عوامی سیاست کا عوام کُش راستہ

آج کی دُنیا میں عوامی طاقت کا غَلغلہ ہے۔ ہجوم کی نفسیات ہر جگہ اور ہر معاملے میں کارفرما اور کہیں کہیں کارگر دکھائی دیتی ہے۔ اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بہت سے ممالک اور خِطّوں میں عوامی طاقت نے متعدد بنیادی مسائل حل کرنے میں کَلیدی کردار ادا کیا ہے اور لوگوں کو اپنی محرومیوں سے کسی حد تک نجات پانے میں کامیابی نصیب ہوئی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ عوام کو سڑکوں پر لاکر بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرنے سے جمہوری ادارے کمزور پڑتے ہیں۔

چند حالیہ عشروں کے دوران عوامی طاقت کو متحرک کرنے والے رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں نے دنیا بھر میں دورِ عروج دیکھا ہے۔ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ دُور دُور رہنے والی اور صرف اپنے مفادات کی نگرانی تک محدود رہنے والی اَشرافیہ کے پنجوں سے عوام کو بچانے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔

جنوبی امریکا ہو یا مشرقی یورپ یا پھر جنوب مشرقی ایشیا، تمام ہی مقامات پر مَطلق العنان آمروں کا طریقِ کار یکساں ہے۔ ذرائع ابلاغ کو قابو کرو، معاشی اصلاحات کی باتیں کرو اور اشرافیہ کے خلاف بلند بانگ دعوے کرو۔ اقتدار کو مضبوط کرنے کا اِن کے نزدیک کوئی اور کارگر طریقہ نہیں۔

عوام کی طاقت کے ذریعے اقتدار کو مضبوط کرنے کا ہتھکنڈا فرانس، اٹلی، پولینڈ، برطانیہ اور جرمنی میں اپنایا جاچکا ہے۔ کہیں معاملہ زیادہ کا ہے اور کہیں کم کا۔ عوام کو متحرک کرکے مظلوم و محروم طبقوں کو اُن کے حقوق دلوائے جاسکتے ہیں۔ جن کی کوئی نہیں سُنتا جب اُنہیں آواز ملتی ہے تب معاملات بہتری کی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے جمہوریت کو تھوڑی سی توانائی ملتی ہے، وہ تازہ دم دکھائی دینے لگتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوامی طاقت کے مظاہرے کی بنیاد پر قائم کی جانے اور چلائی جانے والی حکومت کے ہاتھوں جمہوری ادارے کمزور پڑتے جاتے ہیں۔

عوامیت کی عالمگیر رسائی

عوامیت بنیادی طور پر ایسا نظریہ ہے جو معاشرے کو دو کیمپوں میں بانٹ دیتا ہے۔ ایک طرف ’’خالص عوام‘‘ ہوتے ہیں اور دوسری طرف ’’کرپٹ اَشرافیہ۔‘‘ عوامیت کی مقبولیت کا مدار صرف ایک نکتے پر ہے۔۔۔ اُن لوگوں کی بات کی جائے جو یہ سمجھتے ہیں کہ سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر اُنہیں الگ تھلگ کردیا گیا ہے، محرومی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ امریکا میں چند ایک علاقے ایسے ہیں جو معاشی اعتبار سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور اُن علاقوں کے باشندوں کو ایسا لگتا ہے کہ اُنہیں منصوبے کے تحت نظرانداز کیا گیا ہے۔ یارک شائر میں کان کَنی کے سابق علاقوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ معیشت پیداوار سے خدمات کی طرف چلی گئی مگر یہ علاقے وہیں کے وہیں رہے۔

جن لوگوں کو یہ احساس سَتاتا رہتا ہو کہ اُن سے ناانصافی کی گئی ہے، محروم رکھا گیا ہے، اُنہیں بہکانا اور اُکسانا بہت آسان ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں میں تعلیم کی کمی ہوتی ہے۔ وہ سیاسی طور پر زیادہ جُڑے ہوئے بھی نہیں ہوتے اور اُن میں بے اعتمادی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے لوگ مرکزی دَھارے کے سیاست دانوں کو ایسی اشرافیہ کے طور پر دیکھتے ہیں جس تک پہنچنا آسان نہ ہو۔ خود کو محروم سمجھنے والے یہ محسوس کرتے ہیں کہ اُنہیں دانستہ نظرانداز کیا جارہا ہے۔ اشرافیہ جو بیانیہ استعمال کرتی ہے، وہ بھی عوام کی اُمنگوں اور ضرورتوں سے بہت دُور ہوتا ہے۔

دائیں بازو کی سِیاست اور ذرائع اِبلاغ میں اُس کے بیانیے نے عشروں کے دوران ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جس میں خود کو ہر اعتبار سے محروم سمجھنے والوں کی تعداد بڑھتی رہی ہے۔ اُنہیں محسوس ہوتا رہتا ہے کہ وہ معاشی اور ثقافتی طور پر مَترُوک ہیں۔ وہ اپنی کھوئی ہوئی یا چھینی ہوئی خوشحالی اور شناخت کی بحالی اور واپسی کے لیے ایسے بیانیے میں بہت کشش محسوس کرتے ہیں جس میں اُن کے حقوق کی بات کی گئی ہو۔

عوام کی حقیقی آواز

عوام پسند اور عوامی قوّت کے حامل سیاسی رہنما خود کو مظلوم عوام کی حقیقی آواز بناکر پیش کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ ریاستی ادارے ایک طرف کھڑے تماشا دیکھتے رہتے ہیں جن سے معاملات بہتر بنانے کی توقع کی جاتی ہے۔

لاطینی امریکا کے بیشتر رہنما عوام کو سُہانے خواب دکھاتے ہیں، جذبات بَھڑکاتے ہیں، بھڑکے ہوئے جذبات کے کاندھوں پر سوار ہو کر ایوان ہائے اقتدار تک پہنچتے ہیں۔ پھر یہ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ یہی سب کچھ مشرقِ وسطیٰ میں بھی ہوتا رہا ہے۔ مغرب کو لتاڑ کر عوام کے جذبات بھڑکائے جاتے رہے ہیں۔ یورپ کے ’’عوامی‘‘ رہنما قوم پرستی کی بات کرتے ہیں، اِشتراکیت کے بعد کی دنیا میں پیدا ہونے والے مسائل کو بنیاد بناکر عوام کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ ہنگری کے سوویت ماضی سے برطانیہ کے بریگزٹ تک، ہر جگہ شناخت کا بحران ہے اور اِس کی بنیاد پر عوام کو جذباتی کرکے سیاست دان اپنے اُلّو سیدھے کرتے ہیں۔

عوامی سیاست محض بڑھک کا معاملہ نہیں۔ تازہ ترین تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ انتہائی تکلیف دہ رجحان ہے۔ کہنے کو یہ کہا جارہا ہے کہ یہ سب کچھ جمہوریت کے احیا کے لیے ہورہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس سے عوام کے کاندھوں پر سوار ہوکر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والے لیڈر جو کچھ کر رہے ہیں، اُس کے نتیجے میں جمہوریت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ عوامی طاقت کے بَل پر حکومت کرنے والوں نے چیک اینڈ بیلنس کو جَڑ سے اُکھاڑ پھینکنے والے ہتھکنڈے اپنائے ہیں۔ ایسا دنیا بھر میں ہو رہا ہے۔ چیک اینڈ بیلنس ہی سے آزاد معاشرے پَنپتے ہیں۔ عوام کو سوال پوچھنے کی آزادی ہوتی ہے۔ وہ کسی بھی معاملے میں حکومت سے جواب طلب کرسکتے ہیں۔ آزاد معاشروں میں عوام سے متعلق ہر معاملے پر کُھل کر بحث ہوتی ہے اور سبھی اپنی اپنی معروضات کُھل کر بیان کرتے ہیں۔

طریقِ واردات کی یکسانیت

عوام کے کاندھوں پر سوار ہو کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والے لیڈر مختلف اور متنوع سیاسی و ثقافتی پس منظر کے حامل ہوسکتے ہیں تاہم اُن کے طریقِ کار یا طریقِ واردات میں خاصی یکسانیت پائی جاتی ہے۔ کسی بھی نام نہاد عوامی لیڈر کی ٹول کِٹ میں پہلے نمبر پر ہے معلومات کو کنٹرول کرنا۔ ایسے معاشروں میں مخالفین کی آواز دبانے پر سب سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ عوام کو کُھل کر مشورہ دیا جاتا ہے کہ جو کچھ بھی مِل رہا ہے، اُس سے مطمئن ہوں اور نظامِ حکومت کے خلاف بغاوت کا بالکل نہ سوچیں۔ ایسے معاشروں میں جو بھی حکومت کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، اُسے خاموش کردیا جاتا ہے۔ صحافت برائے نام بھی آزاد نہیں رہتی۔ صحافیوں کو پابندِ سَلاسل بھی کیا جاتا ہے۔ اور اگر ضرورت پڑے تو راستے سے ہمیشہ کے لیے ہٹا بھی دیا جاتا ہے۔

بیانیے کی تشکیل

وینزویلا میں ہیوگو شاویز کے بعد اُس کے جانشین مدورو نے سیاسی و معاشی بحران کے خلاف آواز اٹھائے جانے پر میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن کیا اور مخالفین کو خاموش رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ اِس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ تمام سرکاری حلقوں میں ہر سطح پر ریاست کا منظور کردہ بیانیہ ہی نمایاں اور مقبول رہا۔

یورپ میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ مشرقی یورپ کی بیشتر حکومتیں مغربی طرز کی جمہوریت پر زیادہ یقین نہیں رکھتیں۔ چند طاقتور افراد مِل کر کسی کو اپنا سربراہ مقرر کرتے ہیں اور اقتدار پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ اُنہیں بظاہر اِس بات کی چنداں پروا نہیں ہوتی کہ ایسا کرنے سے ملک اور عوام کا کیا بنے گا۔ پوری سرکاری یا ریاستی مشینری کو یہ لوگ اپنی مُٹھّی میں لے لیتے ہیں۔ سرکاری اور نجی، دونوں ہی ذرائع ابلاغ کو یہ لوگ اپنی مٹھی میں لیتے ہیں تاکہ کسی بھی سطح پر کوئی اختلافی نقطۂ نظر اُبھر اور پَنپ نہ سکے۔

یورپ میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔ پولینڈ کی لا اینڈ جسٹس پارٹی سے فرانس کی نیشنل ریلی تک سبھی سوشل میڈیا کو استعمال کرکے روایتی گیٹ کیپرز کو ایک طرف ہٹادیتے ہیں۔

عوامی طاقت کے بَل پر اقتدار حاصل کرنے والے بالعموم ایسے ہتھکنڈے اپناتے ہیں جن کے ذریعے رائے عامہ کو اپنی مُٹھّی میں لیا جاسکے، اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالا جاسکے۔ سوشل میڈیا پر سینسر شپ بھی عائد کی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوتا ہے کہ اقتدار پر گرفت زیادہ سے زیادہ مضبوط کیا جاسکے۔ یہ تمام ہتھکنڈے جمہوری روایات اور بنیادوں کو کمزور سے کمزور تر کرتے جاتے ہیں۔

وفاداری کی خریداری

عوامی طاقت کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے والوں کی اکثریت نرم معاشی پالیسیوں کے ذریعے وفاداریاں خریدتے ہیں۔ وینزویلا میں ہیوگو شاویز نے بولیوین مشنز کو منظرِعام پر لاکر صحتِ عامہ، تعلیمِ عامہ اور غریبوں کے لیے رعایتی خوراک سے متعلق کام شروع کیے۔ اِن کاموں سے شاویز کو عوام کی غیرمعمولی حمایت حاصل ہوئی۔ جب تیل کی آمدنی ڈگمگانے لگی اور معیشت ڈانوا ڈول ہونے لگی تب بھی عوام نے شاویز کا ساتھ دیا اور اُسے اپنا حقیقی لیڈر مانتے رہے۔ شاویز کے بعد مدورو نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا یعنی عوام کو بہت سے معاملات میں سَبسڈی دیتا رہا اور غیرمعمولی افراطِ زر کے باوجود وہ عوام کو نوازنے میں مصروف رہا۔ وفادار حلقوں کو نوازنا کوئی نئی اور انوکھی روایت نہیں۔ ہنگیری میں اوربان نے اپنے پسندیدہ اور حامی حلقوں کو نوازتے ہوئے بہت سے منصوبے سرکاری فنڈز سے شروع کیے۔ اس دوران اُس نے قومی معیشت کی کیفیت کو بھی نظرانداز کردیا۔ یہ تمام اقدامات پالیسی اور سیاسی رشوت کے درمیان پائی جانے والی حدِفاصل کو مِٹاکر رکھ دیتے ہیں۔

مشرقی یورپ نے بھی ایشیا اور لاطینی امریکا والا رجحان اپنایا ہے۔ پولینڈ میں جب لا اینڈ جسٹس پارٹی اقتدار میں تھی تب اُس نے فیملی کیش بینیفٹ جاری کیا۔ اِس کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں اُس کی پوزیشن خاصی مستحکم ہوئی۔ مین لینڈ یورپ میں بھی ایسا ہی کچھ ہوا۔ اٹلی میں لیگ اینڈ فائیو اسٹار موومنٹ نے ٹیکسوں میں رعایت دی اور سماجی اصلاحات کا پروگرام شروع کیا۔ برطانیہ میں بریگزٹ کی بات کرنے والوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ اُنہیں بہت سے معاشی فوائد سے نوازیں گے اور ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے علاقوں پر خاص توجہ دیں گے۔

جب سرکاری پالیسیاں معیشت اور معاشرت کی مضبوطی پر وفاداری کو ترجیح دیتی ہیں تب عوام زرِ اعانت پر انحصار کرنے لگتے ہیں اور اِس کے نتیجے میں معاشی استقامت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

عوام کے کاندھوں پر سوار ہوکر اقدار کے ایوانوں تک پہنچنے والے سیاست دان سب سے زیادہ اشرافیہ کو نشانہ بناتے ہیں کیونکہ اُن کے خلاف کی جانے والی ہر بات عوام کو بے حد اپیل کرتی ہے اور وہ بہت متوجہ ہوکر سُنتے ہیں۔ عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے لیے موردِ الزام ٹھہرائے جانے والے کرپٹ سیاست دانوں، بینکرز اور دانشوروں کے بارے میں کہی جانے والی ہر بات سر آنکھوں پر لی جاتی ہے۔

لاطینی امریکا میں عوامی رہنما بالعموم استعماریت (سامراج) اور مقامی بڑوں کے مذموم ہتھکنڈوں کے خلاف بڑھکیں مار کر اپنے اُلو سیدھے کرتے ہیں۔ شاویز عوام کے سامنے امریکا کو شیطانی ریاست بناکر پیش کرتا تھا۔ مسلم دنیا میں بھی بہت سے مغربی تہذیب اور ریاستوں کو منفی انداز سے پیش کرکے اپنی مقبولیت کا گراف بلند کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ مغربی طاقتوں کے ایجنٹ یا پِٹھّو ہی ہوتے ہیں۔ ہنگیری میں اوربان نے مغربی یورپ کی طرزِ جمہوریت کو منفی انداز سے پیش کرکے اپنے اقتدار کی بنیادیں مضبوط کیں۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ مغربی دنیا کے بیشتر ممالک عالمگیریت کے خلاف ہیں اور اِس کے ثمرات سے پسماندہ ممالک کو محروم رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جرمنی اور اٹلی کی سیاسی جماعتیں ترکِ وطن، عالمگیریت اور یورپی یونین کے خلاف متحرک رہتی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو قومی خود مختاری کے محافظ کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

فیریج نے بریگزٹ کے حوالے سے جو لڑائی لڑی، وہ بھی ایسی ہی کسی تھیم کی بنیاد پر تھی۔ عوام کو کاسموپولیٹن اسیٹبلشمنٹ کے سامنے کھڑا کردیا گیا۔ بعض معاملات میں اپنائی جانے والی بڑھک اگر کسی حد تک قومی مفاد میں ہو، تب بھی معاشرے میں تقسیم تو پیدا ہو ہی جاتی ہے۔ ایسی حالت میں بہت سے معاملات پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں قومی مفادات متاثر ہوتے ہیں۔ عوام کے حق میں کی جانے والی بات بھی عوام کے خلاف چلی جاتی ہے۔ ادارے کمزور پڑتے چلے جاتے ہیں۔ جب ایسا ہو تو کسی معاملے میں سمجھوتا کرنا بھی انتہائی دشوار ہو جاتا ہے یعنی مجموعی طور پر ریاستی ڈھانچے اور معاشرے کو نقصان پہنچ کر ہی رہتا ہے۔

ماضی کے دُکھ، حال کا اقتدار

عوام کے جذبات ابھار کر اقتدار تک پہنچنے والوں کا ایک بنیادی ہتھکنڈا ہے ماضی کو خاص طور پر نشانہ بنانا۔ لاطینی امریکا میں بیشتر عوامی رہنما نوآبادیاتی دَور کے مظالم کا رَونا رَو کر عوام کے جذبات بَھڑکاتے ہیں۔ یہ گویا اُن کے زخم تازہ کرنا ہوا۔ لاطینی امریکا کے طُول و عرض میں سیاست کا معیار یہی ہے۔ عوام کو ماضی کی زِیادتیاں اور مظالم یاد کروا کے سیاسی حمایت اور ہمدردی بَٹوری جاتی ہے۔

بہت سے عوامی لیڈر عظمتِ رَفتہ کی بحالی کا عزم دِکھا کر، نئے دَور کے تقاضوں کے مطابق ریاست کو نئے سانچے میں ڈھالنے کی بَڑھکیں مار کر اپنے اقتدار کی بنیادیں مضبوط کرتے رہتے ہیں۔ یورپ کے بیشتر عوامی رہنما اپنے خِطّے کے ماضی کو کھود کھود کر اپنے مطلب کی چیزیں نکالتے رہتے ہیں۔ عوام کی اکثریت ماضی میں رہنا اور ماضی کے بارے میں سُننا پسند کرتی ہے۔ ماضی بھیانک ہو تو اُس سے ڈرایا جاتا ہے اور اگر ماضی شاندار رہا ہو تو اُس کی عظمت کے ترانے گاکر لوگوں کو سبز باغ دِکھائے جاتے ہیں۔ ہر عوامی رہنما اِس بات کی بھرپور کوشش کرتا ہے کہ ماضی سے عوام کا رشتہ نہ ٹوٹے۔

لوگوں کے جذبات بھڑکانے کے لیے جو کچھ بھی کہا جاتا ہے، وہ محض بڑھک پر مبنی مواد نہیں ہوتا بلکہ جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہوتا ہے، بھرپور ہتھکنڈا ہوتا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کے اِزالے کے لیے دورِ جدید کی پالیسیوں کو اپناکر عوامی رہنما دراصل موجودہ اِداروں کو نشانہ بنانے کا جواز پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ مخالفین کو خاموش کرنے اور خاموش رکھنے کے لیے گڑے مُردے اُکھاڑ کر عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔

اداروں پر دباؤ ڈالنے کی رَوش

عوام کی طاقت اور اندھی سیاسی عقیدت کی بنیاد پر قائم ہونے والی حکومتیں جمہوریت کے بیشتر طریقے اپناتی ہیں مگر صرف دِکھاوے کے لیے۔ الیکشن بھی کرائے جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ بھی ہوتی ہے اور عدلیہ بھی مگر رُوح سے خالی۔ تمام جمہوری ادارے یکسر بے جان اور محض ربر اسٹیمپ ہوتے ہیں۔ عوامی رہنما عدالتوں میں اپنی پسند کے لوگوں کو جج کے منصب پر فائز کرتے ہیں تاکہ اُن سے اپنی مرضی اور مفاد کے مطابق فیصلے کروائے جاسکیں۔ عوامی طاقت کے بَل پر اقتدار پانے والے لیڈر بالعموم تمام ہی بنیادی ریاستی اداروں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے لیے اُن میں اپنے لوگ بَھرتی کرتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں معاملات صرف خرابی کی طرف جاتے ہیں۔ انتخابی قوانین میں اپنی مرضی کے مطابق ترامیم کروائی جاتی ہیں۔ انتخابی طریقِ کار اور وقت بھی اپنی مرضی کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔ انتخابی عملے میں بھی اپنے لوگ رکھے جاتے ہیں تاکہ مرضی اور ضرورت کے مطابق دھاندلی کروائی جاسکے، بے ضابطگیوں کا بازار گرم کروایا جاسکے۔ یہ رہنما جمہوریت کے نام پر ایسا بہت کچھ کرتے ہیں جس سے جمہوریت بدنام ہوتی ہے اور لوگ اِس طرزِ حکومت سے مُتنفّر سے ہو جاتے ہیں۔

پولینڈ کی حکومت عدالتی اِصلاحات کے حوالے سے کئی بار یورپی یونین سے مُتصادم ہوئی ہے۔ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب بھی ریاستی ادارے کسی حکمران کے خلاف کوئی دُرست کارروائی کرتے ہیں، تب وہ اُن اداروں ہی کو موردِ الزام ٹھہرانے لگتا ہے، اُنہیں رُسوا کرنے پر تُل جاتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور بڑی اور عجیب مثال قائم کی ہے۔ امریکا میں جمہوری اداروں کے مستحکم ہونے پر کِسے شک ہے؟ امریکی معیشت کے لیے بحران اُبھرتے رہتے ہیں تاہم سیاسی سطح پر کچھ خاص اُتھل پُتھل نہیں پائی جاتی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ ’اعزاز‘ حاصل ہے کہ اُنہوں نے موقع ملتے ہی ریاستی اور دیگر اداروں کو محض لتاڑا ہی نہیں ہے بلکہ اُن کی وُقعت کم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ انہوں نے میڈیا کی آزادی پر ضَرب لگائی ہے اور ۲۰۲۰ء کے صدارتی انتخابی نتائج کو متنازع ٹھہرانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ یہ سب کچھ اُنہوں نے ایسی حالت میں کیا کہ جب امریکا میں تمام ریاست اور جمہوری ادارے پوری قوّت کے ساتھ موجود ہیں اور اپنے حصّے کا کام بھرپور طریقے انجام بھی دے رہے ہیں۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب کسی ریاست میں جمہوری اور ریاستی ادارے کمزور ہوں تو عوامی طاقت کے بَل پر کوئی بھی کسی طرح کا کھیل بہت آسانی سے کھیل سکتا ہے۔

دنیا بھر میں عوامی لیڈروں کا ایک معروف طریقِ کار یہی تو ہے کہ بھرپور انداز کی آمریت کو جمہوری لِبادے میں پیش کرو، لوگوں کو یقین دِلاؤ کہ جو کچھ بھی کِیا جارہا ہے، وہ اُن کی حُکمرانی مضبوط کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ عوام کو بار بار یقین دلایا جاتا ہے کہ اقتدار کا سرچشمہ وہی تو ہیں یعنی وَوٹ کے ذریعے جو رائے دی جائے گی، اُسی کی بنیاد پر حکومت قائم ہوگی اور اُسی کے ذریعے سب کچھ چلے گا یا چَلایا جائے گا۔

اَب آگے کیا ہونا ہے؟

دُنیا بھر میں عوام کے جذبات بَھڑکا کر سیاسی فوائد بٹورنے اور اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی رَوش تیزی سے عام ہو رہی ہے۔ سیاست دانوں نے اَب وَوٹ کی طاقت پر بھروسا کرنا چھوڑ دیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو سڑکوں پر لاکر جمہوری اداروں کو کمزور کریں اور انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج آسانی سے حاصل کریں۔ عوام کو سڑکوں پر لانے والے سیاست دان بالعموم غیرمعمولی ذہنیت اور صلاحیّت کے حامل نہیں ہوتے۔ دنیا بھر میں جمہوری اداروں کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں اور بعض مُمالک میں تو جمہوریت کو ہلاکت خیز قِسم کے بُحران کا سامنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عوامی انداز کی سیاست بہت سے معاملات کو اُچھالتی ہے۔ حقوق غَصب کرنے والوں کو بے نقاب بھی کرتی ہے، محروم عوام کو حوصلہ بھی دیتی ہے اور سیاسی بحالی کی راہ بھی ہموار کرتی ہے مگر دوسری طرف ایسا بھی تو ہے کہ اِس کے ہاتھوں آمرانہ طرزِ حکومت تیزی سے پروان چڑھتی ہے۔ عوام کے کاندھوں پر چڑھ کر سیاست کرنے والے جب اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں تو آمریت کے طور طریقے اپنانے میں ذرا بھی دیر نہیں لگاتے۔

عوامی طاقت کے ذریعے حکومت قائم کرکے آمریت اپنانے والوں کو کوئی طاقت لَلکار سکتی ہے تو وہ صرف ذرائع ابلاغ ہے۔ یہی سبب ہے کہ عوامی راہنما اپنی آمرانہ و جابرانہ طرزِ حکومت کی بقا یقینی بنانے کے لیے ذرائع ابلاغ کا گَلا گھونٹنے پر تُلے رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مین اِسٹریم اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو شعور بخشا جاسکتا ہے، وہ اپنے حقوق کے لیے کسی بھی وقت کھڑے ہوسکتے ہیں۔

دنیا بھر میں عمومی یا روایتی سیاسی جماعتیں کبھی کبھی عوامی انداز اختیار کرکے مقبولیت کا گراف بلند کرنے کی کوشش کرتی ہیں مگر ایسا کرنے میں اچھے خاصے خطرات مُضمر ہیں۔ عوامی طاقت پر پَلنے اور کسی نہ کسی طور اقتدار پر قابض ہونے کی شدید خواہش رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی نقّالی انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ ایسا کرنے سے جمہوریت مکمل طور پر حالتِ نزع کا شکار ہوسکتی ہے۔ وہی سیاست اصل اور قابلِ قبول ہے، جس میں سب کو قبول اور تسلیم کیا جائے، مخالفین کو بھی احترام کی نظر سے دیکھا جائے اور اختلافی نقطۂ نظر کی توقیر کا اہتمام کیا جائے۔ مخالفین کو دشمن یا مُنحرفین سمجھا جائے۔ برطانیہ، فرانس اور امریکا جیسے بڑے جمہوری ممالک میں بھی عوامی طاقت کے ذریعے انتہائی دائیں بازو کی طرف جھکاؤ ممکن بنادیا گیا ہے۔ اِس معاملے میں احتیاط لازم ہے۔

اگر عوامی اندازِ سیاست کے شدید نقصانات سے بچنا ہے تو تمام ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے کے بارے میں سوچتے رہنا ہوگا۔ عدلیہ خود مختار ہونی چاہیے، اُس پر کسی بھی طرح کا دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ انتخابی نظام بھی بالکل شفّاف اور مؤثر ہونا چاہیے۔ انتخابی عمل میں کسی کی بھی مداخلت کسی صورت برداشت نہیں کی جانی چاہیے۔ یورپی یونین نے پولینڈ اور ہنگری کے کیس میں ثابت کردیا ہے کہ اگر مؤثر طریقے سے دباؤ ڈالا جائے تو جمہوریت سے گُریز کی راہ پر گامزن حکومتوں کو بھی عدالتی اور انتخابی اِصلاحات کی طرف لے جایا جاسکتا ہے۔

اگر عوام کو بروقت سیاسی خواندگی سے ہمکنار کیا جائے، اُنہیں بتایا جاتا رہے کہ دُنیا بھر میں صرف وہی ممالک ترقی کر پائے ہیں اور خوشحال ہوپائے ہیں جنہوں نے جمہوریت کو اُس کی روح کے ساتھ اپنایا ہے اور آمرانہ طور طریقوں سے یکسر گُریز کیا جائے۔ عوام کو اندازہ ہونا چاہیے کہ آمرانہ طرزِ حکومت سے چند افراد کا بَھلا ہوتا ہے اور اگر ملک بھرپور ترقی بھی کرے تو ثمرات عوام تک نہیں پہنچتے کیونکہ ایک خاص طبقہ ہی تمام معاملات اور تمام وسائل پر قابض ہو رہتا ہے۔ محض بڑھک اور نعرے بازی کی بنیاد پر کوئی بھی سیاسی نظام جامع طور پر کامیاب نہیں ہوسکتا۔

ایسا نہیں ہے کہ عوامی انداز کی سیاست صرف شَر پر مبنی ہے۔ یہ بنیادی طور پر عوام کی شکایات کے بَل پر پروان چڑھتی ہے۔ ہاں، آمرانہ سوچ رکھنے والے حکمران اِسے اپنی پِلے بُک میں تبدیل کردیتے ہیں۔ اگر ریاستی اداروں کو مضبوط کیا جائے۔ شہریوں کو اختیارات دیے جائیں اور اُن کے حقیقی مسائل حل کرنے پر توجہ دی جائے تو معاشروں کو عوامی سیاست کے مثبت اثرات سے ہمکنار کیا جاسکتا ہے۔

جمہوریت کو پروان چڑھانے میں تعلیم کا کردار بہت اہم ہے۔ عوام پڑھے لکھے ہوں تو بہت سے معاملات کو اچھی طرح سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ پڑھے لکھّے ہونے کی صورت میں عوام بڑھک اور حقیقی سیاسی عزم کے فرق کو زیادہ آسانی سے سمجھ لیتے ہیں۔ اس حوالے سے عالمگیر سطح پر تعاون اور اشتراکِ عمل کی بھی بہت اہمیت ہے۔ اداروں کی اصلاح کے ذریعے اُن کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعاون کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔

دوسرے بہت سے معاملات کی طرح جمہوری اداروں کو بھی نگہداشت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اُن میں پیدا ہونے والا بگاڑ روکنے کے لیے لازم ہے کہ عوام کی شکایات پر دھیان دیا جائے، جمہوری اداروں میں پائی جانے والی خامیوں، خرابیوں اور کمزوریوں کو دُور کیا جائے۔ ایسا اُسی وقت ہوسکتا ہے جب نگرانی کا نظام مَعقول ہو اور کام بھی کر رہا ہو۔

کیا ہم عوامی طرز کی سِیاست کو اِس بات کی اجازت دیں گے کہ ہمارے مستقبل سے کھیلے یا پھر ہم اپنے اجتماعی عزم کو متحرک کریں گے اور جمہوریت کو مکمل ناکامی سے بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروقت اور تدبّر سے بروئے کار لائیں گے؟ حتمی تجزیے میں ہماری جمہوریت کی تقدیر تو پورے معاشرے ہی کے ہاتھ میں ہے۔

(مترجم: ابو صباحت)

“Reclaiming democracy: The dangerous playbook of modern populists”.

(“The Globalist”. July 29, 2025)

تازہ مضامین

’ہم قلت کی دنیا میں جی رہے ہیں‘، یہ الفاظ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کے ہیں جو انہوں نے ۲۰۲۴ء میں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ادا کیے تھے۔انہوں نے خبردار کیا تھا کہ

اسرائیل نے ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے نئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے ذریعے مہلک کارروائیاں تیز کردی ہیں۔امریکی اور اسرائیلی فوجی کمانڈر جب ایران کے خلاف جنگی حکمتِ عملی تیار

جنگ کسی کو کچھ نہیں دیتی۔ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے، نقصان دونوں یا تمام ہی فریقوں کا ہوتا ہے۔ ہر جنگ اپنے پیچھے تباہی چھوڑ جاتی ہے۔ جن اقوام نے برسوں کی محنت کے

بریگیڈیئر جنرل محمد باقر ذوالقدر کو ممتاز ایرانی رہنما علی لاریجانی کی جگہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔علی لاریجانی حال ہی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس وقت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر حملے بند کرنے کے لیے ایرانی قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں جبکہ ایران اس کی تردید کررہا ہے۔تاہم ایک بات واضح ہے

گزشتہ ۲۵ فروری کی شام جب یروشلم کے پرانے شہر کی فضاؤں میں مسجد اقصیٰ کے بلند پایہ میناروں سے اذان کی آواز کے ساتھ افطار کا اعلان ہورہا تھا، تو اس سے چند سو