تھے کہ پاکستان متحدہ رہے اور عوامی لیگ کو انتخابی نتائج کے مطابق اُس کا حق دیا جائے۔

بھٹو کی ضد کے باعث ایسا نہ ہوسکا۔ شیخ مجیب کا اس معاملے سے کچھ لینا دینا نہ تھا۔ کسی اور کا بھی نہیں۔ عوامی لیگ کو اقتدار نہیں ملا تو اِس کی ذمہ داری بھٹو پر عائد ہوتی تھی۔ انہوں نے ایک ملک میں دو وزرائے اعظم تعینات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ وہ پورے پاکستان کا نظام شیخ مجیب الرحمن کے ہاتھ نہیں دینا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مغربی پاکستان اُن کے ہاتھ میں رہے اور مشرقی پاکستان شیخ مجیب کو سونپ دیا جائے۔ بھٹو کا مطالبہ یکسر غیرمنصفانہ، غیر آئینی تھا۔ پاکستان کے فوجی حکمرانوں نے اس مطالبے کو منظور کرلیا۔ اِس کے بعد اُن کی طرف سے جبر شروع ہوا۔ اُس وقت بھی جماعتِ اسلامی متحدہ پاکستان کی حامی تھی۔

ہم نے سُنا تھا کہ عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اگر ہم نے پاکستان سے آزادی بھارت کی مدد سے حاصل کی تو آزادی کے فوائد ہمیں میسر نہیں ہوسکیں گے، ہم ہمیشہ بھارت کے زیرِ اثر رہیں گے۔ یعنی ہم پورے احترام کے ساتھ ایک آزاد قوم کی حیثیت سے ابھر نہیں سکیں گے۔

جو کچھ بھی بنگلا دیش کے ۵۳ سال میں ہوا ہے، عوام اِس پر گواہ ہیں کہ وہ خدشہ بالکل درست تھا۔ میڈیا معاشرے کا آئینہ ہوتے ہیں۔ میں یہ معاملہ عوام اور میڈیا پر چھوڑتا ہوں۔ اگر جماعتِ اسلامی کے خدشات غلط تھے تو سامنے آکر بتائیے کہ وہ نہیں ہوا جو جماعتِ اسلامی نے کہا تھا۔ اگر جماعتِ اسلامی کی دور اندیشی ثابت ہوگئی ہے تو عوام خود طے کرلیں گے۔

میں اگر یہ دیکھوں کہ اکثریت خرابیوں کی طرف جارہی ہے تو میں دوسری طرف جاؤں گا، پھر چاہے میں اکیلا ہی کیوں نہ ہوؤں۔ مجھے وہی کرنا چاہیے جو میرا ضمیر کہہ رہا ہو۔ جماعتِ اسلامی نے وہی کیا، اُس سے زیادہ کچھ نہیں۔

اب آئیے اُن جرائم کی طرف جن کا ہم پر، ہماری قیادت پر الزام عائد کیا جاتا ہے۔ البدر، الشمس اور رضاکاروں کے بارے میں سوالات ہیں۔ جن سنگین جرائم کی بات کی جاتی ہے، اُن میں سے کتنوں کے یہ گروپ مرتکب ہیں؟ امن کمیٹی بھی تو تھی۔ دوسرے گروپ بھی تھے۔

ہم ان گروپوں کے وجود سے انکار نہیں کر رہے۔ حکومتِ پاکستان اِنہیں کنٹرول کر رہی تھی۔ قائم بھی اُسی نے کیے تھے۔ میں اُس وقت چھوٹا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میرے گاؤں میں بھی اِن گروپوں کے کارکن آتے تھے اور ڈھول پیٹ کر لوگوں کو رضاکار بننے کی تحریک دیتے تھے۔ مگر یہ بتائیے کہ جماعتِ اسلامی کیونکر سنگین جرائم کی مرتکب قرار دی جاسکتی ہے؟ اگر یہ گروپ حکومتِ پاکستان کے کنٹرول میں تھے تو پھر جماعتِ اسلامی کو اِن کے مظالم کی ذمہ داری کیوں قبول کرنی چاہیے؟

۱۹۷۰ء کے عام انتخابات میں جماعتِ اسلامی نے کم و بیش ۵ء۴ فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ باقی تمام ووٹ عوامی لیگ کو ملے تھے۔ جماعتِ اسلامی اِتنی طاقتور کب تھی اور کیا وہ فوج سے بھی طاقتور تھی؟ کیا فوج اپنے ہتھیاروں کے ساتھ اُن کے سامنے کھڑی تھی کہ جس طرح چاہو استعمال کرو؟ میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا اور تب جماعتِ اسلامی ایک چھوٹی سی تنظیم تھی۔ باقی ملک کا مجھے علم نہیں۔

ہاں، اگر کسی نے کسی سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے تو اُسے قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ اگر میں کوئی جرم کروں تو مجھے بھی نہ بخشا جائے۔ اگر جماعتِ اسلامی یا چھاترا سنگھ کے کسی لیڈر یا کارکن نے کوئی جرم کیا ہے تو اُسے سزا ملنی ہی چاہیے۔

تب طاقت کس کے ہاتھ میں تھی؟ جماعتِ اسلامی کے ہاتھ میں؟ یا شیخ مجیب کے ہاتھ میں؟ یا پھر فوج کے ہاتھ میں؟ بنگلا دیش کے قیام کے بعد جنگی مجرموں کی فہرستیں تیار کی گئیں۔ ۲۴ ہزار افراد کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا۔ بہت سے جیل میں ٹھونس دیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو ۴۲ سال بعد جنگی جرائم کا مرتکب کیوں قرار دیا گیا؟ اُن پر تب الزامات کیوں عائد نہیں کیے گئے تھے؟ کسی بھی پولیس اسٹیشن میں اُس وقت اِن میں سے کسی کے بارے میں بھی کوئی مقدمہ درج کیوں نہیں کیا گیا تھا؟

اگر کسی نے کچھ غلط کیا تھا تو اُس وقت الزام عائد کیا جانا تھا۔ اب ۴۲ سال بعد یہ سب کیوں؟ سُریندر کمار شرما نے اس حوالے سے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ میں کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے پوری آزادی سے لکھا ہے یا نہیں۔ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ مکانات لُوٹے اور جلائے گئے تھے۔ اس سے کوئی انکار کر ہی نہیں سکتا مگر سوال یہ ہے کہ یہ سب کس نے کیا تھا۔ جو چوبیس ہزار مقدمات دائر کیے گئے تھے، وہ چلائے کیوں نہیں گئے اور اُن پر فیصلے کیوں نہیں ہوئے؟ شیخ مجیب نے قتل، زنا بالجبر، لوٹ مار آتشزنی کے سوا تمام جرائم کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا۔ اب ۴۲ سال بعد سارے جرائم جماعتِ اسلامی کے کاندھوں پر ڈال دیے گئے ہیں۔

کنگارو ٹرائل کیے گئے۔ پوری دنیا نے ان مقدمات کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ پہلے کہا گیا کہ یہ جنگی جرائم ہیں۔ پھر اِنہیں انسانیت کے خلاف جرائم سے تعبیر کیا گیا۔ انہوں نے اِسے انٹرنیشنل کرائم ٹربیونل کہا مگر کہا کہ صرف ملکی حدود کے جرائم کے مقدمات چلائے جائیں گے۔ سبھی کچھ خلط ملط اور الجھا ہوا تھا۔

یہ لوگ ہر حال میں ہمیں مجرم قرار دینے پر تُلے ہوئے تھے۔ اُن کی پوری توجہ اِسی بات پر تھی۔ میں ایک بار کھل کر بیان کردینا چاہتا ہوں۔ اگر جرائم ثابت کردیے جائیں تو میں پوری قوم سے خود معافی مانگنے کو ترجیح دوں گا۔ اس حوالے سے میرے ذہن میں کوئی تحفظات نہیں۔ ہم کسی بھی صورت بے بنیادی الزامات کو سچ کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔ سچائی پوری طرح سامنے آنی چاہیے۔

سبھی جانتے ہیں جب یہ مقدمات نام نہاد انٹرنیشنل کرائم ٹربیونل میں چلائے جارہے تھے تب ملک بھر میں ہم سے کیسا سلوک روا رکھا گیا۔ ہمارے وکلا کو اغوا کرلیا گیا اور وہ بھی کورٹ کے احاطے سے۔ ہم مکمل طور پر غیرمحفوظ تھے۔ ہمیں اِس ملک کا شہری بھی نہیں سمجھا جارہا تھا۔ ہمیں انصاف کیسے ملے گا؟ اِسے اسقاطِ عدل نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ نا انصافی ہم پر تھوپ دی گئی۔

