بھارت اور یورپ میں پنپتی تجارتی رفاقت

ایک زمانے سے بھارتی قیادت اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ امریکا کے ساتھ ساتھ یورپی یونین سے بھی غیرمعمولی تجارتی شراکت داری قائم کرے اور اس کا حجم اِتنا ہو کہ طے کرنا مشکل ہوجائے کہ امریکا بڑا تجارتی پارٹنر ہے یا یورپی یونین۔ امریکا اور یورپی یونین کو بھی اس بات کا بخوبی علم ہے کہ بھارت بیک وقت کئی کشتیوں میں پیر رکھے سفر کرتا ہے۔ ایک طرف وہ مغربی طاقتوں کی ہم نوائی کرتا ہے اور دوسری طرف اُسے روس اور چین سے بھی اپنی تجارت داؤ پر لگانے کا کوئی شوق نہیں۔ چین اور بھارت کے درمیان تجارت بہت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے اور کچھ ایسا ہی معاملہ روس کا بھی ہے۔ یوکرین جنگ کے باوجود بھارت نے روس کو ناراض نہیں کیا اور دوسری طرف یوکرین کو بھی آسرا دیا ہے کہ اُس کا کوئی حقیقی ہمدرد ہے تو بس بھارت اور اُس کے عوام ہیں۔

یورپی یونین کے لیے بھی بہت سی مشکلات محض موجود نہیں ہیں بلکہ پنپ بھی رہی ہیں۔ امریکا کی پالیسیوں میں پائے جانے والے عدمِ تسلسل کے باعث یورپی یونین کے ارکان کو بھی فکر لاحق ہے کہ کسی نہ کسی طور ہر معاملے میں امریکا پر انحصار کرنے کی پالیسی سے گریز کیا جائے اور ایسے تجارتی شراکت دار تلاش کیے جائیں جن کی مدد سے معیشتوں کو مضبوط رکھنا ممکن اور آسان ہوسکے۔ یورپی یونین کے ارکان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ امریکا کے ساتھ ساتھ رہنے میں ہمیشہ فائدہ نہیں، کبھی کبھی بہت بڑے خسارے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ یورپی یونین کے ارکان دنیا بھر میں مضبوط تجارتی شراکت دار تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں میں لچک بھی کم ہے اور تیقن کا بھی فقدان ہے۔ کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ وہ کب کون سا قدم اٹھائیں، کون سا ’’یوٹرن‘‘ لے لیں۔ ایسے میں یورپی یونین کو ایسے حلیف درکار ہیں جن پر بھروسا کیا جاسکے اور جن سے طویل المیعاد رفاقت یقینی بنائی جاسکے۔ ساتھ ہی ساتھ یورپی یونین کے ارکان چین پر انحصار بھی گھٹانا چاہتے ہیں۔ چین نے یورپی منڈی میں قدم جما رکھے ہیں مگر ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہت سی چیزیں اتنی کم قیمت پر فراہم کرتا ہے کہ یورپی مینوفیکچررز کے لیے مقابلہ ناممکن سا ہو جاتا ہے۔

اِس وقت امریکا اور یورپی یونین، دونوں ہی بھارت کے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر ہیں۔ یورپی یونین نے اپنی مارکیٹ میں بھارتی رسائی کی توسیع کردی ہے۔ اس وقت بھارت کی مجموعی تجارت (۱۲۴؍ارب یورو) کا ۲ء۱۲؍فیصد یورپی یونین سے ہے۔ یہ حقیقت بھارتی قیادت کے لیے بہت حوصلہ افزا اور خوش کُن ہے۔ مودی سرکار نے یورپی یونین کی مجموعی مارکیٹ میں قدم اور مضبوطی سے جمانے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔ ٹیرف کے معاملات کو سنجیدگی سے درست کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔

بھارتی مصنوعات کے لیے ویسے تو دنیا بھر میں منڈیاں موجود ہیں مگر امریکا اور یورپی یونین سب سے بڑی منڈیاں ہیں۔ بھارت کی برآمدات میں یورپی یونین کا حصہ ۵ء۱۷؍فیصد ہے جبکہ امریکا کے لیے یہ حصہ ۶ء۱۷؍فیصد ہے۔ چین کا حصہ ۷ء۳؍فیصد تک ہے۔

بھارت اس وقت یورپی یونین کا نواں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ یورپ جو مصنوعات درآمد کرتا ہے، اُن کا ۲ء۲؍فیصد بھارت سے آتا ہے۔ امریکا کی درآمدات میں بھارت کا حصہ ۷ء۱۶؍فیصد، چین کا ۶ء۱۴؍فیصد اور برطانیہ کا ۱ء۱۰؍فیصد ہے۔

بھارت چاہتا ہے کہ یورپی یونین کے لیے اُس کی برآمدات اِس قدر ہوجائیں کہ وہ اس خطے کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن جائے۔ یہی سبب ہے کہ بھارتی قیادت یورپی یونین کے ارکان کو زیادہ سے زیادہ متوجہ کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، پالیسیاں بدل رہی ہے، مختلف معاملات میں رعایتیں بھی دی جارہی ہیں، یورپی اداروں کو بھارت میں کام کرنے کی دعوت بھی دے رہی ہے کہ تجارتی تعلقات کی سطح معقول اور اطمینان بخش حد تک بلند کی جاسکے۔ اِن کوششوں کے نتیجے میں ایک عشرے کے دوران اشیا کی شکل میں یورپی یونین اور بھارت کے درمیان تجارت میں ۹۰ فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

بھارت اور یورپی یونین نے خدمات کی شکل میں بھی کاروباری اشتراکِ عمل بڑھانے پر تیزی سے اور معقول حد تک توجہ دی ہے۔ فریقین خدمات کے شعبے کو بھی آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ۲۰۲۰ء میں خدمات کے شعبے میں فریقین کے درمیان تجارت ۳۰؍ارب ۴۰ کروڑ یورو تھی اور ۲۰۲۳ء میں ۵۹؍ارب ۷۰ کروڑ یورو ہوگئی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فریقین میں ایک دوسرے پر بھروسا کس قدر ہے اور وہ کس قدر تیزی سے تجارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ یورپی ادارے بھارت میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ اپنے پلانٹ لگانے پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ یورپ کے مالیاتی اداروں نے بھارت سے اشتراکِ عمل تیز کردیا ہے۔ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کے حوالے سے تیزی سے پنپتے ہوئے اعتماد کی فضا امریکا اور چین دونوں ہی کے لیے انتہائی پریشان کن ہوسکتی ہے۔ بھارت بڑا مینوفیکچرر ہے۔ اگر یورپی یونین کا اُس پر ایسا ہی بھروسا قائم رہا تو چین جیسے بڑے مینوفیکچرر کے لیے بھی مسائل پیدا ہوں گے کیوں کہ اُس کے لیے بھارت اور یورپی یونین دونوں ہی بڑی منڈیاں ہیں۔ یورپ ایک مدت سے چین پر منحصر رہا ہے اور چین چاہتا ہے کہ یہ انحصار قائم رہے اور پروان چڑھے۔

بھارت اور یورپی یونین کے درمیان مختلف سطحوں پر ایسا اشتراکِ عمل بھی ہے جس کے بارے میں دنیا زیادہ نہیں جانتی اور یہ دونوں بھی اِس معاملے میں زیادہ بڑھ چڑھ کر بولنا پسند نہیں کرتے۔ امریکا اور چین دونوں ہی کے لیے البتہ یہ امر تشویشناک ہے کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ملازمتوں کا معاملہ بھی ہے۔ اس وقت یورپ کے کم و بیش ۶ ہزار صنعتی، تجارتی اور مالیاتی ادارے بھارت میں فعال ہیں۔ ان اداروں کی موجودگی سے بھارت کے کم و بیش ۱۷؍لاکھ باشندوں کو براہِ راست اور ۵۰ لاکھ سے زائد کو بالواسطہ روزگار ملا ہوا ہے۔ اگر بھارت اور یورپی یونین کے درمیان کاروباری معاملات بگڑ جائیں تو بھارت میں کم و بیش ڈیڑھ پونے دو کروڑ افراد کے لیے گزر بسر مشکل ہو جائے۔

یورپی یونین نے ادارے کی سطح پر اور اُس کے ارکان نے انفرادی حیثیت میں بھارت کو سرمایہ کاری کے مرکز کی حیثیت سے مستحکم تر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ بھارت کی اسٹاک مارکیٹ میں یورپی یونین کے ارکان کی طرف سے کی جانے والی بلا واسطہ بیرونی سرمایہ کاری ۲۰۲۲ء میں ۱۰۸؍ارب ۳۰ کروڑ یورو تک پہنچ گئی جبکہ ۲۰۱۹ء میں یہ معاملہ ۸۲؍ارب ۳۰ کروڑ یورو تک تھا۔ اس کے نتیجے میں یورپی یونین بھارت میں نمایاں بلاواسطہ بیرونی سرمایہ کار کے طور پر ابھری ہے۔ یہ سب کچھ دونوں ملکوں کے کاروباری تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔

بھارتی قیادت اچھی طرح جانتی ہے کہ یورپی یونین کے ارکان نے سرمایہ کاری کے معاملے میں چین اور برازیل پر زیادہ توجہ دی ہے۔ عالمی کاروباری ماحول کے حوالے سے بھارت کا بہت غلغلہ رہتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ برازیل نے اُسے پریشان کن حد تک ٹکر دے رکھی ہے۔ یورپی یونین کے ارکان کی طرف سے برازیل میں کی جانے والی بلاواسطہ سرمایہ کاری ۲۹۳؍ارب ۴۰ کروڑ یورو ہے جبکہ چین میں یہ سرمایہ کاری ۲۴۷؍ارب ۵۰ کروڑ یورو کے مساوی ہے۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سرمایہ کاری کے حوالے سے بھارت اب بھی یورپی یونین کی اولین ترجیح نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ بھارتی قیادت اپنی کاروباری کمیونٹی کو یورپ میں مزید وسعت اختیار کرنے اور قدم جمانے کی تحریک دیتی رہتی ہے اور معاملہ یہیں تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ اس حوالے سے پالیسیاں بھی تبدیل کی جاتی رہی ہیں۔

بھارت اور یورپی یونین رواں سال آزاد تجارت کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گے۔ یہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا معاہدہ ہوگا۔ اِس کے نتیجے میں ۴۵ کروڑ نفوس پر مشتمل مارکیٹ ایک ارب ۴۰ کروڑ نفوس پر مشتمل مارکیٹ سے جُڑ جائے گی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایسے کسی بھی معاہدے کے نتیجے میں دنیا بھر میں کاروباری ماحول پر کس نوعیت کے اثرات مرتب ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت اور یورپی یونین کا ایک پلیٹ فارم پر آجانا عالمی تجارت میں غیرمعمولی تبدیلیوں کا محرک بنے گا کیونکہ کئی ملکوں کی معیشت متاثر ہوگی۔ ایسے کسی بھی معاہدے کے نفاذ کی صورت میں امریکا، چین، برازیل اور دوسرے بہت سے بڑے مینوفیکچررز کے لیے اپنی اپنی معاشی حرکیات کو تبدیل کرنا ناگزیر ہوجائے گا۔ چین کی برآمدی تجارت میں کمی واقع ہونے سے مینوفیکچرنگ سیکٹر سُکڑے گا اور یوں دوسرے بہت سے شعبے بھی دباؤ کا شکار ہوجائیں گے۔

بھارت اور یورپی یونین دونوں ہی کی خواہش ہے کہ آزاد تجارت کا معاہدہ جلد از جلد ہو جائے تاہم دونوں ہی کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں۔ یورپی یونین چاہتی ہے کہ اُس کی ۹۵ فیصد برآمدات پر ٹیرف ختم کردیا جائے۔ اِن میں زراعت اور آٹو موبائلز جیسے حساس شعبے بھی شامل ہیں۔ بھارت اپنی ۹۰فیصد مارکیٹ کھولنا چاہتا ہے۔

بھارت یورپی یونین کے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکینزم (سی بی اے ایم)، جنگلات کے کٹاؤ کی روک تھام سے متعلق قوانین اور سپلائی چَین سے متعلق قوانین کو اپنی تجارت کی راہ میں نان ٹیرف رکاوٹوں کے طور پر دیکھتا ہے۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Strengthening the EU-India relationship”. (“The Globalist”. March 14, 2025)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں