نوٹ: دنیا بھر کے پسماندہ اور ترقی پذیر معاشروں سے ترقی یافتہ معاشروں کی طرف نقل مکانی عشروں سے جاری ہے اور اِس کی رفتار میں کمی واقع ہونے کا کوئی واضح امکان بھی نہیں۔ ایک زمانے سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگ امریکا، کینیڈا، یورپ، آسٹریلیا اور جاپان وغیرہ کا رُخ کر رہے ہیں۔ ترکِ وطن بالعموم خوشحالی یقینی بنانے کے لیے ہوتا ہے۔ پسماندہ معاشروں کے باصلاحیت افراد کو جب اپنے معاشروں میں امکانات دکھائی نہیں دیتے تو وہ ترقی یافتہ معاشروں کا رُخ کرتے ہیں تاکہ وہاں اپنے لیے بہترین امکانات تلاش کرسکیں۔ ترقی یافتہ معاشروں کا حصہ بننے کے بعد آگے بڑھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔
ترقی یافتہ دنیا کو معیاری افرادی قوت کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔ اس کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ ان معاشروں میں ایسی بہت سی تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں جن کے نتیجے میں افرادی قوت کی ضرورت بڑھتی رہتی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں رفتہ رفتہ شرحِ پیدائش گرتی چلی جاتی ہے۔ جواں سال افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی کمی کے باعث یہ معاشرے افرادی قوت درآمد کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ترکِ وطن کرکے آنے والوں کو بالعموم ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے کیونکہ جب تک یہ باضابطہ شہری نہیں بن جاتے تب تک اِنہیں معقول اُجرت نہیں دینا پڑتی اور یوں آجروں کو زیادہ منافع کمانے کا موقع ملتا ہے۔
امریکا اور یورپ کو اس وقت بہت بڑے پیمانے پر افرادی قوت کی ضرورت ہے مگر ساتھ ہی ساتھ، معیشت کی بدلتی ہوئی نوعیت کے باعث، تارکینِ وطن کی آمد کو عوامی سطح پر زیادہ پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ ترقی یافتہ معاشروں کے باشندے یہ سمجھتے ہیں کہ باہر سے آنے والے یعنی تارکینِ وطن اُن کے حق پر ڈاکا ڈال رہے ہیں۔ جب سستی افرادی قوت میسر ہو تو آجر اپنے ہم وطنوں کو ترجیح دینا ترک کردیتے ہیں۔
امریکا اور یورپ میں اس وقت تارکینِ وطن کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ امریکا میں معاملہ یہ ہے کہ تارکینِ وطن کے معاملات ہی نے حالیہ صدارتی انتخابی مہم کے دوران اِس حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پوری انتخابی مہم کے دوران تارکینِ وطن کے خلاف پائے جانے والے جذبات کو بھرپور طور پر کیش کرانے کی کوشش کی اور اِس میں نمایاں طور پر کامیاب ہوئے۔ چائنا گلوبل ٹیلی وژن نیٹ ورک کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے زیرِنظر مضمون میں اِسی حوالے سے امریکی پالیسی سازوں کی بدلتی ہوئی ترجیحات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
Anthony Moretti
انتخابی نتائج امریکا میں تارکینِ وطن سے متعلق بحث کی تمام پیچیدگیوں کی تفہیم میں بھی مدد نہیں دے سکتے اور اِس پورے معاملے پر محیط بھی نہیں ہوسکتے۔ ہاں، اس حوالے سے مرتب ہونے والا مواد اور اعداد و شمار بہت حد تک ہماری رہنمائی ضرور کرسکتے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں سے ہمیں معاشرے کے رجحانات کا پتا چلتا ہے۔ یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اعداد و شمار اگر واقعی متعلق ہوں یعنی صورتحال کو بیان کرتے ہوں تب بھی تارکینِ وطن کے حوالے سے عام امریکیوں کے ردِعمل یا جذبات و احساسات کو پوری طرح بیان کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ مرد، خواتین اور بچے، بالخصوص وسطی امریکا کے ممالک سے، ریاست ہائے متحدہ امریکا میں داخل ہونے کا خواب دیکھتے رہتے ہیں مگر انہیں کھلے دروازے نہیں ملتے اور گرمجوشی سے خیرمقدم بھی نہیں کیا جاتا۔
امریکی کہتے ہیں کہ وہ ترکِ وطن کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور امریکا آنے والوں کا خیرمقدم بھی کرتے ہیں مگر سچ یہ ہے کہ اس حوالے سے ماضی کا جوش و خروش مٹتا جارہا ہے۔ اس وقت بھی کم و بیش ۶۴ فیصد امریکی ترکِ وطن کو پسند کرتے ہیں یعنی امریکا آنے والے تارکینِ وطن کو مثبت طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ اس تصور کو پسند بھی کرتے ہیں اور دنیا کو بتانا بھی چاہتے ہیں کہ امریکا خوابوں کی سرزمین ہے، یہ امکانات کا جہان ہے جہاں کہیں سے بھی کوئی باصلاحیت فرد آکر اپنی مرضی کی زندگی تراش سکتا ہے۔ امریکا کو ایک طویل مدت سے ایک ایسی سرزمین کے طور پر دیکھا جارہا ہے جہاں دنیا کے ہر فرد کے لیے بھرپور محنت اور بھرپور معاوضے کی گنجائش ہے اور یہ بھی کہ کوئی کہیں سے بھی آکر اپنی مرضی کے مطابق جی سکتا ہے، مرضی کے مطابق کام کرسکتا ہے۔ نیو یارک میں مجسمۂ آزادی کے قدموں میں جو کچھ لکھا ہوا ہے، اُس کا مفہوم یہ ہے کہ امریکا ایک آزاد دنیا ہے جو سب کے لیے ہے۔ ایسے میں یہ بات بہت افسوسناک ہے کہ امریکیوں کے لیے دل میں تارکینِ وطن کے لیے گنجائش گھٹتی جارہی ہے۔ ۲۰۲۰ء میں ۷۷ فیصد امریکی باشندے تارکینِ وطن کو مثبت نظر سے دیکھتے تھے۔ ۲۰۲۱ء میں یہ تناسب ۷۵ فیصد ہوا، ۲۰۲۲ء میں ۷۰ فیصد ہوا، ۲۰۲۳ء میں ۶۸ فیصد ہوا اور بالآخر گزشتہ برس یہ تناسب ۶۴ فیصد کی منزل پر آگیا۔
رائے عامہ کا جائزہ لینے والے معروف ادارے گیلپ نے اعداد و شمار کے مختلف گروپس کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ امریکا میں ری پبلکنز کی طرح ڈیموکریٹس اور غیرجانبدار امریکیوں میں بھی تارکینِ وطن کے لیے حمایت کا گراف نیچے آیا ہے۔ اس کا ایک بنیادی سبب یہ بھی ہے کہ وفاقی حکومت میکسیکو کی سرحد سے میکسیکن اور دیگر غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد روکنے میں بہت حد تک ناکام رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکا میں جاب مارکیٹ خراب ہوئی ہے۔ امریکی شہریوں کو معقول معاوضے والی ملازمتوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بیشتر امریکیوں میں یہ توانا احساس پایا جاتا ہے کہ غیرقانونی تارکینِ وطن اُن کی ملازمتیں کھا جاتے ہیں۔ بے روزگاری کا گراف بلند ہونے سے امریکی شہریوں میں بدحواسی بھی بڑھتی ہے۔
ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ معاشی معاملات میں غیریقینیت کے باعث معاشرے میں تقسیم اور بگاڑ کا گراف بلند ہوتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اِسی کیفیت کا فائدہ اٹھایا۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے عوام کے دلوں میں تارکینِ وطن کے حوالے سے پائے جانے والے اشتعال اور ناپسندیدگی کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور تارکینِ وطن کے خلاف ایک لہر سی پیدا کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی سرحدوں پر تارکینِ وطن کے حوالے سے بحران موجود تھا۔ اس بحران کا گراف اگرچہ زیادہ بلند نہ تھا مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے خاصی مہارت سے صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے وعدہ کیا کہ اگر وہ دوبارہ صدر کے منصب پر فائز ہوئے تو تمام غیرقانونی تارکینِ وطن کو نکال باہر کریں گے اور یہ بھی کہ اگر اِس کے لیے انہیں فوج سے مدد لینا پڑی تو ایسا کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ انتخابی مہم کے دوران کہا گیا کہ یہ امریکا سے تارکینِ وطن کو نکالنے کا سب سے بڑا آپریشن ہوگا۔ کسی بھی طرف جھکاؤ پیدا کرلینے والے ووٹرز کے لیے یہ بات بہت دلکش تھی۔ تارکینِ وطن کی آمد سے بہت سے امریکیوں کو روزگار کے معاملے میں مشکلات کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے تارکینِ وطن کے خلاف جو کچھ بھی کہا تھا وہ بیشتر امریکیوں کے دل کی آواز تھا۔ تارکینِ وطن کی آمد سے بے روزگار ہونے والے امریکیوں میں ری پبلکن بھی تھے اور ڈیموکریٹ بھی۔ سوئنگ ووٹرز کو کسی ایک بڑے مسئلے کی بنیاد پر اپنی طرف کیا جاسکتا ہے۔ تارکینِ وطن کا مسئلہ گرم لوہے کی مانند تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اِس پر چوٹ ماری اور اِسے اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال لیا۔
سوئنگ ووٹرز کا عمومی سطح پر یہ خیال تھا کہ جوبائیڈن تارکینِ وطن کے معاملے کو ڈھنگ سے نمٹانے میں ناکام رہے۔ کسی ایک پارٹی کی طرف واضح جھاؤ نہ رکھنے والے بیشتر ووٹروں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا۔ اُنہیں ایسا لگتا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی اُن کے حقوق کی پاسداری کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
لیکن کیا واقعی جوبائیڈن تارکینِ وطن کے معاملے میں ناکامی سے دوچار ہوئے تھے؟ برطانوی اخبار ’’انڈی پینڈنٹ‘‘ کے ایک تجزیے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں امریکا سے ۱۲؍لاکھ غیرقانونی تارکینِ وطن کو نکالا گیا تھا جبکہ جوبائیڈن کے چار سالہ دورِ صدارت میں امریکا سے نکالے جانے والے غیرقانونی تارکینِ وطن کی تعداد ۶ لاکھ ۵۰ ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ سرحدوںکی صورتحال اور قومی سلامتی کے معاملات کا جائزہ لینے کے حوالے سے غیرقانونی تارکینِ وطن کی ملک بدری تو محض ایک معیار یا پیمانہ ہے۔ بہت سے غیرقانونی تارکینِ وطن کو سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کرکے واپس بھیجا گیا۔ بہت سے رضاکارانہ طور پر واپس گئے جبکہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران بھی لاکھوں تارکینِ وطن کو امریکا میں داخل ہونے سے روکا گیا۔ معاملہ اُتنا سادہ سا نہیں جیسا کہ ہمیں دکھائی دیتا ہے۔ امریکا میں غیرقانونی تارکینِ وطن بہت بڑی تعداد میں آتے رہے ہیں اور اب بھی موجود ہیں۔ اِن کی آمد سے امریکی شہریوں کے لیے معاشی مشکلات نے جنم لیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران جو وعدے کیے تھے، اُن کی تعمیل کے معاملے میں بھی غیرمعمولی تیزی دکھائی ہے۔ انہوں نے صدر کا منصب دوبارہ سنبھالتے ہی غیرقانونی تارکینِ وطن کو نکال باہر کرنے کے آپریشن کی منظوری دی اور ساتھ ہی ساتھ پیدائش کی بنیاد پر شہریت دیے جانے کے حق کے خلاف بھی ایگزیکٹیو آرڈر جاری کیا۔ امریکی سپریم کورٹ نے اس ایگزیکٹیو آرڈر کی تعمیل معطل کردی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بحران اب کھڑا ہوچکا ہے۔ غیرقانونی تارکینِ وطن کو ہنگامی بنیاد پر ملک سے باہر نکالنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ نشانے پر بھارتی باشندے ہیں۔ امریکا کے غیرقانونی تارکینِ وطن کا تیسرا سب سے بڑا گروپ بھارتیوں کا ہے جو سوا سات لاکھ ہیں۔ سب سے زیادہ تارکینِ وطن میکسیکو اور السلواڈور کے ہیں۔ بھارت اس حوالے سے زیادہ شور مچارہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک اور ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے سرحدوں پر ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ غیرقانونی تارکینِ وطن کی آمد روکنے کے لیے فوج کو بھی متعلقہ وفاقی اداروں، سرحدی پولیس، نیم فوجی دستوں اور دیگر فورسز کی مدد کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ وفاقی ادارے اس حوالے سے متحرک ہیں۔
امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے حال ہی میں اٹلانٹا، ڈیلس اور میامی جیسے بڑے شہروں میں چھاپے مار کر غیرقانونی تارکینِ وطن کو حراست میں لیا ہے۔ غیرقانونی طور پر امریکا میں مقیم افراد کے لیے چرچ عام طور پر محفوظ پناہ گاہوں کا درجہ رکھتے ہیں۔ غیرقانونی تارکینِ وطن کو گرفتار کرنے کے لیے چرچ پر چھاپہ مارنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس بات پر شدید ناراضی اور ناپسندیدگی ظاہر کی ہے کہ کسی بھی چرچ کی انتظامیہ غیرقانونی تارکینِ وطن کی شناخت اور گرفتاری میں معاونت کرنے سے گریز کرتی آئی ہے۔ اب اُسے ایسا کرنا پڑے گا یعنی غیرقانونی تارکینِ وطن کی گرفتاری کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
امریکا میں اب تک تو یہ پالیسی رہی ہے کہ اگر والدین امریکی شہری نہ ہوں تب بھی وہاں پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دی جائے۔ اب یہ پالیسی بھی تبدیل کی جارہی ہے۔ اب کسی بھی بچے کی امریکی شہریت کے لیے لازم ہے کہ والدہ یا والد امریکی شہری ہو۔ عام امریکیوں نے اس اقدام کو خوب سراہا ہے۔ بیشتر امریکیوں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اِس سے بھی زیادہ سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس حوالے سے بنیادی حقوق کی علم بردار تنظیمیں یقینا بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گی۔
تارکینِ وطن سے متعلق ڈیٹا سرکاری سطح پر بھی مرتب کیا جاتا ہے اور رائے عامہ کے جائزوں کی شکل میں بھی۔ ایک بات تو طے ہے کہ تارکینِ وطن سے متعلق جامع ڈیٹا بیس تیار کرنا اب تک ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ اس کے نتیجے میں تارکینِ وطن کی حقیقی صورتحال کے حوالے سے پالیسیاں مرتب کرنا انتہائی دشوار ثابت ہوتا ہے۔ جامع ڈیٹا نہ ہونے کے باعث امریکی حکومت بھی بعض اوقات الجھنیں محسوس کرتی ہے۔ اور تارکینِ وطن کے معاملات کو جامع اعداد و شمار نہ ہونے کی بنیاد پر ڈھنگ سے نپٹانا ممکن نہیں ہو پاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈیٹا دیگر بہت سے معاملات کی طرح تارکینِ وطن کے معاملے میں بھی قوم کے جذبات کی مکمل اور حقیقی ترجمانی نہیں کرتا ہے۔ اب اِسی بات کو لیجیے کہ عام امریکی یہ سمجھتا ہے کہ تارکینِ وطن پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا یعنی وہ کسی بھی جرم کا ارتکاب کرسکتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اُن سے جرائم بہت کم سرزد ہوتے ہیں۔ عوام میں پائے جانے والے اس خوف کو وفاقی اور ریاستی حکومتیں خوب بروئے کار لاتی ہیں اور اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہیں۔ بہت سے سیاستدان بھی اپنے خیالات کے فروغ کے لیے تارکینِ وطن کو کبھی تختۂ مشق اور کبھی قربانی کا بکرا بناتے ہیں۔ لوگ اپنی سلامتی کے حوالے سے بالعموم بہت پریشان اور خوفزدہ رہتے ہیں۔ اگر تارکینِ وطن اُن کے ماحول میں موجود ہوں تو اُن سے بہت زیادہ خوف محسوس کرتے ہیں۔
ایک اور عنصر بھی ہے جو تارکینِ وطن کے مسئلے کے حوالے سے بحث یا تجزیہ کرتے وقت پیشِ نظر رہنا ہی چاہیے۔ بہت سے امریکی ایسی بہت سی نوکریوں کو پسند نہیں کرتے جو تارکینِ وطن کو ملتی ہیں۔ امریکیوں کی اکثریت ایسی نوکریاں پسند نہیں کرتے جس کے لیے اُنہیں تپتی دوپہر میں کام کرنا پڑے اور وہ بھی سورج کے نیچے، کسی سائبان کے بغیر۔ تارکینِ وطن ایسی تمام نوکریاں بخوشی کرتے ہیں۔ امریکیوں کی اکثریت کھیتوں میں کام کرنا پسند نہیں کرتی۔ اشیائے خور و نوش کی تیاری، ترسیل اور تقسیم سے متعلق جتنی بھی نوکریاں ہیں، وہ امریکیوں کو پسند نہیں۔ ایسے میں آجر اگر تارکینِ وطن کی طرف نہ دیکھیں تو پھر کیا کریں؟ امریکیوںکی اکثریت ہوٹلوں میں کام کرنا بھی پسند نہیں کرتی جہاں اُنہیں روم سروس دینا پڑے یا مہمانوں کے لیے کمرے کو درست حالت میں لانا پڑے۔ اُنہیں ویٹر کی حیثیت سے کام کرنا بھی پسند نہیں۔ وہ بزرگوں اور خواتین کی نگہداشت والی نوکری بھی پسند نہیں کرتے۔ المیہ یہ ہے کہ امریکی شہری بہت سے ایسے کام نہیں کرتے اور بے روزگاری الاؤنس پر گزارا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر تارکینِ وطن کو ملازمت ملے تو اُن پر غصہ اتارتے ہیں اور انہیں اپنی بے روزگاری کا سبب قرار دیتے ہیں۔
امریکا میں اس وقت ماحول بہت عجیب ہے۔ لوگ اپنی معاشی آزادی اور مجموعی خوشحالی کے حوالے سے خوفزدہ ہیں۔ ہمیں یاد رہنا چاہیے کہ ایسے حالات میں جامع اور مستند پالیسیاں ایک طرف پھینک دی جاتی ہیں اور لوگ ایسے ہنگامی اور بے باک اقدامات کو پسند کرتے ہیں جن سے اُنہیں عارضی ریلیف میسر ہو۔ لوگ ایسے ہنگامی اقدامات چاہتے ہیں جو اُن کے لیے فوری تسلی و تشفی کا سامان کرے۔ یہ پوچھنا کسی بھی طور دانشمندانہ نہیں کہ ایسے اقدامات درست ہیں بھی یا نہیں۔
(مترجم: محمد ابراہیم خان)
America’s changing interest in immigration”. (“cgtn.com”. January 30, 2025)
مشمولہ: معارف فیچر