!شام کو درپیش معاشی مشکلات۔۔

۳۰ دسمبر کو شام کی عبوری حکومت نے مَیساء صابرین کو مرکزی بینک کی سربراہ مقرر کیا۔ وہ پہلے اس بینک کی نائب گورنر رہ چکی ہیں اور گورنر کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔ ان کی تقرری نے دو مثبت پیغامات دیے: اول، شام کے نئے حکمران تکنیکی ماہرین کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں، خواہ وہ بشارالاسد کی حکومت کا حصہ ہی کیوں نہ رہے ہوں۔ دوم، وہ عوامی زندگی میں خواتین کو نظرانداز نہیں کریں گے۔

وہ شعبہ جس کی قیادت مَیساء صابرین کر رہی ہیں، شامی معیشت کی طرح بُری طرح بدحالی کا شکار ہے۔ اندازہ ہے کہ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر صرف ۲۰ کروڑ ڈالر تک رہ گئے ہیں، جو ایک ماہ کی درآمدات کے لیے بھی ناکافی ہیں۔ مرکزی بینک مغربی پابندیوں کی زَد میں ہے اور شام کا سب سے بڑا تجارتی بینک بھی ان پابندیوں کا شکار ہے۔ ۲۰۱۱ء میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد سے شامی پاؤنڈ نے اپنی قدر کا ۹۹ فیصد کھو دیا ہے۔ ۱۳؍ہزار پاؤنڈ فی ڈالر کے موجودہ تبادلے کے نرخ پر بازار کے ایک مختصر دورے کے لیے بھی نوٹوں سے بھرے تھیلے درکار ہوتے ہیں۔

معاشی بدانتظامی اسد حکومت کا ایک نمایاں پہلو تھا، جو ۵۳ سال تک شام پر حکمران رہے۔ حافظالاسد، جو ۱۹۷۱ء سے ۲۰۰۰ء تک صدر رہے، ایک سوویت طرز کی منصوبہ بند معیشت کے خواہاں تھے۔ نجی بینک موجود نہیں تھے، درآمدات پر سخت پابندیاں عائد تھیں اور سرکاری صنعتیں غیرمؤثر تھیں۔ ان کے بیٹے بشارالاسد نے ایک زیادہ آزاد معیشت کا خیال پیش کیا، مگر یہ کوشش زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی۔ خانہ جنگی نے شام کو مزید بدحالی کی طرف دھکیل دیا۔ ۲۰۱۰ء میں شام کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) ۶۰؍ارب ڈالر تھی، جو آج ۹؍ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق، ۵۹ فیصد شامی باشندے روزانہ ۶۵ء۳ ڈالر سے کم پر گزارا کر رہے ہیں۔

شام کے نئے رہنماؤں کے لیے فوری چیلنج زرمبادلہ کا حصول ہے۔ تیل کی صنعت اس مسئلے کی عکاسی کرتی ہے۔ ۲۰۱۱ء تک شام روزانہ تقریباً ۴ لاکھ بیرل تیل نکالتا تھا، جو ملکی طلب سے زیادہ تھا۔ یہ اضافی تیل، جو زیادہ تر یورپ کو برآمد کیا جاتا تھا، شام کی ۱۲؍ارب ڈالر سالانہ برآمدات کا ۳۰ سے ۴۵ فیصد حصہ بنتا تھا۔ تاہم، جنگ کے آغاز کے بعد سے پیداوار کم ہو کر روزانہ ایک لاکھ بیرل سے بھی کم رہ گئی ہے۔

زراعت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ کبھی شام گندم کا برآمد کنندہ تھا، لیکن طویل خشک سالی نے کسانوں کو جنگ سے پہلے ہی مشکلات سے دوچار کر دیا تھا۔ ۲۰۱۰ء کے بعد سے گندم کی پیداوار تقریباً نصف رہ گئی ہے، اور اس سال شام کو اندازاً ۶ء۱؍ملین ٹن گندم درآمد کرنے کی ضرورت ہوگی۔ دیگر شعبے مکمل طور پر ختم ہوچکے ہیں، خاص طور پر سیاحت، جو سالانہ ۴؍ارب ڈالر فراہم کرتی تھی۔

