اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ بیسویں صدی کے بڑے حصے پر امریکا کا راج رہا۔ اور اکیسویں صدی کے پہلے دو عشروں میں بھی امریکا ہی نے پوری دنیا کو اپنی مٹھی میں رکھا۔ یہ سب کچھ تب تک ممکن تھا جب تک ٹیکنالوجی کا بم نہیں پھٹا تھا۔ اب بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے۔ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کا غلغلہ ہے۔ امریکا کی تکنیکی بالادستی داؤ پر لگ چکی ہے۔ یورپ بھی اس معاملے میں غیرمعمولی یا قابلِ رشک پوزیشن میں نہیں رہا۔ اُسے اپنی فکر لاحق ہے۔ جو کچھ بھی یورپ کے ارد گرد ہو رہا ہے، وہ تمام ہی یورپی اقوام کو انتہائی خوفزدہ کرنے کے لیے کافی ہے۔
یورپ کے لیے ایک بار پھر بقا کا سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ امریکا نے یوکرین جنگ کے حوالے سے اب جو رویہ اپنایا ہے، وہ انتہائی خطرناک ہے کیونکہ صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ اگر یورپ کو بچاؤ کرنا ہے تو اپنے بل پر کرے۔ یوکرین کو دھمکانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے یورپ کو بھی دھمکایا ہے۔ روس کی طاقت اور جارحانہ مزاج سے پورے یورپ پر خوف طاری ہے۔ صدر ٹرمپ اس خوف کو کیش کرانا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلی کوشش کے طور پر انہوں نے یوکرین کے صدر کے سامنے ایک ڈیل کا خاکہ رکھا ہے۔ اس ڈیل کے تحت یوکرین کو تعمیرِنو کے لیے امریکا کی طرف سے ۵۰۰؍ارب ڈالر کا پیکیج مل سکتا ہے۔ جواب میں یوکرین کو اپنے قدرتی وسائل پر امریکی تصرف قبول کرنا ہوگا۔ امریکا چاہتا ہے کہ یوکرین کی سرزمین میں دبی ہوئی معدنیات جی بھر کر نکالی جائیں اور اُن سے امریکا کو مضبوط بنایا جائے۔ وہ جانتے ہیں کہ یوکرین کی بقا کا سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ روس اب بھی جنگ ختم کرنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دے رہا، بلکہ اب تو اُسے ٹرمپ کی شکل میں ایک اچھا دوست بھی مل گیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ دونوں ملکوں نے یوکرین کو ایک طرف ہٹاکر یوکرین جنگ کے حوالے سے سعودی عرب میں مذاکرات کیے ہیں۔ اِن مذاکرات پر ایک دنیا کو حیرت ہے اور بجا طور پر حیرت ہے۔ ان مذاکرات میں یوکرین کو شریک نہ کرنا انتہائی مشکوک اور خطرناک بات ہے۔ دونوں بڑی طاقتیں کیا طے کر رہی ہیں؟ صدر ٹرمپ نے جو لب و لہجہ اختیار کر رکھا ہے وہ انتہائی پُراسرار اور خطرناک ہے۔ یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنسکی نے امریکی ڈیل مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا جائے گا۔
بین الاقوامی تجارت اور مجموعی عالمی معیشت کے حوالے سے معاملات ایک عشرے پہلے کے معاملات کے مقابلے میں بہت مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔ دنیا بہت بدل گئی ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کسی نہ کسی سطح پر مل کر باقی ماندہ دنیا کو ابھرنے کا موقع دینے کے لیے تیار نہیں۔ پسماندہ ممالک کے مقدر میں تو شاید حالات کی چکی میں پِسنا لکھ دیا گیا ہے۔
ایک عشرہ قبل جو کچھ تھا، وہ اب دکھائی نہیں دے رہا۔ اقوامِ عالم کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ چند ایک ممالک اب بھی پُرانے ہتھکنڈوں کے ساتھ میدان میں ہیں۔ امریکا بھی اُن میں شامل ہے۔ وہ اب بھی دھونس دھمکی کے ذریعے کام نکالنے کے موڈ میں دکھائی دے رہا ہے۔ اس معاملے میں وہ کہاں تک کامیاب ہوسکتا ہے، اِس کے بارے میں پورے یقین سے کوئی بات نہیں کہی جاسکتی۔ امریکی قیادت اب بھی انیسویں اور اٹھارہویں صدی کے ہتھکنڈوں کو بروئے کار لانے پر بضد دکھائی دے رہی ہے۔ صدر ٹرمپ اقتصادی پابندیوں اور ٹیرف یعنی درآمدی ڈیوٹی کے ذریعے ایک دنیا کو خوفزدہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ ایسا کرنے سے امریکا کے لیے پیدا ہونے والی تمام معاشی مشکلات ختم ہوجائیں گی۔
دوسری بار امریکی صدر کا منصب سنبھالتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر برکس کے ارکان نے امریکی کرنسی یعنی ڈالر سے ہٹ کر کسی اور کرنسی میں کاروبار شرو ع کیا تو امریکا اُن پر ۱۰۰؍فیصد ٹیرف عائد کردے گا۔ (اب وہ ان ممالک پر ۱۵۰؍فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔) چین کی غیرعلانیہ قیادت میں کئی ممالک مل کر ایک ایسا مالیاتی نظام لانا چاہتے ہیں جو ڈالر سے دور ہو یعنی مغربی اقوام کے تصرف والے مالیاتی نظام کے مقابلے میں متوازی نظام لانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ روس اور چین اس معاملے میں قدم سے قدم ملاکر چل رہے ہیں۔ امریکی قیادت ڈالر کو خیرباد کہنے کا ارادہ رکھنے والے ملکوں کو دھمکاتی آئی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں رہی تھی۔ صدر بائیڈن نے بھی برکس کے ارکان کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ ڈالر سے خود کو الگ کریں گے تو اُن کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔
چین نے بارہا وضاحت کی ہے کہ برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقا پر مشتمل یہ تنظیم یعنی برکس کسی بھی معاملے میں محاذ آرائی کے لیے نہیں بنائی گئی۔ اس تنظیم یا بلاک کے قیام کا بنیادی مقصد چند ہم خیال ممالک کے درمیان دوستی، مفاہمت اور اقتصادی اشتراکِ عمل کو فروغ دینا ہے۔ چین کہتا ہے کہ یہ بلاک کسی کے خلاف نہیں کیونکہ اِس کا بنیادی مقصد کسی کو پچھاڑنا نہیں۔ اس بلاک کے ارکان آپس میں اپنی اپنی کرنسی کے ذریعے تجارت کرنا چاہتے ہیں۔
معاملہ یہ ہے کہ دنیا اب نہ تو ڈالر یا کسی اور کرنسی کی بالادستی قبول کرنے کے لیے تیار ہے اور نہ ہی وہ پابندیوں کے حوالے سے دی جانے والی دھمکیوں ہی کو خاطر میں لانے کے لیے تیار ہے۔ اس معاملے میں سب سے نمایاں مثال روس کی ہے جس نے کئی مواقع پر انتہائی نوعیت کے اقتصادی اقدامات کا سامنا کیا ہے مگر پھر بھی اپنی راہ سے ہٹنے کو تیار نہیں ہوا ہے۔ پہلے ۲۰۱۴ء میں اور اس کے بعد ۲۰۲۲ء میں امریکا اور یورپی یونین نے روس پر غیرمعمولی نوعیت کی اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔ اِن پابندیوں کا بنیادی مقصد روس کی معیشت کو انتہائی کمزور کرنا تھا مگر روس کسی نہ کسی طور سلامت رہا اور اُس نے علاقائی سطح پر اپنی پوزیشن بھی بہتر بنالی۔ یہ سب کچھ امریکا اور یورپ کے لیے انتہائی پریشان کن تھا۔ روس اگرچہ اب بھی عالمی معیشت میں پیچھے ہے مگر اُس نے اپنے لیے ایک اچھی لائف بوٹ تیار کرلی ہے۔ عالمی معیشت کے سمندر میں اٹھنے والے طوفانوں کا سامنا کرنے کی بھرپور تیاری کے ساتھ وہ میدان میں ہے۔ عالمی تجارت میں رقوم کی منتقلی کے لیے امریکا اور یورپ کا متعارف کرایا ہوا نظام SWIFT مستعمل ہے۔ روس نے اِس کے متبادل کے طور پر سسٹم فار ٹرانسفر آف فنانشل میسیجز یعنی ایس پی ایف ایس تیار کیا۔ ساتھ ہی ساتھ روس نے ۲۰۱۷ء میں Mir کے نام سے پے منٹ کارڈ بھی عالمی مارکیٹ میں پیش کیا۔ یہ کارڈ امریکا کے ویزا اور ماسٹر کارڈ کی طرز پر کام کر رہا ہے۔ اِن اقدامات سے روسی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے میں خاصی مدد ملی ہے۔ غیرمغربی اتحادی مثلاً ترکیہ، قازقستان اور مشرقِ وسطیٰ کے چند ممالک سے گہرے معاشی اور مالیاتی تعلقات قائم کرنے میں روس کو بہت مدد ملی ہے۔ اب روس کو ہر معاملے میں مغرب کے تیار کردہ یا اُس کے تصرف والے مالیاتی نظام پر انحصار پذیر نہیں ہونا پڑتا۔
امریکا نے ٹیکنالوجی تک ترکیہ کی رسائی بھی محدود کردی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ترکیہ کو امریکی لڑاکا ایف۔۳۵ طیاروں اور غیرانسان بردار طیاروں کی فراہمی کے علاوہ آلات اور مشینری کی فراہمی بھی محدود کرڈالی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ اب ترکیہ اِن میں بہت سی چیزیں اپنے وسائل سے تیار کررہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اُس نے مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں کے ممالک کو فوجی ساز و سامان کی فروخت بھی شروع کردی ہے۔ اس حوالے سے ترکیہ نے افریقا میں تیزی سے قدم جمانے کی منصوبہ سازی کی ہے۔
روس اور ترکیہ نے جس عمدگی سے امریکی اقدامات کے سامنے مزاحمت کی ہے، وہ برفانی تودے کے محض سِرے یا نوک کے مترادف ہے۔ اب مزید بہت سے اقوام چاہتی ہے کہ دنیا کے معاملات برابری کی بنیاد پر چلائے جائیں یعنی چند انتہائی مضبوط ممالک باقی دنیا کو مٹھی میں لینے کی کوشش نہ کریں اور دوسروں کو بھی ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے دیں۔ اس کے لیے ایسے نئے عالمی نظام کی ضرورت ہے، جس میں سب کے لیے احترام اور مساوات ہو یعنی زندہ رہنے کا بنیادی حق سب کے لیے ہو اور اپنے اپنے وسائل کی حدود میں رہتے ہوئے سبھی کو معاشی و معاشرتی استحکام سے ہمکنار ہونے کا موقع دیا جائے۔
گزشتہ برس برازیل میں جی۔۲۰ سربراہ کانفرنس ہوئی۔ اِس پہلی بار افریقی اتحاد کی تنظیم نے بھی مکمل رکن کی حیثیت سے شرکت کی۔ اب جی۔۲۰ محض چند ترقی یافتہ اور مضبوط ممالک کا اتحاد نہیں بلکہ یہ ایک نئے وژن کا حامل گروپ ہے جو دنیا کو بہت حد تک بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
برکس کے ارکان نے بھی عالمی تجارت کے اصولوں کو ازسرِنو ترتیب دینا اور اِس حوالے سے تحریک چلانا شروع کردیا ہے۔ یہ ممالک چاہتے ہیں کہ عالمی تجارت میں کوئی ایک یا چند بڑے ممالک تمام معاملات پر متصرف نہ ہوں بلکہ سب کو تجارت کے حوالے سے کھل کر کام کرنے کا موقع اور میدان دیا جائے۔ برکس کے ارکان نے باہمی تجارت کے لیے اپنی اپنی کرنسیوں کی طرف دیکھنا شروع کردیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ڈالر پر اُن کا انحصار زیادہ سے زیادہ کم ہو۔ برازیل اور چین کے درمیان تجارت اب اُن کی اپنی کرنسیوں میں ہوتی ہے۔ یہ اقدام امریکا کے لیے انتہائی پریشان کن ہے اور یورپی یونین بھی اس حوالے سے کم پریشان نہیں۔ بھارت اور چند دیگر علاقائی ممالک بھی اِنہی کے نقوشِ قدم پر چل رہے ہیں۔ مغربی دنیا نے عالمی مالیاتی نظام کے ذریعے دنیا بھر کی تجارت کو اپنی مٹھی میں لے رکھا ہے۔ چین، روس اور دیگر برکس ارکان نے اس بالادستی کو ختم کرنے کی طرف قدم بڑھانا تیز کردیا ہے۔ دی برکس نیو ڈیویلپمنٹ بینک نے مالیاتی منصوبوں کو مقامی کرنسیوں میں آگے بڑھانے کا عمل تیز کردیا ہے تاکہ مغربی مالیاتی اداروں پر انحصار کم کیا جاسکے۔ ساتھ ہی ساتھ برکس کے ارکان اپنا بلاک چَین پے منٹ سسٹم تیار کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ یہ محض کوئی سیاسی بیان نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ تصور ہے۔ دنیا نے ڈالر کی بنیاد پر کھڑے ہوئے نظام کو کئی بار لڑکھڑاتے اور گرتے ہوئے دیکھا ہے۔ عالمی مالیاتی نظام اور عالمی معاشی ڈھانچے پر جب بھی بحرانی کیفیت طاری ہوتی ہے تب بیسیوں معیشتیں ڈانواڈول ہونے لگتی ہیں۔
۲۰۰۸ء کا عالمگیر مالیاتی بحران ہو یا کووِڈ کے ہاتھوں پیدا ہونے والی کساد بازاری، اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ڈالر پر بہت زیادہ بھروسا کرنا کسی بھی اعتبار سے دانشمندی نہیں۔ اس میں خطرات بہت زیادہ ہیں۔
ویسے چین، روس، برازیل اور برکس کے دیگر ارکان کے اقدامات کا مقصد ڈالر کو ختم کرنا نہیں ہے۔ ایسا کرنے سے عالمی مالیاتی نظام بہت زیادہ خرابی کا شکار ہے اور اِس کے نتیجے میں پہلے ہی بحرانی کیفیت کا شکار مالیاتی منڈیوں کی حالت مزید خراب ہوجائے گی۔ ڈالر پر انحصار اس لیے کم کیا جارہا ہے کہ دیگر کرنسیوں کو بھی عالمی مالیاتی نظام میں جگہ مل سکے۔ یورپ اور امریکا کی کرنسیوں سے ہٹ کر چینی، جاپانی، روسی، بھارتی، سعودی، اماراتی اور کویتی کرنسی کے لیے بھی پنپنے کی گنجائش ہونی چاہیے۔ ترکیہ ایک مضبوط ملک ہے۔ اُس کی کرنسی کو بھی اس بات کا حق حاصل ہے کہ عالمی مالیاتی نظام میں اُس کی پوزیشن مضبوط ہو۔ پوری دنیا کی تجارت کو ڈالر سے باندھے رکھنا کسی بھی اعتبار سے عقل کا سَودا نہیں۔ اس صورت میں امریکا کی پالیسیاں بھی پوری دنیا کو جھیلنی پڑتی ہیں۔ ڈالر کے استحکام کا امریکی حکومت بھرپور فائدہ اٹھاتی ہے۔
اگر کوئی ایک بڑی کرنسی ناکام ثابت ہوتی ہے تو دنیا بھر کے ممالک کو اپنی اپنی کرنسی میں یا پھر متبادل کرنسیوں میں تجارت کرنا ہوگی۔ ایک کرنسی پر انحصار کرنے کی صورت میں بہت کچھ الٹ پلٹ سکتا ہے اور ایسا ہوتا رہا ہے۔ امریکی ڈالر پر مکمل انحصار نے دنیا کو کئی بار بحرانی کیفیت سے دوچار کیا ہے۔ ڈالر کا بہت زیادہ استحکام بھی مسائل پیدا کرتا ہے۔ ڈالر کی قدر میں گراوٹ بھی مشکلات کو جنم دیتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سے تبدیلی کو واقع ہونا ہے۔ ایک کرنسی کے تصرف اور تسلط کا زمانہ گزر چکا ہے۔ اب عالمی تجارت کے لیے ایک ایسا مالیاتی نظام درکار ہے جس میں کئی کرنسیاں ساتھ ساتھ کام کریں اور اُن کے درمیان پورا توازن برقرار رکھنے پر توجہ دی جاتی رہے۔ چین کی کرنسی ریمنبی بہت تیزی سے بین الاقوامی سطح پر اہمیت حاصل کرتی جارہی ہے۔ اب آئی ایم ایف نے اُسے اسپیشل ڈرائنگ رائٹس باسکٹ کا حصہ بھی بنادیا ہے۔ روس کا میر سسٹم بھی بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ دنیا بھر میں اس سسٹم کو قبولیت مل رہی ہے، لوگ اِس پر اعتماد کر رہے ہیں۔ ایشیا کی سطح سے شروع ہونے والا یہ نظام اب پوری دنیا میں اپنایا جارہا ہے۔ برکس کی حدود سے باہر کے ممالک بھی میر سسٹم کی اہمیت کو محسوس کر رہے ہیں۔ وہ بھی اب مقامی کرنسیوں میں کاروبار کر رہے ہیں تاکہ ڈالر پر انحصار کم کیا جاسکے۔
اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اب دھمکی اور پابندیاں قابلِ اعتماد ہتھیار نہیں ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اب ایسے اقدامات سے صرف منفی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ امریکا نے ڈالر کو زیادہ مضبوط بنانے اور باقی دنیا پر اُسے مسلط کرنے کی جتنی بھی کوششیں کی ہیں، اُن کے نتیجے میں دنیا بھر میں ڈالر سے نجات پانے کی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔ ڈالر کو سب سے بڑی کرنسی کے طور پر برقرار رکھنے کی امریکی کوششوں نے ایک دنیا کو دیگر کرنسیوں کی طرف متوجہ ہونے کی تحریک دی ہے۔
بہت سے ممالک اب ڈالر کو بیچ میں لائے بغیر اپنی اپنی کرنسیوں میں کاروبار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ امریکا کی طرف سے کیا جانے والا ہر اقدام باقی دنیا کو متبادل ذرائع کی طرف دھکیلنے کا ذریعہ بنا ہے۔ یہ بات اب امریکی پالیسی ساز بھی محسوس کر رہے ہیں۔ امریکی اقدامات کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایسی کوششیں شروع ہوئی ہیں جن کا بنیادی مقصد عالمی مالیاتی نظام میں زیادہ سے زیادہ توازن پیدا کرنا ہے۔
ہم ۲۰۲۵ء میں جی رہے ہیں۔ اب یہ بالکل واضح ہوچکا ہے کہ کسی ایک کرنسی کی بنیاد پر کام کرنے والا عالمی مالیاتی نظام محض فرسودہ نہیں ہوچکا بلکہ خطرناک بھی ہے۔ ایک کرنسی کی بنیاد پر کام کرنے والا نظام بہت سے مواقع پر انتہائی نازک اور ہدف پذیر ثابت ہوا ہے۔ ایسے میں جب بحرانی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو اُس میں محض شدت نہیں ہوتی بلکہ اُس کا دورانیہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ماضی میں جو کچھ ہوا، وہ سب کچھ اب بھلا دیے جانے کے قابل ہے۔ ماضی کا ہر نظام محض سبق سیکھنے کے لیے ہے، اپنانے کے لیے نہیں۔ دنیا بھر کے سیاسی قائدین کی توجہ اب اس بات پر ہونی چاہیے کہ عالمی مالیاتی نظام متوازن ہو، منصفانہ ہو اور سب کو برابری کے مواقع دینے کی گنجائش پیدا کرتا ہو۔
(مترجم: محمد ابراہیم خان)
جیسیکا دُردُو بین الاقوامی امور کی ماہر اور چائنا فارن افیئرز یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔ وہ چائنا گلوبل ٹیلی وژن نیٹ ورک کے لیے خصوصی مبصر کی حیثیت سے حالاتِ حاضرہ پر لکھتی ہیں۔
“Why threats, sanctions and one-currency dominance are past their prime”. (“China Global Television Network”. January 25, 2025)