سوال: اگر الزامات ثابت ہو جاتے تو آپ کو معافی مانگنے میں کوئی قباحت محسوس نہ ہوتی؟

شَفیق الرَحمٰن: بالکل، مجھے یا ہم میں سے کسی کو معافی مانگنے میں ذرا سی بھی ہچکچاہٹ کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

سوال: آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ البدر، الشمس اور رضاکار حکومتِ پاکستان کے کنٹرول میں تھے اور ملک (مشرقی پاکستان) شیخ مجیب کے کنٹرول میں تھا تو پھر اِن گروپوں کے جرائم کے لیے جماعتِ اسلامی کو کیوں موردِ الزام ٹھہرایا جائے؟

شَفیق الرَحمٰن: بالکل یہی بات ہے۔ سب کچھ اُنہی کے کنٹرول میں تھا۔

سوال: دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ جماعتِ اسلامی اور اُس کے طلبہ ونگ چھاترا سنگھ نے اِن گروپوں کے قیام کے عمل کی قیادت کی تھی۔ دوسری اسلامی جماعتیں بھی اُن کے ساتھ تھیں۔ ایسے میں آپ ذمہ داری سے کیسے بچ سکیں گے؟

شَفیق الرَحمٰن: کہا جاتا ہے کہ تاریخ ہمیشہ فاتحین کی طرف سے لکھی جاتی ہے۔ تاریخ کا ریکارڈ ہمیشہ اُن کی طرف داری کر رہا ہوتا ہے جو فتح یاب رہے ہوں۔ آج آپ جس تاریخ کو مستند قرار دے رہے ہیں، وہ کچھ ہی دیر میں مسخ کردی گئی ہوگی۔ ایسا تو دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ یاد کیجیے عوامی لیگ کے ادوارِ حکومت میں کیا ہوا۔

اُنہوں نے رضاکاروں کی فہرست شائع کی تھی۔ جماعتِ اسلامی کے ۱۳۴؍تھے اور عوامی کے ۱۰؍ہزار۔ اب بتائیے رضاکاروں کی جماعت کون ہے؟ اب کوئی سوچے گا کہ اُس وقت کے جنگِ آزادی کے امور کے وزیر اے کے ایم مزمل شاید جماعتِ اسلامی کے رکن یا امیر تھے اور حکومت کو گمراہ کر رہے تھے۔ اگر وہ واقعی جماعتِ اسلامی کی حمایت کر رہے تھے تو پھر عوامی لیگ کا حصہ کیوں تھے یا کیونکر تھے؟ وہ وزارت میں کیا کر رہے تھے؟

لوگوں نے کتنی آسانی سے یہ بات پھیلا دی کہ میں نے عوامی لیگ کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا۔ اِس طور تاریخ کو لکھنا کوئی مشکل کام نہیں۔ تب جماعتِ اسلامی، چھاترا سنگھ، مسلم لیگ، پی ڈی پی، نظامِ اسلام پارٹی، عوامی لیگ اور دوسری بہت سی جماعتیں تھیں۔ میں نے خود دیکھا کہ عوامی لیگ کے بہت سے لوگ رضاکاروں کی صف میں شامل ہوئے۔ ایسا کیوں کیا گیا؟ پاکستان کو بچانے کے لیے یا اپنے خاندان کو بچانے کے لیے؟ کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ایسا بھی ہوا کہ ایک بھائی پاکستانی فوج سے لڑ رہا تھا اور دوسرا بھائی رضاکار بن کر عوامی لیگ اور مکتی باہنی والوں کے خلاف صف آرا تھا۔

خود عوامی لیگ کی حکومت بھی کہتی رہی ہے کہ تمام ہی رضاکار شرپسند نہیں تھے۔ اُن میں اچھے لوگ بھی تھے۔ یہ بات شیخ حسینہ واجد نے خود کہی ہے۔ وہ چند اچھے کون تھے؟ (قدرے شوخی سے) کیا وہ ہماری جماعت میں تھے؟ میں یہ نہیں کہہ سکتا۔ تمام ہی جماعتوں میں اچھے لوگ تھے اور ہوتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے کال دی تو مشرقی پاکستان کے لوگوں نے لبیک کہتے ہوئے ساتھ دیا۔ اِسے پارٹی کی ذمہ داری سے خلط ملط نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بہت حد تک انفرادی معاملہ تھا۔ اگر جماعتِ اسلامی نے کوئی ملیشیا بنائی ہوتی اور عوامی لیگ اس کا دستاویزی ثبوت پیش کردیتی تو قوم قبول کرلیتی۔

