غلط انفارمیشن کے علاوہ ٹی وی اینکروں کی گندی زبان اور گالی گلوچ نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ سفید جھوٹ اور پروپیگنڈہ کوئی انٹرنیٹ ٹرول نہیں بلکہ قومی سطح کے بڑے میڈیا ادارے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کسی کے کہنے پر پھیلا رہے تھے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ کا پہلا شہید ’’سچ‘‘ ہوتا ہے، کیونکہ گولہ بارود، ہتھیاروں اور انٹیلی جنس کے علاوہ اطلاعاتی نظام بھی اس کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ مگر بھارتی میڈیا نے اس ہتھیار کو جس قدر اوچھے طریقے سے استعمال کیا، اس کو دیکھ کر ہی گِھن آتی ہے۔
اطلاعاتی جنگ کے اپنے قواعد و ضوابط ہوتے ہیں، جن سے دشمن کو زیر کیا جاسکتا ہے۔ میڈیا پروفیشنل ان سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔ میں پچھلے تیس سالوں سے بھارت کے قومی میڈیا کا حصہ رہا ہوں۔ چند سال قبل تک اہم نیوز رومز کے انتظام و انصرام کے علاوہ بطور چیف آف بیورو سیکڑوں رپورٹروں کی نگرانی و رہنمائی کا کام کیا ہے۔ مگر ٹی وی اسکرینوں اور میڈیا ویب سائٹس نے اس جنگ کے دوران قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر سفید جھوٹ کے جو دریا بہاکر جنگی جنون برپا کرایا، سر شرم سے جھک گیا ہے۔ اب اس میڈیا کے ساتھ وابستگی کا حوالہ دینا ہی سبکی جیسا لگتا ہے۔ کیا ان اینکروں اور مدیران کو معلوم نہیں ہے کہ اکیسویں صدی میں، جب اطلاعاتی ماحول جغرافیائی سرحدوں اور روایتی میڈیا کے کنٹرول سے آزاد ہوچکا ہے، کیسے ایک سفید جھوٹ کو پروسا جاسکتا ہے۔
ایک صحافی کی سب سے زیادہ اہم متاع اس کی ساکھ ہوتی ہے۔ اگر یہ متاع کھو جائے، تو صحافی کی موت واقع ہوجاتی ہے، گو کہ جسمانی طور پر وہ زندہ ہو۔ رپورٹنگ میں غلطیاں تو ہو جاتی ہیں، مگر ان کو تسلیم کرکے ان پر شرمندہ ہونا اور اپنے قارئین یا سامعین سے معافی کا خواستگار ہونا، ایک عظیم صحافی کی نشانیاں ہیں۔
جب ٹی وی اینکر چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ کراچی کو تباہ کردیا گیاہے، بلکہ نقشہ سے ہی غائب ہو گیا ہے، تو میں نے پہلے کچھ زیادہ سنجیدہ تو نہیں لیا، مگر جب ایک صحافی برکھادت، جس کو چند احباب معتبر صحافی سمجھتے ہیں، نے ٹوئٹ کرکے یہی خبر دی، میں نے اپنے ایک سابق کولیگ، جو اَب کراچی منتقل ہوگئے ہیں، کو فون کیا۔ جب وہ فون اٹھا نہیں رہے تھے، تو یقین آگیا کہ شاید کراچی واقعی ختم ہو گیا ہے۔
مگر چند ساعت کے بعد ان کا خود ہی فون آیا اور معذرت کی کہ وہ اس وقت نہاری لینے کے لیے ایک ریسٹورنٹ کے باہر قطار میں کھڑے ہیں۔ بھارتی میڈیا کی چند ہیڈلائنز دیکھیں۔ بھارتی بحریہ نے کراچی پورٹ کو تباہ کر دیا! آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو بغاوت کے بعد گرفتار کرلیا گیاہے۔ بھارتی فوج نے اسلام آباد پر حملہ کر دیا اور شہباز شریف کو کسی ’سیف ہاؤس‘ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
’زی نیوز‘ نے سنسنی خیزی میں اضافہ کرتے ہوئے اعلان کر دیا، ’اسلام آباد پر قبضہ کر لیا گیا!‘ جس وقت یہ خبر چلائی گئی، تو پینل پر موجود ماہرین خوشی سے ڈانس کرنے لگے۔ ’آج تک‘ ٹی وی نے تو حد ہی کردی۔ کراچی پورٹ پر فرضی حملے کی ویڈیو اسٹوڈیو میں ہی تیار کرکے ایسے نشر کی جیسے یہ حقیقی مناظر ہوں۔ اس کے انگریزی چینل ’انڈیا ٹوڈے‘ نے لاہور اور کراچی پر بیک وقت حملے کا دعویٰ کر دیا۔
’اے بی پی نیوز‘ نے سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ دعویٰ کر ڈالا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر گرفتار ہو چکے ہیں۔ ’ٹی وی نو‘ نے بتایا کہ پاکستان کے ۲۵ شہر تباہ کر دیے گئے ہیں۔ ایک اور چینل نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوج گھس گئی ہے اور پینل میں موجود ایک ریٹائرڈ میجر تو خوشی سے چِلّانے لگا۔
ایک سابق فوجی ہوتے ہوئے اس کو معلوم نہیں تھا کہ بھارت میں اسٹرائیک کور کو سرحد کی طرف کوچ کرنے کے لیے خاصا وقت درکار ہوتا ہے۔ ۲۰۰۱ء میں آپریشن پراکرم کے وقت تو دو ہفتے کا وقت لگا تھا۔ سبھی اسٹرائیک کورز اور دفاعی کورز کو تو دوماہ کا وقت لگا تھا۔
’انڈیا نیوز‘ نے تو نیا آرمی چیف بھی خود ہی تعینات کر دیا۔ ’زی نیوز‘ نے گرافکس چلائے کہ ’پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیے اور بھارتی افواج نے بڑے شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اسی پروگرام میں اسکرین پر وزیراعظم شہباز شریف کو بنکر میں چھپتے اور بھارتی افواج کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے دکھایا گیا۔
اس غلط انفارمیشن کے علاوہ ٹی وی اینکروں کی گندی زبان اور گالی گلوچ نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ایک اینکر نے تو دورہ پر آئے ایرانی وزیر خارجہ کے خلاف نازیبا االفاظ ادا کیے اور ان کو سور کی اولاد تک کہا، جس پر ایرانی سفارت خانہ نے احتجاج بھی درج کرادیا۔ اس طرح ’ریپبلک ٹی وی‘ پر اینکر ایک پاکستانی مہمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے، ’جنجوعہ، تمہاری فوج پٹ گئی۔ تم بھگوڑے ہو‘۔ یہی حال دیگر چینلوں پر پاکستانی پینلسٹوں کا ہو رہا تھا۔
یہ پروپیگنڈا کوئی انٹرنیٹ ٹرول نہیں بلکہ قومی سطح کے بڑے میڈیا ادارے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کسی کے کہنے پر پھیلارہے تھے۔ اس قدر پاگل پن، جب بریکنگ خبر دی گئی کہ پاکستان کا جہاز راجستھان میں مار گرایا گیا ہے اور پائلٹ زیر حراست ہے۔ کسی نے بطور مذاق ایک واٹس اپ گروپ میں لکھا کہ پائلٹ کا نام جہازالدین ہے۔ اگلے چند منٹ میں نیوز ٹکرز پر جہازالدین کا نام آنے لگا۔ جو ٹوئٹر اکائونٹ یا میڈیا کے ادارے صحیح خبریں نشر کر رہے تھے، ان کو بلاک کردیا گیا۔
’دی وائر‘ کی ویب سائٹ بلاک کر دی گئی۔ اس سلسلے میں آٹھ ہزار سے زائد اکائونٹس تک رسائی بند کر دی گئی۔ سچ بولنے والوں کو صرف اس لیے چپ کرایا جا رہا تھا، تاکہ جھوٹ پھیلانے والی فیکٹریوں کو کہیں سے مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
میڈیا کو قوت ضرب یا فورس ملٹی پلیرکے بطور استعمال کرنے کا پہلا تجربہ بھارت میں اکتوبر ۱۹۹۳ء میں اُس وقت کیا گیا، جب جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ سے وابستہ عسکریوں کو حضرت بَل کی درگاہ سے باہر نکالنے کے لیے فوج نے آپریشن کیا تھا۔ یہ آپریشن ۳۲ دن جاری رہا۔ اس دوران سرینگر میں ۱۵؍ویں کور میں اس وقت کے بریگیڈیئر جنرل اسٹاف ارجن رے نے میڈیا کو آپریشن ایریا تک رسائی دی۔ یہ آپریشن تو دو تین دن میں ختم ہو سکتا تھا۔ مگر اس کو طول دے کر میڈیا کو قوت ضرب کا حصہ بنانے کی ریہرسل کی گئی۔
دہلی سے قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نمائندوں کو لالاکر درگاہ کے اندر موجود عسکریوں کے انٹرویو تک کرنے دیے گئے۔ اندر عسکری کمانڈروں کو کھانے بہم پہنچانے کو بھی میڈیا وار کا حصہ بنایا گیا۔ انہی دنوں فوج نے روزانہ بریفنگ کی روایت بھی شروع کی۔ یہ تجربہ بعد میں ۱۹۹۹ء کی کارگل جنگ میں خاصا کام آیا۔ اس وقت ارجن رے میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پاچکے تھے اور ڈائریکٹر جنرل پبلک انفارمیشن کا محکمہ قائم کرکے ان کو اس کا سربراہ بنادیا گیا۔ وہ انتہائی زیرک، چہرے پر مسکراہٹ سجائے، میڈیا فرینڈلی جنرل تھے۔
گو کہ کارگل جنگ کے دوران روزانہ بریفنگ کرنل بکرم سنگھ (جو بعد میں آرمی چیف بن گئے) کرتے تھے، مگر ان کی بریفنگ کا انتظام، کارگل محاذ پر صحافیوں کو دورے کروانا، بیک گراؤنڈ بریفنگ کروانا ارجن رے اور ان کے دست راست کرنل منوندر سنگھ کے سپرد تھا۔
منوندر ’انڈین ایکسپریس‘ میں دفاع کے بیٹ کے رپورٹر تھے اور انہی دنوں انہوں نے استعفیٰ دیکر ٹیریٹوریل آرمی جوائن کی تھی۔ ایک روز وہ بطور صحافی ہمارے ساتھ جنگ کور کر رہے تھے، اگلے روز وردی میں بریفنگ کا انتظام کر رہے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ پاکستانی آرمی چیف جنرل پرویز مشرف اور لیفٹیننٹ جنرل عزیز کی ریکارڈ کردہ بات چیت کو عام کروانے کا مشورہ جنرل رے نے ہی وزیر خارجہ جسونت سنگھ کو دیا تھا۔ جسونت سنگھ منوندر کے والد تھے۔
مگر اس پوری سعی کے باوجود کارگل جنگ کے دوران قومی سلامتی کے مشیر برجیش مشرا مطمئن نہیں تھے۔ ان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر بھارتی میڈیا کی ساکھ خاصی نیچے ہے اور اس پر کوئی یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے۔
پرائیوٹ چینلوں کا دور شروع ہو چکا تھا۔ نیوز چینلوں میں ’اسٹار نیوز‘ اور ’زی نیوز‘ آن ایئر ہوچکے تھے۔ ’اسٹار نیوز‘ کے انگریزی شعبہ کو ’این ڈی ٹی وی‘ مواد اور اینکر فراہم کرتا تھا۔ جنگ کے فوراً بعد مشرا نے ’این ڈی ٹی وی‘ کے سربراہ پرنائے رائے کو بلا کر ان کو اپنا الگ چینل شروع کرانے کا مشورہ دیا۔
ان دنوں بھارت سے اپ لنکنگ کی اجازت نہیں تھی۔ مشرا نے مداخلت کرواکے اپ لنکنگ کا مسئلہ حل کروا دیا۔ ’این ڈی ٹی وی‘ کے بجٹ کے ایک حصہ کا بار حکومت نے اپنے ذمہ لے لیا۔ طے ہوا کہ ’این ڈی ٹی وی‘ ایک سینٹر ٹو لیفٹ کی پوزیشن لے کر ٹی وی صحافت میں ایک اعلیٰ معیار قائم کرے۔
حکومت کی کارکردگی کی جتنی بھی تنقید کرنا چاہیے کرسکتا ہے، اس میں حکومت کبھی مداخلت نہیں کرے گی، مگر نازک اوقات، خاص طور پر جب کشمیر میں مظاہرے ہورہے ہوں یا ملک حالت جنگ میں ہو، اس وقت حکومت کی مدد کرنے کے لیے ایک ایسا بیانیہ وضع کرے، جس کو بین الاقوامی سطح پر قبولیت ہو۔
اس لیے جب بھی کشمیر میں عوام سڑکوں پر ہوتے تھے یا پتھر بازی ہوتی تھی، برکھادت فوراً پہنچ کر اس کا بیانیہ وضع کروانے کا کام کرتی تھی۔ لہٰذا جو افراد برکھادت کو قابل اعتماد اور لبرل صحافی کی حیثیت سے جانتے ہیں، ان کو اپنی معلومات درست کرنی چاہیے۔
’این ڈی ٹی وی‘ اور اس کے اینکروں نے واقعی اس دوران اپنی کوریج اور حکومت کے ہمہ وقت احتساب کروانے کی وجہ سے ساکھ بنوائی۔ جس کا استعمال نازک اوقات، خاص طور پر کشمیر میں شورش کو موڑ دینے کے لیے بیشتر اوقات کیا گیا۔ یعنی یہ چینل برجیش مشرا کی توقعات پر بالکل پورا اترا۔
بین الاقوامی سطح پر اس نے بی بی سی، سی این این کی طرح معتبریت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ ۲۰۱۵ء کے بعد موجودہ قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول کے کہنے پر ’این ڈی ٹی وی‘ کے فنڈ بند کر دیے گئے، کیونکہ معلوم ہو گیا تھا کہ فنڈ جو انگریزی چینل کے لیے مخصوص تھے، ان کو دیگر شعبوں اور نان نیوز اداروں میں استعمال کیا جارہا تھا۔
چونکہ موجودہ حکومت کو ادراک ہوا کہ بھارت اب ایک سخت گیر معاشی طاقت بن چکا ہے، اس لیے بین الاقوامی بیانیہ کے لیے اس کو کسی میڈیا کے سافٹ پاور کی اب ضرورت نہیں رہی۔ طے ہوا کہ صرف اسی میڈیا کی سرپرستی کی جائے گی جو بالکل حکومت کی گود میں بیٹھا ہو اور اس کی تعریفوں کے پل بغیر کسی ابہام کے باندھے۔
اطلاعاتی جنگ کا ایک بنیادی پہلو ’اعتبار‘ ہوتا ہے۔ یہ اُسی وقت پیدا ہوتا ہے جب غلط معلومات اور گمراہ کن دعوے کے ساتھ کچھ سچائی بھی پروسی جائے۔ جس طرح کی کارکرگی اس وقت بھارتی چینلوں نے دکھائی، اب کون ان کے بیانیہ پر اعتبار کرے گا۔ حکومت کی طرف سے بھی کارگل جنگ کے برعکس اس بار دہلی میں کوئی بریفنگ نہیں دی گئی۔
یہ حال ۱۹۹۹ء میں پاکستان کا تھا۔ لگ رہا تھا کہ اس بار کردار تبدیل ہو چکے ہیں۔ جونیئر افسران کرنل صوفیہ قریشی اور ونگ کمانڈر ویمکا سنگھ کو میڈیا کو بریفنگ کی ذمہ داری دی گئی۔ اس کے برعکس پاکستان نے ایئر فورس کے تیسرے سینئر ترین افسر، ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد کو میڈیا کے سامنے پیش کیا، جنہوں نے نقشے کے ذریعے ایک تفصیلی بریفنگ دی۔
انہوں نے صبر و تحمل سے بتایا کہ ’آپریشن سیندور‘ کے آغاز سے قبل ہی پاکستانی فضائیہ نے الیکٹرانک طریقے سے بھارتی طیاروں کی شناخت کرلی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فضائی حکمتِ عملی اب روایتی فضائی جھڑپوں تک محدود نہیں، بلکہ اب وہ ایک ‘کثیر الجہتی جنگی حکمت عملی‘ پر مبنی ہے۔
جن صحافیوں نے کارگل جنگ اور اس کے بعد آپریشن پراکرم کور کیا ہو، ان کو معلوم ہوگا کہ جب اتنی تفصیل سے بریفنگ دی جائے تو میڈیا بھی اسی بیانیے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ دونوں مواقع پر مجھے یاد ہے کہ نئی دہلی میں نہ صرف روزانہ آن ریکارڈ بلکہ اعلیٰ افسران متواتر ایک موقع پر تو خود آرمی چیف کی طرف سے بیک گراؤنڈ بریفنگ دی گئی تھی۔
مجھے یاد ہے کہ پاکستان کے ’جنگ‘ اور ’دی نیوز‘ کے دہلی کے بیورو چیف عبدالوحید حسینی بھی اس میں شریک ہوتے تھے اور تیکھے سوالات بھی پوچھتے تھے۔ ایڈیٹروں اور دہلی میں مقیم بین الاقوامی میڈیا کے سربراہوں کو خود وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اور جسونت سنگھ بھی بسا اوقات بیک گراؤنڈ بریفنگ کے لیے بلاتے تھے۔
پاکستان نے چونکہ سینئر افسران کو میدان میں اتارا، اس لیے اگلے روز بین الاقوامی اخبارات اور ٹیلی وژن چینلوں پر پاکستانی مؤقف چھایا رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بھارت کی طرف سے کسی سینئر فضائی افسر نے میڈیا سے بات نہیں کی۔ جب اس غلطی کا اندازہ ہوگیا، تب تک دیر ہو چکی تھی۔ تو نتیجہ کیا نکلا؟ پاکستانی مؤقف کو اعتبار حاصل ہوا۔ اب یہ درست ہے یا غلط، یہ ایک الگ بحث ہے۔ مگر جب بھارت کی جانب سے کوئی متبادل بیانیہ ہی موجود نہ تھا، تو پھر یکطرفہ کہانی ہی سچ مان لی جاتی ہے۔
دفاعی تجزیہ نگار اور ’فورس میگزین‘ کے ایڈیٹر پروین ساہنی کے مطابق پاکستان کی ’کثیر الجہتی جنگی حکمت عملی‘ مودی حکومت کے کشمیر میں ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو کیے گئے اقدمات کا شاخسانہ ہے۔ ان کے مطابق اس سیاسی قدم نے چین اور پاکستان کی افواج کو ایک تزویراتی اتحاد میں باندھ دیا۔ پہلے بھی تعاون موجود تھا، مگر اس کے بعد یہ رشتہ کہیں زیادہ گہرا اور ادارہ جاتی ہوگیا۔
صدر شی جن پنگ سمیت تمام اعلیٰ چینی قیادت نے کھلے عام پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کے حق میں بیانات دیے۔ مطلب یہ کہ اگر بھارت کے ساتھ جنگ ہوئی، تو چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) براہ راست نہ سہی، پس منظر میں ضرور پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوگی اور اس کا اشارہ ہمیں ’آپریشن سیندور‘ میں ملا۔ اس وقت بھی پاکستان کے بجائے دراصل چھوٹا چین بھارت کے ساتھ برسرپیکار تھا۔ اب اگر آئندہ کبھی بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑ جاتی ہے، تو وہ صرف یک محاذی جنگ نہیں ہوگی۔
ساہنی کا کہنا ہے کہ ۲۰۱۹ء سے وہ خبردار کرتے آئے ہیں کہ بھارت کو خطرہ اب صرف پاکستان سے نہیں، بلکہ چین اور پاکستان کے مشترکہ فوجی اتحاد سے ہے۔ جس میں چینی فوج میدانِ جنگ میں تو نظر نہیں آئے گی، مگر اس کی موجودگی ہر مرحلے پر محسوس کی جائے گی۔
ان کے مطابق، ’کثیر الجہتی جنگی حکمت عملی‘ کے چھ بنیادی پہلو ہیں:
لڑاکا طیارے: پاکستان کے موجودہ فرنٹ لائن طیارے، جے۔۱۰ اور جے ایف۔۱۷، دونوں چینی ساختہ ہیں،
بی وی آر میزائل: پی ایل۔۱۵، جو بہت دور تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے، چین سے حاصل کیا گیا ہے۔
سیٹلائٹ نظام: چین کے بیئی ڈوؤ نیٹ ورک سے استفادہ، جس میں ۴۴ سیٹلائٹس موجود ہیں، پاکستان کو ۲۴ گھنٹے میدانِ جنگ کی نگرانی اور میزائل ہدف بندی کی سہولت دیتا ہے۔
ایئربورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم: پاکستان کے پاس نو نظام موجود ہیں، جو دشمن کے اہداف کی شناخت اور نگرانی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
الیکٹرانک وار فیئر: ۲۰۱۹ء کے بالا کوٹ حملے میں پاکستان نے نہ صرف بھارتی کمیونی کیشن جام کیا تھا بلکہ اسے ریکارڈ بھی کیا۔ اس بار بھی اورنگزیب نے بھارتی پائلٹوں کی پرواز کے دوران گفتگو کی ایک ویڈیو میڈیا کو سنائی، جس نے اُن کے دعوے کو مزید مستند بنایا اور ڈیٹا لنکنگ۔ تمام یونٹس، چاہے وہ سیٹلائٹ ہوں، زمینی افواج یا فضائی یونٹس، سب ایک دوسرے کے ساتھ حقیقی وقت میں جڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے پاس لنک۔۱۷ نیٹ ورک پہلے سے موجود تھا، جسے اب مزید اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
ان میں اہم دو صلاحیتیں ڈیٹا لنکنگ اور الیکٹرانک وار فیئر ہیں، جو پائلٹ کو میدانِ جنگ کا مکمل ۳۶۰ ڈگری منظر فراہم کراتی ہیں۔ اس نظام کو ’کل چین‘ کہا جاتا ہے… یعنی خبردار ہونا، ہدف تلاش کرنا، اس پر نظر رکھنا اور پھر اسے مکمل طور پر تباہ کر دینا۔
اگر یہ تمام عناصر مربوط انداز میں کام کریں تو دشمن کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ ۲۰۲۰ء کے بعد سے پاکستانی فضائیہ اور چینی فضائیہ نے اس حکمت عملی پر مشترکہ مشقیں شروع کی ہیں، جنہیں ’شاہین ایکسرسائز‘ کہا جاتا ہے۔ یہ مشقیں ۲۰۱۲ء سے جاری تھیں، لیکن پہلے ان کا محور صرف ڈاگ فائٹ اور الیکٹرانک وار فیئر ہوتا تھا۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ میدانِ جنگ میں کون پہلے ’کل چین‘ مکمل کرتا ہے۔
اور یہ ہم آہنگی ۲۰۱۹ء کے بعد بہت زیادہ مستحکم ہو چکی ہے۔ اسی طرح یہ آنے والے خصوصاً کروز میزائل کے سسٹم میں داخل ہوکر اس میں غلط معلومات درج کروا کر اس کو بھٹکاتا ہے۔ جیسا کہ بھارت کا ایک براہموس کروز میزائل اپنے ہدف کے بجائے پاکستان کی سرحد کو کراس کرکے افغانستان کے کسی علاقے میں گرا۔
ساہنی کے مطابق، ’آپریشن سیندور‘ مکمل جنگ کے بجائے ایک بحران تھا۔ لیکن بحران اور جنگ کے درمیان قبل از جنگ مرحلہ ہوتا ہے۔ یہاں پاکستان کو برتری حاصل ہوگئی ہے۔ کیونکہ وہ اپنے جغرافیائی خدوخال ہولڈنگ کی وجہ سے اسٹرائیک فورسز کو ۴۸ سے ۷۲ گھنٹوں میں متحرک کرسکتا ہے۔
جبکہ بھارتی فوج چونکہ بہت بڑی ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے، اس لیے اس میں وقت لگتا ہے۔ جیسے ۲۰۰۲۔۲۰۰۱ء میں آپریشن پراکرم کے دوران اسٹرائیک کور کو متھرا، بھوپال اور آگرہ سے سرحد تک پہنچانے میں دو ہفتے لگے تھے۔ اگرچہ اب بہتری آئی ہے، مگر پاکستان کے مقابلے میں اب بھی سست ہے۔
مودی حکومت کے ۱۱؍برسوں میں تین تھرش ہولڈ قائم ہوئے ہیں۔ پہلا قدم تھا ۲۰۱۹ء کا بالا کوٹ حملہ۔۔۔ جب پہلی بار بھارتی فضائیہ نے کسی بحران میں کارروائی کی، یہ ایک نئی نظیر تھی، دوسرا قدم تھا آپریشن سیندور۔۔۔ اس بار پاکستان مکمل طور پر تیار تھا، فضائی حملے کا انتظار کر رہا تھا، تیسرا قدم اسی آپریشن کے دوران ڈرون اور میزائلوں کا استعمال، جو اَب نہ صرف لائن آف کنٹرول بلکہ بین الاقوامی سرحد پر بھی داغے جاسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، بھارتی وزیرِاعظم کی سربراہی میں ہونے والی سکیورٹی میٹنگ کے بعد یہ اعلان ہوا کہ آئندہ کسی بھی دہشت گرد حملے کو ’جنگ کا اعلان‘ تصور کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کشمیر یا کسی اور علاقے میں کوئی حملہ ہوتا ہے، تو براہِ راست جنگ ہوسکتی ہے یعنی جنگ کرنے کا تھرش ہولڈ مزید گر گیا ہے۔ یعنی ایک ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جہاں جنگ بندی اور جنگ کرنے میں فرق مٹ چکا ہے۔
بھارتی فوج کو ہر وقت جنگی تیاری کی حالت میں رہنا ہوگا۔ یعنی مودی حکومت کے دور میں بھارت کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اب دشمن صرف پاکستان نہیں بلکہ چین اور پاکستان کی متحدہ فوجی قوت ہے۔ جنگ کا دہانہ یعنی تھرش ہولڈ نیچے آ چکا ہے۔ یعنی دو بلکہ چین سمیت تین جوہری طاقتوں کی حامل قوتوں کے درمیان جنگ آسانی سے چھڑ سکتی ہے۔
اب آپ فیصلہ کریں کہ کیا واقعی مودی کے اس قدم سے بھارت زیادہ محفوظ ہوگیا ہے اور مسلسل تیاری کی حالت میں رہنے سے فوج کی کیا حالت ہوسکتی ہے؟ کیا اس سے بہتر یہ نہ ہوتا کہ سیاسی مسائل کو باہمی طور پر حل کیاجاتا، تاکہ پوری توجہ معاشی ترقی اور عوام کی بہبود کی طرف دی جاتی۔
(بحوالہ: ’’دی وائر اردو ڈاٹ کام‘‘۔ ۱۳؍مئی ۲۰۲۵ء)