ایک دور تھا، جسے گزرے ابھی بہت زیادہ دن نہیں گزرے، جب بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان واقع سرحد خونیں لکیر تھی اور یہ لکیر اِس لیے خونیں تھی کہ بھارت نے دراندازی کا الزام لگاکر بنگلا دیشیوں کے قتل کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ عشروں تک بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے بنگلا دیشی باشندوں کو قتل کیا اور اس دوران بارڈر گارڈز آف بنگلا دیش (بی جی بی) خاموش تماشائی بنے یہ تماشا دیکھتے رہے کیونکہ ڈھاکا کی طرف سے باضابطہ سرکاری ردِعمل کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ پالیسی یہ تھی کہ بھارت چاہے کچھ بھی کرے، خاموشی اختیار کی جائے اور صرف تماشا دیکھا جائے۔ یہ ایسا دور تھا جس میں بی ایس ایف کو بظاہر اس بات کا لائسنس ملا ہوا تھا کہ جتنے بھی بنگلا دیشیوں کو مارنا چاہیں ماریں۔ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ تھا۔ احتساب تو بہت بعد کا مرحلہ تھا۔ شیخ حسینہ واجد کے ہر دورِ حکومت میں بنگلا دیش نے بھارت کے مقابل غلامانہ حیثیت قبول کی۔ نئی دہلی جو کچھ بھی کہتا تھا، اُسے ڈھاکا سَر جھکا کر سنتا تھا اور بلا چُوں چَرا قبول کرلیتا تھا۔ وہ دور اب لَد چکا ہے۔ جو قتل و غارت کا بازار گرم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے، وہ اب بنگلا دیش کے ایوانِ اقتدار سے نکالے جاچکے ہیں۔ پوری کی پوری لہر ہی پلٹ چکی ہے۔
آپ کو فیلانی خاتون یاد ہے؟ یہ ۱۵؍سالہ لڑکی انتہائی بے دردی سے قتل کردی گئی تھی۔ ۲۰۱۱ء میں بی ایس ایف کے درندہ صفت اہلکاروں نے فیلانی خاتون کو محض اِس جرم میں موت کے گھات اتار دیا تھا کہ وہ غلطی سے بھارتی علاقے میں چلی گئی تھی اور وہاں سے واپس آکر بنگلا دیش کی حدود میں داخل ہو رہی تھی۔ معصوم فیلانی کا مُردہ جسم گھنٹوں خار دار باڑ پر لٹکا رہا۔ یہ بی ایس ایف کی سفاکی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ فیلانی کی لاش کی تصویر نے عالمی برادری کو سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت کا اصل چہرہ دکھا دیا، اُس کی منافقت کُھل کر سامنے آگئی۔
بہت سوں کو یہ خوش فہمی لاحق تھی کہ عالمی برادری کی طرف سے جو بھی ردِعمل سامنے آئے گا، وہ بھارت کو گریبان میں جھانکنے کی تحریک دے گا۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ جب کوئی طاقت کے نشے میں چُور ہوتا ہے اور غرور و سرکشی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، تب باطن میں جھانکنے کی توفیق کم ہی نصیب ہوتی ہے۔ بی ایس ایف سے یہ فضول توقع وابستہ کرلی گئی تھی کہ فیلانی خاتون کے واقعہ کے بعد وہ اپنے گریبان میں جھانکے گی اور انصاف یقینی بنانے کی کوشش کرے گی مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوسکا۔ اِس کے بجائے بی ایس ایف مزید مظالم ڈھانے پر تُل گئی۔ ۲۰۰۰ء سے ۲۰۲۰ء کے دوران بی ایس ایف نے بنگلا دیش کے ۱۲۰۰؍سے زائد باشندوں کو کسی جواز کے بغیر موت کے گھاٹ اتارا۔ اِن سب کا قصور صرف یہ تھا کہ کھیتی باڑی کے دوران یا جانوروں کو چَراتے ہوئے یہ غلطی سے بھارتی علاقے میں داخل ہوگئے تھے یا بین الاقوامی سرحد کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔
بھارتی میڈیا نے اس حوالے سے بہت گندا، بہت ہی گھناؤنا کردار ادا کیا۔ بے قصور اور غیرمتعلق شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے عمل کو بھارتی میڈیا نے ہمیشہ درست قرار دیا۔ بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹ یہ کہتے تھے کہ بی ایس ایف نے دراندازی کی کوششیں ناکام بناتے ہوئے بنگلا دیشیوں کو ہلاک کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ بی ایس ایف کے اہلکاروں نے بنگلا دیشی شہریوں کے ساتھ کیا، وہ کم و بیش ماورائے عدالت ہلاکت کے زُمرے میں آتا ہے۔ اِس دوران شیخ حسینہ واجد کی حکومت بھارت سے دوستی، تعاون اور تجارت کی پینگیں بڑھارہی تھی۔ جب بنگلا دیشی شہریوں کو کسی جواز کے بغیر قتل کیا جارہا تھا، تب شیخ حسینہ واجد کی حکومت بھارت سے پیاز اور اناج درآمد کر رہی تھی اور یہی سبب ہے کہ ڈھاکا کو اس پورے معاملے میں نئی دہلی سے احتجاج کرنے کی توفیق نصیب نہ ہوئی۔
بھارت کو عشروں کے دوران پہلی بار یہ جاننے کا موقع مل رہا ہے کہ بنگلا دیش اُس کا بغل بچہ ہے، نہ اُس کے پچھواڑے میں واقع کوئی ناکارہ سا قطعۂ اراضی۔ بھارتی قیادت کو اب احساس ہوچکا ہے کہ بنگلا دیش ایک آزاد و خود مختار ریاست ہے۔
بھارت نے ایک طویل مدت تک جمہوری سفارتکاری کے نام پر علاقائی سطح پر طاقت کا مظاہرہ کرنے کے فن میں غیرمعمولی مہارت حاصل کی ہے۔ اُس کے قول و فعل میں واضح تضاد رہا ہے۔ ایک طرف تو وہ امن اور استحکام کا درس دیتا ہے اور دوسری طرف بی ایس ایف کے ذریعے بنگلا دیش کے لیے مشکلات پیدا کرتا رہا ہے۔ بھارت نے یہ تصور کرلیا تھا کہ اسٹریٹجک تعلقات کے نام پر بنگلا دیش ہمیشہ سَر جھکائے رہے گا، خاموشی اختیار کیے رہے گا اور اجتماعی نقصان برداشت کرتا رہے گا۔
شیخ حسینہ کے ادوارِ حکومت میں بھارت کے مقابل سَر جھکانے اور اطاعت گزار ہونے کو باضابطہ ادارہ جاتی شکل دی گئی۔ اُن کے ادوارِ حکومت میں مجموعی پالیسی یہ رہی کہ بی ایس ایف قتل کرتی رہے گی اور ہم صرف ساکت و جامد تماشائی بنے رہیں گے۔ اِس کے بدلے شیخ حسینہ کو بھارتی قیادت کی طرف سے بھرپور حمایت حاصل رہی اور بنگلا دیش کے نام نہاد استحکام کے حوالے سے جھوٹی ستائش کی جاتی رہی۔ بنگلا دیش کو نام نہاد استحکام خون کی ڈوبی ہوئی سرحد اور خاموش کرائے جانے والے احتجاج کی قیمت پر ملا۔
بھارتی قیادت اور شیخ حسینہ واجد نے سوچ لیا تھا کہ یہ سب کچھ یونہی چلتا رہے گا مگر جس طرح ہر بُری اور گھٹیا چیز کی کوئی نہ کوئی ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے، بالکل اُسی طرح بھارت اور شیخ حسینہ گٹھ جوڑ کی بھی ایکسپائری ڈیٹ تھی۔ یہ ڈیٹ آئی تو معاملات ختم ہوگئے اور ایک نیا بنگلا دیش اُبھر کر سامنے آگیا۔
شیخ حسینہ واجد کے ادوارِ حکومت کے دوران بنگلا دیش کی مجموعی کیفیت انتہائی مایوس کن تھی۔ لوگ سہمے ہوئے رہتے تھے۔ اگست ۲۰۲۴ء میں شیخ حسینہ اور عوامی لیگ کے اقتدار کا خاتمہ محض سیاسی تبدیلی نہ تھا، بلکہ یہ عوام کے لیے نفسیاتی آزادی کے بھی مترادف تھا۔ شیخ حسینہ کی رخصتی اُس غلامی کا بھی خاتمہ تھی جو بنگلا دیش نے اپنے اوپر خود مسلط کی تھی۔ پہلے تو لوگ صرف بولتے تھے، احتجاج کرتے تھے مگر اِس بار اُنہوں نے جو کہا، وہ کر دکھایا۔ بنگلا دیش میں نئی قیادت نئے لہجے کے ساتھ آئی۔ سرحد پر ہونے والی ہلاکتوں پر پہلے بھیگی بلی کا سا ریسپانس ہوتا تھا اور چند روایتی مذمتی جملوں کو کافی سمجھ لیا جاتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ اِس بار طے کرلیا گیا کہ بھارت کے لیے معاملات ’’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘‘ جیسا ہوگا۔ اب اِن ہلاکتوں پر زوردار احتجاج کیا جاتا ہے اور سفارتی سطح پر جواب دینے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ آج بنگلا دیش میں بھرپور سیاسی عزم پایا جاتا ہے۔ عوام کے اعتماد اور سیاست دانوں کے ارادوں نے مل کر بھارت کو باور کرادیا ہے کہ اب اگر اُس نے کچھ ایسا ویسا کچھ کیا تو انتہائی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مہرپور میں بی ایس ایف کے چند اہلکاروں نے بنگلا دیشی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو لوگوں نے اُن پر پتھراؤ کیا اور نعرے لگائے۔ چپائی نواب گنج میں مقامی لوگ مل کر بین الاقوامی سرحد پر نظر رکھتے ہیں اور کسی کو بنگلا دیش میں داخل ہونے نہیں دیتے۔
شیخ حسینہ کے بعد کے بنگلا دیش میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ اسکول کی طالبہ سورنا داس کو بی ایس ایف اہلکاروں نے اغوا کرکے سفاکی کا نشانہ بنایا تو نیم دلانہ سفارتی ردِعمل کی طرح بہت وقت نہیں لگا بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے بھرپور شور اٹھا۔ بھارت سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا اور وہ بھی نرمی سے نہیں بلکہ پوری طاقت سے، زور دے کر۔ بھارتی قیادت کو اب احساس ہو رہا ہے کہ بنگلا دیش ایک آزاد و خود مختار ریاست ہے جو اپنے معاملات میں کسی کی مداخلت قبول نہیں کرتی اور یہ بھی کہ اب بنگلا دیش کی آواز دبائی نہیں جاسکتی۔
بھارتی اسٹیبلشمنٹ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر اپنی روایتی پلے بک کے مطابق ہی چل رہی ہے۔ بنگلا دیش میں جو کچھ بھی ہوا ہے اور جو تبدیلی رونما ہوئی ہے، اُسے انتہا پسندی اور انقلاب پسندی قرار دے کر داغدار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ واویلا بھی کیا جارہا ہے کہ بنگلا دیش اب اسلامی شریعت کے غیرلچکدار قوانین کے تحت کام کرنے والی ریاست میں تبدیل ہوجائے گا۔ مغربی دنیا کو یہ کہتے ہوئے ڈرایا اور بدگمان کیا جارہا ہے کہ بنگلا دیش پر مسلم انتہا پسندوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ بھارتی میڈیا ایسے تجزیے شائع کر رہا ہے جن میں یہ بات زور دے کر کہی جارہی ہے کہ بنگلا دیش میں بھارت مخالف جذبات پروان چڑھائے جارہے ہیں تاکہ دوستی اور اشتراکِ عمل کی راہیں بند ہوجائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ محض جذباتیت نہیں بلکہ خود مختاری کا معاملہ ہے۔ بنگلا دیش کے لوگوں نے اب کسی جواز کے بغیر بی ایس ایف کے ہاتھوں قتل ہونے سے انکار کردیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اُنہیں مویشی اور کیڑے مکوڑے سمجھتے ہوئے نظرانداز نہ کیا جائے۔
کسی بھی ملک کی سرحد دراصل اُس ملک کی مجموعی تہذیب اور ثقافت کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ ایک زمانے تک بھارت اور بنگلا دیش کی سرحد نے بی ایس ایف کے ہاتھوں نوآبادیاتی رنگ پیش کیا۔ بھارت چاہتا ہے کہ بنگلا دیش دب کر رہے۔ شیخ حسینہ واجد کی شکل میں بھارت کو موم کی ناک مل گئی تھی کہ جس طرف بھی چاہو، موڑ دو۔ معاملہ یہ ہے کہ بنگلا دیش نئی سوچ کے ساتھ جی رہا ہے۔ وہ مزاحمت کرنا جانتا بھی ہے اور چاہتا بھی ہے۔ بھارت کی اسٹیبلشمنٹ سے یہ بات برداشت اور ہضم نہیں ہو پارہی۔ بنگلا دیش جنگ نہیں چاہتا۔ وہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ جوابدہی کا احساس پروان چڑھے۔ بھارت جو کچھ بھی کرتا ہے، اُس کا جواب بھی تو دینا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنگلا دیش اب دب کر نہیں رہنا چاہتا بلکہ پوری عزتِ نفس کے ساتھ جینے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ وہ بھارت کے جبر کو اپنی تقدیر سمجھ کر چلنے کے لیے تیار نہیں۔ ڈھاکا اب کھل کر بول رہا ہے۔ اُس میں اعتماد ہے۔ اب اُسے کھل کر بولنے کے لیے کسی کی اجازت درکار نہیں۔
کبھی بھارت بی ایس ایف کو اپنی طاقت کی ایک نمایاں علامت کے طور پر استعمال کرتا تھا اور اب اشتراکِ عمل کی بات کر رہا ہے۔ بنگلا دیش انتقام نہیں لینا چاہتا بلکہ احترام چاہتا ہے۔ وہ پورے وقار کے ساتھ جینا اور آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ بھارت کی قیادت کو بھی احساس ہوچکا ہے کہ جو کچھ اب تک ہوتا آیا وہ مزید نہیں چل سکتا۔ بنگلا دیش کو بھی اپنی سرزمین کی حفاظت کا حق حاصل ہے۔ اگر اسرائیل اور بھارت طاقت استعمال کرسکتے ہیں تو بنگلا دیش بھی ایسا کرسکتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ بنگلا دیش قانونیت کی طرف چلا گیا ہے۔ بات اِتنی سی ہے کہ وہ اپنی بات منوانا چاہتا ہے اور کسی کے جبر کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جب بھی کسی کمیونٹی کو دھکیل کر دیوار سے لگایا جاتا ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ جب کسی کمیونٹی کے لیے بقا کا سوال کھڑا کردیا جاتا ہے تب مزاحمت بھی شدید نوعیت کی پیدا ہوتی ہے اور معاملات بگڑتے ہیں۔ بنگلا دیش بھی اب خود کو منوانا چاہتا ہے اور اپنے لیے بقا کا سوال کھڑا کرنے والوں کے سامنے کھڑا ہونا چاہتا ہے۔
بھارت نے عشروں تک بنگلا دیش کو انگوٹھے تلے دباکر رکھا مگر اب یہ سب کچھ نہیں چل سکتا۔ بی ایس ایف کو ہتھیار بناکر بنگلا دیش کو دھمکانے کی پالیسی مزید جاری نہیں رکھی جاسکتی۔ بنگلا دیش جاگ چکا ہے۔ بنگلا دیشی اب کسی بھی نوع کا جبر برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ ایک مدت تک خاموش رہے۔ اب وہ خاموش نہیں رہ سکتے اور پہلے بھی اُنہیں خاموش نہیں رہنا چاہیے تھا۔
فیلانی خاتون اور دوسرے بہت سے بلکہ سیکڑوں شہیدوں کی روحیں سوال کرتی ہیں۔ جو کچھ پہلے سرگوشیوں کی شکل میں کہا جاتا تھا، وہ اب کھل کر کہا جارہا ہے۔ بنگلا دیش کے عوام اب کچھ بھی دبی زبان میں نہیں کہنا چاہتے۔ بھارت کو بھی اندازہ ہے کہ زمانہ بدل چکا ہے۔ نیا بنگلا دیش ساتھ کھڑا ہے۔ اب وہ بی ایس ایف کے ذریعے جبر ڈھانے کے بجائے اشتراکِ عمل اور دوستی کی بات کر رہا ہے۔ بی ایس ایف کے اہلکاروں کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ یہ مزاحمت بنگلا دیشی فورسز کی طرف سے بھی ہے اور عوام کی طرف سے بھی۔ بنگلا دیش کے عوام اور فورسز کے جوان اب بنگلا دیش کی حدود میں آنے والے بی ایس ایف کے اہلکاروں کو پکڑ بھی لیتے ہیں اور اُن کے ہتھیار بھی چھین لیتے ہیں۔ ایسے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں جو بھارتی قیادت کو بھرپور پیغام پہنچانے کے لیے کافی ہیں۔ ایک ایسی وڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں بی ایس ایف کے اہلکار کو لوگوں نے پکڑلیا ہے اور وہ پیر پکڑ کر زندگی کی بھیک مانگ رہا ہے۔ یوں بھی ہوا کہ بنگلا دیشی کسانوں کو پکڑ لیا گیا تو جواب میں بھارتی باشندوں کو پکڑ لیا گیا اور پھر فلیگ اسٹاف میٹنگ میں شہریوں کا تبادلہ ہوا۔ بنگلا دیش کے سرحدی دیہات میں رہنے والے اب دبنے کے لیے تیار نہیں اور اپنی طاقت منوانا چاہتے ہیں۔ ضرورت نہیں کہ گولی کا جواب گولی سے دیا جائے۔ جواب دینے کے اور بھی بہت سے طریقے ہوسکتے ہیں اور بنگلا دیش کے عوام اپنی فورسز کے ساتھ مل کر وہی طریقے اپنا رہے ہیں۔ بنگلا دیشیوں نے بھارتی قیادت کو پیغام دے دیا ہے کہ جو کچھ ہوچکا وہ ہوچکا، اب وہ سب کچھ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ بہت کچھ وڈیوز کی شکل میں محفوظ کیا جاسکتا ہے اور بعد میں ثبوت کے طور پر بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ بی ایس ایف کے جبر کا زمانہ جاچکا۔ اب بنگلا دیش کو دباکر، کچل کر رکھنا ممکن نہیں۔ عالمی برادری کا ردِعمل اپنی جگہ، بنگلا دیش نے یہ بڑی مثبت تبدیلی اپنے زورِ بازو سے پیدا کی ہے۔ (مترجم: محمد ابراہیم خان)
“BSF’s era of intruding into Bangladesh draws to a close”. (“The Daily Star” Dhaka. May 5, 2025)