جیسے جیسے جنگ طول پکڑتی گئی، اسد ڈالر کے لیے مزید بے چین ہوتے گئے۔ ان کی حکومت نے شامی پاؤنڈ کے علاوہ کسی بھی کرنسی کے استعمال کو جرم قرار دے دیا، جس کی سزا دس سال تک قید تھی۔ وہ کمپنیاں جو درآمدات کے لیے ڈالرز کی ضرورت مند تھیں، انہیں سرکاری کنٹرول والے تبادلہ مراکز سے حاصل کرنا پڑتا تھا، جہاں حکومت بڑی کٹوتی کرتی تھی۔ حکومت نے شہریوں کو لوٹنے کے لیے تخلیقی طریقے اختیار کیے۔ بیرون ملک سے آنے والے شامیوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ غیرموافق نرخوں پر ۱۰۰؍ڈالر کا تبادلہ کریں اور مردوں کو فوجی بھرتی سے بچنے کے لیے ہزاروں ڈالر ادا کرنے پر مجبور کیا گیا۔

عبوری حکومت نے اس قسم کی لوٹ مار کو ختم کر دیا ہے۔ تاہم اس کے پاس اچھے متبادل کم ہیں۔ ان تیل کے کنوؤں کی پیداوار بڑھانے میں وقت لگے گا جو کئی برسوں سے نظرانداز کیے جاتے رہے ہیں (سب سے بڑے کنویں ایک کرد ملیشیا کے کنٹرول میں ہیں، جو عبوری حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں)۔ جنگ نے زرعی ڈھانچے کو بھی وسیع نقصان پہنچایا ہے۔ سیاح بھی جلد واپس آنے والے نہیں ہیں۔

قلیل مدتی طور پر ملک کو اپنی بیرون ملک مقیم آبادی سے امداد اور ترسیلات زر پر انحصار کرنا ہوگا۔ حکام کو امید ہے کہ دوست عرب ریاستوں سے مرکزی بینک کے ذخائر بھی حاصل کیے جاسکیں گے۔ عبوری وزیر خارجہ، اسعد الشیبانی، اپنے پہلے غیرملکی دورے پر سعودی عرب جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ملک کے حکمران، احمد الشراء، کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے پچھلے ماہ ایک سعودی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’’شام کو اس بات کے لیے ایک سال درکار ہے کہ شہری واضح تبدیلیاں محسوس کریں‘‘۔ یہ اندازا شاید بہت زیادہ پُرامید ہے۔ شام کی معیشت کو بڑھانے کا سب سے واضح راستہ جنگ کے بعد تعمیرِنو کا آغاز ہے۔ ۱۴؍سال کی جنگ کے بعد نقصان کا اندازہ لگانا خاصا مشکل ہے۔ مثال کے طور پر، حلب جو شام کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ عالمی بینک کی ۲۰۲۲ء کی رپورٹ کے مطابق، اس کے ۶ لاکھ ۶۰ ہزار گھروں میں سے ایک لاکھ ۳۷ ہزار کو نقصان پہنچا، ۲۵ فیصد پل ناقابلِ استعمال ہیں، اور ۳۵ فیصد اسپتال متاثرہ حالت میں ہیں۔ اس کا بجلی گھر، جو شام کا سب سے بڑا بجلی گھر ہے، غیرفعال ہے۔ ان غیرفعال شعبوں کو درست کرنے سے لاکھوں شامیوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ مطلوبہ مہارت اور خام مواد ترکی سے آسکتا ہے، جس کے شام کے نئے حکمرانوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور اس کی تعمیراتی صنعت مضبوط اور سیاسی طور پر مستحکم بھی ہے۔ وہاں کے سرمایہ کار پُرامید ہیں۔ ترک سیمنٹ کمپنی ’’لیماک‘‘ کے حصص، اسد کے فرار کے بعد، ۱۷؍فیصد بڑھ چکے ہیں۔ لیکن ترکی کے لیے تعمیرِنو کے لیے رقم کی ادائیگی مشکل ہے، جس کی لاگت ۲۵۰؍ارب سے ۴۰۰؍ارب ڈالر کے درمیان ہوسکتی ہے۔ یہ رقم شاید امیر خلیجی ممالک سے حاصل کرنی پڑے گی۔ یہ دیکھنا مشکل ہے کہ امریکا زیادہ مدد کرے گا، یا یورپی یونین، جو پہلے ہی یوکرین جنگ کی وجہ سے دباؤ میں ہے۔ لیکن کچھ لوگ فکرمند ہیں کہ خلیجی ریاستیں اپنی پسندیدہ منصوبوں اور گروہوں کو فنڈز فراہم کریں گے۔

فی الحال، کسی کے لیے حکومت کو مالی وسائل فراہم کرنا مشکل ہوگا کیونکہ یہ سخت پابندیوں کی زد میں ہے۔ امریکا نے شام میں تقریباً ۷۰۰؍افراد اور کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر رکھا ہے۔ دیگر پابندیاں براہ راست ملک کو نشانہ بناتی ہیں۔ ۲۰۱۹ء میں کانگریس نے ’’سیزر ایکٹ‘‘ منظور کیا (جو ایک شامی فوجی منحرف کے نام پر رکھا گیا ہے جس نے حکومت کے مظالم کو دستاویزی شکل دی) جس کا ہدف توانائی اور تعمیرات کا شعبہ تھا۔ ’’ہیٔت التحریر الشام‘‘، جو ایک اسلامی تنظیم ہے اور جس کی قیادت الشراء کرتے ہیں، امریکا، برطانیہ، اور یورپی یونین نے اس پر دہشت گرد گروہ کے طور پر پابندی لگا رکھی ہے۔

ان میں سے کچھ اقدامات پر نظرثانی کی ضرورت ہوگی۔ ۲۰۱۱ء میں امریکا نے ’’سیریا ٹیل‘‘، جو کہ شام کی اہم موبائل فون کمپنی ہے، پر پابندی عائد کی کیونکہ یہ رامی مخلوف کی ملکیت تھی، جو حکومت کے اہم مالی معاون (اور اسد کے کزن) تھے۔

دو سال بعد اس نے ملک کی سب سے بڑی ایئر لائن کو ایرانی ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے الزام میں بلیک لسٹ کر دیا۔ اُس وقت یہ اقدامات مناسب لگتے تھے، لیکن آج یہ ضروری سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

امریکا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بہت سی پابندیوں پر نظرثانی کرنے کے لیے تیار ہے، جن میں الشراء کے سر پر رکھی گئی ۱۰؍ملین ڈالر کی انعامی رقم بھی شامل ہے۔ یورپی حکام نے بھی یہی وعدہ کیا ہے۔ لیکن شامیوں کو شکایت ہے کہ یہ عمل سست روی کا شکار ہے۔

امریکا کے ’’سیزر ایکٹ‘‘ نے ان شرائط کا خاکہ پیش کیا تھا جن کے ذریعے شام پابندیوں سے آزاد ہو سکتا تھا، جیسے کہ شہریوں پر بمباری کا خاتمہ اور سیاسی قیدیوں کی رہائی۔ ان میں سے زیادہ تر مطالبات پورے کیے جا چکے ہیں۔ لیکن ۲۳ دسمبر کو اسد کے فرار کے دو ہفتے بعد، جوبائیڈن نے ایک فوجی بجٹ بل پر دستخط کیے، جس نے اس ایکٹ کو ۲۰۲۹ء تک بڑھا دیا۔

(مترجم: محمودالحق صدیقی) “Syria’s new rulers have inherited an economic disaster”. (“The Economist”)

تازہ مضامین

آبنائے ہرمز کی بندش نے سعودی عرب کی ’’ویژن ۲۰۳۰ء‘‘ کی حکمتِ عملی اور اس کے معاشی انقلاب کے منصوبوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف

دنیا یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ کہیں امریکا اور چین کے درمیان جنگ نہ چھڑ جائے۔ تاہم پوری کوشش کی جارہی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ بات سیدھی سی ہے کہ اگر دو

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول کے ایکسپو سینٹر کے باہر گاڑیوں کی قطاریں اس قدر طویل ہو چکی تھیں کہ بعض مندوبین نے ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بجائے اپنی گاڑیاں وہیں چھوڑ دیں اور

جس کے واقع ہونے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، وہ اب اختتام کی منزل تک پہنچتا دکھائی نہیں دے رہا۔ تیل کے عالمی تاجروں کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی

پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کے بڑے تناسب کو اس ملک کی ایک اہم طاقت اور برتری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔ جہاں بہت

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جس میں سہولتیں ہی سہولتیں ہیں اور بحران ہی بحران ہیں۔ قدم قدم پر کچھ نہ کچھ نیا ہے۔ ایک طرف انسان کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی