کیڈٹ کالج پر حملہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی اسلام آباد میں کچہری کے باہر دھماکا ہو جاتا ہے۔ دہشت گردی کی ایک نئی لہر دستک دے رہی ہے۔ اس پر ہمارے ہاں بالعموم طالبان اور بھارت کے تناظر میں بات ہوتی ہے تاہم ایک پہلو اوجھل رہ جاتا ہے جو انتہائی اہم ہے۔
وہ پہلو افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی اسلحے کا ہے۔ امریکا سے یہ تو پوچھا جائے کہ جب تم گئے تو اس وقت تو ابھی کوئی باقاعدہ حکومت وہاں موجود نہیں تھی۔ طالبان نے بھی ابھی مکمل اقتدار نہیں سنبھالا تھا تو یہ اسلحہ تم نے کس کو دیا، کن گروہوں کو دیا اور کیوں دیا؟ نیز یہ کہ یہ اسلحہ تم نے وہاں چھوڑا ہی کیوں؟ یہ غلطی تھی یا کوئی اہتمام تھا؟ غلطی تھی تو یہ کیسے ہو گئی؟ اہتمام تھا تو یہ کس کے خلاف تھا؟ کیا پاکستان کے خلاف تھا؟
زیادہ تر اسلحہ تو یقینا طالبان حکومت ہی نے کنٹرول میں لے لیا ہوگا لیکن کون کیا جانے اسلحہ کتنا تھا اور کس کس گروہ اور تنظیم کے پاس ہے۔
امریکا افغانستان میں جلدی سے نکلا۔ اس جلدی میں امریکا جاتے جاتے افغانستان میں جو اسلحہ اور فوجی ساز و سامان چھوڑ گیا، اس کی مالیت ۷؍ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کا کُل دفاعی بجٹ ۶؍ارب ڈالر ہے۔ یعنی پاکستان کے کُل دفاعی بجٹ سے زیادہ مالیت کا اسلحہ اور فوجی ساز و سامان امریکا افغانستان میں چھوڑ گیا۔
چھوڑ کر کیوں گیا اور اگر چھوڑ کر جانا ہی تھا تو طالبان کی نئی حکومت کے حوالے کر جاتا تاکہ پتا تو چلتا اسلحہ ہے کیا کچھ اور کس کے پاس ہے۔ ابھی تو کسی کو علم ہی نہیں کون کون سا اسلحہ کس کس گروہ کے پاس ہے۔
تھوڑا بہت اسلحہ ہو تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ جاتے جاتے چھوڑ دیا۔ لیکن جب اس اسلحے اور فوجی ساز و سامان کی مالیت ۷؍ارب ڈالر ہو تو پھر معاملہ اتنا سادہ نہیں رہتا۔ سوال وہی ہے: امریکا اتنا زیادہ اسلحہ افغانستان میں کیوں چھوڑ گیا؟ اس کی وجہ؟ اس کی حکمت؟ یہ معاملہ کیا ہے اور یہ کھیل کیا ہے؟
پینٹاگون کی جانب سے امریکی کانگریس کو جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق امریکا افغانستان میں ۷؍اعشاریہ ۲؍ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازو سامان چھوڑ کر گیا ہے جس میں جہاز، ہیلی کاپٹر، گولہ بارود، نائٹ ویژن چشمے اور بائیومیٹرک ڈیوائسز شامل ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کی رپورٹ کے مطابق امریکا افغانستان میں ۷۸ ہیلی کاپٹر اور جنگی جہاز چھوڑ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اڑان بھر کر واپس نہیں جا سکتے تھے؟ ان کو چھوڑ جانے میں کیا حکمت تھی؟
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کو افغانستان میں ۶۱ ہزار امریکی فوجی گاڑیاں، ۳ لاکھ لائٹ ویپن (چھوٹی مشین گنیں اور رائفلیں وغیرہ) اور ۲۶ ہزار ہیوی ویپن ملے ہیں۔ تعداد پر غور فرمائیے اور امریکا کے لائٹ اور ہیوی ویپن کی تفصیل دیکھ لیجیے۔ یہ اتنا بھاری اسلحہ ہے جو دنیا کے بہت سارے ممالک کی افواج کے پاس نہ ہو۔ یہ اسلحہ کیا کوئی اپنے دشمن کے پاس غلطی سے چھوڑ کر جاتا ہے؟ یہ کوئی بچوں کا کھیل نہیں کہ امریکا جیسی قوت افغانستان سے نکلے اور اپنا بھاری اسلحہ وہیں چھوڑ جائے۔
ہالی وڈ کی فلموں میں بھی یہ اہتمام موجود ہوتا ہے کہ کہیں سے امریکا کو اچانک بھاگنا پڑے تو اس کے فوجی اسلحہ ساتھ لے جاتے ہیں یا اسے ضائع کر دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کیا امریکا کی فوجی قیادت ہالی ووڈ کے پروڈیوسروں سے بھی فارغ العقل تھی کہ وہ جاتے ہوئے اپنا بھاری اسلحہ وہیں چھوڑ کر چلی گئی۔ نہ ساتھ لے جا سکی نہ ہی اسے تباہ کر سکی؟
ظاہر ہے یہ غلطی نہیں ہے۔ یہ اہتمام ہے اور بادی النظر میں اس اہتمام کا نشانہ پاکستان ہے۔ امریکا افغانستان سے ایک معاہدہ کر کے نکلا۔ ایسا نہیں کہ رات کو اس کے فوجی سو رہے ہوں اور انہیں اچانک بھاگنا پڑا ہو۔ جب آپ معاہدہ کر کے نکلتے ہیں تو آپ اپنا ساز و سامان ساتھ لے جانے کا انتظام بھی کرتے ہیں۔ امریکا نے یہ انتظام کیوں نہیں کیا؟ ڈھنگ کا انتظام نہیں کر سکا تو جو اسلحہ وہ چھوڑ کر جا رہا تھا اسے تباہ کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے۔ چند منٹ؟ وہ یہ کام بھی نہ کر سکا۔
اب جب ہم دن میں اٹھارہ اٹھارہ فوجیوں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں، ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا یہ سب ایک غلطی تھی، اتفاق تھا یا یہ ایک اہتمام تھا کہ اسلحہ چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ پاکستان کے خلاف استعمال ہوسکے۔ ’فارن پالیسی‘ میگزین کے مطابق امریکا کا چھوڑا گیا یہ اسلحہ بلیک مارکیٹ میں بھی دستیاب ہے۔
سب سے زیادہ مانگ امریکا کی ایم۔۴ سالٹ رائفل ہے۔ یہ وہی رائفل ہے جو اس وقت پاکستان کے خلاف بلوچستان میں استعمال ہو رہی ہے۔ معاملہ صرف اس ایک رائفل کا نہیں ہے، پاکستان کی پریشانی یہ ہے کہ بلوچستان میں جو عناصر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں ان کے پاس اب وہی اسلحہ ہے جو امریکا افغانستان میں چھوڑ کر گیا۔
پاکستان کے خلاف اس دورانیے میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے تو یہ بے سبب نہیں، اس میں امریکا کے چھوڑے ہوئے اس اسلحے کا اہم کردار ہے۔ امن عامہ کے چیلنج کے سامنے پہلی دیوار پولیس کی ہوتی ہے اور پولیس کے سامنے جب سپر پاور کے اسلحے سے لیس عناصر ہوں تو پولیس کے لیے اس سے نبٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ اتفاق نہیں ہے کہ امریکا کے جانے کے کچھ عرصہ بعد دہشت گردی بڑھنے لگی۔ گزشتہ سال بلوچستان میں دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے۔ بلوچستان حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس ایک سال میں دہشت گردی کے ۵۵۵؍واقعات میں ۳۰۰ لوگ جاں بحق ہوئے جن میں عام شہری، پولیس اہلکار اور فوجی شامل ہیں۔
پاکستان کے لیے اب یہ بہت بڑا چیلنج بنتا جارہا ہے کہ اس ساری صورتِ حال سے کیسے نبٹا جاسکے۔ پاکستان کے لیے اس پر خاموش رہنا ممکن نہیں رہا۔ ایک ایک دن میں اگر ہمارے ۱۸، ۱۸؍نوجوان شہید ہونے لگیں تو اس پر ریاست خاموش رہ بھی کیسے سکتی ہے۔ اب تو روز حملے ہو رہے ہیں۔
امریکا کے اپنے ادارے اب اعتراف کر رہے ہیں کہ اس کا چھوڑا ہوا یہ اسلحہ اس پورے خطے کو کسی الائو میں دھکیل سکتا ہے۔ اسلحے کی نئی بلیک مارکیٹ وجود میں آجانے کی باتیں بھی پاکستان نہیں، مغربی ممالک اب خود کررہے ہیں۔ ان ہی ممالک کے غلط فیصلے ہوتے ہیں جن کا تاوان ہم جیسے ممالک کو دینا پڑتا ہے۔
امریکا سے ہر فورم پر یہ سوال ہونا چاہیے کہ ۷؍ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا یہ اسلحہ جو تم چھوڑ گئے، یہ غلطی تھی، اتفاق تھا یا اس میں کوئی اہتمام تھا؟ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پیچھے اس اسلحے کا کیا کردار ہے، اس پر بھی غور ہونا چاہیے اور اس پر بھی بات ہونی چاہیے۔
(بحوالہ: روزنامہ ’’۹۲نیوز‘‘ کراچی۔ ۱۳؍نومبر ۲۰۲۵ء)