سوال: تو کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ انفرادی حیثیت میں کوئی بھی کسی ملیشیا گروپ کا رکن ہوسکتا تھا؟ یہ جماعتِ اسلامی کا انتظامی سطح کا فیصلہ نہیں تھا۔ انفرادی اعمال کے لیے پارٹی جوابدہ نہیں؟

شَفیق الرَحمٰن: میں صرف جماعتِ اسلامی کی بات نہیں کر رہا۔ تمام ہی جماعتوں کے لوگ رضاکاروں میں تھے اور یہ ان کے انفرادی معاملات تھے، پوری جماعت کو کریڈٹ یا ڈِز کریڈٹ نہیں دیا جاسکتا۔ حکومت کی اپنی تیار کردہ فہرستوں سے ثابت ہوچکا ہے کہ رضاکاروں میں عوامی لیگ کے لوگ بھی شامل تھے۔

سوال: عوامی لیگ پر قتلِ عام کے الزامات بھی ہیں۔ اس کا کیا کریں؟

شَفیق الرَحمٰن: عوامی لیگ کی قیادت اس حوالے سے واضح اعلانات کرچکی ہے۔

سوال: کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اس کیس میں یہ انفرادی ذمہ داری کا معاملہ ہے؟

شَفیق الرَحمٰن: نہیں۔ یہ بات تو خود وزیراعظم کہہ رہی تھیں۔ یہ بات سڑک پر کھڑے ہوئے کسی شخص نے نہیں کہی تھی۔ وہ اپنی پوری اتھارٹی کے ساتھ یہ بات کر رہی تھیں۔

سوال: پارٹی کی سربراہ کہہ رہی ہیں تو کیا وہ ذمہ داری قبول کر رہی ہیں؟

شَفیق الرَحمٰن: کیوں نہیں؟ شیخ حسینہ نے یہ بات محض پارٹی چیف کی حیثیت سے نہیں بلکہ گورنمنٹ چیف کی حیثیت سے بھی کہی۔

سوال: یہ بات تو پھر غلام اعظم صاحب کے لیے بھی درست ثابت ہوتی ہے؟ انہوں نے عطیات جمع کیے، اجتماعات سے خطاب کیا اور لوگوں کو رضاکاروں کی صف میں شامل ہونے کی تحریک دی۔ انہوں نے متحدہ پاکستان کے لیے تحریک چلائی۔ کیا اِسے انتظامی سطح کی ذمہ داری قرار دیا جائے گا؟

شَفیق الرَحمٰن: میں کہہ چکا ہوں کہ ہم پاکستان کی حمایت کر رہے تھے۔ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم نے نام نہاد جنگِ آزادی کی حمایت کی تھی۔ ہم متحدہ پاکستان پر یقین رکھتے تھے اور ملک کے امن اور استحکام کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط کے لیے جو کچھ بھی درست لگا وہ کہا اور کیا۔

سوال: آپ کا موقف یہ ہے کہ اس نوعیت کے موقف کو مظالم سے جوڑا نہیں جاسکتا؟

شَفیق الرَحمٰن: جرم جس کسی نے بھی کیا ہو، اُسے سزا ملنی چاہیے۔ میرا سوال تو صرف یہ ہے کہ اگر کوئی مجرم تھا تو اُس وقت سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا۔ چار عشروں کے بعد یہ سب کچھ کیوں یاد آرہا ہے؟ الزامات تب لگائے جانے تھے جب گواہ بھی مل سکتے تھے؟ اِتنی مدت کے بعد یہ سب کچھ کیسے سامنے آگیا؟ اب اچانک گواہ کہاں سے مل گئے؟

آپ کو معلوم ہوگا جنگی جرائم کے مقدمات کے زمانے میں ایک سیف ہاؤس ہوا کرتا تھا جہاں گواہوں کو تربیت دی جاتی تھی۔ جو لوگ مانتے نہیں تھے، انہیں مارا جاتا تھا۔ جو کہے پر عمل کرتے تھے، انہیں نوازا جاتا تھا۔

سوال: مغربی پاکستان میں حکام نے لکھا کہ جماعتِ اسلامی اور دیگر اسلامی جماعتوں نے مل کر یہ گروپ کھڑے کیے تھے اور ان کی قیادت بھی کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ جماعتِ اسلامی اور دیگر جماعتوں کی قیادت بھی اس کام میں ملوث تھی۔ کیا اس صورت میں جماعتِ اسلامی کی ذمہ داری نہیں بنتی؟

شَفیق الرَحمٰن: انفرادی جرائم کے لیے اجتماعی ذمہ داری نہیں بنتی۔ اگر کوئی کسی جرم میں ملوث تھا تو ثابت کرکے سزا دیجیے۔ اہم بات یہ ہے کہ جو بھی جماعتیں تب پاکستان کے حق میں تھیں، وہ بنگلا دیش میں آج بھی کسی نہ کسی شکل میں زندہ ہیں۔ اُن کے خلاف کوئی بھی الزام کیوں نہیں لگایا جاتا؟ صرف جماعتِ اسلامی کو نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے؟ جس طور پاکستان کی بات کرنے والی دیگر جماعتوں نے کچھ ایسا ویسا نہیں کیا، بالکل اُسی طور جماعتِ اسلامی کا دامن بھی صاف ہے۔

۴۲ سال پہلے جن جرائم کا ارتکاب کیا گیا، اُن کے مقدمات آج کیوں چلائے جارہے ہیں؟ اس وقت کئی جماعتیں تھیں جنہوں نے حکومت کا ساتھ دیا تھا اور یہ کوئی غلط کام نہیں تھا۔ ہم پاکستان کی حکومت اور ریاستی مشینری کے ساتھ تھے۔ کسی اور کے خلاف کچھ بھی نہیں کہا جارہا۔ صرف جماعتِ اسلامی کو نشانے پر لیا گیا ہے۔

سوال: جماعتِ اسلامی خواتین کے لیے مساوات اور نمائندگی کی بات کرتی رہی ہے۔ آپ کا کہنا ہے کہ جماعتِ اسلامی میں ۴۲ فیصد خواتین ارکان ہیں۔ ان میں رُکن کتنی ہیں؟ جماعتِ اسلامی کی مجلسِ شورٰی میں کتنی خواتین ہیں؟ یا مرکزی مجلسِ عاملہ میں کتنی خواتین ہیں؟

شَفیق الرَحمٰن: اس وقت ہماری جماعت میں ایک لاکھ رُکن ہیں۔ آپ سوچ سکتے ہیں اِن میں ۴۰ تا ۴۲ فیصد خواتین ہیں۔ ہمارے چند انتظامی یونٹ ہیں جن میں خواتین ہیں۔ سب سے بڑا انتظامی یونٹ مجلسِ شورٰی ہے۔ ان میں خواتین ۳۵ فیصد ہیں۔ یہی معاملہ دوسرے بہت سے یونٹس اور اداروں کا ہے۔

سوال: کیا کسی خاتون کے امیرِ جماعت بننے کا امکان ہے؟

شَفیق الرَحمٰن: شیخ حسینہ، بیگم خالدہ ضیا اور روشن حسین محمد ارشاد کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد یا شوہر کی روایت کو آگے بڑھایا۔ ان میں سے کوئی بھی خاتون گراس روٹ لیول سے اٹھ کر اوپر نہیں پہنچی۔ انہیں خصوصی حالات میں اپنی پارٹی کو سنبھالنا تھا اور سنبھالا۔ یہ سب کچھ نارمل نہیں تھا۔

جماعت اسلامی کا ایک نظام ہے، نظم و ضبط ہے۔ مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ کردار ہیں۔ جو کچھ اللہ نے مرد اور عورت کے لیے طے کردیا ہے، اُسی کے مطابق ہم کام کرتے ہیں اور یہی معقول طریقہ ہے۔ خواتین کو اللہ نے جن معاملات کا مکلف کیا ہے، اُن پر انہیں زیادہ توجہ دینی چاہیے۔

جو کچھ اللہ نے قرآن میں مرد و زن کے لیے طے کردیا ہے، وہ معاشرے کی فلاح کے لیے ہے۔ معاشرتی بہبود اُسی وقت ممکن ہے جب مرد اپنے حصے کا کام کریں اور خواتین اپنے حصے کا۔ اِسی طور زندگی ڈھنگ سے بسر ہوسکتی ہے۔ قرآن کو محض پڑھنا کافی ہیں، اِسے سمجھ کر اس پر عمل کرنا بھی لازم ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ خواتین غزوات میں بھی شریک ہوا کرتی تھیں۔ وہ ہر طرح کے میدانِ عمل میں آکر اپنا کردار ادا کرتی تھیں۔

سوال: شاعری، موسیقی اور رقص ہماری ثقافت کا حصہ ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ راسخ العقیدہ مسلمان اکثر ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہماری زمین ہی سے تو اُگا ہے۔ جماعتِ اسلامی اِس ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کیا کرے گی؟

شَفیق الرَحمٰن: اسلام زندگی بسر کرنے کا مکمل ضابطہ ہے۔ کیا اس مسئلے کو کوئی حل اُس کے پاس نہیں ہوگا؟ جب رسول اللہﷺ نے ہجرت کی اور مدینہ پہنچے تو وہاں کی بچیوں نے دف بجاکر خیرمقدم کیا۔ ہر چیز شائستگی اور معقولیت کی حدود میں ہونی چاہیے۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں بچیاں اور نوجوان لڑکیاں گانے گاتی تھیں مگر انہیں روکا نہیں جاتا تھا۔ ایک بار ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں روکا تو رسول اکرمﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ اسلام صحت مند ثقافت کی بات کرتا ہے جس میں شائستگی، سنجیدگی اور پختگی ہو۔

سوال: بہت سے راسخ العقیدہ مسلمان بنگالی کیلینڈا پوہیلا بوئیشاکھ اور اکیس فروری کو یوم اللسان (مونگول شوبھوجاترا) منانے کے بھی خلاف ہیں۔ اس سلسلے میں جماعتِ اسلامی کیا کہتی ہے؟ کیا جماعتِ اسلامی یہ سب دن منانے میں ہمارا ساتھ دے گی؟

شَفیق الرَحمٰن: یہ ایک حقیقی سوال ہے۔ اسلام میں دو تہوار ہیں۔ عیدالفطر اور عیدالاضحٰی۔ اس موقع پر عوام دل کھول کر اظہارِ مسرت کرتے ہیں۔ اسلام خوشی منانے کے معاملے میں بھی اس بات کو ترجیح دیتا ہے کہ شائستگی کی حدود میں رہا جائے۔ کسی بھی ایسے تہوار کی گنجائش نہیں جس میں انسان اپنی انسانیت کو بھول کر کوئی اور بھیس اپنائے۔ وہ اشرف المخلوق ہے۔ یہی کافی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جاترا کے دوران بہت سے حادثات ہوتے ہیں، ہلاکتیں بھی ہو جاتی ہیں اور لوگ بڑی تعداد میں زخمی بھی ہوتے ہیں۔ خواتین کی بے حُرمتی کے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں۔

بہت سی اقوام اور نسلیں اپنا اپنا نیا سال مناتی ہیں۔ ہم بھی ایسا کرسکتے ہیں مگر نظم و ضبط کے ساتھ اور اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے۔ مشکل یہ ہے کہ اس قسم کے تہواروں کو مناتے وقت لوگ اخلاقی حدود کا خیال نہیں رکھتے۔ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔

سوال: کیا آپ یہ رائے رکھتے ہیں کہ مونگول اور شوبھاجاترا کے بارے میں تحفظات بے بنیاد ہیں؟

شَفیق الرَحمٰن: جی ہاں، اگر کہیں کچھ کمی ہے، کچھ خرابی ہے تو وہ دور کی جانی چاہیے، بس۔

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ غلام اعظم صاحب زبان کی لڑائی لڑنے والے سپاہی تھے۔ بنگالی کے تحفظ سے متعلق پہلا بڑا بیان انہوں نے جاری کیا تھا۔

سوال: جماعتِ اسلامی شریعت کے اصولوں کے مطابق کام کرنے والی حکومت قائم کرنے کی خواہش مند ہے۔ قانونی اعتبار سے غیرمسلموں کی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا مسلمانوں کے خلاف غیرمسلموں کی گواہی قبول کرلی جائے گی؟

شَفیق الرَحمٰن: کیوں نہیں؟ اگر غیر مسلم سچ بول رہا ہو اور مسلم جھوٹ تو غیرمسلم ہی کی بات مانی جائے گی۔

سوال: کیا مرد اور عورت دونوں کی گواہی برابر تسلیم کی جائے گی؟

شَفیق الرَحمٰن: دونوں کی گواہی یکساں اور برابر نہیں ہوسکتی اور اس کا سبب میں نے بیان کیا ہے کہ اللہ نے دونوں کی الگ الگ ذمہ داریاں متعین کی ہیں۔ دو خواتین کی گواہی مل کر ایک بنے اس میں اللہ نے حکمت رکھی ہے۔ اللہ نے سبب بھی بیان کیا ہے۔ ایک عورت دوسری عورت کی مدد کرسکتی ہے۔ گواہی کے معاملے میں مرد کے لیے ایسی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کا بھی گواہی کے حوالے سے یہی معاملہ ہوگا۔

اللہ کے اصول سب کے لیے یکساں ہیں۔ ہر انسان اللہ کی مخلوق ہے۔ اللہ کی ایک صفت عدل ہے۔ اللہ اپنی کسی بھی مخلوق کے معاملے میں عدل کی راہ سے ہٹ کر نہیں چل سکتا۔

اللہ نے ترکے کی تقسیم کے اصول بھی بیان فرمادیے ہیں۔ ترکے میں عورت کا ایک حصہ ہوتا ہے اور مرد کے دو۔ یہ اللہ کا طے کردہ نظام ہے اور ہمیں اِس پر عمل کرنا ہے۔ عورت کو باپ کے ترکے سے بھی ملتا ہے اور شوہر کے ترکے سے بھی۔ اس لیے کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اللہ نے عورت کے معاملے میں (نعوذ باللہ) عدل کا معاملہ نہیں کیا۔ چند ایک مذاہب ایسے ہیں جن میں عورت کا ترکہ ہے ہی نہیں۔ یہ کیونکر قابلِ قبول ہوسکتا ہے؟

۲۰۱۱ء میں بنگلا دیش میں خواتین کے حقوق اور ترقی کے حوالے سے پالیسی لائی گئی تھی جس میں مرد و زن کے لیے ترکے میں برابر کے حصے کی بات کی گئی تھی مگر پھر عوامی احتجاج کے خوف سے یہ پالیسی واپس لے لی گئی۔ ہم اسلام کے اصولوں کی روشنی میں اپنا موقف پیش کر رہے ہیں۔ اسلام جو کچھ چاہتا ہے، اُس کے تحت سبھی کے حقوق کا تحفظ ممکن ہے۔

میرا یہ بھی موقف ہے کہ فنونِ لطیفہ کے حوالے سے بھی اللہ کے طے کردہ اصولوں کا خیال رکھا جائے۔ جانداروں کی تصویریں بنانے کے بجائے فطری مناظر کی تصویریں بنائی جانی چاہئیں۔ اللہ کا فرمان ہے کہ جو لوگ جانداروں کے مجمسے بناتے ہیں، اُن سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ اپنے شاہکاروں میں روح پھونکیں۔

حالیہ طلبہ تحریک کے دوران لڑکوں اور لڑکیوں نے دیواروں پر فطری مناظر کی تصویر کشی کی۔ انہوں نے ملک کے حقیقی حسن کو اجاگر کیا ہے۔ لوگوں نے یہ تبدیلی پسند کی ہے۔ آپ کسی شخص کو دیکھ کر خوش یا ناخوش ہوسکتے ہیں مگر پھولوں، درختوں، بادلوں، دریاؤں، سمندروں، پہاڑوں وغیرہ کو دیکھ کر کبھی ناخوش نہیں ہوسکتے۔ اللہ نے کس مخلوق کو کیوں وجود بخشا ہے، یہ بس اُسی کو معلوم ہے۔ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ اللہ نے جو احکامات دیے ہیں، اُن کے مطابق زندگی بسر کرنی چاہیے اور فنونِ لطیفہ کو بھی اُن حدود کا خیال رکھنا چاہیے۔

ہم بنیادی طور پر اس بات کے حق میں نہیں کہ کسی بھی مذہب کے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جائے۔ کسی بھی چیز کو بگاڑنے، مسخ کرنے یا تباہ کرنے کا کسی کو کوئی اختیار نہیں۔ لوگ اپنے جذبات کے غلام ہوکر ایسا کر بیٹھتے ہیں۔ جذباتیت سے کبھی کوئی ڈھنگ کا کام نہیں ہو پاتا۔ اس سے صرف بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ جماعتِ اسلامی شریعت کے مطابق حکومت کرنے کے حق میں ہے۔ اس صورت میں آئین کی بہت سے دفعات متصادم ہوں گی۔ بات یہ ہے کہ آئین بدلتے رہتے ہیں۔ اِن میں ترامیم بھی ہوتی ہیں اور پورے کے پورے آئین بھی بدل دیے جاتے ہیں۔ اگر آئین میں کوئی چیز اللہ کے حکم کے مطابق نہ ہو تو اُسے اللہ کی مرضی کے تابع کیا جاسکتا ہے۔ انتخابی عمل کے ذریعے بہت کچھ تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ آئین کو پارلیمنٹ کے ذریعے بدلا جاتا ہے۔

سوال: بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے بیان سے آپ پریشان تو نہیں؟ بی این پی نے کہا ہے کہ ہم خیال جماعتوں سے اس کا اب کوئی اتحاد نہیں۔

شَفیق الرَحمٰن: ہاں، یہ سچ ہے۔ اس وقت کوئی سیاسی اتحاد نہیں۔ ہم خود بھی یہ بات کہتے رہے ہیں۔ ویسے کشیدگی یا تناؤ بھی نہیں ہے۔ معاملات درست چل رہے ہیں۔ بی این پی سے ہمارے تعلقات اچھے ہیں۔ ہمارے درمیان خیرسگالی اور گرم جوشی دیکھ کر میڈیا والے کبھی کبھی کچھ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے جماعتِ اسلامی اور بی این پی کے درمیان ٹھنی ہوئی ہے۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ جو کچھ میڈیا پر دکھایا جاتا ہے، وہ سب کا سب سچ نہیں ہوتا۔

سوال: بہت سے لوگ اس بات کے حق میں ہیں کہ عوامی لیگ کے الیکشن لڑنے پر پابندی لگادی جائے۔ آپ کا موقف کیا ہے؟

شَفیق الرَحمٰن: عوامی لیگ نے ثابت کردیا ہے کہ وہ انتخابی عمل پر یقین نہیں رکھتی۔ ۲۰۱۴ء میں عوامی لیگ نے ۱۵۴؍نشستیں جیتی تھیں۔ ۲۰۱۸ء میں رات گزرنے کا انتظار بھی نہیں کیا گیا اور انتخابی نتائج بدل دیے گئے۔ ۲۰۲۴ء میں ایسا منصوبہ تیار کیا گیا کہ اب کبھی الیکشن نہ ہو۔ پہلے عوامی لیگ کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ انتخابی عمل پر یقین رکھتی ہے۔

سوال: اسلامی جماعتیں اور اسلامی گروپ عربی، فارسی اور اردو کے الفاظ اور اصطلاحات استعمال کرنے کے عادی ہیں۔ اِن الفاظ اور اصطلاحات کے بنگالی مترادف بھی تو موجود ہیں۔ وہ کیوں استعمال نہیں ہوتے؟

شَفیق الرَحمٰن: بنگالی زبان کی سب سے بڑی چمپئن عوامی لیگ ہے۔ اس جماعت کے نام میں عوامی اردو کا ہے اور لیگ انگریزی کا۔ بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کا بھی یہی معاملہ ہے۔ خیر، لوگ معاملات کو اِس نظر سے نہیں دیکھتے۔ اُنہیں جو کچھ بھی اچھا لگتا ہے، اُسے اپنالیتے ہیں۔ معاشرے اِسی طور پروان چڑھتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ بنگالی میں عربی، اردو اور فارسی کے علاوہ انگریزی اور سنسکرت کے الفاظ بھی شامل ہیں۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

مشمولہ: معارف فیچر

تازہ مضامین

آبنائے ہرمز کی بندش نے سعودی عرب کی ’’ویژن ۲۰۳۰ء‘‘ کی حکمتِ عملی اور اس کے معاشی انقلاب کے منصوبوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف

دنیا یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ کہیں امریکا اور چین کے درمیان جنگ نہ چھڑ جائے۔ تاہم پوری کوشش کی جارہی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ بات سیدھی سی ہے کہ اگر دو

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول کے ایکسپو سینٹر کے باہر گاڑیوں کی قطاریں اس قدر طویل ہو چکی تھیں کہ بعض مندوبین نے ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بجائے اپنی گاڑیاں وہیں چھوڑ دیں اور

جس کے واقع ہونے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، وہ اب اختتام کی منزل تک پہنچتا دکھائی نہیں دے رہا۔ تیل کے عالمی تاجروں کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی

پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کے بڑے تناسب کو اس ملک کی ایک اہم طاقت اور برتری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔ جہاں بہت

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جس میں سہولتیں ہی سہولتیں ہیں اور بحران ہی بحران ہیں۔ قدم قدم پر کچھ نہ کچھ نیا ہے۔ ایک طرف انسان کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی