بھارت کی بحریہ کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بناکر پاکستان کے لیے خطرات میں اضافہ کرنے کا عمل ایک زمانے سے جاری ہے۔ بھارتی قیادت کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرات کو جتنا بھی بڑھایا جاسکتا ہے، بڑھایا جائے۔ دونوں ممالک کے درمیان دو باضابطہ جنگیں اور متعدد طویل جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ بھارتی فوج حجم میں بھی بڑی ہے اور وسائل کے اعتبار سے بھی بہت بڑھ کر ہے مگر پھر بھی پاکستانی فوج کو نیچا دکھانے میں وہ مجموعی طور پر ناکام رہی ہے۔
بھارتی بحریہ کو جدید ترین بحری قوت میں تبدیل کرنے کے لیے بھارتی قیادت نے ۲۰۳۰ء تک ۲۴ جدید ترین آبدوزیں فراہم کرنے کا پروگرام ۱۹۹۹ء میں شروع کیا تھا۔ طے کیا گیا تھا کہ اِن میں ۶؍آبدوزیں ایٹمی ہتھیار لے جانے کی اہلیت کی حامل ہوں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ بحرِ ہند اور بحیرۂ عرب میں بھارتی بحریہ کی حیثیت فیصلہ کُن نوعیت کی ہوجائے۔ بھارت ایک زمانے سے بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے ملے جلے خطے اوشیانا میں اپنی حیثیت منوانے کے لیے بے تاب رہا ہے۔ یہ پروگرام بہت حد تک ادھورا ہی نہیں بلکہ ناکام رہا ہے۔ اسٹریٹجک بنیاد پر تاخیر اور دیگر وجوہ کے باعث اِس پروگرام کو مکمل کرکے بھارتی بحریہ کو مضبوط تر بنانے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں کیا جاسکا ہے۔ ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ اس پروگرام کے حوالے سے دفاعی ساز و سامان کی خریداری بھی تاخیر کی نذر ہوتی رہی ہے۔
اس حقیقت سے اب کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ بھارتی بحریہ کو غیرمعمولی اور یقینی برتری حاصل کرنے کے قابل بنانے کا یہ پروگرام اب ناکام ہوچکا ہے۔ اِس کے نتیجے میں بھارتی بحریہ کو علاقائی بنیاد پر واضح برتری کا حامل بنانے کی خواہش بھی محض خواہش کے مرحلے میں پھنس کر رہ گئی ہے۔
پراجیکٹ ۷۵ کے تحت اب تک اسکارپین کلاس کی صرف ۶؍آبدوزیں تیار کی جاسکی ہیں۔ یہ سب کچھ فرانس کے تکنیکی تعاون کی بدولت ممکن ہوسکا ہے۔ چھٹی اور اب تک کی آخری آبدوز آئی این ایس وَگشِیر جنوری ۲۰۲۵ء میں بھارتی بحریہ میں شامل کی گئی۔
بھارتی بحریہ کی قیادت پریشان ہے کہ فورس کو مضبوط بنانے کا جو پروگرام ادھورا رہ گیا ہے، اُس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی تلافی کیونکر کی جائے۔ اس وقت بھارتی بحریہ کے پاس ۱۹؍آبدوزیں ہیں۔ اِن میں سے ۱۶؍روایتی ڈیزل الیکٹرک یونٹس ہیں اور ۲ خانہ ساز نیوکلیئر پاورڈ بیلسٹک میزائل آبدوزیں ہیں۔ روس سے اکولا کلاس پلیٹ فارم حاصل کرنے کے لیے بات چیت جاری تھی مگر پھر یہ ہوا کہ روس نے یوکرین پر لشکر کشی کردی اور بین الاقوامی سطح پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے باعث روس کے لیے ممکن نہ رہا کہ بھارت کو اکولا کلاس پلیٹ فارم دے۔
بھارت کے پاس اس وقت جتنی بھی روایتی ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں ہیں، اُن میں سے بیشتر ۳۰ سال سے بھی زیادہ پُرانی ہیں۔ یہ آبدوزیں کسی بڑے حملے کی صورت میں بھرپور دفاع کی صلاحیت بھی پوری نہیں رکھتیں۔ ایسے میں اِن آبدوزوں کے ذریعے حملہ کرنے کے بارے میں سوچنے کی زیادہ گنجائش نہیں۔ دنیا بھر میں بحری قوت کو جدید ترین ہتھیاروں اور ساز و سامان سے مزیّن کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت جس خطّے میں واقع ہے، وہاں کئی ممالک کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی کی حامل آبدوزیں عام ہیں۔ جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ بحری قوتیں اپنے آپ کو منوانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ ایسے میں بھارتی بحریہ ساز و سامان کے حوالے سے شدید بحرانی کیفیت کا شکار ہے۔
بھارتی بحریہ کو زیادہ طاقتور بنانے کے لیے جو ڈاکٹرائن تیار کی گئی تھی، اُس کے تحت بحری قوت کو جدید ترین رجحانات اور آلات کا حامل بنانے کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جانا تھا۔ طے یہ کیا گیا تھا کہ جدید ترین آبدوزیں بیرونی معاونت کے بغیر گھر ہی میں تیار کی جائیں گی تاکہ دفاعی ساز و سامان کے لیے بیرونی ذرائع پر انحصار کم کیا جاسکے اور دفاعی تیاریوں کے حوالے سے خود انحصاری کا گراف اطمینان بخش حد تک بلند کیا جاسکے۔
اب مسئلہ یہ اُٹھ کھڑا ہوا ہے کہ بیورو کریسی معاملات کو تاخیر کی نذر کر رہی ہے۔ دفاعی ساز و سامان کی خریداری کا عمل بہت پیچیدہ اور تاخیر پیدا کرنے والا ہے۔ کسی بھی چیز کی خریداری کے لیے بیورو کریٹک طریقِ کار کے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں تاخیر ہو جاتی ہے اور زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ اِس حوالے سے درکار سیاسی عزم بھی ناپید ہے۔ سیاسی جماعتیں دفاعی قوت میں اضافہ یقینی بنانے کے حوالے سے زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتیں اور فیصلے کرنے میں بہت دیر لگاتی ہیں۔
پراجیکٹ ۷۵ کے ذریعے بھارتی بحریہ میں ۶ جدید ترین ایئر انڈی پینڈنٹ پروپلژن آبدوزیں شامل کرنے کا خواب محض خواب ہے۔ اس حوالے سے کوئی واضح فیصلہ نہیں ہو پارہا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت علاقائی اور عالمی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ بھارتی بحریہ کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنے کے لیے جدید ترین آبدوزیں اور دیگر سامان فراہم کیا جائے۔
پروگرام یہ ہے کہ اے آئی پی سے مزین آبدوزیں بھارتی ساحلوں سے بہت دور بین الاقوامی پانیوں میں زیادہ دیر تک رہیں گی اور اِس حوالے سے بھارتی بحری قوت میں ایسا اضافہ ممکن بنائیں گی جس کی بنیاد پر تھوڑی بہت علاقائی برتری یقینی بنائی جاسکتی ہو۔ بھارتی بحریہ چاہتی ہے کہ جنگ یا کسی اور بحرانی کیفیت میں اُس کی آبدوزیں زیادہ سے زیادہ وقت پانی میں رہنے کی صلاحیت و سکت رکھتی ہوں۔
بھارتی فوجی قیادت نے جنوری ۲۰۲۵ء میں میزاڈونگ ڈاک شپ بلڈرز لمٹیڈ (ایم ڈی ایل) کو بات چیت کے لیے بلایا تھا تاکہ قیمت کے حوالے سے کچھ طے کیا جاسکے۔ یہ پروگرام کم و بیش ۸؍ارب ۴۰ کروڑ ڈالر کا ہے۔ بھارتی بحریہ چاہتی ہے کہ قیمت کچھ کم کی جائے مگر اب ایسا ممکن نہیں رہا۔ بات چیت میں رخنہ پڑگیا ہے۔ ٹیکنیکل معاملات میں اصولوں پر عمل پیرا نہ ہونے کے باعث لارسن اینڈ ٹوبروز کی بولی کے مسترد ہونے کے بعد (جس میں اسپین کی نیوانشیا بھی شریک تھی) ایم ڈی ایل کا پروپروزل ہی کارگر رہتا ہے۔ اس پروپوزل کو تھائسینکرپ میرین سسٹمز کی حمایت بھی حاصل ہے۔
بھارتی وزارتِ دفاع نے جنوری ۲۰۲۵ء میں کمرشل بولیاں کھولی تھیں۔ یہ عمل جولائی ۲۰۲۴ء میں فیلڈ ایویلیویشن ٹرائل کے نتائج آنے کے بعد شروع کیا گیا۔ اِس کے باوجود اب تک ایم ڈی ایل کو حتمی بات چیت کے لیے باضابطہ دعوت نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔ معاملات جہاں تھے، وہیں دکھائی دے رہے ہیں۔
ایک عشرے قبل جب پراجیکٹ ۷۵ کا خاکہ تیار کیا گیا تھا تب اِس کا مجموعی بجٹ ۵؍ارب ۱۰؍کروڑ ڈالر تھا۔ افراطِ زر کے غیرمعمولی دباؤ کے باعث اب مجموعی بجٹ بہت بڑھ چکا ہے۔ ایک بڑا مسئلہ شرحِ مبادلہ کا ڈانواڈول ہونا بھی ہے۔ علاوہ ازیں تکنیکی ضرورتیں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ اِس پر بھی اچھا خاصا خرچ ہونا ہے۔ اِن تمام عوامل نے اِس منصوبے کو بھارتی بحریہ کی تاریخ کا سب سے مہنگا منصوبہ بنا ڈالا ہے۔ اس منصوبے کے بارے میں معلومات کے حامل حلقوں کا کہنا ہے کہ جنوری میں ابتدائی بولی کے بعد وزارتِ دفاع کی خاموشی نے معاملات کو بہت الجھا دیا ہے۔ طریقِ کار کے جمود اور شفافیت کے حوالے سے متعلقہ انڈسٹری میں طرح طرح کے خدشات پائے جاتے ہیں۔
ہسپانوی ادارے نیوینشیا نے بھارتی بحریہ میں آبدوزوں کی شمولیت اور اُن کی بہتر کارکردگی کے حوالے سے غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ تھرڈ جنریشن اے آئی پی ٹیکنالوجی ۲۰۲۷ء تک کُھلے سمندر میں بھرپور کارکردگی کی آزمائش پر پوری اترے گی اور وسیع پیمانے پر ٹیکنالوجی کا ٹرانسفر بھی ممکن بنایا جائے گا۔ بھارتی بحریہ کے لیے یہ پیشکش بہت پُرکشش ہے کیونکہ بھارتی مسلح افواج ایک زمانے سے خود انحصاری کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔
ایل اینڈ ٹی نے اپنے اخراج یا مسترد کیے جانے پر اعتراضات رسمی طور پر جمع کروائے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ لیوینیشیا نے بھی ایسا ہی کچھ کیا ہے۔ اعتراض سے متعلق دستاویز میں اِس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بھارتی بحریہ نے اُس کے دیے ہوئے اے آئی پی سولیوشن کو زمینی پروٹو ٹائپ کی بنیاد پر پرکھا جبکہ جرمنی کے سمندر میں آزمائش پر پورے اُترے ہوئے ڈیزائن کو قبول کرلیا گیا۔
اب ایم ڈی ایل اور ایل اینڈ ٹی کو لاگت سے متعلق حتمی مذاکرات کے لیے بلانے پر زور دیا جارہا ہے۔ وزارتِ دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے کسی ایک وینڈر پر بہت زیادہ انحصار کرنے کی روایت کا خاتمہ ہوگا اور مسابقتی لاگت یا قیمت کی صورت میں بہتر آپشنز پر عمل کیا جاسکے گا۔ اس وقت بھارتی بحریہ کو دفاعی ساز و سامان کے حصول کے معاملے میں لاگت کے پہلو کو بھی ذہن نشین رکھنا ہے۔ کم از کم خرچ کرکے زیادہ سے زیادہ جدید ترین ساز و سامان کا حصول یقینی بنانا ہے۔
ایک طرف تو بھارتی بحریہ کے لیے آبدوزوں کے علاوہ مختلف النوع دفاعی ساز و سامان اور ٹیکنالوجی کا بحران سر اٹھارہا ہے اور دوسری طرف پاکستان اپنی بحری قوت میں بہت تیزی سے اضافہ کررہا ہے۔ اس معاملے میں اُسے چین کی بھرپور مدد حاصل ہے۔ اپریل ۲۰۲۵ء میں پاکستان کو چین سے دوسری ہینگور کلاس آبدوز ملی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اے آئی پی سے مزین ۸ جدید ترین بوٹس کا معاہدہ موجود ہے جس کی مالیت ۵؍ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
ان ہینگور کلاس آبدوزوں میں جدید ترین ہتھیار نصب ہیں۔ یہ کسی بھی نوع کی معرکہ آرائی کے دوران بھرپور دفاعی اور جوابی کارروائی کی صلاحیت کی حامل ہیں۔ اِن میں سونر سسٹم بھی ہے اور تادیر مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی۔ پاکستانی بحریہ اِس وقت بھارت کی طرف سے کی جانے والی کسی بھی کارروائی کے لیے پوری طرح تیار ہے اور بھارتی بحریہ کی کسی بھی غیرضروری مہم جُوئی کی صورت میں اُس کے لیے سُبکی کا اچھا خاصا سامان ہوسکتا ہے۔
پاکستان کو چین سے تمام ۸؍آبدوزیں ایک عشرے کے دوران ملیں گی۔ اِس کے نتیجے میں پاکستانی بحریہ کا آبدوزوں کا بیڑا غیرمعمولی صلاحیت و سکت کا حامل ہو جائے گا۔ بھارتی کُھلے اور گہرے پانیوں میں آزادانہ نقل و حرکت یقینی بنانے والی آبدوزیں سامنے لانا چاہتا ہے۔ اِس راہ میں اب پاکستان ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستانی بحریہ بحری معرکہ آرائی میں بھی اب بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
چین نے حال ہی میں پاکستانی بحریہ کو ۴ ٹائپ 054A/P فریگیٹس دیے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں اب چین اور پاکستان مل کر بھارتی بحریہ کی کسی بھی نوع کی مہم جُوئی کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت کے حامل ہیں۔ یہ بحیرۂ عرب میں بھارت کی مفروضہ بالادستی کے لیے بھی بہت بڑا چیلنج ہے۔
چین خود بھی بحرِ ہند کے خطے میں اپنی دسترس بہتر بناکر امکانات کا دائرہ وسیع کرنا چاہتا ہے۔ سری لنکا اور مالدیپ سے اُس کی گہری ہم آہنگی ہے اور پاکستان کے ساتھ اُس کا دفاعی اشتراکِ عمل اب غیرمعمولی نوعیت کا ہے۔ گوادر میں بندر گاہ تعمیر کرکے چین نے پاکستان کے ساتھ ایسے تعلق کو جنم دیا ہے جو تجارتی اور دفاعی، دونوں ہی اعتبار سے انتہائی اہم ہے اور یہ سب کچھ بھارت کے لیے بھی پریشان کُن ہے اور ایران کے لیے بھی۔ بھارت نے چابہار کی بندر گاہ کے ذریعے جو کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا، وہ حاصل نہیں کیا جاسکا ہے۔
اِس وقت چین جو کچھ کر رہا ہے، اُس سے یہ تاثر پروان چڑھ رہا ہے کہ وہ بھارت کو گھیر رہا ہے۔ بھارتی بحریہ پر شدید دباؤ ہے۔ بھارتی فضائیہ بھی معرکہ آرائی میں بُودی ثابت ہوچکی ہے۔ بھارت کی بری افواج کے لیے کچھ کر دکھانے کی زیادہ گنجائش نہیں ہے۔ وہ اندرونِ ملک شورش اور مزاحمت کچلنے تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ چین اور پاکستان کے ہاتھوں گھیرے جانے کا احساس بھارت کے لیے غیرمعمولی نوعیت کی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ ایک طرف سیاسی دباؤ ہے اور دوسری طرف دفاعی و معاشی معاملات بھی الجھے ہوئے ہیں۔ بھارتی کو کُھلے سمندر میں بیشتر راستوں پر چین کی طرف سے غیرمعمولی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ دنیا بھرکے دفاعی تجزیہ کاروں اور تحقیقی اداروں کی رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق چین ۶۵؍آبدوزوں کے ساتھ بھارت کے لیے پریشان کن حالات پیدا کرنے کی راہ پر گامزن ہے جبکہ ۲۰۳۵ء تک آبدوزوں کی تعداد ۸۰ تک پہنچا دیے جانے کا بھی امکان ہے۔
بھارتی بحریہ آبنائے ملاکا، بحیرۂ انڈمان اور گریٹر انڈین اوشن ریجن میں کھل کر کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ اُس کا اپنا ایس ایس این فلیٹ آپریشنل نہیں ہو پارہا۔ ایسے میں اپنے وسائل سے ڈیزل الیکٹرک آبدوز کی پروڈکشن تو بہت دور کی منزل معلوم ہوتی ہے۔ یہ تمام معاملات بھارتی بحریہ کو بہت حد تک ہدف پذیر بناتے ہیں۔
ایس ایس اینز کے ذریعے غیرمعمولی سطح پر آپریشن کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اسٹریٹجک لچک بھی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ دور تک نظر رکھنے کی صلاحیت بھی پروان چڑھائی جاسکتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ آبدوز شکن جنگی ساز و سامان کے استعمال کی صلاحیت بھی بڑھتی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ بھارتی بحریہ اِس وقت گومگو کی کیفیت سے دوچار ہے اور دستیاب وسائل کو بھی ڈھنگ سے بروئے کار لانے سے قاصر ہے۔ موجودہ ڈھانچا بعض معاملات میں شدید کمی اور خامی کا سامنا کر رہا ہے۔
چین کے بحیرۂ جنوبی چین کے بیڑے کی طرف سے بھی بھارتی بحریہ کے لیے چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے اور اِدھر پاکستان بھی اپنی بحریہ کو بہت تیزی سے تجدید کے مرحلے سے گزار رہا ہے۔ ایسے میں بھارتی بحریہ کو ایک طرف تو پلیٹ فارمز کی تعداد میں کمی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے اور دوسری طرف سینسر فیوژن، نیٹ ورکنگ کے ساتھ مقابلے کرنے کی صلاحیت اور حساس معلومات، نگرانی اور خفیہ سرگرمیوں کے حوالے سے مشکلات درپیش ہیں۔ بھارت اب تک اس معاملے میں تھوڑی سی برتری کا حامل رہا ہے مگر اب وہ برتری بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
بھارتی بحریہ کے لیے آبدوزوں کے تیس سالہ روڈ میپ کے مطابق ڈلیور کرنے میں ناکامی محض جنگی ساز و سامان کی خریداری کے حوالے سے ناکامی نہیں ہے بلکہ اِس کے نتیجے میں بھارتی فوج اسٹریٹجک نقطۂ نگاہ سے ہدف پذیر ہوچکی ہے۔ اِس سے بھارتی بحریہ کی ردِ جارحیت کی صلاحیت کا گراف نیچے آئے گا اور وہ اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے گی۔
اگر بحریہ کی کارکردگی بہتر بنانی ہے، اُس کی مقابلہ کرنے اور حملے کرنے کی صلاحیت کا گراف بلند کرنا ہے تو لازم ہے کہ فیصلہ سازی کی قوت بہتر بنائی جائے اور اس حوالے سے بھارتی قیادت کو تیزی سے اور بروقت فیصلے کرنے ہوں گے۔ بھارتی قیادت کو ایٹمی آبدوزوں کے پروگرام میں زیادہ سرمایہ لگانا پڑے گا اور وہ بھی جلد از جلد۔ پاکستان اور چین کا بحری سطح پر اشتراکِ عمل بھی بھارت کے لیے بہت بڑا خطرہ اور مستقل دردِ سر ہے۔ اگر بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اِس حوالے سے فیصلوں میں تاخیر کی تو معاملات بہت بگڑ جائیں گے اور بہت کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا۔
بھارت کے پالیسی ساز بھارت اور بحرالکاہل کے خطے کے ممالک کے درمیان اشتراکِ عمل، کُھلے اور گہرے سمندروں میں بحریہ کی قوت بڑھانے، علاقائی سطح پر قیادت سنبھالنے اور بھارت کو عظیم تر بنانے کی باتیں کرتے ہیں مگر جو کچھ وہ سوچتے ہیں اور ڈاکٹرائن کی شکل میں پیش کرتے ہیں، اُس میں اور میدانِ عمل کے لیے ہارڈ ویئر کی سطح پر تیاری میں بہت واضح فرق دکھائی دے رہا ہے۔ یہ فرق اِتنا زیادہ ہے کہ اِسے کسی بھی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
بحرِ ہند میں برتری کا حصول یقینی بنانے کا معاملہ طیارہ بردار جہازوں اور سطحِ زمین پر تباہ کن جہازوں کے استعمال تک محدود نہیں ہے۔ بہت کچھ پسِ پردہ بھی ہوتا ہے اور ہونا ہی چاہیے۔ بھارتی بحریہ اِس حوالے سے کمزور پڑگئی ہے۔
بھارتی قیادت پر لازم ہوچکا ہے کہ اپنی بحریہ کی آبدوز سے متعلق حکمتِ عملی کو اکیسویں صدی کے بنیادی تقاضوں سے ہم آہنگ کرے۔ اکیسویں صدی کی جنگ محض ہتھیاروں سے نہیں بلکہ حکمتِ عملی اور خفیہ سرگرمیوں کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہے۔ بھارتی قیادت کو یہ بات کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کرنی چاہیے، بھولنی نہیں چاہیے کہ اُس کے چین اور پاکستان پوری تیاری کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اُن کی طاقت کے بارے میں غلط اندازے قائم کرنا یا خوش فہمی میں مبتلا ہونا انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔
(مترجم: ابو صباحت)
“India’s submarine strategy in crisis: Delays sink naval ambitions as Pakistan-China axis surges underwater”. (“defencesecurityasia.com”. June 26, 2025)