مودی سرکار کے لیے ممکنہ نیا دردِ سر

دوسری بار امریکا کے صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے غیرقانونی تارکینِ وطن کے خلاف بڑھکیں مار کر بھی ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ امریکا میں تارکینِ وطن کے حوالے سے انتہائی نوعیت کے تصورات اور رجحانات پنپتے رہے ہیں مگر یہ کہنا شاید زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ تصورات پروان چڑھائے گئے ہیں۔

امریکا کے ویزا پروگرام سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں بھارتی باشندے نمایاں ہیں۔ ایسا اس لیے بھی ہے کہ بھارت میں جدید ترین ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھنے والوں کو افرادی قوت کے طور پر برآمد کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ بھارت نے نالج ورکرز بہت بڑے پیمانے پر تیار کیے ہیں اور اُن کے بیرونِ ملک کام کرنے کی صورت میں بھارت کو بہت بڑے پیمانے پر ترسیلاتِ زر حاصل ہوتی ہیں۔ بھارت کو ایک بڑا فائدہ بھی حاصل ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے لوگوں پر بھارتی باشندوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ پاکستان کے نوجوان بھی صلاحیت میں کم نہیں اور مہارت بھی وہ پیدا کر ہی لیتے ہیں مگر بھارتی باشندوں کو اُن پر واضح ترجیح دی جاتی ہے۔ اِس کا ایک بنیادی سبب تو یہ ہے کہ بھارت کو امریکا کے لیے خاصے قابلِ قبول ملک کا درجہ حاصل ہے۔ اور یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ بھارتی باشندے بیرونِ ملک کسی بھی معاشرے میں آسانی سے ضم ہو جاتے ہیں اور کام بھی دل جمعی اور دیانت سے کرتے ہیں۔ فرماں برداری اُن کا ایسا اضافی وصف ہے جو اُنہیں ہر ماحول میں قابلِ قبول بناتا ہے۔

پروفیشنلز کے لیے مختص امریکی H-1B ویزا سے مستفید ہونے والے ۲۰ جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری کا خاصی بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے H-1B ویزا کے لیے جو درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، اُن کے حوالے سے فیصلہ کن اعلان تو ٹرمپ انتظامیہ ہی کرے گی۔ امریکا میں اس وقت کم و بیش ۷ لاکھ ۲۵ ہزار بھارتی باشندے غیرقانونی تارکینِ وطن ہیں اور اپنے مقدر کے فیصلے کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ ڈونلڈ نے انتخابی مہم کے دوران بارہا کہا کہ وہ صدر کے منصب پر فائز ہونے کے بعد پہلے ہی دن سے امریکا بھر سے غیرقانونی تارکینِ وطن کی بھرپور ملک بدری شروع کردیں گے اور یہ اقدام اپنی نوعیت کا سب سے منفرد ہوگا، امریکیوں نے اِتنے بڑے پیمانے پر تارکینِ وطن کی ملک بدری دیکھی نہیں ہوگی۔

اس وقت امریکا میں کم و بیش ایک کروڑ ۱۰؍لاکھ غیرقانونی تارکینِ وطن ہیں جن میں سے نصف صرف میکسیکو کے ہیں۔ بھارت اور السلواڈور ۷ فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے عہدِ صدارت میں سالانہ ۲ لاکھ غیرقانونی تارکینِ وطن کی ملک بدری یقینی بنائی۔ صدر بائیڈن نے آخری سال میں اس اوسط کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

پالیسی ساز اداروں سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے پہلے سال کم و بیش ۱۰؍لاکھ غیرقانونی تارکینِ وطن کی ملک بدری یقینی بنانے کی کوشش کیے جانے کا امکان ہے۔ بعد میں اس تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ امریکا کے ہوم لینڈ سکیورٹی سے متعلق ڈیٹا کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء اور ستمبر ۲۰۲۴ء کے دوران ۴۱۵,۹۰ بھارتی باشندوں کو مطلوبہ دستاویزات کے بغیر امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق گجرات، پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش سے تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی انتظامیہ اِنہیں وطن واپس بھیجتی ہے کیونکہ کسی بھی غیرقانونی تارکِ وطن کو نکال باہر کرنے کے لیے ایک طویل قانونی طریقِ کار کو اپنانا پڑتا ہے۔

غیرقانونی تارکینِ وطن کو خصوصی حراستی مراکز بھیجا جاتا ہے۔ اِنہیں خاصی ناموافق قسم کی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امریکا میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والوں کو حراستی مراکز میں تفتیش کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ہی اُنہیں کوئی وکیل کرنے کی اجازت مل پاتی ہے۔ جج کی طرف سے باضابطہ کارروائی اور سماعت کے بعد ہی ملک بدری کا فیصلہ سنایا جاتا ہے اور یوں کسٹم اور امیگریشن حکام کسی بھی غیرقانونی تارکینِ وطن کو ملک سے نکال پاتے ہیں۔ ملک بدری سے قبل متعلقہ ملک یا ممالک کو باضابطہ اطلاع دی جاتی ہے اور ملک بدری اُس وقت ہوتی ہے جب وہ ممالک نکالے جانے والوں کو اپنا شہری تسلیم کریں۔ گزشتہ برس بائیڈن انتظامیہ نے چارٹرڈ پروازوں کے ذریعے ڈیڑھ ہزار بھارتی باشندوں کو ملک بدر کیا تھا۔ خصوصی پروازوں کے اخراجات امریکی حکومت برداشت کرتی ہے۔ جن لوگوں نے اِن غیرقانونی تارکینِ وطن کو امریکا میں داخل کیا ہو، اُنہیں بھی تلاش کیا جاتا ہے۔ اگر وہ ہاتھ آجائیں تو ملک بدری کے اخراجات اُن سے وصول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس وقت امریکا میں ۹۴۰,۱۷؍بھارتی باشندے ایسے ہیں جو قانونی کارروائی کے تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ملک بدر کیے جانے کے منتظر ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ اِن سب کو واقعی فوری ملک بدری کا سامنا ہے۔ ممبئی میں سکونت پذیر امیگریشن کے وکیل اور مشیر سُدھیر شاہ کہتے ہیں کہ بعض قانونی پیچیدگیوں کے باعث امریکی حکام بھی انہیں فوری طور پر نکال نہیں سکتے۔ اس عمل کے لیے مکمل طریقِ کار اپنانا لازم ہے۔ کسی بھی قانونی تقاضے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سُدھیر شاہ کہتے ہیں کہ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں قدم رکھتے ہی ایسا نہیں ہوسکتا کہ جہاز کے جہاز بھر کر بھارتی باشندوں کو امریکا سے نکال دیا جائے۔ امریکا میں غیرقانونی تارکینِ وطن بہت بڑی تعداد میں اِس لیے ہیں کہ امریکیوں کو اُن کی ضرورت ہے۔ غیرقانونی تارکینِ وطن بہت کم معاوضے پر بہت زیادہ کام کرتے ہیں۔ وہ کسی بھی معاملے میں اکڑتے بھی نہیں کیونکہ قانونی معاملات کی پیچیدگی کے باعث وہ اکڑنے کی پوزیشن میں ہوتے ہی نہیں۔ یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ جن ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی حکومت ہے وہاں غیرقانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کی مہم کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ ایسے فیصلے ریاستی سطح پر ہوتے ہیں۔

امریکا میں غیرقانونی تارکینِ وطن بھی قانونی عمل کے ذریعے کام کرنے کا اجازت نامہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ سیاسی پناہ کے لیے درخواست دائر کرنے کے ۱۵۰؍دن بعد یہ لوگ قانونی طور پر کام کرنے کے اہل ہو جاتے ہیں۔ بچوں کو اسکولوں میں داخل کیا جاسکتا ہے اور صحتِ عامہ کی سہولتوں سے استفادہ بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ چند ایک صورتوں میں تو میڈیکل انشورنس بھی مل ہی جاتا ہے۔ غیرقانونی تارکینِ وطن اپنے اسپانسر کے ساتھ بالعموم تین تا پانچ سال کام کرتے ہیں۔ اس دوران وہ جی بھرکے کام کرتے ہیں، کماتے ہیں، زبان سیکھتے ہیں، امریکا کے عمومی کلچر کے بارے میں خوب جان لیتے ہیں اور پھر اس سے ہم آہنگ بھی ہو جاتے ہیں۔ سیاسی پناہ  کی درخواست بالعموم چار سال میں مثبت نتیجے تک پہنچتی ہے۔ تاخیر بھی اگر ہوتی ہے تو زیادہ سے زیادہ تین سال کی یعنی سیاسی پناہ کی درخواست دینے والے زیادہ سے زیادہ سات سال میں امریکا کے ہو رہتے ہیں۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوانین کی ترمیم کے ذریعے غیرقانونی تارکینِ وطن کے معاملات تیزی سے نپٹائے اور بھارت سے تعلق رکھنے والے غیرقانونی تارکینِ وطن کو بڑی تعداد میں وطن واپس بھیجا گیا تو مودی سرکار کے لیے بہرحال اچھا خاصا دردِ سر پیدا ہوگا اور اُسے شدید سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔                                 (مترجم: ابو صباحت) “Illegal immigrants | The new American nightmare”. (“India Today”)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں